خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

ٹی وی شیعہ[ریسرچ ڈیسک]کیا لفظ اتنے بھی بے وقعت ہوسکتے ہیں جتنے آج ہوئے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ پشاورمیں ہونے والے سانحہ کی الفاظ کے ذریعے مذمت کی جاسکے؟ کیا حروف اجڑی گودیوں کے زخموں کا مرہم بن سکتے ہیں؟ سالوں کی محنت کا ثمر، ہزاروں تکلیف دہ راتوں اور دنوں کا حاصل یوں اندھی گولیوں کی نظر ہوجائے گا، کیا کوئی ماں ایسا سوچ سکتی ہے؟ سینکڑوں مائیں، لاکھوں سپنے، ہزاروں ارمان سب کچھ چند حیوانوں کی بربریت کی نظر ہوگیا۔ ایک سو تیس سے زیادہ پھول شہید اور سینکڑوں مجروح، یہ کیسا جہاد ہے؟ یہ کیسے مجاہد ہیں۔؟ یہ سوال ان لوگوں سے ہے جو کبھی ان لوگوں کو مجاہد اسلام، کبھی سیدالشہداء، کبھی اپنے بھائی اور بچے کہہ کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ میں کسی خاص شخصیت پر تنقید نہیں کرنا چاہتا، میری نظر میں اس بربریت میں ہر شخص کو اپنا کردار پہنچاننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یا تو ان معصوم شہداء کی طرف کھڑا ہونا ہوگا یا پھر قاتلوں کی طرف۔ ایسا ممکن نہیں کہ ہم ایک پاؤں اس طرف رکھیں اور دوسرا پاؤں دوسری طرف۔

جہاد و قتال یقیناً اسلام کا اہم رکن ہے، لیکن آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہر وہ شخص جو لمبی داڑھی رکھ لے، عربی بولنے لگ جائے یا تکبیر کا نعرہ بلند کرکے دشمن پر پل پڑے، ہر حال میں مجاہد ہی تصور کیا جانا چاہیے یا جہاد اسلامی کے کچھ اصول و ضوابط، قواعد و قوانین بھی ہیں، جن کی پاسداری ہر مجاہد پر لازم ہے۔ پشاور کا واقعہ کسی توضیح کا محتاج نہیں ہے، کوئی بھی دین کا طالب علم اس واقعہ کو اسلامی تو کجا انسانی فعل بھی نہیں کہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر طبقہ فکر کے انسان نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ وہ جو مار رہے تھے، ان کا اسلام کس نوعیت کا ہے۔؟

وہ کیسے اور کیونکر اپنے فعل کو اسلام کی خدمت سمجھ رہے تھے؟ انھیں کس نے بتایا کہ فوجی سکول میں زیر تعلیم بچوں کو مارنا اور ان کو اپنے انتقام کا نشانہ بنانا اسلامی ہے؟ کون انھیں بتاتا ہے کہ فلاں مرتد ہوگیا اور فلاں کافر، لہذا اب اس کا قتل جائز اور اسلام کی خدمت ہے؟ ہمیں ان سوالوں کا جواب ضرور تلاش کرنا ہوگا۔ ہمیں تلاش کرنا ہوگا کہ ان بھیڑیوں کے لئے کس کے دل میں نرم گوشہ ہے۔ کون انھیں پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے، کون ان کے لئے وسائل اکٹھے کرتا ہے، کون ان کی وکالت کر رہا ہوتا ہے۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ملک بھر میں متعدد واقعات میں بے جرم و خطا شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ اب ممکن نہیں کہ واقعہ کی فوری طور پر مذمت کر دی جائے اور بعد میں پھر انہی کی وکالت شروع ہوجائے۔

اگر واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین شروع کیا جائے تو اس سانحے کی سب سے زیادہ ذمہ داری بہر حال حکومت وقت کے کندھوں پر آتی ہے۔ آج حکومت اور سکیورٹی اداروں کو اپنے اندر موجود خامیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ابھی کل ہی کی خبر ہے کہ حکومت نے ایک ہزار سزائے موت کے مجرموں کی پھانسی پر عمل درآمد کو روک دیا۔ ہمارے اداروں اور اہل اقتدار کو آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سزائے موت کے مجرموں سے نرمی برتنے کا اصل سبب خوف ہے یا کچھ اور، نیز یہ نرمی کہیں دہشت گردوں کی صفوں میں کوئی منفی پیغام تو نہیں پہنچا رہی۔ اگر ان قیدیوں کا جرم ثابت ہوچکا ہے تو سزا پر عمل درآمد میں کونسی چیز مانع ہے؟ ہمیں بحیثیت قوم اب فیصلہ کرنا ہے کہ قاتلوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

اگر ہم نے آج کمزوری کا مظاہرہ کیا تو یقین جانیں پشاور پبلک سکول کا واقعہ اپنی نوعیت کا آخری واقعہ نہیں ہوگا۔ چند دنوں کی خاموشی کے بعد یہ درندے اپنی روش کے مطابق ایک مرتبہ پھر میدان عمل میں اتریں گے اور کہیں ایسی کاری ضرب لگائیں گے جس سے ہماری زمین کے باسی سالوں تک تلملاتے رہیں گے۔ یہ خون ناحق جو کل پشاور کی سرزمین پر بہایا گیا، ہر صاحب اقتدار کی گردن پر ایک بوجھ ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارے سیاسی حربوں اور مفاہمتوں کا اتنا بڑا نقصان نہ صرف قوم کے لئے قابل تحمل نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات بد سے خود ہماری سیاستیں اور امارتیں بھی محفوظ نہ رہیں گی۔

آج پھولوں کا شہر اداس ہے، ہر دل غمزدہ ہے، ہر آنکھ نم ہے۔ ہم تو فقط ایسے واقعات پر اظہار غم ہی کرسکتے ہیں۔ وہ قوتیں جو عمل کی طاقت رکھتی ہیں، ان کو اب دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ایسا سریع اور دیرپا ردعمل جو واقعتا ’’ضرب عضب‘‘ ہو۔ اس فتنہ سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہماری افواج کے قائدین کو سیرت امیرالمومنین کرم اللہ وجہہ پر عمل کرنا ہوگا۔ امیر المومنین تاریخ اسلام کے وہ پہلے قائد اور سپہ سالار ہیں جنھیں اسی طرح کے فتنہ سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ امیر المومنین کرم اللہ وجہہ الشریف نے اس فتنے کے مقابلے میں علمی، سیاسی، مذاکراتی اور جنگی کوئی بھی محاذ خالی نہ چھوڑا۔

اگر ہماری افواج بھی اس فتنہ سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا چاہتی ہیں تو انہیں بھی ملک میں موجود اس فتنہ کی ہر پناہ گاہ اور رسد گاہ پر انتہائی مدبرانہ وار کرنا ہوگا۔ وہ چشمے جو اس فتنہ کو مالی وسائل سے سیراب کرتے ہیں کو خشک کرنا ہوگا۔ وہ مقامات جہاں سے اس فتنہ کی علمی آبیاری ہوتی ہے، کو ان کی غلطی کا احساس دلانا ہوگا۔ وہ سیاسی مراکز جہاں سے اس فتنہ کے لئے حوصلہ افزاء پیغامات جاتے ہیں، کو اپنے جذبہ عضب سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس فتنے کے خلاف قومی سطح پر یک سوئی اور یک جہتی پیدا کرکے نیز اس کے خارجی و داخلی روابط کو منقطع کرکے اس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جائے۔ یہی خدمت انسانیت ہے، یہی اسلام کی منشاء اور تقاضا ہے۔

ہمارے حکمرانوں کو بھی اس سلسلے میں فوج کے ہم قدم ہونا ہوگا۔ ’’ضرب عضب‘‘ کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ چاہے خارجی ہو یا داخلی، حکومت وقت کو ان پر واضح کرنا ہوگا کہ اب معاملہ ہماری برداشت سے باہر ہوچکا ہے۔ اب اس فتنہ کو مزید بڑھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بے گناہ انسانوں کے خون کی جتنی ندیاں بہہ چکیں، کافی ہیں یا تو ہمارا دیس چھوڑ جاؤ، یا مردانہ وار میدان میں آکر لڑو، تاکہ تمھیں یہ گلہ نہ رہے کہ ہمارے گھروں پر حملے کئے جاتے ہیں، جس میں ہمارے بچے مارے جاتے ہیں۔ حکومت وقت بخوبی ان قوتوں سے آگاہ ہے جو اس فتنے کی مالی معاونت کرتی ہیں، حکومت کو پتہ ہے کہ اس فتنے کے فکری ریشے کہاں جاتے ہیں، حکومت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ کون کون اس فتنے کا پشت پناہ ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی عمل کا آغاز کرے۔ سیاسی مفادات، قومی مفادات پر حاوی نہیں ہونے چاہئیں، ورنہ اس اجڑی دھرتی میں گودیاں یوں ہی اجڑتی رہیں گی اور مائیں اسی طرح اپنے لعلوں کے جنازے دیکھ دیکھ کر روز مرا کریں گی۔ ہاں مگر یاد رہے خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔
...........بقلم:سید اسد عباس تقوی 

Add new comment