مذہبی نمبر۔۔۔لمحہ فکریہ

مذہبی نمبر

فصاحت حسین

کچھ دن پہلے میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا۔ ان کے نمبر میں دو بار ۷۸6 ہے۔ جیسے ہی فون ملا تو گھنٹی کی آواز آنے کے بجائے اُدھر سے بہت تیز تیز یہ آواز آنے لگی "بدتمیز بدتمیز بدتمیز۔۔۔۔۔" میں اس بدتمیزی کو برداشت نہ کرسکا اور فورا فون کاٹ دیا۔ کچھ دیر بعد ان کا فون آیا تو میں نے اس بدتمیزی کا راز جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ :"یار یہ بالکل لیٹست گانا ہے اسی کی کالر ٹیون ہے"۔ میرے ایک دوسرے دوست تو بہت زبردست ہیں۔ ان کے پاس دو سم ہیں اور دو موبائل :"انہوں نے ۷۸6 والے سم کے موبائل کو صاف ستھرا اور مذہبی بنا کر رکھا ہے۔ اس میں قرآن کی تلاوت ہے، دعائیں ہیں، نعت اور قصیدے ہیں۔ اور دوسرا موبائل جس کے سم کا نمبر آرڈنری ہے اس کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں کیا نہیں ہے۔ اور وہ اس احتیاط کو اپنی دینداری کا سرٹیفکٹ مانتے ہیں۔
آپ اپنے چاروں طرف دیکھئے تو آپ کو اس طرح کے بہت سے مذہبی نمبر مل جائیں گے۔ ان مقدس اور مذہبی نمبروں کی برکت ہم کو کم ملتی ہے لیکن ان کمپنیوں کو زیادہ ملتی ہے جن کے مالکوں کا شائد اس بسم اللہ پر کوئی عقیدہ بھی نہیں ہے۔ کسی زمانہ میں ۷۸6 والے سم کارڈ کی بڑی اہمیت ہوتی تھی۔ ۲۰۰ روپئے میں ملنے والا سم دو ہزار تو کہیں چار ہزار کا بکتا تھا۔ یہ خبر دھیرے دھیرے کمپنیوں کو بھی ہوگئی تو انہوں نے برکتوں والے مہینہ یعنی رمضان میں اللہ کی خاص برکتیں حاصل کرنے کے لئے ۷۸6 کے نئے سم issue کردئیے۔ 786 پر 786 کی ریچارچ اسکیم نکال دی اور ہم مذہبی لوگ اس "مذہبی سم" اور "دینی ریچارج" کو پانے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔ کار یا بائک کا نمبر ہو، گھر کی نمبر پلیٹ ہو یا دوسرے نمبر ہوں، ہماری مذہبی نگاہیں اسی نمبر کو ڈھونڈتی رہتی ہیں۔
میں اس راز کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ اس ۷۸6 کا کیا فائدہ ہے، یہ ہمارے درمیان اتنا مقدس کیوں ہے۔ یہ انک گڑت والی بسم اللہ ہے۔ بسم اللہ کا شارٹ کٹ فارمولا ہے۔ لیکن دین نے ہمیں شارٹ کٹ فارمولا نہیں دیا ہے۔ اس نے ایسی بسم اللہ بتائی ہے جس میں اللہ ہے، رحمن ہے رحیم ہے اور یہ concept ہے کہ میں اس کو مہربان خدا کے نام سے شروع کر رہا ہوں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اگر ہم اپنے کام اللہ کےنام سے شروع کریں گے تو گناہوں سے بچیں گے، کام شروع کرتے وقت ہمیں خدا کا خیال رہے گا اور ہم برے کام کو شروع بھی کرنے والے ہوں گے تو چھوڑ دیں گے۔ خدا کے رحمن اور رحیم یعنی مہربان ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنے کاموں میں اچھی امید رہے گی کہ میں کامیاب رہوں گا کیونکہ میرے پالنے والے کی مہربانیاں میرے ساتھ میں ہیں۔
جب اس ذہنیت اور دعا کے ساتھ انسان کام شروع کرے گا تو خدا اس کے کام میں برکت دے گا۔ وہ کام چاہے جیسا بھی ہو۔ وہ پڑھائی لکھائی ہو یا بزنس اور جاب، گھر کا کوئی چھوٹا سا کام ہو یا سماج کےبڑے سے بڑے کام۔ وہ ان سب جگہوں پر بسم اللہ اور خدا کی یاد کی برکتوں کو محسوس کرے گا۔
لیکن آپ بتائیے کہ ۷۸6 کا نمبر دیکھنے کے بعد کتنی بار آپ کے ذہن میں یہ کیفیت آتی ہے۔ خدا کا نام آتا ہے۔ اور اس کی مہربانیاں ذہن میں آتی ہیں۔ بلکہ ہم تو صرف شُبھ {shubh} گنتیوں کی وجہ سے انہیں اپنے موبائل نمبر، گاڑی نمبر کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ یا کچھ لکھتے وقت شروع میں اسے لکھ دیتےہیں۔
اگر کسی پرچے یا کسی دوسری چیز کے شروع میں خدا کا نام لینا چاہتے ہیں اور آپ کو یہ ڈر ہے کہ لوگ اس کا احترام نہیں کریں گے تو اسے لکھنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیجئے۔ کبھی کبھی دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ شادی بیاہ کے کارڈ یا دوسرے پرچوں میں بسم اللہ کی جگہ ۷۸6 لکھا ہوتا ہے لیکن اندر کئی جگہوں پر اللہ اور خدا لکھا ہوتا ہے۔
نہ جانے کتنے 786 کے نمبر والے ہیں جو بات شروع کرتے ہیں تو ان کی باتیں غیرمذہبی ہوتی ہیں، وہ یا غیبت کرتے ہیں، یا تہمت لگاتے ہیں یا گالیاں دیتے ہیں یا دوسری غیراسلامی باتیں کرتے ہیں جبکہ اگر وہ خدا کے نام سے اپنی بات کی شروعات کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں موبائل پر نیٹ چلاتے وقت یا فیس بک پر چیٹنگ اور کمنٹ کرتے وقت خدا یاد نہیں رہتا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان کا نمبر مذہبی ہے لیکن وہ مذہبی نہیں ہیں۔ جبکہ معاملہ الٹا ہونا چاہئے۔
اس لئے
بسم اللہ پڑھنے اور اپنے کاموں کو خدا کے نام سے شروع کرنے کی عادت ڈالیئے یعنی آپ خود مذہبی بنئیے نمبروں اور گنتیوں کو مذہبی نہ بنائیے۔ مذہبی گنتیاں نہ آپ کو برکت دیں گی، نہ خدا کی یاد دلائیں گی، اس لئے نہ جنت میں بھیجیں گیں اور نہ جہنم سے بچائیں گی۔
.....................

Add new comment