وہابی مافیا سے اپنے خاندانوں اور بچوں کو محفوظ بنائیں۔

 

ٹی وی شیعہ [مانیٹرنگ ڈیسک]وہابیوں نے ۱۶ دسمبرکومنگل کی صبح پشاور کے علاقے وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک اسکول میں داخل ہوکر ننھے منّے طالبعلموں فائرنگ کی  تھی جس کے نتیجے میں ۱۴۰ سے زائد بچے شہیداور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ جس کے بعد پاکستان اور دنیا بھر کے باشعور انسان وہابیوں سے سخت متنفر ہوچکے ہیں۔بین الاقوامی اداروں کی ریسرچ کے مطابق اس صدی کا سب سے متنفر ترین دین  اور ناپسندیدہ ترین مذہب وہابیت ہے۔یاد رہے کہ وہابیوں کے سکول پر حملہ کرنے سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وہابی حضرات کا ٹولہ باقاعدہ جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل ہے۔ وہابی مافیا کے کارندے  سادہ دل مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی باتیں سنا کر اپنے چنگل میں پھنسانے کے بعد ان سے اغوا،ڈکیتیاں اور قتل و غارت جیسے کام لیتے ہیں۔بی نیوز  سوشل کمیونٹی  اوروائس آف نیشن ریسرچ   کمیونٹی نے تمام انسانوں خصوصا مسلمانوں سے یہ اپیل کی ہے کہ  وہ  جلد از جلد وہابی مافیاکے بارے میں اپنے علاقے کے اسکالرز سے معلومات حاصل کریں اور وہابی مافیا سے اپنے خاندانوں اور بچوں کو محفوظ بنائیں۔اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ہر سال ۶۱ دسمبر کو ان بچوں کے یوم شہادت کی نسبت سے بنایاجائے اور اس دن کا نام یوم مردہ باد وہابیت رکھاجائے۔

 

حملے میں زخمی ہونے والے متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے— اے پی فوٹو
وہابیوں نے تعلیم حاصل کرنے کو بھی کفر قرار دیدیا ہے— اے پی فوٹو
اس سانحے کے بعد غمزدہ والدین اپنے بچوں کی ہلاکت پر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے— اے پی فوٹو
 غمزدہ والدین اپنے بچوں کی ہلاکت پر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے— اے پی فوٹو
ڈان نیوز کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمر 9 سے 16 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے— رائٹرز فوٹو
شہید ہونے والے بچوں کی عمر 9 سے 16 سال کے درمیان ہے— رائٹرز فوٹو
سیکیورٹی حکام کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے— رائٹرز فوٹو
ہمارے سیکورٹی اداروں کی ناکامی یا ملی بھگت؟؟؟— رائٹرز فوٹو
جس وقت حملہ کیا گیا اُس وقت اسکول کے سینئر طلبہ کی ایک تقریب ہورہی تھی جس میں دھماکہ سنا گیا اور اموات بھی زیادہ ہوئیں— رائٹرز فوٹو
کیا وہابی اس کے باوجود مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟
آئی ایس پی کے مطابق دہشت گردوں کو اسکول کے آخری چار بلاکس تک محدود کردیا گیا ہے— رائٹرز فوٹو
یہ بچے کس عدالت سے انصاف مانگیں؟
ہسپتال کا عملہ ایک زخمی طالبعلم کو لے کر جارہا ہے— اے پی فوٹو
۱۶ دسمبر یوم مردہ باد وہابیت
ایک زخمی طالبعلم کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا جارہا ہے— رائٹرز فوٹو
۱۶ دسمبر یوم مردہ باد وہابیت— رائٹرز فوٹو
ریسکیو ورکرز آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی میت لے کر جارہے ہیں— رائٹرز فوٹو
۱۶ دسمبر یوم مردہ باد وہابیت
 

Add new comment