پشاور کے گلابوں کے نام

تحریر: اقبال خان منج

اے زیست۔۔۔۔۔ یہ بھی ہونا تھا، وہ دکھ، وہ کرب اور وہ غم بھی سہنا تھا کہ جس میں لفظ دسترس سے باہر ہوتے ہیں کہ جس کے بیان سے پہلے زبان نطق سے گرجاتی ہے۔۔۔۔۔ اے حیات۔۔۔۔۔۔!! یہ کیسا قہر آلود دن طلوع ہوا کہ جس کے ظلم کی حدت سے سماعتیں اور بصارتیں تحلیل ہوگئیں۔
اے بچوں کو سلام میں پہل نہ کرنے دینے والے آقا!!۔۔۔۔۔ اور دشمن کے بچوں کو بھی گود میں اٹھا کر بوسے دینے والے حضرت محمدؐ! دیکھئے۔۔۔۔۔۔ میرے وطن کی سرسبز فصلوں کے باغیچہ میں کیسے درندے گھس آئے ہیں اور ان بھیڑوں نے سبز کوٹ کے یونیفارم کو کیسے لہو رنگ کر دیا ہے۔ وہ سبز رنگ جو گنبد خضریٰ کی قبا ہے۔ کیسے کیسے منظر نامے دل کو پاش پاش کر رہے ہیں، سوچ رہا ہوں آڈیٹوریم کے مقتل میں میرے کتنے شہزادوں کی خوفزدہ آنکھیں اس دروازے پر مرکوز رہی ہوں گی، جس کو اندر سے بند کر دیا گیا تھا اور وحشی انسان نما جانوروں نے اسے توڑ دیا تھا اور پھر میزوں کے نیچے پناہ لئے ہوئے میرے شہیدوں پر کیا بیتی ہوگی۔۔۔۔ وہ کیسے سہم گئے ہوں گے۔۔۔ کون کون سی گولی نے گلاب جسموں کے کس کس حصے میں چھید کئے ہوںگے اور اس تکلیف سے وہ کیسے کیسے چیخے ہونگے اور ان چیخون میں کس کس نے درد کے لئے امی، ابو یا اپنے کسی استاد کو مدد کے لئے پکارا ہوگا۔

اے سب سے پہلے بچوں کو نوالہ دینے والے حسنینؑ کے شہسوارؐ، سوچ رہا ہوں اس وقت کی تاریک ہوتی آنکھوں میں آخری منظر کس کا ہوگا ۔۔۔ ناشتہ کرواتی اور الوداعی بوسہ لیتی پیاری ماں کا ۔۔۔۔۔۔ اللہ حافظ کہتے ہوئے ہاتھ ہلاتے خوبرو بابا کا ۔۔۔۔۔۔۔ ننھے منے اور دمکتے ہوئے اور بڑے بھائی کو دیکھ کر زور زور سے بازو ہلاتے ہوئے چھوٹے بھائی کا ۔۔۔۔۔ یا پھر ست رنگی فراق میں ملبوس توتلی زبان میں بھائی کو کچھ سمجھاتی ہوئی چھوٹی بہن کا ۔۔۔۔۔ یا پھر جھریاں پہنے دادا یا دادی کا ۔۔۔۔۔۔۔!
سوچ رہا ہوں ۔۔۔ اس مقتل میں ننھے گلابوں کی پتیاں کہاں کہاں بکھر گئی ہونگی اور کس کس دوست کے سرخ خون نے لکیریں بنانے کے بعد ایک جگہ دائرہ بنا دیا ہوگا اور پھر اس باہم خون نے ان درجنوں کے پاوں سے لتھڑ کر اس سکول کے صحن میں کہاں کہاں نقش بنائے ہونگے، جہاں یہ سب دوست کبھی کھیلے، کودے اور ہلہ گلہ کرتے ہوں گے۔ گولیوں اور بارود کی بارش میں کس کس کی پاکٹ میں رکھی ٹافیاں اور کلیجی رنگ کی چاکلیٹ سرخ ہوگئی ہوںگی ۔۔۔۔ کس کس کی پاکٹ منی کے کون کون سے نوٹ پر حضرت قائد اعظمؒ کے چہرے پر خون کا رنگ چڑھ گیا ہوگا۔

اے زیست ۔۔۔۔! تیرے ہوتے ہوئے یہ بھی سہنا تھا، وہ غم کہ جس کا مداوا نہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ سفر ہجرت کہ جس میں پیچھے مڑ کر دیکھنے کا کوئی بلاوا نہیں، وہ تاب کہ جس کا یارا نہیں، اے یتیموں کے سر پر مسلسل سائبانؐ ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھ تو سہی، ماوں کی طرف کہ جنکی آنکھیں عین ان لمحوں میں دہلیز کی طرف اٹھتی رہا کریں گی کہ جن میں ان کا چاند آنگن میں اترتا تھا۔ طاق میں رکھی کتابیں اور ان میں رچی ہوئی انکی خوشبو، ان کے کھلونوں میں مہکتا ہوا ان کے ہاتھوں کا لمس، ان کے رکھے رہ گئے کپڑوں میں آباد ان کا وجود۔

اے قاسمؑ و حسنؑ، حسینؑ اور فاطمہؑ کے بابا!۔۔۔۔۔ دیکھ کتنی ماوں کی گود اجڑ گئی اور پہلو سرد ہوئے اور کتنے باپ اپنے خوابوں کی کرچیاں اٹھاتے تیرے حضور دست بستہ ہیں۔ سنا ہے وہ درندے بھی عربی بول رہے تھے۔ دیکھ انکے چہروں پر کیسی وحشت رقصاں ہے۔ سنا ہے اللہ تعالٰی آپ کی کسی سفارش کو رد نہیں کرتا تو پھر میرے وطن کو بچا لیجئے۔۔ میرا گھر اب بھیڑیوں کی زد میں ہے، درندگی میرے بچوں کو نگل رہی ہے۔ آقاؐ جب (آپؐ کا صاحبزادہ) حضرت ابراہیمؑ آپ سے جدا ہوا تو آپؐ بھی روئے تھے۔ آپ سے بہتر کون جانتا ہے، بچوں کی جدائی کا غم، ہم سب معافی کے طلبگار ہیں۔ ہم اللہ کی مقرر کی ہوئی سزا کو بحال کرنے کے لئے اس سانحے کے منتظر رہے، ہم نے جہاد اور درندگی کو باہم رکھا، ہمارے جگنووں اور تتلیوں اور ہمارے اساتذہ کی قربانیوں کو قبول کر، ہماری حفاظت فرما، ہم میں سے رہبر پیدا کر، ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے کی توفیق عطا کر اور سوچ کے بٹوارے سے بچا۔

اے رب کائنات درندگی کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت سے مالا مال کر۔ اے اللہ ان پھولوں کا درد برداشت نہیں ہو رہا، ہم سب کو صبر عطا کر، اک کرب ہے جو رگوں میں سرایت کرگیا ہے، ایک درد ہے جو رکتا نہیں، درندے ابھی پھولوں کی کیاریوں میں گھس آئے ہیں، نظریں پھر گنبد خضریٰ کی طرف لگی ہیں، کہ درد کا درماں بھی آپ، فریاد کا مکاں بھی آپؐ، کہ فہم، ادراک بھی آپؐ، صاحب لوح اور شاہ لولاک بھی آپؐ، بس اتنا کہنا ہے کہ لہو رنگ کتابیں، نیم جلے بستے، خون پوش چہرے اور شہادت سے پہلے پناہ ڈھونڈتی ہوئی آنکھیں، آپ سے کچھ کہہ رہی ہیں۔

پشاور کے گلابوں کے نام
ماں مجھے ابھی نہ جگانا کہ
تیرے پہلوں میں میٹھی نیند آتی ہے
تیرے جسم کے نرم بستر پر
میری انگلیاں خواب لکھتی ہیں
میری سوچ کی ہتھیلی پر
کئی جگنو ثبت ہوتے ہیں
ماں۔۔۔۔۔ مجھے ابھی نہ جگانا
بند پلکوں کی زمیں پر
کئی خیال چلتے ہیں
کئی خواہشیں مچلتی ہیں
بابا سے کہتی ہیں
میرا بلا جس کے پیچھے میرا نام لکھا ہے
اب ٹوٹ رہا ہے
گئی عید والی شرٹ کا رنگ بھی
کچھ کچھ چوٹ رہا ہے
ابھی کچھ دیر اور خواب بننے دو
اپنے جسم کے نرم بستر
کچھ دیر اور رہنے دو
ماں۔۔۔۔۔ مجھے ابھی نہ جگانا
مجھے سکول نہیں جانا
بشکریہ روزنامہ نئی بات
 ...........

Add new comment