فسق و فجور اور رشد ہدایت کی جنگ

نگہت نسیم۔سڈنی
عراق اپنے جغرافیائی اور تاریخی اعتبار سے ایشیاء کا بہت ہی اہم قدیم عرب اور مسلمان ملک ہے۔ اس کے جنوب میں کویت اور سعودی عرب ، مغرب میں اردن ، شمال مغرب میں شام ، شمال میں ترکی اور مشرق میں ایران ہے۔ اسے ایک محدود سمندری رسائی بھی حاصل ہے جو خلیج فارس کے ساحل ام قصر پر ہے۔ جو بصرہ سے قریب ہے۔

عراق دنیا کے قدیم ترین ممالک میں شامل ہے جس نے کئی تہذیبوں کو جنم دیا ہے۔ فلسطین کی طرح اسے انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام ( طوفان نوح بھی یہیں آیا تھا ) ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق اسی علاقے سے تھا اور بروایت حضرت آدم علیہ السلام نے بھی اس کے شہر قرنہ کو اپنا وطن بنایا تھا۔

عراق کا دارالحکومت بغداد ہے جو عراق کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ اس کے علاوہ نجف ، کوفہ ، بصرہ ، کربلا ، سامرا ، موصل اور کرکوک اس کے مشہور شہر ہیں۔ دریائے دجلہ اور فرات اس کے مشہور ترین دریا ہیں۔ ان کے درمیان کی وادی انتہائی زرخیز ہے اور اس میں سات سے نو ہزار سال سے بھی پرانے آثار ملتے ہیں۔ سمیری ، اکادی ، اسیریا اور بابل کی تہذیبیں اسی علاقے سے منسوب ہیں ۔

عراق کا قدیم نام میسوپوٹیمیا ہے۔ مگر یہ وہ نام ہے جو یونانیوں نے انہیں دیا تھا جس کا مطلب یونانی زبان میں ،دریاووں کے درمیان، کے ہیں چونکہ یہ تہذیب دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان پروان چڑھی۔ اسے ہم تہذیب مابین النھرین کہتے ہیں۔ یہ علاقہ سمیریا ، اکادی، اسیریائی، کلدانی، ساسانی اور بابل کی تہذیبوں کا مرکز تھا جو پانچ ھزار سال قبل از مسیح باقی دنیا میں بھی نفوذ کر گیا۔ انھوں نے دینا کو لکھنا سکھایا اور ابتدائی ریاضیات، فلسفہ اور سائنسی علوم کے اصول دیے۔

مسلمانوں نے ساتویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ فتح کیا۔ مسلمانوں کے خلیفہ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کے شہر کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔ اس کے بعد عربوں نے اموی اور عباسی سلطنت کی صورت میں عراق پر حکومت کی۔ عباسیوں نے بغداد کو پہلی دفعہ دار الحکومت بنایا۔ 1258 عیسوی میں منگولوں نے ہلاکو خان کی قیادت میں بغداد کو تاراج کیا۔ اس کے بعد یہ 16 ویں صدی عیسوی میں عثمانی سلطنت کا حصہ بنا جس کی یہ حیثیت جنگ عظیم اول تک برقرار رہی۔

نجف (عربی میں النجف ) عراق کا ایک شہر ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے روضہ کے حوالے سے مشہور ہے ۔نجف بغداد سے 160 کلومیٹر دور ہے۔ اور پرانے کوفہ شہر سے قریب ایک اونچے علاقے میں ہے۔ نجف کا لفظی مطلب ہی “اونچی جگہ “ ہے۔ اس کی آبادی 2006 میں چھ لاکھ سے زائد تھی۔

نجف حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے روضہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بنائی ہوئی ایک قدیم مسجد ہے۔ نجف میں دنیا کا سب سے بڑا مسلم قبرستان بھی ہے جسے وادی السلام کہا جاتا ہے۔ نجف اپنے مذہبی مدرسوں، قدیم کتب خانوں اور علمائے کرام کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ اگرچہ اس صدی میں ایران کا شہر قم شیعہ مدرسوں کا زیادہ بڑا مرکز بن گیا مگر اب نجف اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ یہاں کا قدیم ترین مدرسہ “حوزہ علمیہ نجف “ پوری دنیا میں مشہور ہے۔

کربلا عراق کا دوسرا مشہور شہر ہے جو بغداد سے 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں صوبہ الکربلا میں واقع ہے۔ کربلا شہر کوعربی میں كربلاء بھی کہتے ہیں ۔ شہر کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ کربلا کو نینوا اور الغادریہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔ اس شہر کی آبادی چھ لاکھ کے قریب ہے جو محرم اور صفر کے مہینوں میں زائرین کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہے۔

عراق کی جو سر زمین کربلا کے نام سے موسوم ہے وہ دراصل ان قریوں اور زمینی ٹکڑوں کا مجموعہ ہے جو اس زمانے میں ایک دوسرے سے ملحق تھے ۔ عرب میں چھوٹے چھوٹے ارضی قطعات تھے جو مختلف ناموں سے موسوم ہوا کرتے تھے چنانچہ جب انہیں خصوصیت کے اعتبار سے دیکھا جاتا تو وہ کئی مقام منصور ہوتے تھے اور جب ان کے باہمی قرب پر نظر کی جاتی تو وہ سب ایک قرار پائے جاتے اور یہی وجہ ہے ایک مقام کا واقعہ دوسرے مقام سے منسوب کیاجاتا ہے ۔

علامہ سید ہبتہ الدین شہر ستانی نے ”نہضہ الحسین“ میں تحریر کیا ہے ”کربلا کے محل وقوع کے تحت جو بہت سے نام مشہور ہیں۔ مثلاً نینوا‘ غاضریہ‘ اور شطر فرات وغیرہ انہیں ایک ہی جگہ کے متعدد نام نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ وہ متعدد جگہیں تھی جو باہمی اتصال کی وجہ سے ایک سمجھی جاسکتی تھی اور اس لئے محل وقوع واقعہ کے اعتبار سے ہر ایک کا نام تعارف کے موقع پر ذکر کیا جانا درست ہے۔

”نینوا“
یہ ایک گاؤں تھا جس کے پہلو میں ’غاضریہ‘ تھا جو قبیلہ بنی اسد کی ایک شاخ غاضرہ سے نسبت رکھتا تھا غالباً یہ وہ زمین ہے جو اب ”حسینیہ“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس جگہ ”سفینہ“ نامی ایک گاؤں تھا اور یہیں پر ایک قطعہ افتادہ اراضی کربلا کے نام سے تھی جو اب موجودہ شہر کربلا کا مشرقی و جنوبی حصہ ہے۔ اسی سے متصل ”عقر بابل“ نام کا ایک قریہ تھا جو غاضریات کے شمال ومفرب میں واقع تھا۔ جہاں اب کھنڈرات کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ یہ قریہ دریائے فرات کے کنارے آباد تھا اور ٹیلوں میں گھرے جانے کی وجہ سے ایک قلعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔

اسی کے مقابل ”غاضریات“ کے دوسری طرف ”نواویس“ نام کا ایک مقام تھا جو اسلامی فتوحات سے پہلے ایک قبرستان تھا اس کے وسط میں ”حیر“ نام کی ایک زمین تھی جو اب ”حائر“ کے نام سے معروف ہے۔ اسی زمین پر امام حسین(ع)کی قبر مبارک ہے ”حیر“ ایک وسیع میدان تھا۔ جو تین طرف پہلو بہ پہلو ٹیلوں سے گھرا ہوا تھا۔ ان ٹیلوں کا سلسلہ شمال و مشرق سے جدھر حرم حسینی کا باب الصدر اور منارہ عبد ہے شروع ہو کر مغرب کی جانب باب زینبیہہ کی حدود تک پہنچتا تھا وہاں سے خم ہو کر در قبیلہ کے مقام پر آکر ختم ہو جاتا تھا۔ان ٹیلوں کے اجتماع سے ایک ہلالی نصف دائرہ کی شکل بنتی تھی اس دائرہ میں داخل ہونے کاراستہ اس طرف سے تھا۔ جدھر سے حضرت عباس(ع)کے روضہ اقدس میں جانے کا راستہ ہے۔

تحقیقاتی انکشاف سے اب تک یہ بات پائی گی ہے ان امکانات کے آثار جو قبر امام حسین(ع)کے گرد ہیں شمالی اور مغربی سمت کی بلندی پر ہیں اور نشیب کے علاوہ نرم مٹی کے اور کچھ نہیں اس مقام کی قدیمی صورت ایسی ہی تھی کہ مشرق کی طرف سے ہموار اور شمال اور مغرب کی طرف سے ہلالی شکل میں بلند اور ناہموار ہیں یہی وہ دائرہ ہے جہاں امام حسین(ع)کو گھیر کر شہید کر دیاگیا تھا۔

”فرات“
جسے ہم دریائے فرات کہتے ہیں اس کا براہ راست تعلق کربلا کی زمین سے نہیں تھا بلکہ وہ ”حلہ“ اور ”میب“ وغیرہ سے گزر کر کوفہ کے بیرونی حصہ کو سیراب کرتا تھا لیکن اس کی ایک شاخ مقام رضوانیہ کے پاس سے الگ ہو کر کربلا کے شمالی و مشرقی ریگستانوں سے ہوتی ہوئی اس مقام سے گزرتی تھی جہاں اب علمدار حسینی(ع)حضرت ابو الفضل العباس علمدار(ع)کا روضہ مبارک ہے۔

”طف“
”طف“ کے معنی ہیں نہر کاکنارہ خصوصی طور پر دریائے فرات کے اس کنارے کو ”طف“ کہاجاتا ہے جو جنوبی پہلو میں ”بصرہ“ سے ”ہیئت“ تک تھا اس مناسبت سے ”علقمہ“ کے اس کنارے کو بھی طف کہاجانے لگاجس میں کربلا واقع تھا اس لیے کربلا کے واقعہ کو واقعہ الطف بھی کہا جاتا ہے اور کربلا کو شطر فرات بھی کہا جاتا ہے۔

یہ تھا مختصر تعارف اس سرزمین کا جو اس زمانہ میں گرم ریت کے ٹیلوں کھنڈرات لق و دق صحرا اور جنگلو ں کا نمونہ تھی لیکن امام کے خون نے اس زمین میں وہ تاثیر پیدا کردی اسے خاک شفا بنادیا اسے سجدہ گاہ بنا دیا اور آج دن رات ہزاروں لاکھوں زائرین اس زمین اقدس کو بوسے دے رہے ہیں۔ اس کربلا کو حسین(ع)نے کربلائے معلی بنا دیا۔

شاہ است حسین بادشاہ است حسین
دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نداد دست دردست یزید
حقا کہ بناے لاالہ است حسین
(خواجہ غریب نوازمعین الدین چشتی اجمیری)۔

تخلیق کائنات سے لیکر آج تک کی تاریخ کو اگر بغور دیکھا جائے تو بہت سے واقعات سامنے آتے ہیں، لیکن جس طرح سرزمین کربلا میں امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت اپنے جان نثاروں کے ساتھ ہوئی ہے اس طرح کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ کی ولادت سے لے کر شہادت تک کے واقعات کو پڑھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

گویا شہر کربلا کی تاریخ حق وباطل کے خونیں معرکے کا ایک الم ناک نقشہ ہے فسق و فجور اور رشد ہدایت کی جنگ کا ایک غم ناک خاکہ ہے

۔
”مقتل ابومخنف“ نے اس واقعہ کی تفصیل اس طرح لکھی ہے۔

جب امام حسین(ع)کی سواری ایک مقام پر اچانک کھڑی ہوگئی تو آپ نے ہر چند بڑھانے کی کوشش کی مگر وہ گھوڑا ایک قدم آگے نہ بڑھا تب امام عالی مقام نے پوچھا اس مقام کا کیا نام ہے۔ تو بتایا گیا ا س زمین کو کربلا کہتے ہیں یہ سن کر امام نے فرمایا خدا کی قسم یہی وہ مقام ہے یہی زمین ”کرب“ اور ”بلا“ کی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارا خون بہایا جائے گا اور جس کی خبر نانا نے دی تھی۔

وعظ کا شفی اور علامہ اردبیلی کا بیان ہے۔

جیسے ہی امام حسین(ع)نے زمین کربلا پر قدم رکھا وہ زرد ہوگئی اور ایک ایسا غبار اٹھا کہ آپ کا سر خاک آلود ہوگیا یہ دیکھ کر اصحاب ڈر گئے اور مخدرات عصمت نے رونا شروع کیا۔

”مائین“ میں ہے اس دن ایک صحابی نے مسواک کے لیے بیری کے درخت سے شاخ کاٹی تو اس سے تازہ خون جاری ہوگیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کربلا کا جغرافیائی تعارف کیا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کا لقب ابو عبداللہ تھا اور آپ چار ہجری شعبان المعظم کو پیدا ہوئے۔ آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال مبارک کے وقت حضرت امام حسین علیہ السلام کی عمر صرف چھ برس تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حدیث روایت کی ہیں۔ یہ آپ کی وہ خدا داد صلاحیتیں تھیں جو کم سنی میں ہی ظاہر ہو گئیں۔

ابن ماجہ کی روایت ہے کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہ السلام کی طرف دیکھا اور فرمایا جس نے تم سے جنگ کی اس نے مجھ سے جنگ کی (ابن ماجہ) ۔

مذکورہ روایت کی طرح اور بھی کئی روایات موجود ہیں جن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کس طرح امام حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کرتے تھے، کس طرح امام حسین کو اپنے کندھوں پر سوار کرتے تھے، کس طرح امام حسین کا رونا آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا تھا۔ کس طرح امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہ کے لیے جنت سے کپڑے آتے تھے۔

شہید کربلا امام عالی مقام ، محبوب خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے تھے اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اس معرکہ عظیم کے دن کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خود تربیت بھی فرماتے تھے۔ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں صراحۃ فرماتے تھے کہ میرے اس بیٹے کو میری امت کے اوباش حاکم شہید کریں گے۔ اور کبھی فرماتے تھے کہ ”یا ام سلمۃ اذا تحولت ہٰذہ التربۃ دما فاعلمی ان ابنی قد قتل“۔ (معجم الکبیر عربی)

حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”ان ہلاک امتی او فساد امتی رؤس امراء اغیلمۃ سمہاء من قریش“ بیشک میری امت کی ہلاکت یا فساد قریشوں کے بیوقوف اور اوباش حکمرانوں کے ہاتھوں ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل)

اب ہم اگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے آپ نے کس طرح اپنے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی شریعت و سنت کو اپنی جان سے عزیز تر سمجھا تھا کہ کبھی پوری رات نماز میں ہوتے تھے، کبھی تلاوت میں، کبھی مخلوق کی خدمت میں، کبھی سخاوت میں، ہر وقت اوامر و نواہی پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جب حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی سے آپ کو محبوب حقیقی کی طرف سے وصال کا پیغام آنے کے بعد گلشن توحید کی آبیاری کے لیے خلفائے راشدین اس گلشن کو اپنے محبوب قائد صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے بڑھاتے رہے۔ حتیٰ کہ وہ ساٹھ ہجری کا وقت آگیا جس کے متعلق حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”یہ میری امت کو قریش کے اوباش حکمران تباہ کریں گے۔“

اب ایک ظالم و جابر حکمران سامنے آتا ہے اور شریعت کی حدود کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے۔ شراب پینا شروع کردیا، زنا عام ہوگئی، قتل و غارت عام ہوگئی، ظلم بڑھنے لگا۔ اب یہ وقت تھا جب شہید کربلا امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے محبوب آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہر طرف نظر آنے لگا ”کہ میری امت کو اوباش حکمران ہلاک کریں گے۔“

اس دین محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لیے حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنا تن من دھن، اپنا وطن، اولاد، مال، دولت ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوگئے۔ اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ جب تاریخ عالم نے دیکھا کہ ایک طرف ہزاروں لوگ جو بظاہر مسلمان تھے اپنے محبوب نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے کو بھوکا اور پیاسا دیکھتے خوشی محسوس کررہے تھے۔ لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ کو اور ان کے جان نثاروں کو پانی کا ایک گھونٹ پلانا ان کی نظر میں بڑا جرم تھا۔

درحقیقت یہ مقام رضا تھا جہاں بڑے بڑے اولیاء اللہ بھی ڈگمگاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا فیصلہ ہے کہ انسان کو بھوک، خوف، مال، ثمرات کی کمی سے آزمایا جاتا ہے کہ دیکھا جائے کہ انسان اپنے مالک حقیقی کی رضا پر راضی رہتا ہے یا نہیں۔

لیکن تاریخ عالم نے دیکھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس مقام پر بھی رضا کا دامن نہیں چھوڑا اور جابر و ظالم کے سامنے اپنی گردن نہ جھکائی۔ لیکن اس صبر کے پہاڑ نے اپنے نانا محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مضبوطی کے ساتھ سنبھال کر رکھا۔

امام حسین علیہ السلام نے نو محرم کو غروب آفتاب کے قریب قریب شمعوں کو بجھا کر (یا مغرب کی نماز کے بعد) دشمن کی طرف سے مہلت مل جانے کے بعد بنی ہاشم اور اپنے اصحاب باوفا کے درمیان یہ خطبہ ارشاد فرمایا: ”

“خدا کی حمد و ثنا کرتا ہوں مصیبتوں اور آسائشوں میں۔ اے خدا میں تیری حمد بجا لاتا ہوں کہ توں نے ہمارے خاندان کو نبوت سے بزرگی بخشی اور ہمیں قرآن کی تعلیم دی، ہمیں ہمارے دین اور آئین سے آشنا و آگاہ کیا اور تو نے ہمیں (سماعت و بصارت اور قلوب سے نوازا اور ہمیں مشرکوں میں سے قرار نہیں دیا۔ اماں بعد ، میں نہیں جانتا کہ میرے اہل بیت سے بہتر اور نیک کسی اور کا خاندان اور میرے اصحاب سے زیادہ باوفا اور بہتر کسی کے اصحاب ہوں گے ۔ایسے ساتھی تو میرے بابا علی اور میرے بھائی حسن کو بھی نہیں ملے تھے ۔، ۔ خداوند عالم تم سب کو جزائے خیر دے۔

میرے جد امجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے خبر دی ہے کہ میں عراق کی طرف لایا جاؤں گا اور عامرہ یا کربلا کے مقام پر پڑاؤ ڈالوں گا اور اسی جگہ پر شہید کر دیا جاؤں گا ۔ اور اب شہادت کا وقت پہنچ چکا ہے، میرے خیال میں اسی صبح کو دشمن ہمارے ساتھ جنگ کا آغاز کرے گا۔ اب میں تمہیں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں اور بیعت تم سے اٹھائے لیتا ہوں اور اجازت دیتا ہوں کہ رات کی اس تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تم میں سے ہر ایک میرے گھر والوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑے اور اپنے شہر یا آبادی کی طرف چلا جائے۔ اور اپنی جان کو موت سے نجات دلائے۔ اس لئے کہ یہ لوگ صرف میری تعاقب میں ہیں اور اگر میں انہیں مل جاؤں تو دوسروں سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گے۔ خداوند تم سب کو جزائے خیر اور اجر عظیم عنایت فرمائے۔

تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ شمع جلانے کے بعد دیکھا تو کوئی ایک فرد بھی اپنی جگہ سے نہ ہلا تھا ۔

دس محرم الحرام 61 ھ کا خونی آفتاب اپنی پوری خون آشامیوں کے ساتھ طلوع ہوا ۔ لیکن اس صبح کی سپیدی میں حر ابن یزید ریاحی نے اپنے بھائي بیٹے اور غلام کے ساتھ لشکر کفر و نفاق سے نکل کر لشکر حق میں شمولیت اختیار کرلی ۔

حضرت علی اکبر (ع) نے صبح کی اذان دی ، لشکر اسلام و قرآن نے امام حسین (ع) کی امامت میں نماز فجر ادا کی ابھی سر سجدوں سے بلند نہیں ہوئے تھے کہ کمانیں کڑکیں اور نماز کےلئے ایستادہ بیسیوں مجاہدین راہ حق تیروں کی پہلی بوچھار میں ہی شہید ہوگئے اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا ۔

امام سے اجازت لے کر مجاہدین اسلام میدان میں جاتے اور شہید ہوتے رہے ۔

پہلے اصحاب کام آئے اور پھر اعزہ کی باری آئی ۔ اٹھارہ سالہ شبیہ پیغمبر (ص) ، نو ، دس سال کے عون و محمد (ص) تیرہ سالہ قاسم (ع) 32 سال کے بھائي عباس علمدار ، حتی چھ ماہے علی اصغر (ع) کو بھی راہ اسلام میں حسین (ع) نے قربان کردیا اور پھر ننھی سی قبر کھودکے اصغر (ع) کو دفنا کے شبیر (ع) اٹھ کھڑے ہوئے دامن کو جھاڑکےاب حسین تشنہ کام ، زخموں سے چور ، شدت پیاس سے کہتے ہیں :

انابن صاحب الکوثر ، میں تو ساقی کوثر کا بیٹا ہوں ، میں تو شافع محشر کا بیٹا ہوں ۔پھر اک عزم کے ساتھ اٹھے اور در خیمہ پر آکر آواز دی اے زینب و ام کلثوم ۔۔ اے رقیہ و سکینہ ۔۔۔۔ حسین کا آخری سلام قبول کرو ۔

اس وقت حضرت امام حسین علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ علیل تھے۔ علالت کے باوجود اپنے والد گرامی سے اجازت طلب کی مگر حضرت امام حسین علیہ السلام نے سمجھایا کہ ایک تو آپ رضی اللہ عنہ علیل ہیں اور دوسرے آپ رضی اللہ عنہ کا زندہ رہنا ضروری ہے کیونکہ خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر چراغ گل ہو چکا ہے۔

ہر پھول مرجھا چکا ہے، اب میری نسل میں فقط تو ہی باقی رہ گیا، مجھے تو شہید ہونا ہی ہے اگر تو بھی شہید ہو گیا تو میرے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کیسے چلے گی۔ تجھے اپنے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کی بقاء کے لئے زندہ رہنا ہے‘

‘ پھر آپ کو کچھ نصیحتیں کیں اور یوں فرزند صاحب ذوالفقار حضرت امام حسین علیہ السلام ، حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر سب سے رخصت لی اور دامن سے لپٹی پارۂ دل کو بھی سینے سے لگاکر بہن کے حوالے کردیا اور میدان میں آکر ایسی جنگ کی کہ یزیدی لشکر کوفے کی دیواروں سے ٹکراتا نظر آيا ۔

مقابلے میں حضرت امام حسین علیہ السلام دیر تک یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے رہے۔ پورے یزیدی لشکر میں کہرام مچ گیا۔ حیدر کرار کا یہ فرزند جس طرف تلوار لے کر نکلتا یزیدی لشکر خوفزدہ بھیڑوں کی طرح آگے بھاگنے لگتا۔

حضرت سیدنا امام حضرت امام حسین علیہ السلام دن کا طویل حصہ میدان کربلا میں تنہا دشمن کا مقابلہ کرتے رہے اور دشمنوں میں سے ہر کوئی آپ کے قتل کو دوسرے شخص پر ٹالتا رہا کیونکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا قتل کوئی بھی اپنے ذمہ نہ لینا چاہتا تھا۔

حضرت سیدنا امام حضرت امام حسین علیہ السلام نہر علقمہ پر پہنچے اوربھائی کو آواز دی ۔۔۔ کاش تم ہوتے اور تین دن کے پیاسے حسین (ع) کی جنگ کا منظر دیکھتے اور جب نہر سے پلٹے تو آواز سنائي دی ۔۔

“اے نفس مطمئنہ اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ اس حال میں کہ میں تجھ سے راضی اور تو مجھ سے راضی ہے “۔

امام نے تلوار نیام میں رکھ لی تیروں ، نیزوں شمشیروں کی بارش ہونے لگی جن کے پاس کچھ نہ تھا وہ پتھر ماررہے تھے ۔حسین گھوڑے سے گرے ،بارگاہ معبود میں شکر کا سجدہ ادا کیا۔

آخر شمر بن ذی الجوشن نے کہا : ’’تمہارا برا ہو کیا انتظار کر رہے ہو؟ کام تمام کیوں نہیں کرتے؟

حضرت امام حسین علیہ السلام ہر طرف سے دشمنوں میں گھر چکے تھے ۔ آپ نے پکار کر کہا ۔۔ “ کیا میرے قتل پر ایک دوسرے کو ابھارتے ہو؟ واﷲ! میرے بعد کسی بندے کے قتل پر اﷲ تعالیٰ اتنا ناخوش نہیں ہو گا جتنا میرے قتل پر“
(ابن اثیر، 4 / 78)

عمر بن سعد لشکر یزید کا امیرتھا ۔ اس کے حکم پر شمر بن ذی الجوشن امام حسین علیہ السلام کے سینے پر بیٹھ گیا اور سر امام کو کاٹنے کا اردہ کیا ۔ جس پر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ “ کیا توں مجھے جانتا ہے کہ میں کون ہوں ۔ شمر بولا میں تجھے خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہاری ماں فاطمہ ، باپ علی اور جد امجد محمد مصطفی ہیں ، میں تمہیں ضرور قتل کروں گا“ ۔

شمر کے اکسانے پر یزیدی لشکر حضرت امام حسین علیہ السلام پر ٹوٹ پڑا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر امام حسین علیہ السلام کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے حضرت امام حسین علیہ السلام لڑکھڑا گئے۔ اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹے ۔ شمر نے امام حسین علیہ السلام پر شمشیر کی بارہ ضربیں لگائی اور امام حسین علیہ السلام کےسر کو کاٹ دیا ۔

ایک اور روایت کے مطابق خولی بن یزید آگے بڑھ کر حضرت امام حسین علیہ السلام کو نیزہ مارا جس سے حضرت امام حسین علیہ السلام گر پڑے۔ سنان بن ابی عمرو بن انس نخفی نے خولی سے کہا کہ امام حسین کے سر کو بدن سے جدا کردو تو خولی کانپنے لگا تو سنان نے ا سے کہا کہ توں کانپ کیوں رہاہے اور تیرے بازوکیوں سست ہو گئے ہیں ۔اس کے بعد سنان بن نخفی خود آگے بڑھا اور امام حسین کے سر مبارک کو تن سے جدا کر دیا اور خونی یزید کے حوالے کر دیا۔
(البدایہ والنہایہ، 8 / 188)

مظلومیت کا کیسا یہ سکہ جما دیا
چشمٍ بشر کو اشک بہانا سکھا دیا
اعجاز ھے حسین علیہ السلام کا
کٹوا کے سر یزید کے سر کو جھکا دیا
(صفدر ھمدانی)۔

علامہ ڈاکٹر پروفیسر طاہرالقادری صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں

“حضرت امام عالی مقام کی شہادت کا پہلا پیغام عملی جدوجہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ کو فقط رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اپنے عمل و حال و قال میں شامل کرلیا جائے اور اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، یعنی معلوم کیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے۔

یزید نے کھلم کھلا اسلام کا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی، مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں۔ وہ اسلام کا نام بھی لیتا تھا، وہ یہ بھی کہتا تھا کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، میں مسلمان بھی ہوں، میں موحد بھی ہوں، میں حکمران بھی ہوں، میں آپ کا خیر خواہ بھی ہوں۔ اسلام کا انکار یہ تو ابوجہلی ہے، ابولہبی ہے۔

یزیدی کردار یہ ہے کہ مسلمان بھی ہو اور اسلام سے دھوکہ بھی کیا جائے، امانت کی دعویٰ بھی ہو اور خیانت بھی کی جائے، نام اسلام کا لیا جائے اور آمریت بھی مسلط کی جائے۔ اپنے سے اختلاف کرنے والوں کو کچلا جائے۔ اسلام سے دھوکہ فریب یزیدیت کا نام ہے۔ بیت المال میں خیانت کرنا، دولت کو اپنی عیش پرستی پر خرچ کرنا یزیدیت کا نام ہے۔ معصوم بچوں اور بچیوں کے مال کو ہڑپ کرنا یزیدیت کا نام ہے۔ مخالف کو کچلنا اور جبراً بیعت اور ووٹ لینا یزیدیت کا نام ہے۔

حسینیت کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں جہاں یزیدیت کے کردار کا نام و نشان نظر آئے حسینی لشکر کے غلام و فرد بن کر یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کردو۔ اس کے لیے اگر تمہیں مال، جان، اور اپنی اولاد ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے“

تاریخ میں اسلام کیلئے جان قربان کرنے والوں اور شہادت کے منصب پر فائز ہونے والوں کی کمی نہیں مگرحضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت اس لئے شہادت عظمیٰ قرار پائی کہ اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادے اور اہل بیت اطہار سے تعلق رکھنے والی بزرگ ہستیوں کی کثیر تعداد نے اسلام کی بقاء اور سربلندی کا جام شہادت نوش کیا۔ امت مسلمہ قیامت تک حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے خانوادے کی قربانی کو یاد رکھے گی۔

 

کربلا اسلام کی تابندگی کا نام ہے
جو کبھی نہ ختم ہو اُس زندگی کا نام ہے‬
سچ تو یہ ہے حشر تک سارے یزیدوں کے لیئے
نفرتوں کی آگ ہے شرمندگی کا نام ہے
(صفدر ھمدانی)۔

اس مضمون کی تیاری میں انٹر نیٹ کے مواد سے بھی مدد لی گئی ہے۔

 http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=intakhabailanat&art...

Add new comment