تقلید و اجتہاد سوال و جواب کی روشنی میں

سوال- تقلید کا واجب ہونا خود تقلیدی مسئلہ ہے یا اجتہادی ؟
جواب- اجتہادی اور عقلی مسئلہ ہے۔
سوال- آپ کے نزدیک احتیاط پر عمل کرنا بہتر ہے یا تقلید پر؟
جواب- چونکہ احتیاط پر اس وقت عمل ہوسکتا ہے جب اس کے موارد و مواقع کو جانتا ہو اور احتیاط کے طریقوں سے واقف ہو اور ان دونوں کو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں اسکے علاوہ احتیاط پر عمل کرنے میں عام طور پر بہت زیادہ وقت صرف ہوتا ہے، اس بنا پر جامع الشرائط مجتہد کی تقلید بہتر ہے۔
سوال- احکام میں احتیاط کا دائرہ اور اس کے حدود فقہا کے فتوو ٴں میں کیا ہیں ؟ اور کیا سابق علماء کے فتوو ٴں کو بہی اس میں شامل کرنا واجب ہے؟
جواب- وجود موارد میں احتیاط سے مراد ان تمام فقہی احتمالات کی رعایت کرنا ہے جن کے واجب ہونے کا احتمال پایا جاتا ہو۔
سوال- چند ہفتوں کے بعد میری بیٹی بالغ ہونے والی ہے اور اس وقت اس پر اپنے لئے مرجع تقلید کا انتخاب واجب ہوجائے گا اور چونکہ یہ امر اس کے لئے مشکل ہے لہذا اس سلسلہ میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
جواب۔ اگر وہ اس سلسلے میں اپنے شرعی وظیفہ کی جانب متوجہ نہ ہو تو اس سلسلے میں اس کی ہدایت و رہنمائی آپ کی ذمہ داری ہے۔
سوال- مشہور ہے کہ موضوع کی تشخیص مکلف کا کام ہے اور حکم کی تشخیص مجتہد کے ذمہ ہے۔ پس جن موضوعات کی تشخیص مرجع خود کرتا ہے۔ ان کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟کیا ا س تشخیص کے مطابق عمل کرنا واجب ہے کیونکہ ہم مرجع تقلید کو ایسے بہت سے موارد ومیں بہی دخیل پاتے ہیں؟
جواب- جی ہاں ! موضوع کو مشخص کرنا مکلف کا کام ہے لہذا اپنے مجتہد کی تشخیص کا اتباع مکلف پر واجب نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ اس تشخیص سے مطمئن ہو یا موضوع کا تعلق استنباطی موضوعات سے ہو۔
سوال- روزمرہ کے شرعی مسائل ، جن سے مکلف کا سابقہ پڑتا رہتا ہے ، کیا ان کا علم حاصل نہ کرنے والا گنہگار ہے؟
جواب- اگر شرعی مسائل کا علم حاصل نہ کرنا کسی واجب کے چہوٹ جانے یا فعل حرام کے ارتکاب کا سبب بنے تو گنہگار ہے۔
سوال- جب ہم بعض کم علم لوگوں سے پوچہتے ہیں کہ تمہارا مرجع تقلید کون ہے؟ تو وہ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے یا کہتے ہیں کہ فلاں مرجع کی تقلید کرتے ہیں جبکہ وہ خود کو اس بات کا پابند نہیں سمجہتے کہ اس کی توضیح المسائل کو دیکہیں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ ایسے لوگوں کو اعمال کا کیا حکم ہے؟
جواب- اگر ان کے اعمال احتیاط یا واقع یا اس مجتہد کے فتوے کے مطابق ہیں جس کی تقلید ان پر واجب تہی تو ان کو صحیح مانا جائے گا۔
سوال- جن مسائل میں مجتہد اعلم احتیاط واجب کا قائل ہے، کیا ہم ان میں اس کے بعد کے اعلم کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ؟ اور دوسر سوال یہ ہے کہ اگر اس کے بعد والا اعلم بہی اس مسئلہ میں احتیاط واجب کا قائل ہو تو کیا ہم اس مسئلے میں ان دونوں کے بعد والے اعلم کی طرف رجوع کرسکتے ہیں؟ اور اگر تیسرا بہی اسی بات کا قائل ہو تو کیا ہم ان کے بعد والے اعلم کی طرف رجوع کریں گے ؟ ۔۔ الخ ۔ اس مسئلہ کی وضاحت فرما دیجئے ۔
جواب- اس مجتہد کی طرف رجوع کرنے میں جو اس مسئلہ میں احتیاط کا قائل نہیں بلکہ اس میں ا سکا صریح فتویٰ موجود ہے، کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں اعلم فالاعلم کی رعایت کرنا ہوگی۔
http://www.alahkam.net/index.php/%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D...
................

Add new comment