شیعہ کون ہیں؟ تشیع کب معرض وجود میں آیا؟ شیعہ کن چیزوں پرایمان رکھتے ہیں ؟

1. شیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد امام علی (ع) کو آپ کا خلیفہ سمجھتے ہیں اور اس بات کے لئے ان کے پاس تاریخی دلائل ہیں اور حدیث ثقلین اور حدیث غدیر اسی سلسلے میں قابل استناد ہیں۔
2. تشیع رسول اللہ (ص) کے دور میں ہی معرض وجود میں آیا جب کوئی اور مکتب موجود ہی نہیں تھا اور صحابہ میں سے ایک گروہ کو رسول اللہ (ع) کے دور میں ہی شیعةُ علی (ع) کہا جاتا تھا جن میں سلمان، مقداد، زبیر بن عوام، عمار بن یاسر، عبداللہ بن عباس، حذیفہ بن یمان وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
3. شیعہ خدا، رسول خدا (ص) اور تمام انبیاء سلف (علی نبینا و آلہ و علیہم السلام)، قرآن اور تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں، موت، حساب عندالموت، میزان، قیامت، سوال و جواب اور قبر میں سوال و جواب اور قیامت میں حساب و کتاب اور سزا اور جزا اور بہشت و دوزخ پر عقیدہ رکھتے ہیں؛ شیعہ نماز و روزہ و زکاة و خمس و حج و امر و نہی پر عقیدہ رکھتے ہیں اوران کا انکار کرنے والے کو کافر سمجھتے ہیں؛ کعبہ ہمارا قبلہ ہے اور حق والدین اور حق یتیم اور حق ہمسایہ پر یقین رکھتے ہیں۔
شیعہ اتحاد مسلمیں کو اپنے عقیدے کا جزء سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اتحاد کے لئے بصیرت اور دشمن شناسی کی ضرورت ہے اور یہ کہ اتحاد قرآن مجید کا حکم ہے۔ شیعہ کا خیال ہے کہ جب تک مسلمان ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہیں کریں گے اور جب تک مسلمان ایک دوسرے کی نسبت غلط فہمیاں دور نہیں کریں گے اور مشترکہ دشمنوں کو پہچانیں گے نہیں مسلمان ذلت سے رہائی حاصل نہیں کرسکے گا۔
شیعہ خطروں میں تقیہ کرنے پر عقیدہ رکھتے ہیں اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وحدت کی دعوت میں وہ اپنا عقیدہ چھپا رہے ہیں بلکہ ان کا خیال ہے کہ شیعہ شیعہ رہے اور سنی سنی رہے مگر مشترکہ مقاصد کے لئے دونوں متحد ہوجائیں۔
اہل تشیع اتحاد کی دعوت اپنا عقیدہ چھپا کر نہیں دیتے بلکہ شیعہ کی حیثیت سے سنی برادران کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں۔
اللہ تعالی آپ کو زندہ و سلامت رکھے۔

Add new comment