۲۸صفر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام حسنؑ کا یومِ شہادت ہے


ٹی وی شیعہ[ویب ڈیسک]    شیعہ روایات اور بعض سنّی کتب کے مطابق رسول ص اور امام حسن ؑ کی شہادت ۲۸ صفر کو ہوئی تھی ۔
حضرت علي عليہ السلام سے وصيت فرمانے كے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم كي حالت متغير ہوگئي حضرت فاطمہ (س)جن كے زانو پرسرمبارك رسالت مآب تھا فرماتي ہيں كہ ہم لوگ انتہائي پريشاني ميں تھے كہ ناگاہ ايك شخص نے اذن حضوري طلب كيا ميں نے داخلہ سے منع كرديا، اوركہااے شخص يہ وقت ملاقات نہيں ہے اس وقت واپس چلاجا اس نے كہاميري واپسي ناممكن ہے مجھے اجازت ديجئے كہ ميں حاضرہوجاؤں آنحضرت (ص)كوجوقدرے افاقہ ہواتو آپ نے فرمايا: اے فاطمہ(س) اجازت دے دو يہ ملك الموت ہيں فاطمہ نے اجازت ديدي اوروہ داخل خانہ ہوئے پيغمبر(ص)كي خدمت ميں پہنچ كرعرض كي مولايہ پہلادروازہ ہے جس پرميں نے اجازت مانگي ہے اوراب آپ كے بعدكسي كے دروازے پراجازت طلب نہ كروں گا (عجائب القصص علامہ عبدالواحد ص ۲۸۲ ،روضة الصفا جلد ۲ ص ۲۱۶ ، انوارالقلوب ص ۱۸۸ (۔ الغرض ملك الموت نے اپناكام شروع كيااور رسول كريم (ص) نے بتاريخ ۲۸/ صفر ۱۱ ء ہجري يوم دوشنبہ بوقت دوپہرظاہري خلعت حيات اتارديا(مودة القربي ص ۴۹ م ۱۴ طبع بمبئي ۳۱۰ ہجري

یاد رہے کہ مرسل اعظم (ص) نے اپنی وصیت میں اگرچہ قرآن و عترت سے تمسک کا حکم دیا تھا مگر امت نے وصیت فراموش کردی اور عترت رسول (ص) کے تیسرے فرد سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کو سینتالیس سال کی عمر میں 28 صفر المظفر سنہ 50 ہجری کو امیر شام کی سازش سے جعدہ بنت اشعث نے زہر دیکر مظلومانہ شہید کردیا اور آج بھی جنت البقیع میں آپ کی جدۂ ماجدہ جناب فاطمہ بنت اسد اور آپ کے تین فرزند امام زين العابدین ، امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام کی اجڑی قبروں اور نبی اکرم کی کئی ازواج اور دیگر اعزہ ؤ اصحاب کے مزاروں کے ساتھ نواسۂ رسول (ص) کی ویران قبر آپ کی اور آل رسول (ص) کی مظلومیت کی داستان بیان کررہی ہے۔


امام حسن مجتبی علیہ السلام 15 رمضان المبارک سن تین ہجری کو مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے باپ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب اور ماں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے نانا مرسل اعظم (ص) کی آغوش نبوت و رسالت میں پرورش پائي-

مورخین کے بقول : آپ صورت و سیرت دونوں میں نبی اکرم (ص) سے سب سے زيادہ مشابہ تھے اور اخلاق و کرامت کا مکمل آئینہ تھے خدا کے رسول (ص) نے آپ سے محبت و مودت کی مسلسل تاکید کی تھی اور آپ کو اور امام حسین (ع) کو اپنی " آنکھیں " اور " عرش الہی کے گوشوارے " قرار دیا تھا ،


امیرالمومنین (ع) کے دور حکومت میں بھی آپ تمام امور میں حضرت علی (ع) کے شریک و سہیم رہے جنگ جمل میں آپ ہی لشکر اسلام کے علم بردار تھے

سنہ 40 ہجری میں امیرالمومنین کی شہادت کے بعد عالم اسلام کی قیادت و امامت کی ذمہ داری آپ نے اپنے کاندھوں پر سنبھالی اور اسلامی روایات کے مطابق :" مسلمانوں نے اتنی بڑی تعداد میں آپ کی بیعت کی کہ اتنی تعداد میں کبھی کسی کی بیعت نہیں کی " لیکن مسلمانوں کی عظیم بیعت کے برخلاف امیر شام نے ، دور امیرالمومنین کی طرح بغاوت اور سرکشی سے کام لیا اور جنگ کی تیاری شروع کردی، دولت لٹا کر لشکر اسلام میں اختلاف کے بیچ بوئے اور خود امام حسن (ع) کے سپہ سالار کو خرید لیا


اور اس طرح جنگ کے بغیر ہی امام حسن (ع) کو صلح پر مجبور کردیا اور امام حسن (ع) نے مومنین کے خون ناحق کی حفاظت کے لئے خود اپنی شرطوں پر مصالحت کرلی مگر امیر شام نے صلح کی شرطوں کا بھی پاس و لحاظ نہیں کیا اور ایک سازش کے تحت امام حسن (ع) کو زہر بھجوا کر بیوی کے ہاتھوں شہید کروادیا اور یزید پلید کی خلافت کے لئے تیاریاں شروع کردیں ۔

Add new comment