ایسی مذمّت کی مذمّت
آج پھر ایک دانشمند کی لاش گری۔اسلام آباد میں علامہ شیخ نواز عرفانی کو شہید کردیاگیا۔بات یہ ہے کہ دستِ بے ہنر میں جو چیز بھی آجائے وہ بے وقعت ہوجاتی ہے۔ بے ہنر شخص سونے کو خاک میں تبدیل کر دیتا ہے جبکہ باہنر انسان خاک کو اکسیر بنا دیتا ہے۔ خداوند عالم نے ہمارے ملک کو جہاں پر دیگر معدنی وسائل اور آبی ذخائر سے مالامال کیا ہے وہیں پر ایک احسان یہ بھی کیا ہے کہ اس نے ہماری ملت کو بہترین دماغوں، اعلٰی درجے کے علمائے کرام اور بے مثال ہنرمندوں اور دانشمندوں سے بھی نوازا ہے۔ ہمارے حکومتی اداروں کی نااہلی تو دیکھئے کہ وہ ان بہترین دماغوں اور برجستہ شخصیات سے کوئی ملی اور اجتماعی فائدہ اٹھانے کے بجائے ان سے جان چھڑوانے کے لئے ان کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہے ہیں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر دانشمندوں کا بہایا جانے والا یہ خون جہاں ایک طرف ہمارے حکمرانوں کی ناہلی کی تاریخ رقم کر رہا ہے وہیں پر دوسری طرف ہم سے اس ظلم کے خلاف بولنے کا تقاضا بھی کر رہا ہے۔
ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ صرف کسی کو ناحق قتل کرنا ہی ظلم نہیں، اگر منصف سے انصاف نہ ملے تو ظلم ہے، پولیس تحفظ نہ دے تو ظلم ہے، فوج اقتدار پر قبضہ جمالے تو ظلم ہے، ظالم کا راستہ نہ روکا جائے تو ظلم ہے، مسلمانوں کے درمیان نفرت انگیز مواد کی تشہیر ظلم ہے، فرقہ واریت کی سرپرستی ظلم ہے۔۔۔یہ سب ظلم ہے اور ساحر لکھنوی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے:
یہ عدل ہے کہ رہے تیغ دستِ منصف میں
یہ ظلم ہے کہ قلم دستِ بے ہنر میں رہے
ہم سب کو یہ سوچنا چاہیے کہ قلم کا دستِ بے ہنر میں رہنا تو ظلم ہے لیکن اگر قلمدان دستِ بے ہنر میں رہے تو کیا یہ ظلم نہیں۔۔۔؟
اس سے بڑھ کر صاحبانِ قلمدان کی بے ہنری کیا ہوگی کہ اب ہر روز لاشیں گر رہی ہیں اور اربابِ حل و عقد لاشوں پہ کھڑے ہوکر فلمی انداز میں مذمتوں بھرے بیانات کے ڈونگرے برساتے ہیں۔
فلاں عالم دین شہید ہوگئے ۔۔۔ہم مذمت کرتے ہیں۔
فلاں انجینئر قتل ہوگیا ۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں۔
فلاں صحافی ہلاک کر دیا گیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں۔
فلاں وکیل ناحق مارا گیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں۔
فلاں جگہ پر خودکش دھماکہ ہوگیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیں۔
مذمت کرنے کا یہ فیشن اتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے کہ شاید عنقریب ہمیں اس طرح کے بیانات بھی پڑھنے کو ملیں گے:
ہم یزید کے ظلم کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں۔
ہم فرعون کے کفر کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں۔
ہم شیخ چلّی کی حماقتوں کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں۔
ہم شیطان کی شیطانیوں کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ مستقبل قریب میں یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ مذمت کے ساتھ ساتھ کچھ فلمی ڈائیلاگ بھی ہمیں پڑھنے اور سننے کو ملا کریں گے۔ مثلاً ہم دشمنوں کو ملیا میٹ کر دیں گے، ہم کسی کو دہشت گردی کی اجازت نہیں دیں گے، ہم دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، ہمارا راستہ اقبال اور قائداعظم کا راستہ ہے، ہماری ملت سوئی نہیں بیدار ہے، فلاں کا خون رنگ لائے گا، ہم وہ قوم ہیں جو۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
یہ ملت کب تک کاغذی بیانات اور فلمی ڈائیلاگز کے بوجھ تلے دبی رہے گی۔ صاحبانِ اقتدار کو مذمتوں کے بجائے عملی اقدامات کے لئے اس طرح کے اعلانات کرنے چاہیے کہ فلاں علام دین کی شہادت سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لئے ہم اتنے دینی طالب علموں کے لئے اسکالر شپ کا اعلان کرتے ہیں، فلاں دانشمند کے مارے جانے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لئے ہم اتنے نئے سکولوں اور کالجز کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔ فلاں وکیل کی ٹارگٹ کلنگ سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لئے ہم اتنے لا کالجز اور لائبریریوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔ صرف کسی کو ناحق قتل کرنا ہی ظلم نہیں، قلم دستِ بے ہنر میں رہے تو ظلم ہے اور اگر قلمدان دستِ بے ہنر میں رہے تو کیا یہ ظلم نہیں۔۔۔؟اور کیا ہر روز مذمت بھرے بیانات داغنے والے خود قابل مذمت نہیں؟
بقلم نذر حافی::::::::::::nazarhaffi@gmail.com
Add new comment