نماز اور صبر

 

فصاحت حسین

وَ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبرِْ وَ الصَّلَوةِ  وَ إِنهََّا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلىَ الخَْاشِعِينَ(45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنهَُّم مُّلَاقُواْ رَبهِِّمْ وَ أَنهَُّمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ(46)

اور صبر اور نماز کا سہارا لو اور یہ (نماز) بوجھ ہے، مگر خدا سے ڈرنے والوں کے لئے نہیں۔ 

٤٦۔ جنہیں اس بات کا خیال رہتا ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

آج ہر آدمی اتنے مسائل اور مشکلات میں گھرا ہوا ہے کہ صبح آنکھ کھلنے کے بعد سے ہی ایک کرکے وہ سارے مسائل سامنے آنےلگتےہیں اور آدمی انہیں حل کرنے کے لئے سوچنا شروع کردیتا ہے۔ چاہے وہ کوئی بزنس مین ہو جو اپنے بزنس کے بارے میں سوچ رہا ہو یا کوئی جاب کرنے والا اپنی جاب کے بارے میں، گھر کا بزرگ ہو یا جوان، عورت ہو یا مرد سبھی کے سامنے اپنی مشکلات ہیں اور سب لوگ ان کے حل کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈھتے ہیں ۔ بہت سے لوگ غور و فکر کے بعد صحیح راستہ تک پہنچ جاتے ہیں وہیں کچھ لوگوں کے ذہن میں غلط حل آتا ہے اور وہ اسی کو اپنا لیتے ہیں۔ عام طور پر ہم لوگ اپنی پریشانیوں میں اتنا زیادہ گھر جاتے ہیں اور ان کا ذہن اتنا پریشان ہوجاتا ہے کہ وہ خدا کو چھوڑ کر ہر ایک سے مدد مانگنے پر تیار ہوجاتے ہیں اور ہر آدمی کوئی نہ کوئی نیا راستہ بتا دیتا ہے۔ 

خداوندعالم نے ایسے حالات میں ہمیں سہارا دیتے ہوئے کہا ہے کہ صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو۔ (بقرہ ۴۵)

امام صادق (ع) فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی (ع) کو کوئی مشکل پیش آتی تھی تو وہ نماز پڑھتے تھے اور اسی آیت کی تلاوت کرتے تھے۔

آپ ہم لوگوں سے بھی فرماتے ہیں کہ "جب بھی تمہیں کوئی رنج و غم ملے تو وضو کرکے مسجد جاؤ اور نماز پڑھ کر دعا کرو کیونکہ خدا فرماتا ہے "واستعینوا بالصبر والصلاۃ"

اس آیت میں مشکلات کا مقابلہ کرنے کےلئے خدا نے دو چیزوں کا حکم دیا ہے۔ نماز اور صبر ۔ روایت میں صبر کا ایک مصداق روزہ بتایا گیا ہے۔

نماز خدا سے رابطہ کا سمبل اور علامت ہے ۔ یہ خدا  سے رابطہ ہی ہے جو ہماری مشکلات کا حل ہے۔  اگر ہم اپنی مشکل میں خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو:

۱۔ دوسروں کے سامنے ذلیل و رسوا نہیں ہوں گے۔

کیونکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ہماری مشکل دور نہیں کرتے ہیں اور مدد مانگنے کی وجہ سے ہمیں شرمندہ بھی کرتے ہیں اور کچھ لوگ مدد کردیتے ہیں لیکن دوسروں کو بتاتے پھرتے ہیں جس سے مدد مانگنے والے کی بدنامی ہوتی ہے۔

۲۔دل کو سکون و اطمینان حاصل ہوگا۔

اگر ہم کسی مشکل میں گرفتار ہوں اور کوئی بڑی شخصیت ہم سے کہہ دے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں تو ہمیں اپنی مشکل حل ہوتی دکھائی دیتی ہے اور ہم ذہنی الجھن سے نجات پاجاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگرہم  خدا سے مدد مانگیں گے تو ہم خود کو مشکلات کے بھنور میں اکیلا نہیں سمجھیں گے بلکہ ہمیں اطمینان ہوگا کہ خدا ہمارے ساتھ ہے جو ہمیں صحیح راستہ دکھاتا رہے گا ۔

۳۔ خدا ہماری مشکل دور کردے گا

اگر ہماری دعا میں وہ شرائط پائے جاتے ہیں جو دعا قبول ہونے کے لئے ضروری ہیں تو خدا ہماری دعا قبول کرے گا اور ہماری مشکل اور پریشانی دور کر دے گا۔

کسی نے اچھی بات کہی ہے کہ خدا ہماری دعاوں کےتین جواب دیتا ہے :

A۔ہاں

B۔ہاں لیکن ابھی نہیں

C۔ میں نے تمہارے لئے اس سے بہتر فیصلہ کیا ہے

آیت میں دوسرا حکم صبر کرنے کا ہے۔

روایات میں صبر کا ایک مصداق روزہ کو بتایا گیا ہے۔ روزہ بھی ارادہ کی مضبوطی کا ایک سمبل ہے جس میں روزہ دار اپنی مرضی سے بہت سی چیزوں سے خدا کی خاطر پرہیز کرتا ہے۔ اسی لئے ہمارے اماموں نے اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب مشکل حالات سامنے آئیں تو روزہ رکھو۔

صبر یعنی صحیح راستہ پر مضوطی کے ساتھ ڈٹے رہنا۔ گھبرائے بغیرپکے ارادہ کے ساتھ آگے بڑھنا اور اپنے اندر کمزوری نہ آنے دینا۔ جسے استقامت اور پائداری کہا جاتا ہے۔

مشکل حالات کا سامنا کرنے میں استقامت اور پائداری بہت اہم رول ادا کرتی ہے۔ کیونکہ صرف کسی اچھے راستہ پر چلنا کافی نہیں ہے بلکہ اس پر ہمیشہ چلتے رہنا ضروری ہے۔ مشکلوں میں بہت سے لوگ  گھبرا جاتے ہیں اور مشکل دور ہوتی نہ دیکھ کر صحیح راستہ پر کچھ دور چل کر اسے چھوڑ دیتے ہیں جبکہ اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ اگر وہ اسی راستہ پر صبر و استقامت کے ساتھ  کچھ وقت اور باقی رہتے تو ان کی مشکل بہت جلد دور ہوجاتی، تو انہیں افسوس ہوگا۔

جو لوگ مشکلات میں صبر اور استقامت سےکام نہیں لیتے ہیں وہ ذہنی طور پر الجھے ہوئے بھی رہتے ہیں جس سے مشکل حل کرنے کے صحیح راستہ بھی ان کے ذہن میں نہیں آتے لیکن اگر انسان خدا سے رابطہ رکھنے کے بعد صبر سےکام لے اور بے چینی اور گھبراہٹ کا شکار نہ ہو تو وہ سکون اور اطمینان کے ساتھ صحیح حل کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ پریشانیوں میں صبر نہیں کرتے ہیں وہ اتنی زیادہ بے چینی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ خود یہ بے چینی اورالجھن اصلی مشکل سے زیادہ بڑی مشکل بن جاتی ہے۔

روایات میں صبر کی تین قسمیں بتائی گئی ہیں:

۱۔ گناہ کے موقع پر صبر

جب انسان کوئی گناہ انجام دے سکتا ہو اور وہ صبر کرتے ہوئے اس گناہ سے بچ جائے۔

۲۔مصیبت پڑنے پر صبر

کسی مصیبت میں گرفتار ہونے کے بعد بلا وجہ بے چین رہنے کے بجائے صبر و ضبط سے کام لینا۔

۳۔ خدا کی اطاعت کے موقع پر صبر

یوں تو روزہ میں صبر کا پہلو زیادہ دکھائی دیتا ہے لیکن ہر عبادت اور خدا کے ہر حکم کی اطاعت کرنے میں صبر ضروری ہے۔

اسی وجہ سے فرشتے جنت میں جانے والے افراد سے یہ کہہ کر سلام نہیں کریں گے کہ تم نے نماز، روزہ حج اور دوسری عبادتیں کی ہیں اس لئے تم پر سلام ہو بلکہ وہ کہیں گے "سلام علیکم بما صبرتم" (رعد ۲۴) تم نے صبر کیا ہے اس لئے تم پر سلام ہو۔

اوپر روایت میں جن تین جگہوں پر صبر کرنے کے لئے کہا گیا ہے ان تین موقع پر صبر کرکے ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔

یہ گویا صبر کا سہارا لینا اور صبر سے مدد مانگنا ہے۔

آیت میں مشکلوں میں نماز اور صبر کا سہارا لینے کا حکم دینے کے بعد خدا فرماتا ہے کہ جن لوگوں کے دل میں خدا کا ڈر نہیں ہے انہیں یہ نماز ایک بوجھ معلوم ہوتی ہے۔

خدا سے ڈرنے والے لوگ کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں معلوم ہے کہ انہیں اپنے خدا سے ملنا ہے اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔ ورنہ جن لوگوں نے خدا اور قیامت کو بھلا دیا ہے وہ نماز کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔

خدا سے دعا ہے کہ ہم پریشانیوں میں بھی خدا سے غافل نہ ہوں اور نماز اور صبر کے ذریعہ اس سے مدد مانگتے رہیں۔

Add new comment