اے کربلا اے کربلا

بعدِ امامِ لشکرِ تشنہ دہاں جو کچھ ہوا
کس سے کہوں،کیسے کہوں،اے کربلا اے کربلا

کیسے رقم ہو بے کسی، بے حُرمتی کی داستاں
اک کنبہء عالی نسب کی دربدر رسوائیاں
اک مشک جس کو کرگئ سیراب تیروں کی زباں
اک سبز پرچم جھک گیا جو خاک و خوں کے درمیاں
اک آہ جو سینے سے نکلی اور فضا میں کھوگئ
اک روشنی جو دن کی ڈھلتی ساعتوں میں سو گئ

وہ دودمانِ حیدری کی، آلِ پیغمبر کی لاش
وہ آیتوں کی گود میں سوئے ہوئے اکبر کی لاش
وہ اک بُریدہ بازوؤں والے علم پرور کی لاش
وہ دودھ پیتے ،لوریاں سُنتے ہوئے اصغر کی لاش
معصوم بچے وحشیوں کی جھڑکیاں کھائے ہوئے
عون و محمد چھوٹے چھوٹے ہاتھ پھیلائے ہوئے

سجاد سے زینب کا یہ کہنا کہ مولا جاگئے
غفلت سے آنکھیں کھولئے ،لٹتا ہےکنبہ جا گئے
اُٹھتے ہیں شعلے دیکھئے، جلتا ہے خیمہ جاگئے
اے باقئ ذرّیتِ یٰسین و طٰہ جاگئے
سارے محافظ سو رہے ہیں اشقیا بیدار ہیں
طوق و سلاسل منتظر ہیں، بیڑیاں تیار ہیں

مصطفےٰ زیدی

Add new comment