وہابیت اور صہیونیت ساتھ ساتھ
ٹی وی شیعہ[خصوصی رپورٹ]گذشتہ تین سال کے دوران اسلامی ممالک میں وہابیت بہت تیزی سے پھیلی ہے اور اس نے اس مدت میں امریکا اور اسرائیل کے مضبوط بازو کے طور پر عمل کیا ہے۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے 25 نومبر 2014ء کو انتہا پسندی اوروہابیت کے خلاف عالمی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کے دوران اس بارے میں یوں کہا تھا، "وہابی دہشت گرد گروہ گذشتہ چند سالوں سے عالمی استعمار کی جانب سے اسلامی دنیا پر مسلط کیا گیا ایک بڑا مسئلہ ہے"۔ اس بارے میں اس نکتے کا اعتراف ضروری ہے کہ استعماری قوتوں کے ایجاد کردہوہابی ٹولے نے مسئلہ فلسطین اور قدس شریف سے مسلمانوں کی توجہ ہٹا کر اپنے صہیونی آقاوں کی جانب سے دی گئی ڈیوٹی بہت اچھی طرح انجام دی ہے۔ جیسا کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اس بارے میں فرماتے ہیں،
"اس خطے میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا محاذ مسئلہ فلسطین تھا، لیکنوہابی گروہوں نے اس ایشو کو تبدیل کر دیا اور جنگ کو عراق، شام، پاکستان اور لیبیا کے شہروں اور گلی کوچوں تک کھینچ لائے۔ یہوہابی گروہوں کا سب سے زیادہ سنگین مجرمانہ اقدام ہے"۔
تحریر حاضر میں صہیونیت اوروہابیت کے درمیان جاری دو طرفہ تعاون اور ہمکاری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
1۔ صہیونی رژیم کی جانب سے وہابیوں کی حمایت کے چند نمونے:
i۔ فوجی ٹریننگ اور تنظیم سازی:
موجودہ شواہد اور اسناد کی روشنی میںوہابی دہشت گرد اردن، ترکی، مقبوضہ فلسطین اور بعض دوسرے ممالک میں امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈرز کے ہاتھوں فوجی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور انہیں ضروری ٹریننگ دیئے جانے کے بعد دہشت گردانہ کاروائیوں کیلئے عراق اور شام بھیج دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک عالمی تحقیقاتی ادارے "گلوبل ریسرچ" نے 16 جولائی 2014ء کو وکی لیکس کے بانی اسنوڈن کے بقول اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی تقریبا ایک سال تک اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی "موساد" کے زیر نگرانی مقبوضہ فلسطین میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرتا رہا ہے۔ [1]
ii۔ زخمی ہونے والےوہابی دہشت گردوں کا علاج:
مقبوضہ فلسطین کی عرب دروزی کمیٹی نے ایک بیانیہ صادر کیا ہے جس میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے زخمیوہابی دہشت گردوں کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کئے جانے کی مذمت کی ہے۔ اسی طرح اس کمیٹی کے سرگرم جوانوں نے مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصے میں واقع صفد شہر کے ریف اسپتال کے سامنے مظاہرے کئے اور صہیونی رژیم سے مطالبہ کیا کہ وہوہابی دہشت گردوں کی مدد نہ کرے۔ اس احتجاج کے ردعمل میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا، "اسرائیل انسانی ہمدردی کی خدمات انجام دے رہا ہے اور اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ زخمی افراد کا تعلق کس سے ہے۔ اسرائیل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا"۔ [2]
iii۔ اسلامی مزاحمت کے فوجی مراکز اور کاروانوں پر حملے:
اسرائیل ایئرفورس نے اب تک کئی بار شام کے فوجی مراکز اور کاروانوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور اس طرحوہابی دہشت گرد عناصر کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے۔
iv۔ شام کے نام نہاد فرینڈز کی میٹنگز کا انعقاد:
اسرائیل نے امریکہ اور مغربی ممالک کی مدد سے عالمی رائے عامہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے اب تک فرینڈز آف سیریا کے نام سے یورپی اور ایشیائی ممالک میں کئی نشستوں اور میٹنگز کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے۔ یاد رہے کہ اب تک مسئلہ فلسطین کے بارے میں اسرائیل کے خلاف عرب ممالک کے درمیان کوئی ایسا اتحاد نہیں بن سکا جو فرینڈز آف فلسطین کے نام پر کسی نشست یا میٹنگ کا انعقاد کریں۔
v۔وہابی دہشت گردوں کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان کی فراہمی:
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اب تک کئی طریقوں اور بہانوں سےوہابی دہشت گرد عناصر کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کر چکی ہے۔ السومریہ نیوز کے مطابق عراق کے صوبے دیالی کے پولیس سربراہ نے بتایا کہ عراقی سکیورٹی فورسز اب تک داعش کے خلاف کئی آپریشنز میں اسرائیلی اسلحہ دریافت کر چکی ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ بعقوبہ سے 60 کلومیٹر شمال کی جانب واقع علاقے العظیم، المقدادیہ کے اطراف اور المفرق میں داعش کے دہشت گردوں سے اسرائیلی ساختہ بے کے سی قسم کے فوجی ہتھیار دریافت ہوئے ہیں۔ [3]
vi۔ میڈیا کے ذریعےوہابی دہشت گردوں کی حمایت:
عرب، امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغوہابی دہشت گرد عناصر کی جانب سے شام اور عراق میں انجام پانے والے دہشت گردانہ اقدامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور ان کے حق میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے داعش کے خلاف لڑنے والی عراقی اور شامی سکیورٹی فورسز کے خلاف باقاعدہ نفسیاتی جنگ کا آغاز کر رکھا ہے۔ یہ ذرائع ابلاغوہابی دہشت گردوں کو نڈر اور بہادر جنگجو بنا کر پیش کر رہے ہیں اور اس طرح مقامی افراد کے دل میں ان کا رعب ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
2۔ وہابیوں کی جانب سے صہیونیوں کی نوکری کے چند نمونے:
i۔ اسرائیل کی سرحدوں کو محفوظ بنانا:
شام سے شروع ہو کر عراق کو اپنی لپیٹ میں لینے اور دوسری اسلامی سرزمینوں پر بھی اپنا قبضہ جمانے کا ارادہ ظاہر کرنے والیوہابی تحریک کی طاقت میں روز بروز اضافے نے اس کے پیچھے عالمی استعماری قوتوں کا ہاتھ ہونے کو ثابت کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اسوہابی گروہ کے بانی اور سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک اس کو عملی شکل دینے والے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نےوہابی دہشت گردی کے آغاز سے مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ جنگ ایجاد کر کے یہودی – اسلامی جھگڑے کو اسلامی – اسلامی جھگڑے کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی ہے۔ اس میدان میں اسرائیل کو ایک حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن طولانی مدت میں اس کا یہ حربہ بھی ناکامی کا شکار ہو جائے گا۔
ii۔ غزہ کے خلاف اسرائیل کی 50 روزہ جارحیت کے دوران خاموشی اختیار کرنا اور اسلامی مزاحمت کا ساتھ نہ دینا:
جیسا کہ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ خطے میںوہابی فتنے کی پیدائش سے قبل مسلمانوں کیلئے پہلا ایشو مسئلہ فلسطین تھا لیکنوہابی گروہ کی پیدائش کے بعد اسلامی دنیا کی توجہ اپنی اندرونی مشکلات کی جانب گامزن ہو گئی۔وہابی دہشت گردوں نے جہاد جیسے مقدس دینی فریضے کے معنا و مفہوم میں تحریف ایجاد کرتے ہوئے اسے کفار اور اسلام دشمن عناصر کے خلاف مسلح جدوجہد کی بجائے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے طور پر پیش کیا۔وہابی عناصر نے بڑے پیمانے پر معصوم اور بیگناہ مسلمانوں کے قتل عام اور اصحاب رسول (ص) اور اپنے مخالف عقیدہ رکھنے والی سنی شخصیات کے مقبروں کو منہدم کر کے وحشیانہ پن کی بدترین مثالیں قائم کر دی ہیں۔وہابی گروہوں نے قریبی دشمن سے مقابلے کو ترجیح حاصل ہونے جیسے باطل عقیدے کے تحت مسلح جدوجہد کو اسرائیل کی بجائے خود مسلمانوں کی جانب ہی موڑ دیا۔ وہ درحقیقت اسرائیل کے خلاف جہاد کو اپنی پہلی ترجیح نہیں سمجھتے۔
اسی سوچ کی بنیاد پر غزہ کے خلاف اسرائیل کی تھونپی گئی 50 روزہ ظالمانہ جنگ کے دورانوہابی گروہ داعش نے اسرائیل کے اس ظلم و ستم کی زبان کی حد تک بھی مذمت نہ کی۔ داعش نے نہ فقط مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کا اعلان نہ کیا بلکہ فلسطینی پرچم کو آگ لگا کر اور پاوں کے نیچے روند کر اس کی ویڈیو بنائی اور سوشل نیٹ ورک پر شائع کر دیا جبکہ دوسری طرف صہیونی درندوں کی جانب سے قبلہ اول مسلمین مسجد اقصٰی کی بےحرمتی کے خلاف بھی ایک لفظ نہیں بولے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں عالمی استعمار کی جانب سے یہ ڈیوٹی سونپی گئی تھی کہ امت مسلمہ کی توجہ اسرائیلی مظالم سے ہٹائیں اور انہوں نے یہ کام غزہ کی حالیہ جنگ کے دوران انتہائی اچھے انداز میں انجام دیا ہے۔وہابی دہشت گرد عناصر نے شیعہ سنی تفرقہ پھیلا کر امت مسلمہ کی توجہ مسئلہ فلسطین سے ہٹا دی۔
iii۔ حزب اللہ لبنان کو اپنے ساتھ مشغول کرنے کی کوشش:
وہابی عناصر نے گذشتہ چند سالوں کے دوران اسرائیل مخالف اسلامی مزاحمتی گروہ "حزب اللہ لبنان" کو شام میں اپنے ساتھ مشغول کر رکھا ہے۔ اسی طرح داعش نے شام سے لبنان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اسرائیل کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی مجاہد تنظیموں میں حزب اللہ لبنان کا نام سرفہرست ہے۔ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اسرائیل اسلامی دنیا کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے کتراتا ہے تو یہ حزب اللہ لبنان کے شجاع مجاہدین کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے۔وہابی عناصر حزب اللہ لبنان کو اپنے ساتھ جنگ میں مشغول کر کے اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
iv۔ عالم اسلام میں اسرائیل مخالف قوت کو کمزور کرنا:
یہ چیز عرب ممالک میں اچھی طرح قابل مشاہدہ ہے کیونکہ فلسطین کے خلاف اسرائیل کی سابقہ جنگوں [8 روزہ اور 22 روزہ] کے دوران اسلامی ممالک نے واضح طور پر فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی حمایت کی تھی لیکن حالیہ 50 روزہ جنگ کے دوران ایسی حمایت دیکھنے کو نہیں ملی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شام، عراق اور لبنان جیسے اہم عرب ممالکوہابی فتنے کی وجہ سے اپنے اندرونی مسائل میں مشغول ہو چکے تھے جبکہ دوسرے اسلامی ممالک جیسے سعودی عرب، قطر اور ترکیوہابی گروہوں کی حمایت میں مصروف تھے۔ لہذٰاوہابی دہشت گرد عناصر نے نہ صرف اسلامی مزاحمتی بلاک کی فرنٹ لائن یعنی حزب اللہ لبنان کو اپنے ساتھ مشغول کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ اسلامی ممالک کو بھی اپنے اندرونی مسائل میں محبوس کر دیا ہے۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی خاموشی کے سائے تلے غزہ پر دھاوا بول دیا اور بیگناہ فلسطینی بچوں اور خواتین کا قتل عام شروع کر دیا۔ صہیونی رژیم نے اسی خاموشی اور غفلت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے حال ہی میں قبلہ اول مسلمین مسجد اقصٰی کی بے حرمتی کی ہے اور مقبوضہ فلسطین کو یہودی ریاست بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔
v۔ عالمی سطح پر اسلامی مزاحمت کا چہرہ مخدوش کرنے کی کوشش:
حال ہی میں داعش کے حامی مصر کے مفتی نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ غزہ کے فلسطینی مجاہدین نے ایرانی میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے مظلوم شہریوں کا قتل عام کیا ہے جو قابل مذمت ہے اور اس کے بدلے میں اسرائیل غزہ پر ہوائی حملے کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اس مفتی نے غزہ میں سرگرم فلسطینی مجاہدین کو شیعہ قرار دے کر ان کی ہر قسم کی مدد کو شرعاً حرام قرار دیا۔ [4] داعش کے حامی مفتیوں کی جانب سے اس قسم کے فتووں سے اسوہابی گروہ کی سوچ کا اچھی طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اسلامی مزاحمتی تنظیموں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور انہوں نے غزہ کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں بے طرفی کا موقف کیوں اختیار کیا؟
نتیجہ:
وہابی دہشت گرد گروہ نے مسئلہ فلسطین اور قبلہ اول مسلمین قدس شریف کے ایشو کو اسلامی دنیا کی پہلی ترجیح سے ہٹا کر اسلامی ممالک کو اپنے اندرونی مسائل میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرحوہابی عناصر نے عالمی سطح پر اسلام فوبیا پھیلانے اور دنیا والوں کو اسلام سے متنفر کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ حال حاضر میں یہ گروہ داعش، النصرہ فرنٹ وغیرہ کے ناموں سے سرگرم عمل ہیں اور ہو سکتا ہے مستقبل میں کسی اور نام سے منظر عام پر آئیں۔ یہاں اس اہم نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے کہوہابی گروہ بھی عالمی استعماری قوتوں کی پیداوار ہیں جن کے کچھ خاص اہداف ہیں اور عالمی استعماری قوتیں اپنے اہداف کے حصول کیلئے ایسے گروہ بناتی آئی ہیں اور مستقبل میں بھی بناتی رہیں گی جو مطلوبہ اہداف کی تکمیل کے بعد استعمال شدہ ٹشو پیپرز کی طرح دور پھینک دیئے جاتے ہیں۔ جب تک یہ گروہ اسرائیل کے مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرم رہیں گے امریکہ اور مغربی ممالک بھی ان کی سرپرستی کرتے رہیں گے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہوہابی فتنے کو ختم کرنے کا واحد راستہ عالم اسلام میں اتحاد اور وحدت کی فضا کو قائم کرنا ہے۔
محقق:تحریر: رضا برکتی ::::::::::::بشکریہ :::::::::اسلام ٹائمز
ریفرنسز:
1۔ http://www.globalresearch.ca/isis-Leader-abu-ba
2۔ http://www.i24news.news.tv/ar
3۔ http://fa.alalam.irnews.16.4633
4۔ http://www.youtube.com/watch?V-85
Add new comment