علی مجسم حق

 

علی سر تا پا حق تھے۔ جب ہم ان کے فکر و شعور' احساسات' اخلاق' سیرت اور عبادت کا بغور مطالعہ کرتے ہیں 'تو انہیں خداوند عالم کا شیفتہ اور عاشقِ الٰہی پاتے ہیں۔ ایسا عشق جس کی کوئی حد اور سرحد نہیں۔
علیاپنی مناجات میں یوں گویا ہوتے ہیں: وھبنی یا الھی و سیدی و مولای وربی' صبرت علی عذابک 'فکیف اصبر علی فراقک؟ (بارِالٰہا 'میرے آقا ' میرے مولا' میرے پروردگار! مانا کہ میں تیرے عذاب پر صبر کر سکتا ہوں لیکن بھلاکس طرح تیری دوری' تیرے فراق کو برداشت کروں گا؟)
عاشق اپنے معشوق کے فراق' اُس سے دوری اور اُس سے فاصلے کی تاب نہیں رکھتا۔
وھبنی یا الھی صبرت علی حرنارک 'فکیف اصبر عن النظرالی کرامتک (بارِالٰہا! مانا کہ میرے تیرے جہنم کی تپش کو برداشت کر لوں گا'لیکن بھلاکس طرح برداشت کروں گا کہ تو مجھ سے اپنی نگاہِ لطف و کرم کو پھیر لے؟)
جب ہم حضرتعلی کے بارے میں غور و فکر کریں اور انہیں کون برتر ہے کی بے معنی اور فضول بحثوں سے باہر نکال لیں' تو اس جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) کے بعدکوئی اُن سے موازنے کے قابل ہی نہیں اور فضائل میں کوئی ان کی نظیر ہے ہی نہیں۔
ہم یہ باتیں اِن کی محبت' اِن کے عشق یا اِن کے بارے میں تعصب سے مغلوب ہوکر نہیں کر رہے۔ بلکہ اِن باتوں پر ایک حقیقت کے طور پر ایمان رکھتے ہیں ۔کیونکہ مسلمانوں کے درمیان علی کے سوا کوئی ایسا شخص تلاش نہیں کیا جا سکتا جس کے دل اور روح میں اسلام نے اس طرح نفوذ کیا ہو اور عمل میں جہاد' معنویت 'تواضع اور جو کچھ اسلام سے تعلق رکھتا ہے تمام معنی میں وہ اسکا آئینہ دار ہو۔ کیونکہ وہ تمام خوبیوں کے حامل ہیں اور اس امر میں کوئی ان کے مرتبے کو نہیں پہنچا۔
اس سے پہلے اپنی گفتگو میں ہم نے اس امر کا تذکرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ کیوں صرف علی یہ لیاقت رکھتے ہیں کوئی اور اِس اہلیت کا حامل نہیں؟۔ اب یہاں ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اپنی رسالت کے ابلاغ کے بعد اپنے تمام منصوبوں کو 'جن میں لوگوں کو توحید کی دعوت 'اسلام کا فروغ اور لوگوںکے اندر ایمان کو رسوخ دینا شامل تھا 'پور ی طرح جامۂ عمل نہیں پہنا سکے تھے ۔کیونکہ بکثرت جنگوں نے آپ کو یہ منصوبے پایۂ تکمیل تک نہ پہنچانے دیئے تھے۔ نیز خود مدینہ میں منافقین اور یہودیوں کی طرف سے پیدا کردہ داخلی مشکلات اور اسی طرح مکہ کی طاقت فرسا مصیبتیں پیغمبرکے بہت سے منصوبوں کے جامۂ عمل پہننے میں رکاوٹ بنیں۔لہٰذالازم تھا کہ پیغمبرکے بعد علی جیسی کوئی شخصیت ان کے ادھورے منصوبوں کو آگے بڑھائے۔

http://www.balaghah.net/nahj-htm/urdo/id/maq/16.htm

Add new comment