امام علی اسلامی اتحادکے علمبردار

علی اسلامی اتحادکے علمبردار

علی علیہ السلام نے ٢٥ برس تک اُن لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کی جنہوں نے آپ کو آپ کے حق سے محروم رکھا۔آپ نے اپنی نصیحتوں اور مشوروں کے ذریعے اُن حضرات کی مدد کی۔ اسی طرح اِن اہم اور حساس حالات میںہر ممکن طریقے سے عملی کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ حضرت عمر کو کہنا پڑا کہ : لو لا علی لھلک عمر (اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا ) ۔نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ: لا کنت لمعضلة لیس لھا ابوالحسن (مجھے کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئی جسے ابوالحسن (علی) نے حل نہ کیا ہو)
لہٰذا علی وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی کوشش کی ۔ اس وحدت کے معنی یہ نہ تھے کہ انہوں نے اپنے حق سے چشم پوشی کی۔ بلکہ اپنے اس طرزِ عمل سے آپ نے مسلمانوں کو اس عظیم خطرے کے تدارک کی دعوت دی' جو مستقبل میں اسلام کو جڑ سے ختم کر دینے کا باعث بن سکتا تھا ۔
اس بنیاد پر جو شخص بھی عقل 'دین اور ایمان کے لحاظ سے اپنے آپ کو اہل بیت کی پیروی کا پابند سمجھتا ہے'وہ اسلام و مسلمین کی مصلحت و مفاد کی خاطر تمام مسلمانوں کے لئے اپنے بازو کھلے رکھتا ہے 'انہیں گلے لگاتا ہے اور انہیں پیغام دیتا ہے کہ: تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَةٍ سَوَآئٍ(آئو ایک منصفانہ کلمے پراتفاق کرلیں۔سورۂ آلِ عمران٣۔آیت٦٤) ۔ یعنی قرآن و سنت کے مرکز پر جمع ہونے کے لئے قدم اٹھائیں۔ اور اگر امامت و خلافت اور کسی بھی دوسری چیز کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف سر ابھارے 'تو اسکے سلسلے میں خدااور اسکے رسول سے رجوع کریں۔ اور باہمی بغض و عداوت اور دشمنی وکینے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ اسلام کو ہماری اجتماعی کوششوں 'مہارتوں اور فعالیت کی ضرورت ہے۔

http://www.balaghah.net/nahj-htm/urdo/id/maq/16.htm

Add new comment