تقلید اور اعلم کے بارے میں سوال و جواب

سوال- ہم نے مجتہد میت کی تقلید پر باقی رہنے کے لئے غیر اعلم سے اجازت لی تھی، پس اگر اس سلسلہ میں اعلم کی اجازت شرط ہے تو کیا اس صورت میں اعلم کی طرف رجوع کرنا اور مجتہد میت کی تقلید پر باقی رہنے کے لئے اس سے اجازت لینا واجب ہے؟
جواب- اگر اس مسئلہ میں غیر اعلم کا فتویٰ اعلم کے فتوے کے موافق ہو تو اس کے قول کے مطابق عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس صورت میں اعلم کی طرف رجوع کرنے کی بہی ضرورت نہیں ہے۔
سوال- کیا ان جدید مسائل میں مجتہد اعلم سے عدول جائز ہے جن میں اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ تفصیلی دلیلوں کے ذریعہ صحیح احکام کا استنباط کرسکے؟
جواب- اگر مکلف اس مسئلہ میں احتیاط نہیں کرنا چہتا یا نہیں کرسکتا ہے اور اسے کوئی ایسا مجتہد مل جائے جو اعلم ہے اور مذکورہ مسئلہ میں فتویٰ رکہتا ہو تو اس کی طرف رجوع کرنا اور اس مسئلہ میں اس کی تقلید کرنا واجب ہے۔
سوال- کیا امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے کسی فتوے سے عدول کرکے اس مجتہد کے فتوے کی طرف رجوع کرنا واجب ہے جس سے میں نے میت کی تقلید پر باقی رہنے کی اجازت لی تہی یا دوسرے مجتہدین کی طرف بہی رجوع کیا جاسکتا ہے؟
جواب- عدول کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پس ہر اس جامع الشرائط مجتہد کی طرف عدول کیا جاسکتا ہے جس کی تقلید صحیح ہو۔
سوال- کیا اعلم کی تقلید چہوڑ کر غیر اعلم کی طرف رجوع کرنا جائز ہے؟
جواب- اس صورت میں عدول احتیاط کے خلاف ہے بلکہ احتیاط واجب کی بناء پر اس مسئلہ میں عدول جائز نہیں جس میں اعلم کا فتویٰ غیر اعلم کے فتوے کے خلاف ہو۔
سوال- میں ایک مجتہد کے فتوے کے مطابق امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی تقلید پر باقی تہا لیکن جب استفتا آت میں آپ کے جوابات اور امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی تقلید پر باقی رہنے کے سلسلے میں آپ کا نظریہ معلوم ہوا تو میں نے پہلے مجتہد سے عدول کرلیا اور امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے فتوو ٴں نیز آپ کے فتاوی کے مطابق عمل شروع کردیا کیا میرے اس عدول میں کوئی اشکال ہے؟
جواب- ایک زندہ مجتہد کی تقلید سے عدول کرکے دوسرے زندہ مجتہد کی تقلید کی جاسکتی ہے اور اگر دوسرا مجتہد مکلف کی نظر میں پہلے مجتہد کی بہ نسبت اعلم ہو تو بنا بر احتیاط اس مسئلہ میں عدول واجب ہے جس میں دوسرے مجتہدین کا فتویٰ پہلے مجتہد کے فتوے کے خلاف ہو۔
سوال- جو شخص امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا مقلد تہا اور ان ہی کی تقلید پر باقی رہا وہ کسی خاص مسئلہ مثلاً تہران کو بلاد کبیرہ شمار نہ کرنے کے سلسلے میں مراجع تقلید میں سے کسی ایک کی طرف رجوع کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب- اس کے لئے رجوع کرنا جائز ہے اگرچہ ان مسائل میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی تقلید پر باقی رہنا ہی احتیاط کے مطابق ہے ، جن میں انہیں زندہ مجتہد سے اعلم سمجہتا ہے۔
سوال- میں شرعی اعمال کا پابند ایک جوان ہوں ، بالغ ہونے سے پہلے ہی میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا مقلد تہا لیکن کسی شرعی دلیل کے بغیر ، بس اس بنیاد پر تقلید کرتا تہا کہ امام کی تقلید مجہے بری الذمہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ کچہ مدت کے بعد میں نے دوسرے مجتہد کی تقلید اختیار کرلی ، لیکن میرا عدول صحیح نہیں تہا جب اس مرجع کا انتقال ہوا تو میں نے آپ کی طرف رجوع کیا ، پس میں نے جو اس مجتہد کی تقلید کی تہی اس کا کیا حکم ہے ؟ اس زمانہ کے میرے اعمال کا کیا حکم ہے؟ اور اس وقت میرا کیا فریضہ ہے؟
جواب- تمہارے گزشتہ وہ اعمال جو امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی زندگی میں یا ان کی وفات کے بعد ان کی تقلید پر باقی رہتے ہوئے انجام پائے ہیں صحیح ہیں۔ لیکن وہ اعمال جو دوسرے مجتہد کی تقلید میں انجام دئیے ہیں اگر وہ اس مجتہد کے فتوو ٴں کے مطابق ہیں جس کی تقلید تمہارے اوپر واجب تہی یا اس مجتہد کے فتوو ٴں کے مطابق ہیں جس کی تقلید اس وقت تم پر واجب ہے تو وہ صحیح ہیں ورنہ ان کا تدارک واجب ہے اور اس وقت تمہیں اختیار ہے چہے متوفی مرجع کی تقلید پر باقی ر ہو یا اس کی طرف رجوع کرو جسے قوانین شرع کے مطابق تقلید کا ہل پاتے ہو۔
http://www.alahkam.net/index.php/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D...
.................

Add new comment