ولایت فقیہ ،سوال و جواب کی روشنی میں

سوال- مفہوم و مصداق کے اعتبار سے ” اصل “ ولایت فقیہہ کا اعتقاد عقلی ہے یا شرعی ؟
جواب- بے شک ولایت فقیہہ ۔ جو کے معنیٰ دین سے آگاہ عادل فقیہہ کی حکومت ہے۔ شریعت کا تعبدی حکم ہے جس کی تائید عقل بہی کرتی ہے اور اس کے مصداق کی تعیین کے لئے عقلی طریقہ بہی ہے جس کو اسلامی جمہوریہ کے دستور میں بیان کیا گیا ہے۔
سوال- کیا ولی فقیہہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت عامہ کے پیش نظر شریعت کے حکم کو بدل سکتا ہے یا اس پر عمل کرنے سے روک سکتا ہے؟
جواب- مختلف حالات میں اس کا حکم مختلف ہے۔
سوال- کیا ذرائع ابلاغ کو اسلامی حکومت کے سایہ میں ولی فقیہہ کے زیر نظر ہونا واجب ہے یا انہیں مراکز علوم دینیہ کی نگرانی میں ہونا چہئیے یا کسی اور ادارہ کے زیر نظر ؟
جواب- واجب ہے کہ ذرائع ابلاغ ولی امر مسلمین کے زیر فرمان اور ان کے زیر نظر ہوں اور انہیںاسلام و مسلمانوں کی خدمت ، الہی معارف کی نشر و اشاعت ، اسلامی معاشرہ کی عام مشکلوں کے حل اور فکری اعتبار سے اس سے مسلمانوں کی ترقی اور ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اوران کے درمیان اخوت و برادری کی روح کو فروغ دینے اور اسی طرح کے دوسرے امور انجام دینے کے لئے استعمال کیا جائے۔
سوال- کیا اس شخص کو حقیقی مسلمان سمجہا جائے گا جو فقیہہ کی ولایت مطلقہ کا معتقد نہ ہو؟
جواب- غیبت امام زمانہ عج کے عہد میں اجتہاد یا تقلید کی بناء پر فقیہہ کی ولایت مطلقہ پر اعتقاد نہ رکہنا ارتداد اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا باعث نہیں ہے۔
سوال- کیا ولی فقیہہ کو ولایت تکوینی حاصل ہے جس کی بنیاد پر اس کے لئے کسی وجہ سے جیسے مصلحت عامہ کی بنا پر دینی احکام کا منسوخ کرنا ممکن ہے؟
جواب- رسول اعظم صلوات اللہ علیہ و آلہ کی وفات کے بعد شریعت اسلامیہ کے احکام منسوخ نہیں کئے جاسکتے البتہ موضوع کا بدلنا ، کسی ضرورت یا مجبوری کا پیش آنا ، یا حکم کے نفاذ میں کسی وقتی رکاوٹ کا وجود نسخ نہیں ہے اور ولایت تکوینی اس کے نظر میں جو اس کا قائل ہے معصومین (ع)سے مخصوص ہے۔
سوال- ان لوگوں سے متعلق ہمارا کیا فریضہ ہے جو فقیہہ عادل کی ولایت کو صرف امور حسیبہ میں محدود سمجہتے ہیں، جانتے ہوئے کہ ان کے بعض نمائندے اس نظریہ کی اشاعت بہی کرتے ہیں؟
جواب- ہر زمانہ میں معاشرہ کی قیادت اور اجتماعی امور کی ہدایت کے لئے ولایت فقیہہ مذہب حقہ اثنا عشری کا ایک رکن رہی ہے اور اس کا تعلق اصل امامت سے ہے اور اگر کوئی شخص دلیل کے ذریعہ ولایت فقیہہ کا قائل نہ ہو تو وہ معذور ہے لیکن اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تفرقہ اور اختلاف پہیلائے۔
سوال- کیا ولی فقیہہ کے اوامر پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے یا صرف اس کے مقلدین کا فریضہ ہے؟ نیز جو مرجع تقلید ولایت مطلقہ کا معتقد نہ ہو اس کے مقلد پر ولی فقیہہ کی اطاعت واجب ہے یا نہیں؟
جواب- شیعہ فقہ کے اعتبار سے ولی امر مسلمین کے صادر کردہ ولائی شرعی او امر کی اطاعت کرنا اور اس کے امر و نہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا تمام مسلمانوں ، یہاں تک کہ تمام فقہائے عظام پر بہی واجب ہے چہ جائیکہ ان کے مقلدین پر ۔ اور ہم ولایت فقیہہ کی پابندی کو اسلام کی پابندی اور آئمہ کی ولایت سے جدا نہیں سمجہتے۔
سوال- لفظ ” ولایت مطلقہ “ رسول (ص)کے زمانہ میں اس معنی میں استعمال ہوتا تہا کہ اگر رسول (ص)کسی شخص کو کسی چیز کا حکم دیں کہ تم خود کو قتل کر ڈالو ! تو اس پر خود کو قتل کردینا واجب تہا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آج بہی ولایت مطلقہ کے وہی معنی ہیں؟ اس بات کو مد نظر رکہتے ہوئے کہ نبی(ص) معصوم تہے اور اس زمانہ میں کوئی ولی معصوم نہیں ہے؟
جواب- جامع الشرائط فقیہہ کی ولایت مطلقہ سے مراد یہ ہے کہ دین اسلام تمام آسمانی ادیان کے آخر میں آنے والا اور قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے۔ یہ دین حکومت ہے اور معاشرہ کے امور کی دیکہ بہال کرنے والا دین ہے، پس اسلامی معاشرہ کے تمام طبقات کے لئے ایک ولی امر، حاکم شرع اور قائد کا ہونا ضروری ہے جو امت کو اسلام و مسلمانوں کے دشمنوں سے بچائے، ان کے نظام کا محافظ ہو، ان کے درمیان عدل قائم کرے، طاقتور کو کمزور پر ظلم کرنے سے باز رکہے، معاشرہ کی ثقافتی ، سیاسی اور اجتماعی امور کی ترقی کے وسائل فرہم کرے۔ اس امر کا عملی میدان میں نفاذ بعض اشخاص کی خوہشات ، منافع اور آزادی سے ٹکراو ٴ رکہتا ہے۔ لہذا حاکم مسلمین پر واجب ہے کہ وہ اس کے نفاذ کے وقت فقہ اسلامی کی روشنی میں ضرورت کے تحت لازمی اقدامات کرے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے مصالح عامہ کے پیش نظر ولی امر کا ارادہ اور اس کے اختیارات تعارض اور ٹکراو ٴ کی صورت میں عوام کے ارادہ اوران کے اختیارات پر حاکم ہوں اور یہ ولایت مطلقہ کا ایک معمولی سا پہلو ہے۔
سوال- جس طرح مجتہد میت کی تقلید پر باقی رہنے کے سلسلہ میں فقہا کا فتویٰ ہے کہ اس کے لئے زندہ مجتہد کی اجازت کی ضرورت ہے ، کیا اسی طرح مرحوم قائد کی طرف سے صادر ہونے والے حکومتی احکام و اوامر پر عمل کے سلسلے میں بہی زندہ قائد کی اجازت درکار ہے یا وہ اپنی جگہ ویسے ہی باقی ہیں۔
جواب- ولی امر مسلمین کی طرف سے صادر ہونے والے حکومتی احکام اور اشخاص کی تقرریاں اگر وقتی نہ ہوں تو اپنی جگہ پر باقی رہیں گے ورنہ اگر موجودہ ولی امر مسلمین انہیں منسوخ کردینے میں مصلحت سمجہتا ہوگا تو منسوخ کردے گا۔
سوال- کیا اسلامی جمہوریہ ایران میں زندگی گزارنے والے اس فقیہہ پر، جو ولی فقیہہ کی ولایت مطلقہ کا قائل نہیں ہے، ولی فقیہہ کے احکام کی اطاعت کرنا واجب ہے؟ اگر وہ ولی فقیہہ کے حکم کی مخالفت کرے تو کیا اسے فاسق سمجہا جائے گا؟ اور اگر کوئی فقیہہ ولایت مطلقہ کا تو اعتقاد رکہتا ہے لیکن اس منصب کے لئے اپنی ذات کو زیادہ سزاوار سمجہتا ہے، اس صورت میں اگر وہ ولایت کے منصب پر فائز فقیہہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کیا اسے فاسق سمجہا جائے گا؟
جواب- ہر مکلف پر واجب ہے کہ وہ ولی امر مسلمین کے حکومتی اوامر کی اطاعت کرے چہے وہ فقیہہ ہی کیوں نہ ہو اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ خود کو اس منصب کا زیادہ حقدار سمجہ کر ولی امر مسلمین کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ موجودہ ولی فقیہہ نے ولایت کے منصب کو اس کے مروجہ قانونی طریقہ کے مطابق حاصل کیا ہو ورنہ دوسری صورت میں مسئلہ کلی طور سے مختلف ہے۔
سوال- کیا جامع الشرائط مجتہد کو زمانہ غیبت میں حدود جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے؟
جواب- زمانہ غیبت میں بہی حدود کا جاری کرنا واجب ہے اور اس کی ولایت اور اختیار صرف ولی امر مسلمین سے مخصوص ہے۔
سوال- ولایت فقیہہ کا مسئلہ تقلیدی ہے یا اعتقادی؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اسے تسلیم نہیں کرتا ؟
جواب- ولایت فقیہہ اس امامت و ولایت کے سلسلہ کی کڑی ہے جو اصول مذہب میں سے ہے لیکن اس کے احکام کا استنباط بہی فقہی احکام کی طرح شرعی دلیلوں سے کیا جاتا ہے اور جو شخص استدلال کے ذریعہ ولایت فقیہہ کو قبول نہ کرے وہ معذور ہے۔
سوال- بعض اوقات ہم بعض عہدہ داروں سے ” ولایت اداری ، کے نام کا عنوان سنتے ہیں یعنی اعلیٰ عہدہ داروں کی بے چون و چرا اطاعت کرنا۔ اس سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟ اور ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
جواب- وہ اداری و انتظامی احکام جو اداری قوانین و ضوابط کی بنیاد پر صادر ہوتے ہیں ان کی مخالفت اور خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔ لیکن اسلامی مفہیم میں ” ولایت اداری “ نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔
سوال- کیا فوجی عہدہ داروں اور افسروں کے لئے جائز ہے کہ وہ سپہیوں کو اپنے ذاتی کاموں کی انجام دہی کا اس دلیل کے ساتہ حکم دیں کہ اگر وہ ان امور کو خود انجام دیں تو ان کا وقت ضائع ہوگا؟
جواب- افسروں یا کسی دوسرے شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ سپہیوں سے اپنے ذاتی کام لیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو اس کام کی اجرت دینا پڑے گی۔
سوال- نمائندہ ولی فقیہہ جو احکام اپنے اختیارات کی حدود میں صادر کرتا ہے کیا ان کی اطاعت واجب ہے؟
جواب- اگر اس کے احکام ان اختیارات کی حدود میں ہیں جو اس کو ولی فقیہہ کی طرف سے تفویض کئے گئے ہیں تو ان کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
.........http://www.alahkam.net/index.php/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D...
...........

Add new comment