علامہ عارف حسین الحسینی کا خاندان

ٹی وی شیعہ[ریسرچ ڈیسک]

.........
علامہ عارف حسین الحسینی کے خاندان کا ایک تعارف
پشاور سے تقریبا ٢٠٠ کلومیٹر اور سطح سمندر سے تقریبا ٥٠٠٠ فٹ بلندی پر شمال مغربی کرم ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر پاراچنار واقع ہے۔ جو افغانستان کی سرحد اور شیعہ آبادی کے ناطے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔پاراچنار کے مشرق میں پیواڑ واقع ہے۔
پیواڑ وہ گاؤں ہے جس میں ایک غیر معمولی شخصیت سید عارف حسین الحسینی نے ٢٥ نومبر ١٩٤٦ء کو. آنکھ کھولی تھی۔ اس کی گلیوں میں آپ کے بچپن کی صدائیں باقی ہیں۔ اس کے درختوں کے سائے، پہاڑوں کی چوٹیاں، ٹھنڈے اورمیٹھے ندی نالوں کے کنارے ”سید عارف حسین” کے بچپن کی یادوں کے امین ہیں۔ ایک طرف پہاڑوں کی چوٹیوں کے پتھر کے نیچے آپ کے قدموں کے نشان محفوظ ہیں جبکہ دوسری جانب آپ اپنے گھر کے سامنے پتھریلی زمین کی گود میں پر سکون سوئے ہوئے ہیں۔
پارا چنار سے دس کلومیڑ دور پیواڑ پاک افغان سرحد پر سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اس میں تین قبائل غنڈی خیل، علی زئی اور دویر زئی آباد ہیں ۔سید عارف حسین الحسینی کا تعلق دویر زئی قبیلہ سے تھا۔ مشہور صوفی بزرگ سید میر عاقل شاہ صاحب شاہ شرف بوعلی قلندر ابن سید فخر ولی (جو کڑمان گاوں میں دفن ہیں) کی دسویں پشت میں سے تھے۔ ان کا سلسلہ نصب حسین الاصغر ابن امام زین العابدین سے ملتا ہے۔ وہ سترھویں صدی کے اوائل میں تےرہ نامی علاقہ میں آباد ہوئے ۔ (تیرہ کوہاٹ کے نزدیک پہاڑوں میں گھرا ہواایک علاقہ ہے۔ جس میں آج کل قبیلہ بنگش آباد ہے) یہاں تشریف لا کر انہوں نے اسلام کی تبلیغ کا آغازان کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے سید میاں داد شاہ صاحب نے باپ کی جگہ سنبھالی اور اپنے والد کے افکار کو وسعت دے کر تبلیغ اور درس و تدریس کا کام جاری رکھا۔ سید میاں داد شاہ صاحب کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے سید میر انور شاہ صاحب (المعروف میاں بزرگوار) نے اپنے آباو اجداد کے مشن کو مزید آگے بڑھایااور اپنے علاقہ سے نکل کر تبلیغی مشن کو وسعت دی۔ یہ صاحب فیض و کمال صوفی بزرگ تھے۔ انہیں فیض و کمال مودت حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے ملا تھا۔ خداوند کریم نے انہیں خلوص و محبت کی دولت سے مالامال فرمایا تھا اور ان کے لہجے کی شیرینی میں جادو کا سااثر تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاںکے لوگ گروہ در گروہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔
سید میر انور شاہ صاحب کے خاندان میں ایک درجن سے زائد خدا رسیدہ بزرگ پیدا ہوئے ۔ اسی خاندان نے علاقہ میں عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی بنیاد رکھی اسے وسعت دی تو تھوڑے ہی عرصہ میں عزاداران امام حسین اور پرستاران اسلام کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ گلشن اسلام کی بہار اور عزادارن حسینی ؑکے پرُ درد نوحے وقت کے استعمار کی آنکھ میںکانٹا بن کر چھبنے لگے۔ دشمنان اسلام کی محفلوں میں سازشوں نے جنم لیااور یوں سید میر انور شاہ صاحب کے کلایہ (مسکن) کو تباہ کرنے کی سازش تیار کر لی گئی۔چنانچہ پے در پے حملے کر کے دشمنوں نے انہیں کبھی سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ یہ کشمکش جاری تھی ١٨٧٥ ء میں دو درجن سے زائد قبائل نے افغانیوں کی مدد سے کلایہ کو چاروں جانب سے گھیر ے میں لے کر زبردست حملہ کیا جس کے نتیجے میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا لیکن دشمن کے تمام تر مظالم کے باوجود راہ حق میں ا س خاندان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی اورنہ ہی مصائب و آلام حائل ہو کر منزلوں سے اُن کا رُخ موڑ سکے۔ کچھ عرصہ بعد سید میر انور شاہ صاحب نے دوبارہ کلایہ کو آباد کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
دشمنوں نے آپ کے گھر پر حملے جاری رکھے۔ آخر کار ١٨٩٠ء میں ایک گھمسان کا رن پڑا گاؤں ”کلایہ” کو تباہ و برباد کر دیا گیا لیکن میر انور شاہ صاحب اپنے معتقدین کے دائرہ میں محفوظ رہے۔
جنگ کی اسی کشمکش کے دوران سید میر انور شاہ صاحب کا انتقال ہو گیا اور آپ کی جگہ آپ کا فرزند قدوۃ السالکین زبدۃ العارفین میر مدد شاہ نے سنبھال لی۔ سید میر انور شاہ صاحب کے انتقال کے بعد کچھ عرصہ امن رہا۔ مگر ١٩٢٧ء میں ان چنگاریوں نے پھر شعلوں کی شکل اختیار کر لی اور ایک بار پھر دشمنوں نے سید میر انور شاہ صاحب کا کلایہ مسمار کر دیا اور گھروں کو آگ لگا دی۔
گو سید میر انور شاہ صاحب کا انتقال قضائے الٰہی سے ہوا تھا مگر متعصب اور جنونی دشمنوں نے چند سال بعد آپ کے جسد خاکی(جو کہ صحیح سلامت تھا) کو قبر سے نکال کر آپ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ تین ماہ تک کٹے ہوئے سر کی ”تیرہ” کے علاقہ میں تشہیر ہوتی رہی اور یوں سید میر انور شاہ وقت کے کوفہ میں سنت ابن عقیل ادا کرتے رہے۔
تین ماہ تک سر میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی پھر آپ کے اہل خاندان نے سید میر انور شاہ صاحب کا سر حاصل کیا اور آپ کے نواسہ کی قبر میں دفن کر دیا۔
اسی مناسبت سے آپ کو شہید اول بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پشتو زبان کے معروف شاعر بھی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں مستقبل کے بارے میں فرمایا تھا۔
انور شاہ پہ تیغ شہید دی کہ باور کڑے خوش خرم دئی کہ داخخ شی بے کفن
”سید انور شاہ تیغ سے شہید کئے جائیں گے۔ وہ خوش ہیں کہ اگر بے کفن دفن بھی ہو جائیں”۔
آپ نے ایک اور جگہ فرمایا۔
بفہ ذات چہ سایہ نلری کل بور دئے
میر انور سید دی ناست تر تیغ پورتے
”میر انور سید اس ذات کے سائے میں بیٹھے ہیں جس کا کوئی سایہ نہیں ہے یعنی کل نور ہے”۔
قدوۃ السالکین نے اپنے والد بزرگوار کی درخشاں روایات و تبلیغات کو زندہ رکھا اور انہوں نے سکونت ”تیرہ” سے ”پیواڑ” منتقل کر لی۔ اس کے باوجود تیراہ پر پے در پے حملہ ہوتے رہے۔١٩٢٧ء کو تیراہ پر ایک بار پھر اجتماعی حملہ ہوا تو میر مدد شاہ دوبار ہ تیراہ تشریف لے گئے ۔ دشمن یہ چاہتے تھے کہ تیرہ سے ان بزرگان کی قبروں کو کھود کر ویسا ہی سلوک کیا جائے جیسا کہ سید میر انور شاہ صاحب کے ساتھ کیا گیا مگر وقت کی نزاکت اور دشمن کی سازشوں کا جائزہ لیتے ہوئے سید مدد حسین شاہ صاحب کو نہ صرف تیراہ کی آبادی کا دفاع کرنا پڑا ۔ بلکہ اپنے آباو اجداد کی قبروں کی حفاظت بھی کرنا پڑی۔ ١٩٢٧ء میں ایک گھمسان کی جنگ میں اپنے بزرگان کی قبروں کی حفاظت کرتے ہوئے آپ بھی شہید ہوگئے اورآپ کے ساتھ سید شاہ ابوالحسن میاں اور سید ابن علی میاں بھی شہادت سے ہمکنار ہوئے۔سید مدد حسین شاہ صاحب کے بعد ان کے بیٹے سیدحسن شاہ اور اُن کے بعد اُن کے فرزند سید الاجل میر ابراہیم میاں (سید عارف حسین الحسینی کے سگے پردادا) نے تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند سید میر جعفر میاں نے بزرگان کے مشن کو مزید آگے بڑھایا مگر انہیں بھی دشمنان اسلام نے چین سے نہ بیٹھنے دیا اور ان پر پہ در پہ حملے کئے۔ آخر ١٩٦٢ ء میں ان کی شہادت ہوئی جس کے بعد آپ کے بیٹے سید فضل حسین شاہ صاحب نے آپ کے مشن کی ذمہ داری اپنے سر لی۔
سید فضل حسین شاہ صاحب کی شادی اپنے چچا سید میر گوہر حسین جان کی بیٹی سے ہوئی ۔ خدا نے انہیں دو فرزند اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔ بڑے فرزند کا اسم مبارک سید عارف حسین الحسینی اور چھوٹے کا نام سید عاقل حسین الحسینی رکھا گیا۔ چونکہ آپ کا سلسلہ نسب حسین الاصغر ابن امام زین العابدین سے ملتا ہے اس لئے آپ کا خاندان ”الحسینی” معروف ہے۔
سید فضل حسین شاہ صاحب ١٣ نومبر ١٩٨٣ء کو بروز جمعہ اس جہان فانی سے رخصت ہوئے تو ان کے فرزند جلیل علامہ سید عارف حسین الحینی نے اپنے آباؤا جداد کی تبلیغ کو زندہ رکھا۔ یہاں تک کہ ١٠ فروری ١٩٨٤ کو ملت پاکستان کی قیادت سنبھال کر تبلیغ اسلام کو مزید وسعت بخشی اور یوں دو صدیوں بعد اس خاندان کی محنت کا ثمر سید عارف حسین الحسینی کی صورت میں پوری دنیا میں اس قدر مہکا کہ پاکستان کی فضائیں شہداء کربلا کے خون کی خوشبو سے معطر ہو گئیں۔
http://ur.majlis.org.uk/?p=772
.........

Add new comment