متنازعہ علاقے اور دنیا
ٹی وی شیعہ [نیٹ ریسرچ ڈیسک]کسی بھی ملک کے لیے اس کی سرحدیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، اور ہر ملک ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت میں آئے روز اضافہ کرتارہتا ہے ۔ اس کے باوجود تقریباً پوری دنیا میں دیکھا گیا ہے کہ پڑوسی ممالک کا ایک دوسرے سے سرحدوں کے تعین یا علاقے پر حق جتلانے کے حوالے سے تنازع موجود ہے۔ بعض اوقات یہ تنازعات اتنی شدت اختیار کر جاتے ہیں کہ دونوں ممالک میں سالہا سال حالات کشیدہ رہتے ہیں اور ان علاقوں کی وجہ سے خون ریز جنگیں کی جاتی ہیں۔ ان جنگوں میں فوجی ٹھکانوں سے ہٹ کر آبادیوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ، جس میں ہزاروں بے گناہ مارے جاتے ہیں۔روایتی جنگوں سے نوبت ایٹمی ہتھیاروں اور زہر آلود گیس سے بھرے میزائلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ جس میں سراسر نقصان معصوم شہریوں کا ہوتا ۔ یہ متنازعہ علاقے فریقین کے لیے اتنے قیمتی ہوجاتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کا خون ان کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ایسیمتنازعہ علاقوں کے حل کے لیے دنیا بھر میں کوششیں کی جاتی ہیں ، اور دنیا میں ایسے تنازعات کے حل کے لیے قائم سب سے بڑا ادارہ اقوام متحدہ اس حوالے سے پیش پیش ہوتا ہے ، لیکن دیکھا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرادادیں ان ممالک کی ہٹ دھرمی کے سامنے فقط کاغذ کا ڈھیر ثابت ہوتی ہیں۔لہذا یہمتنازعہ علاقے جنہیں بعض جگہوں پر مقبوضہ علاقے بھی کہا جاتا ہے ہمیشہ تنازعات کی بھینٹ چڑھے رہتے ہیں۔دنیا میں چیدہ چیدہ کون سے ایسے متنازعہ علاقے ہیں ، جن کے تنازعات کا سالہا سال سے حل نہیں نکل رہا اور یہ اپنے تنازعات کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں ؟ ان کا مختصر سا جائزہ لیا جائے تو اس میں سرفہرست، مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے علاقے شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایشیا ، سمیت ، تمام براعظموں میں دیگر ممالک بھی اپنے یا دوسروں کے علاقوں کے حوالے سے تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے علاقے اس حوالے سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ برصغیر کی تقیسم کے ساتھ ہی پیدا ہوگیا، جو یو این او کی قراردادوں کے باوجود حل نہیں کیا جاسکا ، اور یہ ان دوممالک کے درمیان ہے جو ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کو لے کر دنوں ممالک جنگیں تک کر چکے ہیں ، اور اب کہا جارہا ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان جو جنگ ہوگی وہ روایتی ہرگز نہیں ہوگی ۔ دوسری طرف فلسطین ، غزہ کے متنازعہ علاقے کو بھی لگ بھک اتنا ہی وقت بیت گیا ہے۔جہاں اسرائیلی امریکی حمایت کے ساتھ مسلسل فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑتوڑ رہے ہیں ۔ اس مسئلے پر بھی اقوام متحدہ کا کردار امریکی لونڈی کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔
کشمیر۔
پاکستان ، بھارت اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان وادیِ کشمیر کے حق کا تنازع ہے۔ کشمیرکی آبادی قریباً دو کروڑ ہے بظاہر کشمیر کو صرف ایک وادی سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ کشمیر ایک بڑے علاقے پر محیط ہے۔ جس میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ بھی شامل ہے۔ ریاست کشمیر میں آزاد کشمیر کے علاقے پونچھ، مظفرآباد، جموں کے علاوہ گلگت اور بلتستان کے علاقے بھی شامل ہیں۔گلگت اور بلتستان پر 1848 میں کشمیر ی ڈوگرہ راجہ نے قبضہ می لیا تھا،قبل ازیں یہ آزاد ریاستیں تھیں۔ پاکستان بنتے وقت یہ علاقے کشمیر میں شامل تھے۔ وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے۔ یہ علاقہ قدرتی حسن کے بدولت زمین پر جنت تصورکیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ علاقہ تنازعات کی وجہ سے تین ممالک میں تقسیم ہے۔ اول ،پاکستان شمال مغربی علاقے (شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر)، دوم،بھارت وسطی اور مغربی علاقے (جموں و کشمیر اور لداخ)، اور سوم چین شمال مشرقی علاقوں (اسکائی چن اور بالائے قراقرم علاقہ) کے زیر انتظام ہے۔ بھارت سیاچن گلیشیئر سمیت تمام بلند پہاڑوں پر جبکہ پاکستان نسبتاً کم اونچے پہاڑوں پر قابضہے۔بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر کے سب سے زیادہ حصے یعنی 101،387 مربع کلومیٹر قابض ہے ۔ چین کے پاس 37،555 مربع کلومیٹررقبہ موجود ہے۔ البتہ پاکستان کے پاس آزاد کشمیر کی ریاست کا 85،846 کا الحاق ہے ، جس کا انتظام و انصرام ریاست کے باشندوں کو تفویض کیا گیا ہے۔کشمیر کے تنازع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں۔جن میں پہلی جنگ 1947، دوسری 1965 اور تیسری 1999 میں لڑی گئی۔ اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے اس پر بھی گولہ باری کا کا بھارتی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جس میں اکثر پاکستانی شہری آبادی نشانہ بنتی رہی ہے۔جس کی تازہ ترین مثال گزشتہ چند روز میں دیکھنے کو ملی۔
برصغیر کے تقسیم کے وقت انگریز سرکارکے نمائندے لارڈ ماونٹ بیٹن نے تمام آزاد ریاستوں کو اختیار دیا تھا کہ جس ملک کے ساتھ چاہے الحاق کریں ۔ کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کو ترجیح دی تھی، مگر کشمیری راجہ ہری سنگھ نے انگریزوں اور ہندو قیادت سے گٹھ جوڑ کے ذریعے ریاست کو بھارت کے ساتھ اتحاد کا عندیہ دے دیا ، اور اسی الحاق کو بنیاد بنا کر 27اکتوبر 1947کوبھارتی افواج نے ہری سنگھ کی درخواست کو بنیاد بنا کر کشمیر پر فوج کشی کر دی۔بھارتی فوج اور حریت پسندوں کے درمیان گھمسان کا معرکہ ہوا ، اور بھارت نے 17 جنوری 1948کو اقوام میں متحدہ میں جنگ بندی کے درخواست دے دی۔بھارت نے الزام عاید کیا کہ مجاہدین کے روپ میں پاک فوج نے لڑائی میں حصہ لیا۔اس وقت بھارت نے اقوام متحدہ میں یہ عندیہ دیا کہ وہ کشمیر میں استصواب رائے کرا کے کشمیریوں کو ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے دے گا۔ چنانچہ 25جنوری 1948میں کشمیر کمیشن کا تقرر ہوا ، او رسکیورٹی کونسل نے 4فروری 1948میں فیصلہ سنا دیا کہ مسئلہ کشمیر استصواب رائے سے حل کیا جائے۔21 فروری1948 کو سلامتی کونسل نے استصواب رائے کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درامد کروانے کے لئے کمیشن قائم کیا تاکہ رائے شماری کے منصفانہ انعقاد کے لئے پاکستان و بھارت کی معاونت کے لئے بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل رائے شماری کے ایڈمنسٹریٹر مقرر کئے گئے۔ 5 جنوری1949 کو سلامتی کونسل نے کہا کہ استصواب رائے ہی کشمیر کے تنازع کامنصفانہ حل ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو لاکھوں کشمیریوں کی رائے مسترد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے فوجی مبصرین کے علاوہ استصواب رائے کا منصفانہ طریقہ کار بھی وضع کر دیا ۔ جون1953 میں محمد علی بوگرا اور پنڈت نہرو کے درمیان کراچی میں ملاقات ہوئی اور اس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ استصواب رائے پر دونوں ممالک کا اتفاق ہو گیا ہے۔ اپریل1954 میں وزرائے اعظموں کی ملاقات میں یہ طے پایا کہ دونوں ملک اپنے تنازعات مذاکرت سے حل کریں گے، لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ آنے والے دنوں میں بھارت نے نا صرف اقوام متحدہ کی منظورہ کردہ قراردادوں کامذاق بنا دیا، بلکہ بھارت رائے شماری کے معاہدے سے ہی مکر گیا ۔ اس کی یہ ہٹ دھرنی آج تک برقرار ہے ۔پاکستان کے پاس 1962میں چین بھارت جنگ کے دوران کشمیر فتح کرنے کا موقع تھا لیکن مغربی ممالککی وجہ سے ایسا نہ ہوا سکا ۔ انہوں نے استصواب رائے کی ضمانت دی تھی، جس پر عمل نہ کرایا گیا ۔ پھر نوئے کی دہائی میں بھی تحریک آزادی جوبن پر رہی ۔ نوئے ہزار کشمیریوں نے اس مقبوضہ علاقے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ مشرف دور میں کشمیر کے معاملات پر حیرت انگیز تبدیلی دیکھنے کو ملی اور محسوس ہوا کہ شاید یہ تنازع اب حل ہو جائے لیکن ممبئی حملوں نے ایک بار پھر دونوں ممالک کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔جنگ کے بادل منڈلانے لگے اور ممبئی حملوں کو ذمہ داران کے تعین کا تنازع بڑھنے لگا۔دسمبر 2009میں دوبارہ مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا، لیکن اس ڈول سے کشمیریوں کی آزادی کا زم زم نہ نکل سکا ۔ ان دنوں ایک بار پھر دونوں ممالک ورکنگ باؤنڈری پر کشیدہ صورت حال میں مبتلا ہیں۔ بھارت کی طرف سے سویلین آبادی پر آئے روزحملے کیے جارہے ہیں ۔بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو روز ایک نئے میزال پر لپیٹ کر پاکستان پر داغ رہا ہے، اور عالمی برادری کی خاموشی اقوام متحدہ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے
فلسطین ، غزہ
مسئلہ فلسطین ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔فلسطینی عوام اور یہودیوں کے درمیان اس مسئلے نے عالمی شہرت حاصل کی ہوئی ہے ، اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ایک طرف عالم اسلام ہے اور دوسری طرف طاغوتی و مغربی طاقتیں ۔ ایسے میں اس مسئلے کے حل کے لیے جب بھی کوششیں کی گئیں ، کامیابی سے ہم کنار نہ ہو سکیں۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی صیہونی عالمی طاقتوں کی آشیر باد سے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہیہیں ، جن میں سب سے زیادہ متاثر عورتیں اور بچے ہو رہے ہیں۔ وہ طاقتیں جنہوں نے اہلِ فلسطین پرخونی قبضہ کیا، اور بیت المقدس پر شب خون مارا، انہیں اصطلاحی طور پر صہیونی کہا جاتا ہے۔ صہیونی کی اصطلاح یروشلم کا ایک پہاڑ ہے جسے صہیون کہا جاتا ہے ۔ جس پر حضرت داؤد کا مزار بھی ہے۔پہلے پہل یروشلم شہر کے گرد دوبلند و بالا پہاڑوں کے درمیان تھا۔ یہ دونوں پہاڑ آج بھی یروشلم کے گرد مشرق و مغرب میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ ان میں سے مشرقی پہاڑ موریہ جبکہ مغربی پہاڑ کو صہیون کہتے ہیں۔ صہیون اپنی قامت میں موریہ سے بلند تر ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت سلیمان ؑ کے زمانے سے ہی یہودیوں کے لیے باعثِ احترام جانا جاتاتھا۔ یہودیوں کی دربدری کی تاریخ کا جائزہ لیں تو اس کے لیے صفحات کم پڑ جائیں گے لہذا اس سے قطع نظر وہاں سے بات شروع کرتے ہیں کہ کس طرح یہودیوں نے27اگست 1897 کو سوئزلینڈ میں صہیونیت کو منظم و مضبوط کرنے کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔جس میں یہ طے کیا گیا کہ یہودیوں کے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کے لیے منظم جدو جہد کی جائے۔چنانچہ انجمن محبتین صہیون کے نام سے بننے والی تنظیم نے پوری دنیا میں اپنے لیے وطن حاصل کرنے کی کوششیں تیز کرکے فلسطین پر قبضہکرنے کا عہد کیا۔مسئلہ فلسطین اس وقت بین الاقوامی سطح پر ابھرا جب 1948 میں برطانیہ نے فلسطین پر یہودیوں کے قبضے کو قانونی رنگ دینے کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اجلاس منعقد کرنے کے لئے خط لکھا۔ اقوام متحدہ نے آسٹریلیا، کینیڈا، یوگو سلاویہ ، ہالینڈ اور ایران سمیت چند دیگر ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا، اس کمیشن کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ سرزمین فلسطین کا دورہ کرکے وہاں پر مقیم یہودیوں اور فلسطینیوں سے موقف جان کر، سرزمین فلسطین کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور اقوام متحدہ کو اپنی رپوٹ پیش کی جائے۔ اس دورے کے بعد یہ کمیشن بغیر کسی نتیجے کے دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک دھڑے کا موقف تھا کہ فلسطین کوداخلی طور پر عربی اور یہودی دو حکومتوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ جب کہ دوسرے دھڑے کا کہنا تھا کہ مستقل طور پر فلسطین کو یہودی اور عربی نامی دو حصوں میں منقسم کیا جانا چاہیے۔ یہودیوں نے دوسرے دھڑے کی رائے کو صائب جانا اور اس پر صاد کیا۔اس موقع پر اقوام متحدہ کا گھناؤنا کردار سامنے آیا اور اس نے تقسیم فلسطین کے فارمولے کو منظور کرکے یہودیوں کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا۔ چنانچہ یہودیوں نے 14مئی1948کو برطانوی افواج کے نکلتے ہی، اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا ، جسے اس وقت امریکی صدر ٹرومین نے سرکاری طور پر تسلیم کر لیااور11 مئی 1949ء کو اسرائیل کو اقوام متحدہ کے رکن ملک کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔جب کہ 22 نومبر 1967کو سلامتی کونسل میں وہ قرار داد منظور کی گئی، جس کے تحت اسرائیل کو اْن مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے کا کہا گیا، جن پر اسرائیل نے سن 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اس قرار داد پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔برطانیہ، امریکہ اور یہودیوں کے گٹھ جوڑ کے مقابلے کے لئے مصر، اردن، لبنان، عراق، اور شام پر مشتمل عرب افواج کے دستوں نے فلسطین میں اپنے قدم رکھے اور اور پھر فریقین کے درمیان لگنے والی آگ دوام کا راستہ اختیار کر گئی۔ آج بھی فلسطینی یہودیوں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ اور یہ مسئلہ عالمی برادری کے ماتھے پر ایک بدنما داغ کی طرح موجود ہے۔
مشرقی تیمور
پرتگال نے 1975میں جزیرہ تیمور کو آزاد کیا تو انڈونیشیا نے فوری طور پر تیمور پر قبضہ کر لیااور حریت پسندوں کو بزور طاقت زیر نگیں کرنے کی کوشش کی ۔ دلچسپ بات یہ ہے مغربی طاقتوں نے انڈونیشیا کی درپردہ مدد کی ،کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ حریت پسند چین کی مدد سے وہاں کیمونزم کو فروغ دیں اور اس کا مستقبل کیمونزم سے وابسطہ ہو۔1999میں انڈونیشیا ریفرنڈم پر رضا مند ہوگیا، جس کا نتیجہ آزدی پر منتج ہوا، لیکن جو لوگ انڈونیشیا کے حق میں تھے انہوں نے بے دریغ کشت و خون کیا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی کوششوں سے وہاں امن و امان کی صورت حال میں بہتری لائی گی۔
سکاٹ لینڈ
سکاٹ لینڈ کی ریاست 1707تک آزاد ریاست اور خود مختار ریاست گردانی جاتی رہی۔جسے بعد ازاں انگلینڈ اور آئرلینڈ سے ملا دیا گیا۔اس کی وجہ سکاٹ لینڈ کے بادشاہ کی مرضی بنی۔ یوں یہ تینوں مل کر ایک ملک بن گئے۔دو ہزار ایک کی مردم شماری میں سکاٹ لینڈ کی کل آبادی50,620,11تھی۔ سکاٹ لینڈ کا رقبہ انگلینڈ کے جزیرے شمالی تہائی حصے پر محیط ہے۔جوکہ براعظم یورپ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔اس کا کل رقبہ 78,772مربع کلو میٹر ہے ۔اس کی سرحد صرف برطانیہ سے ملتی ہے ، جب کہ بحر اوقیانوس اس کے مغرب اور نارتھ سی اس کے مشرق میں موجودہے۔سکاٹ لینڈ کے الحاق سے لے کر آج تک اس کی جداگانہ حیثیت قائم رکھنے کے لیے مظاہرے ہو نا شروع ہوئے جو آج تک جاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کو ستمبر 2014میں ریفرنڈم کرانا پڑا کہ آیا سکاٹ لینڈ کے عوام آزادی چاہتے ہیں یا برطانیہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ اس ریفرنڈم کے نتائج بر طانیہ کے حق میں آئے یوں سکاٹ لینڈ آج بھی برطانیہ کے ساتھ ہے۔
تبت
تبت وسطی ایشیا کا ایسا علاقہ ہے جوسطح سمندر سے 4,900فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔یہ علاقہ دنیا کی چھت کہلاتا ہے ۔ چین کے ساتھ تبتنے 1950میں الحاق کر لیا تھا۔ لیکن اس الحاق کو وہاں کے حریت پسندوں نے پسند نہ کیا۔ تبت میں بدھ مت کے پیروکار رہتے ہیں، جو تبت کو اپنا آبائی وطن کہتے ہیں۔ ان کا دلائی لامہ 1959کو تبت سے نکل کر بھارت کی پناہ میں چلا گیا۔اس وقت سے لے کر آج تک تبت کے حریت پسند اسے چین سے الگ کرنے کی کوششوں می میں مصروف ہیں۔
تقسیم سوڈان(جنوبی سوڈان)
سوڈان کی ستر فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ جب کہ باقی پچیس فیصد دیگر مذاہب کے لوگ ہیں ۔ ان میں عیسائی صرف پانچ فیصد ہیں۔1956میں براعظم افریقہ میں آزاد ہونے والے سوڈان نے اپنی حیثیت تسلیم ہونے کے ساتھ ہی اپنوں اور اغیار کی چیرہ دستیوں کا اتار چڑھاؤ دیکھنا شروع کر دیا۔آزادی کے دو سال بعد ہی جنرل عبود نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، جوکہ 1966تک جاری رہا۔اس کے بعد ایک اور جنرل جعفر النمیری نے اقتدار پر اپنا حق جمایا۔جس کا دور حکومت 1985 تک جاری رہا۔فوجی آمروں نے اپنی حکومت کی بقا کی خاطر عالمی طاقتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ جاری رکھا۔1989میں ایک اور فوجی حکمران عمر البشر نے اقتدار پر قبضہ کیا۔امریکی سی آئی اے نے شروع سے ہی سوڈان کے داخلی معاملات میں عمل دخل جاری رکھا، جس کی وجہ سے دنیا میں غریب ترین ملک جانے والا سوڈان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔ امریکی اور مغربی طاقتوں نے سوڈان کی عیسائی آبادی کو اسلحہ اور مالی تعاون فراہم کیا۔معدنی دولت ، تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ یہ ملک اپنی جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے میدان جنگ بن گیا۔باغیوں کے بڑھتے ہوئے اثر روسوخ کی وجہ سے سوڈان کی حکومت کو 9جنوری 2010میں ریفرنڈم کرانا پڑا۔یوں سوڈان دو ملکوں میں منقسم ہوا ۔ جنوبی سوڈان تیل کی دولت سے مالا مال علاقہ ہے۔شاید یہی وجہ سوڈان کی تقسیم کا باعث بنی۔
بقلم:َََََََ احمد خلیل جازم
Add new comment