سلام یا حسین {ع}
ہراسِ شب میں اب کوئی جگنو بھی سانس تک نہیں لیتا
رات کے سنّاٹے میں فاختہ کی کوک باربار
ڈوب جاتی ہے
جواِک آنکھ دنیا پر اور
اِک آنکھ دین پر رکھتے ہیں
شہادت کی گھڑی
ان کی زباں سوکھ جاتی ہے
جھوٹ کے چشمے سے
سچ کا پیاسا سیراب نہیں ہوسکتا
مرمرکاپتھر
پھونکوں سے آب نہیں ہوسکتا
راوی کی موجوں پہ مورّخ چین ہی چین نہیں لکھ سکتا
جومصلحتوں کی زنجیروں میں جکڑجائے
وہ ہاتھ سلام یا حسین {ع} نہیں لکھ سکتا
نذر حافی
Add new comment