واشنگٹن سیکورٹی کانفرنس پر اسرار عباسی کے خیالات

سوال : واشنگٹن میں ہونے والی ایٹمی سیکورٹی کانفرنس میں ایٹمی دہشت گردی پر خوب بحث ہوئی ۔ جب ایٹمی سیکورٹی کی بات ہوتی ہے تو دنیا کو امریکا کے ایٹمی ہتھیاروں سے تشویش لاحق ہوتی ہے کیونکہ امریکا کی وہ واحد ملک ہے جس نے اب تک پہلی بار ایٹمی ہتھیاوں کا اسعتمال کیا ۔ اس کانفرنس میں یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ دنیا کو امریکا اور دیگر ممالک کے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کر دینا چاہئے۔
جواب : بالکل صحیح فرمایا آّپ نے، میں اس کانفرنس کو انخاباتی مہم سے زیادہ کچھ اور نہيں سمجھتا۔ اگر غور کریں تو دو اسلامی ممالک ایران اور پاکستان کی ایٹمی صلاحتیں ان کو کھٹک رہیں ہیں، انھوں نے پابندیاں بھی عائد کر کے دیکھ لیں، سیکورٹی چیکس بھی لگا کر دیکھ لیا لیکن ایسی کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہو سکی جس سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو۔  اسی کے ساتھ اگر آپ ان کو دیکھے تو انھوں نے این پی ٹی سے لے کر ہر ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ دنیا میں 200 ٹن ایٹمی مواد ہے ان میں سے زیادہ تر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس ہیں۔ بات یہ ہے کہ انھوں نے ایران پر جو عالمی پابندیاں عائد کی تھیں اور عالمی دبا‍ؤ میں اکر انھوں نے وہ پابندیاں ہٹا دی لیکن ایران کے رہبر نے جو کہا کہ یہ پابندیاں جو ہٹائی گئ ہیں وہ عملی طور پر ہٹائی نہیں گئیں ہیں، میری نظر میں یہ دو سبب کے لئے ہیں ایک تو انتخاباتی مہم کا حصہ ہے اور دوسری یہ کہ دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔ میری ذاتی رای یہ ہے کہ جتنا محفوظ ایٹمی پروگرام ایران اور پاکستان کا ہے شاید ہی دنیا کے کسی ملک کا ہوگا، امریکا کا بھی نہ ہو، امریکا کا سیکورٹی سسٹم اتنا فل پروف نہیں ہے۔
سوال : ایٹمی کانفرنس میں سب سے زیادہ ایٹمی دہشت گردی پر توجہ دی گئی، سوال یہ ہے کہ پہلے دہشت گردی کے خاتمے پر زور دیا جائے پھر ایٹمی دہشت گردی پر زور دیا جاتا تو بہتر تھا، آپ کی نظر میں کیا کوئی خاص وجہ ہے دہشت گردی کو چھوڑ کر ایٹمی دہشت گردی پر توجہ دی جانے لگی؟
جواب  : جی جناب، یہ بات سب پر عیاں ہے کہ امریکا جب کچھ کرنا چاہتا ہے تو اس سے پہلے عالمی سطح پر وا ویلا مچا دیتا ہے۔ امریکا اگر عالمی دہشت گردی ختم کر دے گا تو وہ دوسرے ممالک میں مداخلت کیسے کرے گا۔ اسی لئے امریکا کبھی بھی دہشت گردی ختم نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ اسی کے ذریعے دنیا کے ہر ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرتا ہے۔ حکومتیں بدلتا ہے، ان کے لئے مسائل کھڑے کرتا ہے، تاکہ وہ اس کی چودراہٹ کو تسلیم کریں، اور اگر وہ اس کی چودراہٹ کو تسلیم نہیں کرتے، تو مختلف قسم کی کاروائیاں کی جاتی ہیں، مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ عالمی دہشت گرد گروپ سے ایٹمی ہتھیاروں کو اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا امریکا سے، کیونکہ امریکا نیوکلئر دہشت گردی کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا وہ عملا مظاہرہ بھی کر چکا ہے۔ یہ دنیا کو بے وقوف بنانے کا طریقہ ہے، امریکا کی یہ اسٹرٹیجک ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ اس طرح وا ویلا مچاتا ہے کہ جیسا کہ انھوں نے ہیگ میں کہا کہ طالبان، پاکستان کے نیوکلئر ہتھیاروں تک پہنچ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے امریکا اس طرح کی باتیں کرکے دوسرے ممالک میں مداخلت کی زمین ہموار کرنا چاہتا ہے۔
سوال : امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر کافی حد تک روک لگا دی گئی جبکہ ایران کا بارہا یہ کہنا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔ ہماری فوجی اور دفاعی حکومت عملی میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئي جگہ نہیں ہے۔ خود رہبر انقلاب اسلامی نے اس طرح کے ہتھیار بنانے کو حرام قرار دیا ہے، باراک اوباما کا کہنا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر روک لگا دی گئی تو کیا اس سے دنیا ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو جائے گی۔
جواب : میں نے شروع میں کہا تھا کہ یہ کانفرنس اوباما کی الوداعیہ تقریب کا حصہ تھی، اور امریکا کے ناکام صدور میں سے ایک باراک اوباما صاحب بھی تھے، انھوں نے اپنے دور حکومت میں ایران پر بہت دباؤ ڈالا، تو جاتے جاتے وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے فلاں چیز کی ، ہم نے یہ چيز کی، دنیا کے سارے ممالک کہہ رہے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے اور اسلامی ملک کے لئے سب سے بڑی چیز فتوی ہوتا ہے اور جب فتوی آگیا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، باراک اوباما ایران کے مسئلے میں اتنا آگے نکل چکے تھے کہ واپس ہونا ان کے لئے ممکن نہیں  تھا۔ تو انھوں نے پابندیاں عائد کی اور ایرانی عوام نےپابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اب ان پابندیوں کو ہٹانا ایران سے زیادہ عالمی مفاد میں تھا، اسی لئے وہ ہٹائی گئیں، جاتے جاتے وہ الوداعیہ کے طور پر یہ باتیں کررہے ہیں لیکن حقیقت میں اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

Add new comment