مرجع تقلید کے بارے میں سوال و جواب

سوال- کیا ایسے مجتہد کی تقلید جائز ہے جس نے اپنی مرجعیّت کے منصب کو نہ سنبھالا ہو اور نہ اس کا رسالہ ٴ عملیہ موجود ہو ؟
جواب- جو مکلف تقلید کرنا چاہتا ہے، اگر اس پر یہ ثابت ہوجائے کہ وہ جامع الشرائط مجتہد ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال- کیا مکلف اس مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے جس نے فقہ کے کسی ایک باب مثلاً نماز و روزہ میں اجتہاد کیا ہے، پس کیا وہ اس باب میں اس مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے جس میں اس نے اجتہاد کیا ہے؟
جواب- مجتہد متجزی[1] کا فتویٰ خود اس کے لئے حجّت ہے لیکن دوسروں کا اس کی تقلید کرنا محل اشکال ہے اگرچہ اس کا جائز ہونا بعید نہیں ہے۔
سوال- کیا دوسرے ملکوں کے علماء کی تقلید جائز ہے ، خواہ ان تک رسائی بھی ممکن نہ ہو؟
جواب- شرعی مسائل میں جامع الشرائط مجتہد کی تقلید میں یہ شرط نہیں ہے کہ مجتہد مکلف کا ہم وطن ہویا اس کے شہر کا رہنے والا ہو۔
سوال- مجتہد اور مرجع تقلید میں جو عدالت معتبر ہے کیا وہ کمی یا زیادتی کے اعتبار سے اس عدالت سے مختلف ہے جو امام جماعت کے لئے ضروری ہے؟
جواب- منصب مرجعیّت کی اہمیّت کے پیش نظر مرجع تقلید میں احتیاط واجب کی بنا پر عدالت کے علاوہ یہ بھی شرط ہے کہ وہ اپنے سرکش نفس پر مسلط ہو اور دنیا کا حریص نہ ہو۔
سوال- کیا زمان و مکان کے حالات سے واقف ہونا اجتہاد کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے؟
جواب- ممکن ہے بعض مسائل میں اسکا دخل ہو۔
سوال- امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے نزدیک مرجع تقلید کے لئے واجب ہے کہ وہ عبادات و معاملات کے علم پر مسلط ہونے کے علاوہ سیاسی ، اقتصادی ، فوجی ، سماجی اور قیادت و رہبری کے امور کا بھی عالم ہو۔ پہلے ہم امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے مقلد تھے اور اب بعض افاضل علماء کی رہنمائی اور خود اپنی رائے کی بناء پر آپ کی تقلید کو واجب سمجھتے ہیں۔ اس طرح ہم نے قیادت و مرجعیت کو ایک جگہ پایا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
جواب- مرجع تقلید کی صلاحیّت کی شرطیں ( ان امور میں جن میں ایک غیر مجتہد و محتاط پر اس کی تقلید ضروری ہے جس میں مقررہ شرطیں پائی جاتی ہوں) ، تحریر الوسیلہ اور دوسری کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مرقوم ہیں۔ لیکن شرائط کے اثبات کا مسئلہ اور فقہا میں سے تقلید کے لئے صالح شخص کی تشخیص خود مکلف کے نظریہ پر منحصر ہے۔
سوال- تقلید میں مرجع کا اعلم ہونا شرط ہے یا نہیں ؟ اور اعلمیّت کے معیار اور اس کے اسباب کیا ہیں؟
جواب- جن مسائل میں اعلم کے فتوے دوسروں سے مختلف ہیں ان میں اعلم کی تقلید احتیاطاً واجب ہے۔ اعلمیت کا معیار یہ ہے کہ وہ دوسرے مجتہدین سے احکام خدا کے سمجہنے اور الہی فرائض کا ان کی دلیلوں سے استنباط کرنے میں زیادہ مہارت رکہتا ہو۔ نیز اپنے زمانے کے حالات کو اس حد تک جانتا ہو جتنا احکام شرعی کے موضوعات کی تشخیص اور شرعی فرائض بیان کرنے کے لئے فقہی رائے کا اظہار کرنے میں ضروری ہے۔ کیونکہ زمانے کے حالات سے آگہی کو اجتہاد میں بہی دخل ہے۔
سوال- اگر اعلم میں تقلید کے لئے معتبر شرائط موجود نہ ہونے کا احتمال ہو ، ایسے میں اگر کوئی شخص غیر اعلم کی تقلید کرلے تو کیا اس کی تقلید کو باطل قرار دیا جاسکتا ہے؟
جواب- صرف اس احتمال کی وجہ سے کہ اعلم میں ضروری شرائط موجود نہیں ہیں، اختلافی مسئلہ میں بنا بر احتیاط واجب غیر اعلم کی تقلید جائز نہیںہے۔
سوال- اگر چند مسائل میں چند علماء کا اعلم ہونا ثابت ہوجائے ( اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک کسی خاص مسئلہ میں اعلم ہے) تو ان کی طرف رجوع کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب- تبعیض یعنی متعدد مراجع کی تقلید کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔بلکہ اگر ہر مجتہد اس مسئلے میں اعلم ہو جس میں مکلف اس کی تقلید کررہا ہے تو بنا بر احتیاط جس مسئلہ میں ان کے فتوے مختلف ہوں۔ ان میں بہی تبعیض واجب ہے۔
سوال- کیا اعلم کی موجودگی میں غیر اعلم کی تقلید کی جاسکتی ہے؟
جواب- ان مسائل میں غیر اعلم کی طرف رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جن میں اس کا فتویٰ اعلم کے فتوے کے خلاف نہ ہو۔
سوال- مرجع تقلید کی اعلمیّت کے سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟ اور اس پر آپ کی کیا دلیل ہے؟
جواب- جب متعدد جامع الشرائط فقہا موجود ہوں اور اپنے اپنے فتووٴں میں اختلاف رکہتے ہوں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ غیر مجتہد مکلف، مجتہد اعلم کی تقلید کرے، مگر یہ کہ اس کا فتویٰ احتیاط کے خلاف ہو، اور غیر اعلم کا فتویٰ احتیاط کے موافق ہو۔ اس کی دلیل سیرت عقلاء ہے، بلکہ اگر امر تعیین و تخییر میں دائر ہوجائے تو عقل بھی تعیین کا حکم دیتی ہے۔
سوال- ہمارے لئے کس کی تقلید کرنا واجب ہے؟
جواب- جامع الشرائط مجتہد اور مرجع کی تقلید واجب ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ وہ مجتہد اعلم ہو۔
سوال- کیا ابتداء سے میّت کی تقلید کی جاسکتی ہے؟
جواب- احتیاط واجب یہ ہے کہ ابتداء میں زندہ اور اعلم مجتہد کی ہی تقلید کی جائے۔
سوال- ابتداء میں میّت کی تقلید زندہ مجتہد کی تقلید پر موقوف ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب- ابتداء میں میّت کی تقلید کرنے یا میّت کی تقلید پر باقی رہنے کا جواز زندہ مجتہد اعلم کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے۔
http://www.alahkam.net/index.php/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D...
..................

 




[1] ایسا مجتھد جو فقہ کے کسی ایک باب میں مہارت رکھتاہو

Add new comment