مجاہد و مبارز عالم دین علامہ نواز عرفانی کی شخصیت
ٹی وی شیعہ[آن لائن ڈیسک]پارا چنار کی مرکزی جامع مسجد کے پیش امام اور مدرسہ جعفریہ، پارا چنار کے مہتمم علامہ شیخ نواز عرفانی کو گذشتہ رات نامعلوم افراد نے وفاقی دارالحکومت میں فائرنگ کرکے شہید کر دیا، علامہ نواز عرفانی کا بنیادی تعلق گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ کے علاقہ مرتضٰی آباد سے تھا، جہاں آپ کی پیدائش 1967ء میں ہوئی، اس علاقہ سے آپ کا خاندان ہجرت کرکے دینیور میں آباد ہوگیا، آپ نے ابتدائی دینی تعلیم جامعۃ المنتظر لاہور سے حاصل کی، ابتدائی دینی تعلیم پاکستان سے حاصل کرنے کے بعد آپ قم المقدسہ ایران تشریف لے گئے، جہاں سے مختلف علوم دینی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1996ء میں پاکستان واپس آئے، آپ نے دین کی خدمت کے لئے پاراچنار جیسے حساس اور مشکل علاقے کا انتخاب کیا اور مدرسہ جعفریہ پاراچنار جس کی بنیاد شیخ رجب علی نے رکھی تھی اور بعد ازاں اسے شیخ علی مدد نے آگے چلایا، اس مدرسہ میں بطور مدرس خدمات انجام دینا شروع کیں۔
اس زمانے میں پاراچنار دشمنان اہل بیت (ع) کے نرغہ میں تھا، اور وہاں کے اہل تشیع کو طالبانی جارحیت کا سامنا تھا، اس عالم میں شیخ نواز عرفانی نے ایک نڈر اور مجاہد عالم دین ہونے کا ثبوت دیا اور اہل پارا چنار کو جارح طاقت کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیا، جس پر حکومت وقت نے آپ کو پابند سلاسل کر دیا، رہائی کے بعد 2002ء میں علامہ شیخ علی مدد کے بعد علامہ نواز عرفانی نے مدرسہ جعفریہ پاراچنار کی مکمل باگ ڈور سنبھالی، ادارہ کو بھرپور انداز میں چلایا اور خدمت مکتب اہل بیت میں پیش پیش رہے، جس کے باعث حکومت وقت نے آپ کو علاقہ بدر کر دیا اور مدرسہ جعفریہ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ پاراچنار کے عوام عرصہ دراز سے کوشاں تھے کہ وہ اپنے ہر دلعزیز قائد کو واپس پارا چنار لاسکیں، شہید علامہ نواز عرفانی کی وصیت کے مطابق انہیں پارا چنار میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ ادھر اپنے محبوب قائد کے آخری دیدار کے لئے جوق در جوق لوگ مرکزی مسجد پارا چنار پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شیخ نواز عرفانی کے قتل سے قوم ایک عظیم رہنما اور دین کی خدمت کرنے والے مخلص عالم دین سے محروم ہوگئی ہے۔ مجاہد و مبارز عالم دین علامہ نواز عرفانی کی خدمات کی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ممتاز عالم دین و پاراچنار کی ہر دل عزیز شخصیت علامہ شیخ نواز عرفانی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نمازہ جنازہ جی نائن کراچی کمپنی جامع امام الصادق میں علامہ شفاء نجفی نے پڑھائی، علامہ نواز عرفانی کو گذشتہ رات سیکٹر ای الیون میں دہشتگردوں نے فائرنگ کے کرکے قتل کر دیا تھا۔ مرحوم کو سر اور سینے پر دو دو گولیاں لگیں، نماز جنازہ میں مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماء کونسل اور آئی ایس او کے رہنماوں نے شرکت کی، علامہ شیخ محسن نجفی بھی نماز جنازہ میں شریک تھے۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، میت کو سسکیوں اور آہوں کے ساتھ تدفین کے لئے پارا چنار روانہ کر دیا گیا، علامہ نواز عرفانی کے قتل کے خلاف آج تین بجے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ دوسری جانب تھانہ گولڑہ میں مرحوم کے بیٹے کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
Add new comment