مسئلہ تفتان یامسئلہ کشمیر
ٹی وی شیعہ[فیچر سیکشن]سفر اور سیر وسیاحت انسان کی سرشت میں شامل ہے اور اسلام میں تو( سیرو فی الارض) کا حکم بہت تاکید کامظہر دکھایی دیتا ہے،اسلام نے جہاں نیک اور اچھے سفر کی ترغیب دی ہے وہاں سفر اور مسافر کے لیے کچھ آداب اور احکام بھی بیان فرمائےہیں،ساتھ اسلام نے ان افراد کے لیے بھی کچھ قواید و ضوابط اور اخلاقی حدود معین کی ہیں جنکا واسطہ مسافروں سے پڑتا ہے،یعنی مسافر کی عزت،احترام اور اسکی ضروریات کا خیال اور اسکے علاوہ بھی کچھ آداب ہیں جن پر تعلیمات اسلام میں بہت زور دیا گیا ہے،تفتان پاکستان کی مغربی سرحد پر کویٹہ سے تقریبا ۶۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پاکستان کا آخری شہر ہے،اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحد کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے یہ شہر زیارتی،سیاحتی اور تجارتی حوالے سے کافی اہمیت کا حامل ہے،ان تمام اوصاف کے باوجود گذشتہ کافی عرصے سے اس شہر کے راستوں پر سفر کرنے والوں مسافروں کے لیے کچھ نادان،اور اسلامی تعلیمات سے عاری پاکستان اور اسلام کے دشمنوں نے مشکلات کھڑی کی ہویی ہیں جسکی وجہ سے اس راستے پر سفر کرنے والے زایرین،تاجروں اور اسلامی جمہوریہ ایران میں زیر تعلیم طالبعلموں اور انکے خاندانوں کی جان،مال اور عزت و ناموس کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں،یہ راستہ جو کسی زمانے میں بالکل پر امن تھا آج اس راستے پر سفر کرتے ہویے انسان کو شدیدخوف اور خطرہ محسوس ہوتا ہے،کیونکہ ہر وقت انسان کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ نجانے کس سمت سے کویی گولی،مارٹر گولہ،بم،یا خودکش بمبار آیے اور ہماری جان چلی جاے،لیکن یہاں پر ایک سوال انسان کے ذہن میں آتا ہے کہ ان مسایل کا حل کیا؟ اور کس کے پاس ہے؟ کیا پاکستان کے یہ شہری اس راستے پر سفر کرنا چھوڑ دیں؟ یا وہ اپنی مدد آپ کے تحت اسلحہ لیکر اپنا دفاع اور تحفظ خود یقینی بناییں؟گذشتہ ایک مہینے سے ایسے بہت سارے افراد سے ملاقات ہو چکی ہے کہ جنکو اس راستے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،کسی کو کویٹہ سے واپس بھیج دیا گیا،تو کسی کو بس والے نے خوف سے سوار نہیں کیا،کسی کو نوشکی اور دالبدین سے ایف سی کے اہلکاروں نے بسوں سے اتار کر واپس بھیج دیا۔ہمارا تمام صاحبان خرد سے یہ سوال ہے کہ کیا دہشت گردی کے مسلہ کا یہ حل ہے کہ نہتے اور مظلوم مسافروں کو سفر سے روک دیا جاے؟ یا دہشت گردوں کو لگام دی جاے؟کیا مسافروں سے یہ ناروا غیر اخلاقی اور غیر قانونی سلوک کرنے سے دہشت گردی اور دہشت گرد حملے رک جاییں گے؟ یا انکو مزید شہہ ملے گی کہ وہ اپنے مذموم اور ناپاک ارادوں میں کامیاب ہورہے ہیں، یہ ذمہ داری ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کریں،ہمارے حکمرانوں کو اس سلسلے میں انتہایی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کیونکہ اگر اس راستے پر دہشت گردوں کے حملے اسی طرح جاری رہے تو ناصرف اندورنی طور پر ملک میں انارکی اور فرقہ وارانہ جنگ چھڑ سکتی ہے بلکہ اس سے پاکستان کے ایران جیسے پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،دوسری طرف علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں راواداری اور اتحاد اور بھایی چارے کی فضا کو فروغ دیں اور اتحاد کی باتیں صرف محراب ومنبر سے نا کریں بلکہ عملی میدان میں اتحاد کر کےلوگوں دکھاییں، کیونکہ پاکستان کی موجودہ صورتحال انتہایی خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ۔لہذا کویٹہ سے تفتان کے راستے پر سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت کی ذمہ داری،حکومت،سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کندھوں پرعاید ہوتی ہے اور انکی یہ شرعی،قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے جان اور مال کی حفاظت کو یقینی بناییں۔مسافرین کے مطابق اب تو سرکاری اہلکاروں نے بھی لوگوں سے رشوت کی رقم بٹورنی شروع کر دی ہے؟ان مسائل کے حل کے لئے کسی ٹھوس لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔میری تمام دینی و مذہبی اور انسانی حقوق سے متعلق تنظیموں سے اپیل ہے کہ تفتان کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور حکومت پر دباو ڈالیں کہ مسئلہ تفتان کو مسئلہ کشمیر نہ بنایاجائے۔
تحریر:ملک ابن الرضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Add new comment