وہابیوں نے پاکستان میں ۴۵ ہزار سے زائد سُنی مسلمانوں کو شہید کیا ہے۔ریسرچ رپورٹ

ٹی وی شیعہ[ریسرچ رپورٹ]وہابیوں کی درندگی پر سانحہ پشاور سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتاہے۔ ضرورت اس مر کی ہے قوم کے نونہالوں کو وہابی افکار سے خبردار کیاجائے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں اہل تشیع کے ساتھ ساتھ  اہل سنت والجماعت کے مسلمانوں پر بھی وہابیوں نے ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہیں۔ہم اس وقت اہل سنت والجماعت کے مسلمانوں پر وہابیوں کے مظالم کی مختصر مگر ٹھوس رپورٹ پیش کررہے ہیں جس سے آپ کو پاکستان کے مسلمانوں کی بے بسی اور مظلومیت کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا:

مئی 2001ء سندھ کراچی میں سلیم قادری بانی سربراہ سنّی تحریک سپاہ صحابہ پاکستان کے ہاتھوں قتل کردئے گئے

30 مئی 2004ء سندھ کراچی میں دیوبندی مدرسہ جامعہ بنوریہ العالمی کے مفتی نظام الدین شامزئی دیوبندی تکفیری تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے

19 مارچ 2005ء پیر راخیل شاہ کے مزار واقع جھل مگسی بلوچستان پر دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت کے خود کش بمبار نے دھماکہ کردیا جس سے موقعہ پر ہی 36 صوفی سنّی بلوچ مارے گئے

27 مئی 2005ء کو تکفیری دیوبندی انتہا پسند تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے ایک خود کش بمبار نے اسلام آباد بری امام سرکار کے مزار پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے 14 لوگ ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اور یہ خود کش بم دھماکہ اس وقت کیا گیا جب مزار پر بری امام سرکار کے عرس کي سالانہ تقریبات منعقد ہورہی تھیں اس کے بعد سے آج تک مقامی انتظامیہ نے عرس کی اجازت نہیں دی۔

جنوری 26، 2006ء حب بلوچستان میں حضرت شاہ بخاری کے مزار پر حملہ کیا اور ہنیڈ گرینڈ پھینکے گئے

حب جنوری 2006ء بلوچستان میں ہی حاجی شاہ ترنگزئی لاکڑو کے مزار پر حملہ کیا گیا اور دیوبندی تکفیری تنظیم سپاہ صحابہ کے دھشت گردوں نے مزار تباہ کرنے کے بعد اس کا نام لال مسجد رکھ دیا

11 اپریل 2006ء میں نشتر پارک کراچی میں جب عید میلاد النبی کے مرکزی جلوس کے اختتام پر نماز ادا کی جارہی تھی تو خود کش بم دھماکہ دیوبندی تکفیری تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں نے کیا جس میں صوفی سنّیوں کی جماعت سنّی تحریک کی ساری مرکزی قیادت ، جماعت اہل سنت کے رہنماء اور دیگر کئی صوفی سنّی تنظیموں کے رہنماء اور عام صوفی سنّی مارے گئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوگئے

31 جولائی 2007: قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے ردعمل میں برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے والے حریت پسند بزرگ حاجی صاحب تورنگزئی کے مزار پر قبضہ کرلیا۔ صدر مقام غلنئی سے 25 کلومیٹر شمال میں اس مزار اور اس کے قریب مسجد کو کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے لال مسجد کانام دیا تھا، کئی روز تک اس پر قبضہ جاری رکھا۔

17 ستمبر 2007ء خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں معروف دیوبندی عالم مولانا حسن جان کو دیوبندی تکفیری تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھشت گردوں نے ہلاک کردیا

دسمبر 6، 2007ء خیبر ایجنسی میں جی ٹی روڈ پر واقع عبدالشکور ملنگ بابا کے مزار پر حملہ کرکے مزار کو تباہ کردیا گیا اور اس حملے میں پانچ صوفی سنّی ہلاک ہوگئے

18 دسمبر 2007: مشہور بزرگ حضرت قبلہ عبدالشکور ملنگ بابا علیہ الرحمہ کے مزار کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

19 ستمبر 2008ء بلوچستان کوئٹہ میں ایک مدرسہ میں بم دھماکہ ہوا جس میں پانچ لوگ مارے گئے اور آٹھ زخمی ہوئے ، یہ مدرسہ جمعیت العلمائے اسلام فضل الرحمان چلا رہی تھی جوکہ دیوبندی مکتبہ فکر کی تنظیم ہے

16 دسمبر 2008ء خیبر پختون خوا کے علاقے سوات میں صوفی سنّی پیر سمیع اللہ کو دیوبندی تنظیم تحریک طالبان سوات نے ماردیا اور ان کی لاش کی بے حرمتی کی گئی ، ان کے آلہ تناسل سمیت کئی اعضاء کاٹے گئے اور پھر ان کی لاش کو سوات کے خونی چوک سے معروف چوک میں لٹکا کر رکھا گيا جبکہ بعد میں ان کی لاش کو جلا ڈالا گیا

مارچ 2008: پشاور سے ملحق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سرگرم لشکر شیطان (لشکر اسلام) نے صوبائی دارالحکومت کے قریب شیخان کے علاقے میں چار سو سال پرانا حضرت ابو سید بابا کا مزار تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنانے کے دوران جھڑپ میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مارچ 3 ، 2008ء میں پشاور میں ابو سعید بابا کے مزار پر راکٹ فائر کئے گئے جس سے سے مزار کو آگ لگ گئی اور پھر وہاں پر لشکر اسلام دیوبندی تکفیری تنظیم کے دھشت گردوں نے حملہ کیا اور کم او کم 10 افراد کو ہلاک اور متعدد زخمی کردئے گئے

پشاور میں 1 مئی 2008ء کو اشہب بابا کے مزار پر حملہ کیا گیا ، جس میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ، جبکہ بعد میں مزار کو بارودی مواد سے اڈا دیا گیا

دسمبر 9، 2008ء میں بونیر خیبر پختون خوا میں معروف صوفی بزرگ پیر بابا کے مزار پر دیوبندی تکفیری دھشت گردوں نے حملہ کیا اور اس حملے میں ایک ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے

خیبر ایجنسی میں لشکر شیطان (لشکر اسلام) کے منگل باغ نے 2008ء میں حضرت پیر سیف الرحمن علیہ الرحمہ کو شدید جھڑپوں کے بعد علاقہ بدر کردیا تھا۔ ان کے علاقے سوات کے گدی نشین حضرت پیر سمیع الرحمن کو دسمبر 2008ء میں کالعدم تحریک طالبان کے خلاف لشکر کشی کے بعد شہید کردیا گیا تھا۔ شہید کرنے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکال کر مینگورہ کے ایک چوراہے پر لٹکادیا گیا تھا۔

17 جنوری 2009ء خیبر پختون خوا پشاور میں دیوبندی تکفیری تنظیم لشکر اسلام کے دھشت گردوں نے صوفی سنّ پیر رفیع اللہ کو ہلاک کردیا

18 فروری 2009ء کو کوئٹہ بلوچستان میں جمعیت العلمائے پاکستان نورانی گروپ کے لیڈڑ مولانا احمد حبیبی کو اہل سنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں نے ہلاک کرڈالا

5 مارچ 2009: صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں چمکنی کے علاقے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشتو کے مشہور صوفی شاعر اور بزرگ حضرت عبدالرحمن بابا علیہ الرحمہ کے مزار کے ستونوں کے ساتھ دھماکہ خیز مواد رکھ کر مزار کو تباہ کردیا۔ اس مزار کے چوکیدار کے مطابق اسے تین روز قبل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

6 مارچ 2009: نوشہرہ میں واقع بہادر بابا کے مزار کو کالعدم تحریک طالبان نے بموں سے نقصان پہنچایا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مارچ 7، 2009ء کو نوشہرہ خیبر پختون خوا میں دیوبندی تکفیریوں نے راکٹ اور گرینڈز کے ساتھ پیر بہادر بابا کے مزار پر حملہ کیا جس میں ایک افراد ہلاک اور درجنوں زحمی ہوگئے

8 مارچ 2009ء کو خیبر پختون خوا میں معروف صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار پر حملہ ہوا اور مزار پر ہونے والے دھماکوں سے مزار کو کافی نقصان پہنچا

مئی 1، 2009ء کو معروف صوفی شاعر پیر حمزہ شنواری کے مزار واقع لنڈی کوتل پر راکٹ سے حملہ کیا گیا جس سے کئی ایک زائرین زحمی ہوگئے جبکہ مزار کو بھی سخت نقصان پہنچا

مئی 6، 2009ء میں اورکزئی ایجنسی میں حضرت پیر خیال محمد کے مزار پر حملہ کیا گیا جس میں کئی لوگ زخمی ہوگئے

مئی 8، 2009ء کو پیر شیخ علی بابا کے مزار واقع پشاور کو دیوبندی تکفیری تنظیم لشکر اسلام نے حملہ کرکے مسمار کردیا اور اس دوران متعدد صوفی سنّی عقیدت مندوں کو زخمی کیا گیا

11 مئی 2009: خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل سب ڈویژن میں مقبول شاعر امیر حمزہ خان شنواری کے مزار کی بیرونی دیوار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا گیا۔

12 جون 2009ء کو خود کش حملوں کے خلاف اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فتوی دینے والے صوفی سنّی عالم دین ، جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو بھکر کے دیوبندی مدرسے سے تعلق رکھنے والے ایک خود کش بمبار نے خود کو اڈا کر شہید کر دیا ان کے ساتھ پانچ اور سنی صوفی رہنما بھی شہید ہوۓ جبکہ پینتیس سے زائد زخمی ہوۓ

2 ستمبر 2009ء کو اس وقت کے وفاقی وزیر برائے مذھبی امور اور معروف صوفی سنّی عالم دین علامہ حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ ہوا ، حملے کے زمہ دار لشکر جھنگوی / سپاہ صحابہ پاکستان / اہل سنت والجماعت کے دھشت گرد تھے

3 جنوری 2010ء جنوبی وزیرستان میں بابا موسی نیک کے مزار واقع انگور اڈا کی دیوار کو اس وقت شدید نقصان پہنچا جب دیوبندی ٹی ٹی پی کے بعض لوگوں نے مزار کو اڑانے کی کوشش کی ، دھماکے سے اڑنے والے پتھروں سے کئی ایک زائرین زخمی ہوئے

جنوری 5، 2010ء اورکزئی ایجنسی میں سات مزارات پر حملہ کیا گیا اور ان کو مکمل طور پر تباہ کردیا گيا ، جبکہ اس دوران مزارات پر حاضوی دینے والے زائرین کو مارا پیٹا گیا ، کئی ایک فائرنگ سے زخمی ہوئے اور ان مزارات پر حملے کفے دوران محصور ہونے والوں کو تاوان لے کر اور اس وعدے پر چھوڑا گیا کہ وہ اپنے عقائد باطلہ سے دست بردار ہوجائیں گے

اپریل 22۔ 2010ء اورکزئی ایجنسی میں پیر باوا عبدالحق کے مزار کو دیوبندی تکفیری تنظیم اہل سنت والجماعت کے دھشت گردوں نے آگ لگادی اور مزار کے مجاوروں کو تشدد کرکے شدید زخمی کرڈالا

اپریل، 1- 2010ء کو خیبر ایجنسی میں واقع ایک مزار پر حملہ کیا گیا ، جس میں 10 افراد کو ہلاک اور 20 کو زخمی کردیا گیا

یکم جولائی 2010: جمعرات کی رات داتا دربار لاہور میں تین خودکش دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں 50 زائرین شہید اور 200 زخمی ہوئی۔

7 اکتوبر 2010: جمعرات کی رات مغرب کی نماز کے بعد حضرت سید عبداﷲ شاہ غازی علیہ الرحمہ کے مزار شریف کے مرکزی گیٹ پر دو خودکش حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 20 افراد شہید اور 50 زخمی ہوئے۔ اسی رات کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرلی۔ جس کے تمام کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات گواہ ہیں۔

جون ،21 ، 2010ء چمکنی پولیس اسٹیشن کے پہلو میں واقع پیر میاں عمر بابا کے مزار کو دیوبندی تنظیم لشکر اسلام کے دھشت گردوں نے آگ لگادی اور فائرنگ کرکے کئی ایک لوگوں کو زخمی کرڈالا

1 جولائی 2010ء کو دو دیوبندی تکفیری خود کش بمباروں نے لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار کے احاطے میں خود کو اڑا لیا – اس دھماکے میں بھی 50 ہلاک اور 200 زخمی ہوئے

15 جولائی 2010ء لنڈی کوتل میں 100 سال پرانے مزار بزرگ حاجی صاحبزادہ صدیق بنوری المعروف پیر باچا صاحب کے مزار کو آگ لگآدی گئی ، جس میں پیر باچا صاحب آنے والے کئی زاغرین بھی جھلس گئے

19 اگست 2010ء لاہور گرین ٹاؤن باگڑیاں پل کے قریب پیر خاکی شاہ رسول کے مزار پر ٹائم بم ڈوائس سے دھماکہ کیا گیا جس میں دو عقیدت مند زخمی ہوگئے

20 ستمبر 2010ء پشاور کے نواح میں پیر سالک شاہ بابا کے مزار کو بارودی مواد سے اڑا دیا گیا ، دھماکے میں کئی ایک افراد زخمی ہوگئے

2 اکتوبر 2010ء میں خیبر پختون خوا میں ڈاکٹر محمد فاروق دیوبندی مذھبی اعتدال پسند سکالر کو دیوبندی تکفیری تںطیم تحریک طالبان پاکستان نے اس بنیاد پر قتل کردیا کہ وہ بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے اور خود کش بم دھماکوں اور دیوبندی تکفیریوں کے تصور جہاد کو غیر اسلامی بتاتے تھے

7 اکتوبر 2010ء کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر خود کش بم دھماکہ کیا گیا ، جس میں 10 ہلاک اور 50 زخمی ہوئے

24 اکتوبر 2010ء کو خیبر ایجنسی میں پرنگا کے نزدیک سید محمد شاہ کے مزار کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا ، اس دھماکے میں بھی کئی ایک افراد زخمی ہوئے

25 اکتوبر 2010ء پنجاب کے شہر پاک پتن میں معروف صوفی بابا فرید گنج شکر کے مزار پر دھماکہ ہوا جس میں 5 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے

14 دسمبر 2010 ء کو صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر پشاور میں پیر غازی بابا کے مزار پر حملہ کیا گیا جس میں 35 افراد ہلاک ہوگئے

4 فروری 2011ء بابا سائیں کے مزار واقع لاہور پر دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی نے بم دھماکہ کیا جس سے تین افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوگئے

5 مارچ 2011ء اخوند پنجو بابا کے مزار کے احاطے میں واقع مسجد میں بم دھماکے سے 10 لوگ ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے ، یہ مزار نو شہرہ میں واقع ہے

3 اپریل 2011ء پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں سخی سرور کے مزار پر خود کش بم دھماکہ کیا گیا جس میں 42 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوگئے

اکتوبر 19 ، 2011ء میں سابق ایم این اے پیر نور الحق قادری کے گھر سے متصل مزار حاجی گل واقع خیبر ایجنسی پر مزائیلوں سے حملہ کیا گیا ، جو کم رینج کے تھے جن سے مزار تباہ اور دو افراد شدید زخمی ہوگئے

اکتوبر 21 ، 2011ء کو صوابی میں کریم شاہ کے مزار پر دیوبندی تکفیری تنظیم ٹی ٹی پی کے خالد خراسانی گروپ نے حملہ کیا اور مزار کو بارودی مواد سے اڑا دیا

1 نومبر 2011ء ڈیرہ اسماعیل خان میں سعید اللہ داد شاہ کے مزار کے احاطے کے داخلی دروازے پر بارودی مواد نصب کیا گیا اور رات کو اسے اڑادیا گیا ، اس میں کئی افراد زخمی ہوگئے

11 دسمبر 2011ء خیبر ایجنسی میں نساء بابا پیر کے ژزار کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور دھماکوں سے کئی افراد زخمی ہوگئے

11 دسمبر 2011ء کو ہی خیبر ایجنسی کے اندر ہی ایک اور صوفی سنّی شيخ بہادر کے ژزار پر دستی بموں اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا ، مزار مکمل تباہ ہوگیا اور کئی افراد اس حملے میں زخمی ہوگئے

جنوری 7، 2014ء کراچی سندھ میں گلشن معمار ٹاؤن میں حضرت ایوب شاہ بخاری کے مزار پر دیوبندی تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے 6 صوفی سنّیوں کو زبح کردیا اور کہا گیا کہ جو بھی مزار پر آئے گا اس کا یہی حشر ہوگا

فروری 9، 2014ء کراچی بلدیہ ٹاؤن 12 نمبر پر واقع آستانہ پیر مہربان شاہ پر دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی فائرنگ سے باپ ، بیٹی سمیت 8 افراد ہلاک اور 16 سے زائد زخمی ہوگئے

اگست 26 ، 2014ء مستونگ میں شیخ تقی کے مزار پر بم دھماکہ ہوا جس میں ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوگئے

6 ستمبر 2014ء پنجاب کے شہر سرگودھا کے نواح میں محفل سماع کے دوران ایک آستانہ پر سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں نے حملہ کرکے آئی ایس آئی کے ایک صوفی سنّی بریگیڈئر فضل ظہور قادری ، ان کے بھائی سجادہ نشین آستانہ سبحانی اور ایک ڈاکٹر ایوب کو ہلاک ہلاک کرڈالا جبکہ اس حملے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے۔

یاد رہے کہ یہ ایک نامکمل اور ادھوری رپورٹ ہے جبکہ حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

ایک تخمینے کے مطابق براہ راست اور بالواسطہ طور پر کم از کم پینتالیس ہزار سے زائد سنی صوفی، بریلوی مسلمان ،دیوبندی اور وہابی مظالم کی بھینٹ چڑھے ہیں۔تعمیر پاکستان کے سابق مدیر عبدل نیشاپوری نے پاکستان میں سنی صوفی نسل کشی پر نہایت عرق ریزی سے ایک تفصیلی فہرست یا ڈیٹا بیس تیار کیا ہے جس پر  میڈیا اور اہل ارباب کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Add new comment