یا رب عروس فکر کو حُسن و جمال دے

..............
مرثیہ انیس سے منتخب بند

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا رب عروسِ فکر کو حُسن و جمال دے

مُلکِ سخنوری کو دُرِ بے مثال دے

رنگینیٔ کلام کو سحرِ حلال دے

آئے قمر کو رشک وہ اوجِ کمال دے

گُلکاریاں کروں جو مضامیں کے باغ میں

پھولوں کی بُو بہشت سے آئے دماغ میں

 

ہاں اے زباں روانیِ طبعِ رسا دکھا

دریائے فکر کے گُہَرِ بے بہا دکھا

اس معرکہ میں جوھرِ سیفِ خدا دکھا

تصویرِ رزمِ قاسمِ گلگوں قبا دکھا

شُہرت ریاضِ دہر میں ہو چار سُو مری

بلبل بھی سن کے وجد کرے گفتگو مری

 

مطلعِ ثانی

جب رن میں زر فشاں وَرَقِ آسماں ہوا

پنہاں نظر سے حُسنِ رُخِ کہکشاں ہوا

ہر سُو فروغِ نُور سے روشن جہاں ہوا

اسلام کی سپاہ میں شورِ اذاں ہوا

رُو پوش ہو گیا مہِ تاباں حجاب سے

ذرّے نظر لڑانے لگے آفتاب سے

 

پردے سے آسماں کے جو طالع ہوئی سَحَر

مشغولِ ذکرِ حق ہوئے صحرا کے جانور

کوسوں سما تھا نور کا بالائے خشک و تر

سجدے میں جھک گئے تھے نہالانِ باروَر

جھونکے نسیمِ صبح کے بھی سرد سرد تھے

ذرّوں میں یہ چمک تھی کہ ہیرے بھی گرد تھے

 

ڈُوبا تھا اپنے رنگ میں ہر گُل جدا جدا

پُھولا تھا ہر طَرَف چَمَنِ قدرَتِ خدا

سبزہ وہ اس کچھار کا، صحرا کی وہ فضا

گویا زمرَّدیں تھا بیابانِ کربلا

تھا ہر طَرَف شَفَق کا گماں لالہ زار سے

جانیں لڑی ہوئی تھیں عروسِ بہار سے

 

جنّت پہ طعنہ زن چَمَنِ روزگار تھا

پھولوں کی ڈالیوں پہ بھی جوشِ بہار تھا

پر بلبلوں کو خندۂ گل ناگوار تھا

یعنی وہ شورِ قتلِ شہِ نامدار تھا

شبنم جو روئی غم میں شہِ دل ملول کے

موتی بھرے ہوئے تھے کٹوروں میں پھول کے

 

ظاہر ہوئی سَحَر کی سفیدی جو ایک بار

نکلے درِ خیام سے سلطانِ نامدار

ہمشکلِ مصطفیٰ نے اذاں دی بحالِ زار

باندھیں صفیں سبھوں نے بصد عزّ و افتخار

اس دم زباں پہ تھا یہ ہر اک دل ملول کی

یہ آخری نماز ہے سبطِ رسول کی

 

بے مثل تھی جماعتِ شاہِ فَلَک سریر

ہنس ہنس کے دیکھتا تھا جوانوں کو چرخِ پیر

کیونکر نہ ہوں وہ جرأت و ہمّت میں بے نظیر

پیرو تھے اسکے جس نے پیا فاطمہ کا شیر

ہر دم سُوئے امامِ غریباں نگاہ تھی

پیاسے تو تھے پہ یُوسُفِ زھرا کی چاہ تھی

 

وہ دبدبہ، وہ رعب و حَشَم، وہ شکوہ و شان

سوکھے لبوں پہ شکرِ خداوندِ دو جہان

ہر وقت بس اسی کا تصوّر، اسی کا دھیان

ہو جائیں ہم نثارِ شہنشاہِ انس و جان

آقا پہ تھا جو غم تو خوشی ناپدید تھی

الفت ہے اسکا نام کہ مرنے کی عید تھی

 

رضواں پکارتا تھا یہ جنّت میں بار بار

آؤ مجاہدو کہ سحر سے ہے انتظار

دیکھو یہ باغِ خلد یہ میوے یہ سبزہ زار

یہ حُلّۂ بہشت یہ کوثر یہ لالہ زار

حُبّ ِ حُسین ہے جو تمھاری سرشت میں

دیکھو دیے خدا نے یہ رتبے بہشت میں

 

حق نے عطا کئے ہیں تمھیں اسطرح کے گھر

جن میں جڑے ہیں لعل کہیں اور کہیں گُہَر

میوے وہ خوشگوار وہ پھولے پھلے شجر

چھایا ہوا وہ سایۂ طُوبیٰ اِدھر اُدھر

نہریں بھی لہریں لیتی ہیں کوثر کے ذوق میں

آنکھیں حباب دیر سے کھولے ہیں شوق میں

 

حُوروں میں غُل یہ ہے کہ وہ صفدر کب آئیں گے

مضطر ہے دل، حُسین کے یاور کب آئیں گے

پیاسے ہزبر جانبِ کوثر کب آئیں گے

جانیں لڑی ہوئی ہیں وہ گوہر کب آئیں گے

ہاتھوں میں ظرف سُرخ کہیں سبز فام ہیں

چھلکے ہوئے شرابِ طَہُورا کے جام ہیں

 

فارغ ہوئے نماز سے جب سبطِ مصطفیٰ

خالق سے ہاتھ اٹھا کے یہ کرنے لگے دعا

اے دستگیرِ بے کس و محتاجِ بے نوا

کٹ جائے آج خنجرِ برّاں سے یہ گلا

اترے یہ بارِ دوش تو راحت ہو چین ہو

ہاتھوں پہ سر دھرے ہوئے حاضر حُسین ہو

 

اعدا کے جو ستم ہیں وہ تجھ سے نہاں نہیں

راحت سے ایک دم کوئی تشنہ دہاں نہیں

صحرا میں شورِ قتل ہے گھر میں اماں نہیں

جاؤں کدھر یہ نرغۂ اعدا کہاں نہیں

ہے قحطِ آب فاطمہ زھرا کے لال پر

ٹکڑے جگر کے ہوتے ہیں بچوں کے حال پر

 

کیا منہ بشر سے وصف جو ہوئیں ادا ترے

غربت میں لطف عام ہیں صبح و مسا ترے

اشفاق ہیں پدر سے فزوں کبریا، ترے

بچّوں پہ کون رحم کرے گا سوا ترے

خوش ہوں پسر جو زیورِ آہن میں غرق ہو

رسّی میں ہو گلا پہ نہ ہمّت میں فرق ہو

 

یا رب جہاں میں آلِ پیمبر کو صبر دے

کلثوم کو، حُسین کی دختر کو صبر دے

چادر چھنے تو زینبِ بے پر کو صبر دے

ہر اک گھڑی میں عابدِ مضطر کو صبر دے

ہر حال میں تجھ ہی پہ ہے تکیہ فقیر کا

حافظ ہے تُو بلا میں یتیم و اسیر کا

 

صابر ہے ہر مہم میں رسولِ خدا کا لال

صدقے ہیں تیری راہ میں اطفالِ خورد سال

راضی ہوں میں اسیر ہو گر فاطمہ کی آل

کچھ غم نہیں کھلیں بھی جو سیدانیوں کے بال

زنداں میں بیٹیاں ہوں جنابِ بتول کی

لیکن رہا ہو نار سے امّت رسول کی

.......................
غلام محمد قاصر
جو پیاس وسعت میں بے کراں ہے سلام اس پر

فرات جس کی طرف رواں ہے سلام اس پر

سبھی کنارے اسی کی جانب کریں اشارے

جو کشتیٔ حق کا بادباں ہے سلام اس پر

جو پھول تیغِ اصول سے ہر خزاں کو کاٹیں

وہ ایسے پھولوں کا پاسباں ہے سلام اس پر

مری زمینوں کو اب نہیں خوفِ بے ردائی

جو ان زمینوں کا آسماں ہے سلام اس پر

ہر اک غلامی ہے آدمیّت کی نا تمامی

وہ حریّت کا مزاج داں ہے سلام اس پر

حیات بن کر فنا کے تیروں میں ضو فشاں ہے

جو سب ضمیروں میں ضو فشاں ہے سلام اس پر

کبھی چراغِ حرم کبھی صبح کا ستارہ

وہ رات میں دن کا ترجماں ہے سلام اس پر

میں جلتے جسموں نئے طلسموں میں گِھر چکا ہوں

وہ ابرِ رحمت ہے سائباں ہے سلام اس پر

شفق میں جھلکے کہ گردنِ اہلِ حق سے چھلکے

لہو تمھارا جہاں جہاں ہے سلام اس پر

..................

Add new comment