قبرستان کا سناٹا ؟ ...
خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات میں باراک اوباما نے جو کچھ کہا اس سے سب سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے اور عالمی سطح پر ایک طاقتور اور موثر ملک ہے ۔
امریکی صدر نے اس ملاقات میں کہا کہ ایران علاقے میں ناپائداری پیدا کرنے والے اقدامات انجام دے رہا ہے لیکن کوئي بھی ملک اس کے ساتھ بھڑنے میں دلچسپی نہيں رکھتا ۔ ویسے یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے ناپائداری پیدا کرنے والے اقدامات سے اوباما کی مراد در اصل ایران کے وہ اقدامات ہیں جن کی بناء پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو علاقے کے کئی ملکوں میں مداخلت کا موقع نہيں ملا اور علاقے میں ان کی پالیسیاں ناکام ہو گئيں ۔
در اصل امریکہ اور اس کے علاقائي ایجنٹوں کی خواہش ہے کہ عرب ملکوں پو قبرستان جیسا سناٹا طاری ہو جائے تاکہ اس خاموشی میں ان کے مفادات کی تکمیل ہو سکے ۔ ان حالات میں فطری بات ہے کہ امریکہ اور ان عرب سربراہوں کو ایران کانٹے کی طرح کھٹکے لیکن ان کی یہ تشویش ، ایران اور استقامت کے محاذ کے طاقتور ہونے کی دلیل ہے ۔ ایران ناپائداری نہيں بلکہ علاقے میں پائداری کی علامت ہے اور اگر عرب سربراہ عقل کا استعمال کریں تو انہيں یہ حقیقت واضح طور پر نظر آ جائے گی ۔
ریاض ، خلیج فارس تعاون کونسل میں اپنے حلیفوں کی مدد سے ایران کو نقصان پہنچانے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہے ۔ اس کے علاوہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ جیسی تنظيموں کو بھی ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ در اصل ، شام ، عراق جیسے مختلف میدانوں میں شکست اور دہشت گردی کو حمایت کے سلسلے میں سعودی عرب کے کردار کے برملا ہونے سے ، سعودی حکام پوری دنیا میں بدنام ہو رہے ہیں اور اس سے عالمی رائے عامہ میں ان کے خلاف نفرت کے جذبات بڑھتے جا رہے ہیں ۔
سعودی عرب موجودہ حالات سے باہر نکلنے اور اپنے اقدامات کا جواز پیش کرنے کے لئے ، رائے عامہ میں ایران کی جانب سے فرضی خطرہ پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس کی ایک مثال او آئی سی کے حالیہ اجلاس میں ایران کے خلاف بیان کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ، سعودی حکام ، حزب اللہ اور ایران کے خلاف اپنے نئے اقدامات سے ، امریکہ اور صیہونیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہيں تاکہ اس طرح سے ان کی ناکامیوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے اور امریکہ کو بھی گریٹر میڈل ایسٹ کے منصوبے کی ناکامی کے بعد زيادہ فرمانبردار اتحادیوں کی ضرورت محسوس ہو رہے ہیں۔
Add new comment