امام علی نقی (علیہ السلام) اور مناظرے
امام ہادی (علیہ السلام) کے زمانہ میں متعدد عقیدتی مکاتب فکر جیسے ""معتزلہ"" اور ""اشاعرہ"" ، بہت زیادہ رائج ہوگئے تھے اوراسلامی معاشرہ میں بہت زیادہ کلامی آراء ونظریات ظاہر ہوگئے تھے اور بہت سے مباحث جیسے جبر و تفویض، خدا کا دکھائی دینا یا دکھائی نہ دینا ، خدا کا جسم ہونا وغیرہ بہت زیادہ رائج ہوگئے تھے ،اس وجہ سے کبھی کبھی امام کو ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے آراء و نظریات پیش آرہے ہیں ۔ شیعوں کی مجلسوں اور محفلوں میں ایسے باطل آراء و نظریات کو ختم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ امام علی نقی (علیہ السلام) اپنی رہبری اور ہدایت کو زیادہ سے زیادہ انجام دیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام اپنے مناظرات اور مکاتبات میں ان باطل آراء ونظریات اورمکاتب جیسے جبرگرائی اور جسمیت خدا وغیرہ کے تزلزل کو واضح اور محکم استدلالات سے ثابت کرتے تھے اور اسلام کے اصل اصیل مکتب کو ہر طرح کی تحریف اورباطل تفکرات سے صاف کرکے معاشرہ کے سامنے پیش کرتے تھے اور یہ امام علیہ السلام) کی علمی عظمت کا ایک نمونہ تھی (١) ۔
امام علی نقی (علیہ السلام) کی علمی زندگی کی تحقیق اور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اکثر مناظرے اس طرح کے کلامی موضوعات سے متعلق تھے اور اس سلسلہ میں متعدد روایات آپ سے نقل ہوئی ہیں جو شیعوں کے اعتقادی بنیادوں کو برتری کو ثابت کرتی ہیں ۔ نمونہ کے طور پر امام علیہ السلام کے اس خط کو بیان کیا جاسکتا ہے جو آپ نے ""جبر و تفویض"" کے متعلق اہواز کے لوگوں کے سوال کے جواب میں لکھا تھا اورآپ نے بہت ہی قاطع استدلال اور واضح بیان کے ساتھ ثابت کیا تھا کہ جبر اورتفویض دونوں صحیح نہیں ہیں (٢) (٣) ۔
١۔ شريف القرشى، حياه الامام الهادى، الطبعه الاولى، بيروت، دار الأضوأ، 1408 ه".ق، ص 130 - طبرسى، احتجاج، نجف المطبعه المرتضويه، 1350 ه".ق، ص249.
٢۔ حسن بن على بن شعبه، تحف العقول، ط2، قم، مؤسسه النشر الاسلامى (التابعه) لجماعه المدرسين، 1404 ه".ق، ص 458 – 475.
٣۔ مہدی پیشوائی کی کتاب سیرہ پیشوایان سے اقتباس ، صفحہ ص 601.
Add new comment