سابق امیر جماعت اسلامی منور حسن کے فتوے

 

ٹی وی شیعہ[نیشنل میڈیا]سابق امیر جماعت اسلامی سید منورحسن پھر فتویٰ سازی کے میدان میں اُتر آئے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ”مسائل کا حل جمہوریت میں نہیں بلکہ ”قتال فی سبیل اللہ“ میں ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ ”میں یہ اعلان بیانگ دہل کر رہا ہوں اور اسے واپس لینے یا اس کی تردید کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“ یعنی ”جو کوئی میرا بگاڑ سکتا ہے بگاڑ لے۔“ سید منور حسن نے اس وقت بھی فتویٰ سازی میں شہرت حاصل کی تھی جب نومبر 2013ءمیں ”محب وطن“ دہشت گرد طالبان کا سربراہ حکیم اللہ محسود امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا اور سید منورحسن نے کہا تھا کہ ”حکیم اللہ محسود اسلام دشمنوں کے خلاف لڑتا ہوا شہید ہوا۔“
سید منورحسن کوئی مستند عالم دین نہیں ہیں اور ”مفتی“ کے درجے پر کبھی فائز نہیں رہے‘ لیکن انہوں نے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سمیت 55 ہزار معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کے قاتلوں کے سرغنہ حکیم اللہ محسود کو شہادت کے درجے پر فائز کردیا۔ اپریل 2014ءمیں سید منور حسن کی جگہ جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہونے والے جناب سراج الحق بھی ”مفتی“ نہیں ہیں۔ ان سے قبل جماعت اسلامی کے امراءقاضی حسین احمد‘ میاںطفیل محمد اور مولانا مودودی (مرحوم) بھی مفتی نہیں تھے۔ جمعیت علماءاسلام کے دونوں گروپوں (فضل الرحمن گروپ اور سمیع الحق گروپ) کے اکابرین کا فتویٰ تھا کہ ”مولانا مودودی چونکہ کسی دینی مدرسے کے فارغ التحصیل نہیں ہیں‘ اس لئے انہیں مستند عالم دین قرار نہیں دیا جا سکتا۔“ دوسرے مسالک کے علماءکا بھی مولانا مودودی سے متعلق یہی نظریہ تھا۔
مولانا مودودی صاحب نے اپنے پیروکاروں یا عام مسلمانوں کو ”قتال فی سبیل اللہ“ کا حکم نہیں دیا تھا‘ قائداعظم اور قیام پاکستان کی مخالفت ضرور کی تھی‘ لیکن انہوں نے اور ان کی جماعت اسلامی نے جنوری 1965ءکے صدارتی انتخابات میں فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے مقابلے میں قائداعظم کی ہمشیرہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی کی حمایت کرکے تحریک پاکستان میںاپنے منفی رویئے کی تلافی بھی کر دی تھی۔ مولانا موددی ”اسلام میں عورت کی سربراہی“ کے خلاف تھے‘ لیکن انہوں نے مادرِملت کی سربراہی کی حمایت کیلئے ”اجتہاد“ کر لیا تھا۔ مولانا مودودی کی صدارت میں منعقدہ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں منظورکردہ قرارداد میںکہا گیا تھا کہ ”فیلڈ مارشل ایوب خان میں کوئی خوبی نہیں سوائے اس کے کہ وہ مرد ہیں اور محترمہ فاطمہ جناح میں کوئی اور خامی نہیں سوائے اس کے کہ وہ عورت ہیں۔“
قاضی حسین احمد (مرحوم) نے بانی¿ پاکستان محمد علی جناح کو ”قائداعظم“ کہنا شروع کردیا تھا۔ سنیٹر منور حسن بھی ان کی تقلید کرتے رہے۔ جناب سراج الحق قائداعظم کو ”رحمت اللہ علیہ “ بھی کہتے ہیں۔ 23 مارچ 1940ءکو جب لاہور کے منٹوپارک (موجودہ اقبال پارک) میں قائداعظم کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسہ¿ عام میں اسلامیان ہند نے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن بنانے کا عہد کیا تو اس وقت جماعت اسلامی وجود میں نہیں آئی تھی۔ مولانا مودودی کی امارت میں جماعت اسلامی 26 اگست1941ءمیں قائم ہوئی۔ اپریل 2014ءمیں جناب سراج الحق کو امیر جماعت اسلامی منتخب کرنے کے موقع پر قومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے پتہ چلا کہ ”جماعت اسلامی کے ارکان کی تعدا تین ساڑھے تین ہزار کے درمیان ہے۔“ دراصل کوئی بھی پھنے خان اپنے لاکھوں ساتھیوں سمیت جماعت میں شامل نہیں ہو سکتا۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین جب بھی مینارِپاکستان لاہور کے زیرِسایہ عام جلسوں سے خطاب کرتے ہیں تو وہ 23 مارچ 1940ءکو قائداعظم کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ میں منظور کی جانے والی قرارداد اور مطالبہ پاکستان سے اظہاریکجہتی کرتے ہیں اور قائداعظم کی عظمت کا اعتراف بھی کرتے ہیں‘ لیکن جن سیاسی قائدین کے بزرگوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور قائداعظم کے خلاف کفر کے فتوے دیئے تھے وہ ایسا نہیں کرتے۔ 11 مئی 2013ءکے عام انتخابات سے قبل 31 مارچ 2013ءکو مینارپاکستان کے زیرسایہ جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربرہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی صدارت میں منعقدہ ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں مینار پاکستان پر‘ پاکستان کے عوام کو یہ یاد دلانے آیا ہوں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے مصور پاکستان علامہ اقبال اور بانی¿ پاکستان حضرت قائداعظم کا ذکر نہیں کیا تھا۔“
اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا تھا کہ ”ہندو اب بھی ایک قوم ہیں‘ لیکن برصغیر کے مسلمانوں کو تین حصوں (یعنی ہندوستان‘ پاکستان اور بنگلہ دیش) میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقسیم ہندوستان یا (قیام پاکستان) کا مولانا فضل الرحمن کو کتنا دکھ ہے؟ مینار پاکستان لاہور کے زیرسایہ امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کی صدارت میں جماعت اسلامی کا تین روزہ اجتماع بھی کامیاب رہا۔ بھارت سمیت دنیا کے کئی ملکوں سے جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی تنظیموں کے مندوبین اور اقلیتوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور مولانا مودودی صاحب کی قومی اور اسلامی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
جناب سراج الحق نے متناسب طریقِ انتخاب کی بنیاد پر عام انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ جماعت اسلامی 1960ءسے یہ مطالبہ کر رہی ہے۔ 1962ءمیں جماعت کے ایک ممتاز رہنما سید اسعد گیلانی مرحوم نے اس موضوع پر ایک معلومات افزا کتاب بھی لکھی تھی‘ لیکن طریقِ انتخاب تبدیل کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی تھے تو ان کے جنرل ضیاءالحق سے اچھے تعلقات تھے۔ جماعت کے چند رہنما جنرل صاحب کی حکومت کا حصہ بھی رہے۔ اس موقع پر جنرل ضیاءالحق سے متناسب طریق انتخاب کا حکم جاری کرایا جاتا تو کیا ہی اچھی بات ہوتی؟
مینار پاکستان کے زیرسایہ جماعت اسلامی کے اجتماع میں ”مرد مومن مرد حق‘ سراج الحق سراج الحق“ کے نعرے لگائے گئے۔ اس سے قبل یہ نعرے جنرل ضیاءالحق کے حق میں لگائے جاتے تھے۔ ”قدم بڑھاﺅ سراج الحق ہم تمہارے ساتھ ہیں“ کے نعرے بھی لگائے گئے۔
جمہوریت کے حامی اور عام انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آنے کے خواہشمند جناب سراج الحق نے پاکستان میں ”خلافت“ کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ ”دنیا بھر کے مسلمانوں کی خلافت کا مرکز پاکستان ہوگا۔“ ممکن ہے کہ سراج الحق صاحب اپنی خلافت قائم کرنے میں کامیاب ہی ہو جائیں‘ لیکن سید منور حسن نے ان کی خلافت قائم ہونے سے پہلے ہی ”قتال فی سبیل اللہ“ کا فتویٰ دیدیا ہے۔ اپریل 2007ءمیں اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب (سرکاری ملازم) مولانا عبدالعزیز نے اپنی خلافت قائم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور موصوف ابھی تک ”امیرالمومنین“ کہلاتے ہیں۔ تین/چار ماہ قبل ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا عبدالعزیز نے کہا تھا کہ ”خلیفہ کا منصب سنبھال کر میں کسی بیوہ سے دوسری شادی بھی کر لوں گا۔“
مقتول سید منور حسن کے بقول (شہید) حکیم اللہ محسود بھی امیرالمومنین کہلاتے تھے اور ان کے قائم مقام مفرور ملا فضل اللہ بھی۔ خدانخواستہ سید منورحسن کا ”قتال فی سبیل اللہ“ کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو کیا وہ خود کو خلافت کا سب سے بڑا عویدار قرار نہیں دیں گے۔ ”تحریک خلافت پاکستان“ کے بانی امیر ڈاکٹر اسرار احمدحیات ہوتے تو وہ بھی امیدوار ہوتے۔ نامور تاریخ دان ابن خلدون نے لکھا ہے کہ ”خلیفہ۔ قبلہ قریش میں سے ہونا چاہئے۔“ منور حسن صاحب تو سید کہلاتے ہیں‘ ان کا حق فائق ہوا‘ بلوچ مولانا عبدالعزیز اور پختون ملا فضل اللہ اور سراج الحق کو ”قتال فی سبیل اللہ“ کرنے والے کہاں پوچھیں گے؟ اب رہی فوج تو فوج نے سید منورحسن کا کیا بگاڑ لیا تھا جب انہوں نے 10 نومبر 2013ءکو اٹک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں طالبان سے لڑائی میں مارے جانے والے پاکستانی فوجیوں کوشہید تسلیم نہیں کرتا۔“
بقلم::::::::اثر چوہان:::: بشکریہ::::::::
http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/24-Nov-2014/342929
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Add new comment