داعش کا طرز فکر اور ظالمانہ حکومت

داعش کا طرز فکر اور ظالمانہ حکومت

بشکریہ tvshia.com/urdu

ٹی وی شیعہ[انفارمیشن نیٹ]جیسا کہ برطانیہ کے اخبار "ڈیلی میل" نے بتایا ہے کہ اس کے لیے انہوں نے ساتویں صدی میں خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے کے سکے کو بطور نمونہ لیا ہے۔ سونے کا اسلامی سکہ دینار کہلائے گا اور اس کا وزن تقریبا" ساڑھے چار گرام ہوگا اور چاندی کا سکہ درہم کہلائے گا جس کا وزن تقریبا" تین گرام ہوگا۔
اس طرح، مبصرین کے خیال میں انتہا پسند باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کی ریاست صرف نام کی ہی نہیں بلکہ عملی ریاست ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سکہ کسی ریاست کے وجود کی تصدیق کیا کرتا ہے۔
یہ تو قابل فہم ہے کہ اسلام کے اوائل کے عہد کے دینار اور درہم کو جاری کیا جانا خالصتا" پرچار کی خاطر ہے۔ مگر ساتھ ہی اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ "داعش" والوں نے اپنا ذاتی مالیاتی نظام قائم کر لیا ہوا ہے، چاہے وہ لوٹ مار سے کمائی گئی دولت کا ہی کیوں نہ ہو۔ فی الحال کچھ بیرونی قوتوں کے بل بوتے پر یہ نظام چل رہا ہے۔ کچھ ہی عرصہ پیشتر مجلہ "فوربس" میں بتایا گیا تھا کہ "داعش" قائم کرنے والوں کی تنظیم امیر ترین دہشت گردانہ تنظیم ہے۔
اس بات پر اعتبار کر لینا چاہیے، لبنان کے تحقیقی مرکز "گاما" کے ڈائریکٹر نصیب شمس کہتے ہیں:"اس گروہ کی مالی امداد کے ذرائع بہت ہیں۔ یہ ہی یاد کر لیں کہ موصل پر قبضہ کرنے کے بعد جنگجووں نے بینک لوٹ لیے تھے۔ کچھ اطلاعات کے مطابق شہر کے مرکزی بینک میں ہی تقریبا" بیالیس کروڑ ڈالر تھے۔ علاوہ ازیں انتہاپسندوں کو تیل کی فروخت سے بھی بے تحاشا آمدنی ہوتی ہے۔ ان کے قبضے میں شام کے صوبوں رکعہ، دیرالزور اور الہساکہ کے تیل کے کنویں ہیں۔ انہوں نے عراق میں تیل کی دولت سے مالامال صوبوں تکریت اور موصل پہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ ان کا تیل ایجنٹوں کے ذریعے عالمی منڈی میں پہنچتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایجنٹوں میں خاص طور پر ترکی پیش پیش ہے۔
سودوں کا حجم بہت زیادہ ہے چنانچہ جنگجووں کو بے تحاشا آمدنی موصول ہوتی ہے۔ پھر وہ اسلحے کی سمگلنگ کرتے ہیں، غلام اور کنیزیں فروخت کرتے ہیں اور ثقافتی طو پر گراں قدر اشیاء فروخت کرتے ہیں مگر تیل ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے"۔
ماہرین کے اندازے کے مطاق "داعش" والوں کو تیل کی فروخت سے بیس لاکھ ڈالر روزانہ آمدنی ہوتی ہے۔ اس آمدنی کا کچھ حصہ پرچار کی خاطر سونے اور چاندی کے سکے بنانے پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ ان سکوں سے ادائیگیاں تو نہیں کی جا سکیں گی۔ اگر وہ ڈھالے بھی جائیں گے تو بہت ہی کم مقدار میں اور جلد ہی بازار سے غائب ہو جائیں گے۔ "داعش" والوں کی اصل دولت آج کی طرح "پیٹروڈالر" ہی رہیں گے۔ اگر ان کو پسند ہو تو وہ انہیں "نفتی دینار" نام دے سکتے ہیں لیکن اس سے بات تبدیل نہیں ہوگی۔
http://ur.shafaqna.com/top-news/item/37187-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D9%...

Add new comment