بی بی زینب سلام اللہ علیہا۔قسط دوئم

بی بی زینب سلام اللہ علیہا۔ از؛ سیدہ زائرہ عابدی

قسط دوئم

لیکن پھر زمانہ کی ستمگر ہواؤں نے جب اس متبرّک آنگن کا رخ کیا تو بعد از وصال حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰ لہ وسلّم صرف چھ مہینے ہی گزرے تھے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت ہو گئ ،چھوٹی سی عمر میں مشفق مادر گرامی کا سایہ دنیا سے اس طرح سے اٹھ جانا یہ کو ئ معمولی واقعہ نہیں تھا بی بی زینب سلام اللہ علیہا بنفس نفیس اپنے محترم والد گرامی کے ساتھ اور اپنے گھرانے کے ساتھ زمانے کی ستم گری دیکھ رہی تھیں اور آپ سلام اللہ علیہا کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ آپ کو دین محمّدی کی بقائے دوام میں کون سا کردار ادا کرنا ہئے ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب ان کو حقیقت میں ثانئ زہرا ء کی جان نشینی کا حق بھی ادا کرنا تھا،چنانچہ بی بی زینب سلم اللہ علیہا نے ایک جانب اپنے چھوٹے بہن بھا ئیوں کی دلداری کا فرض انتہائ زمّہ داری کے ساتھ نباہنے کا فیصلہ کیا تو دوسری جانب مدینے کی خواتین کی وہ علمی اور روحانی پاکیزہ روحانی محفلیں جو بی بی سیّدہ اپنی حیات مبارک میں سجاتی تھیں ان تدریسی مجلسوں کی نشست و برخاست پر بھی اثر نہیں پڑنے دیا اور مدینے کی خواتین کے ہمرا ہ حسب معمول بی بی زینب نے درس و تدریس کا سلسلہ قائم رکھّا،آپ مدینے کی خواتین میں بہت جلد ایک ایسی معلّمہ ثابت ہوئیں کہ جن کو علم حاصل کرنے کے لئے آنے والی خواتین نے محدّثہ عالمہ ،،فاضلہ،عاقلہ،عقیلہ کے القابات عطا کئے اور شہر مدینہ میں یہی القابات آپکی علمی اور شخصی حیثیت کی پہچان بن گئے ،یعنی آپ دین محمّد کی حفاظت اور اس کے پھیلاؤ میں ایک خاموش مجاہدہ کی حیثیت سے شامل ہو گئیں۔

آپ سلام اللہ علیہا کی یہ تدریسی محفلیں بعد نماز ظہر سے نماز مغربین تک جاری رہتی تھیں جن میں آپ فصیح و بلیغ زبان میں قرانی احکامات اور ان کی تشریح تفسیر اور ارشادات نبوی کی روشنی میں انسانی زندگی کے مقاصد مطالب بیان کرتیں تھیں تب وقت کا پہیہ رک جایا کرتا تھا اور سننے والو ں کے دل موم ہو جاتے تھے اورآنکھیں بے ساختہ آنسوؤں سے لبریز ہو جایا کرتی تھیں۔

اور پھر بالآخر وہ وقت بھی آپ کے لئے آ پہنچا جو اللہ تعالٰی نے ہر بیٹی کے لئے مقرّر کیا ہئے ،پیام تو کئ آئے ہوئے تھے ،،لیکن مولائے کائنات پر ویسا ہی سکوت طاری تھا جیسا کہ بی بی سیّدہ سلام اللہ علیہا کی نسبت طے کرتے ہوئے نبئ اکرم حضرت محمّد صلّی اللہ علیہ واآ لہ وسلّم پر طاری ہواتھا اور جب سکوت مولا علی علیہ ا لسّلا م ٹوٹا تو خوشخبری سننے والوں نے یہ مژدہء جانفزاء سنا کہ بی بی زینب بنو ہاشم کے ایک عالی جاہ فرد عبد اللہ بن جعفرطیّار سے منسوب ہو رہی ہیں۔

جناب حضرت جعفر طیّار جنگ موتہ میں داد شجاعت دیتے ہوئے جب شہید ہوگئے تب جناب عبداللہ براہ راست مولائے کائنات حضرت علی علیہ ا لسّلام کی نگہداری میں آگئے اس طر ح ہادئ دو جہاں کی بھی شفقت و محبّت سے و نگہبانی بھی ان کو میسّر آئ اور دو عظیم ہستیوں کے مکتب فیضان میں آ جانے سے لوگ آپ کو کاشانہء نبوّت میں خانوادہء اہلبیت نبوّت کا ہی ایک فرد سمجھتے تھے اور اس طرح آپ بڑے ہوتے ہوئے خاندان رسالت مآ ب صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کا ہی ایک فرد سمجھے جانے لگے تھے،جناب عبداللہ کو نبئ اکرم صلّی اللہ علیہواٰلہ وسلّم کی خاص دعائیں نصیب میں آئیں تھیں جس کے سبب آپ بہت دولت و ثروت کے مالک اور پر آسائش زندگی کے حامل تھے جناب عبداللہ کا شمار عرب کے دولت مند ترین افراد میں ہوتا تھا لیکن آپ تو اس سخی گھرانے کے ایک سخی داتا فرد تھے جن کے دروازے ہمہ وقت حاجت مندوں کی حاجت روائ کے لئے کھلے رہتے تھے ،اپنی سخاوت کے باعث وہ بحر الجود یعنی دریائے سخاوت کے لقب سے معروف و مشہور ہو گئے تھے ان کے لئے کہا جاتا تھا کہ اگر عبد اللہ کے پاس اپنی جان کے سوائے حاجت مند کو دینے کے لئے کچھ نا ہو تو وہ اپنی جان بخش دین گے اور وہ فرماتے تھے کہ خداوند متعال نے مجھے اپنی بخشش کا امّیدوار بنایا ہئے تو میں کیوں کسی حاجت مند کی امّید کو نا امّیدی میں بدل کر اس کا رشتہ امّید توڑدوں ،اور جس طرح جناب عبد اللہ کی باطنی شخصیت خوبصورت تھی اسی طرح وہ انتہائ حسین و جمیل اور وجیہ شکیل بھی تھے ،ایسی حسن صورت و سیرت و الے نیک خو فرد سے جناب زینب کی نسبت طے ہوئ تو بنو ہا شم میں اس جوڑی کا نام قِر انُ السّعدَ ین یعنی چاند اور سورج کی جوڑی ) کہ کر پکارا گیا ،شادی کی مبارک ساعتیں آئیں اور خطبہء نکاح مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب نے پڑھ کر دولہا اور دلہن کو رشتہ ء ازدواج میں منسلک کیا اورجناب زینب سلام اللہ علیہا اپنےمتبرّک میکے کے آنگن سے رخصت ہو کررشک فردوس کاشانہء عبداللہ میں جلوہ افروز ہوئیں شادی کے بعد پروردگار عالم نے اس گھر کے آنگن کو بھی گلستان نبوّت کے پھولوں اور کلیوں سے مہکایا۔

http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&artic...

Add new comment