بی بی زینب سلام اللہ علیہا۔قسط چہارم
بی بی زینب سلام اللہ علیہا۔ از؛ سیدہ زائرہ عابدی
قسط چہارم
قتل گاہ کربلا میں پیہم سلگتے ہوئے خیموں سے کچھ فاصلے پرگرم ریت کے اوپر شب غم بسر کرنے کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی ایک اور صبح غم طلوع ہوئ اور آتشیں آگ برساتے ہوئےسورج کے طلوع ہونے کے ساتھ فوج اشقیاء کے سپاہیوں نے ہاتھوں میں تازیانے اور رسیّاں لئے ہوئے لٹے ہوئے قافلے کے قریب آ کر حکم دیا کہ قیدی اپنے اپنے ہاتھ پس گردن بندھوالیں اور اسی لمحے بی بی زینب سلام اللہ علیہا جو اب حضرت عبّاس کی جگہ جان نشین,,اور سالار قافلہ تھیں للکار کر فوج اشقیاء سے مخاطب ہوئیں ہم آل رسول( صلّی اللہ علیہ وسلّم )ہیں کوئ غیر ہمیں ہاتھ لگانے کی جراءت نہیں کرے اور پھر بی بی زینب سلام اللہ علیہانے رسّیان اپنے ہاتھ میں لے کر ایک بی بی کے ہاتھ فوج اشقیاء کے حکم سے پس گردن بندھوائے ( زیارت ناحیہ میں اما م زمانہ علیہالسّلام فرمارہے ہیں ،، سلام ہو میری دادی زینب پر جن کے ہاتھ پس گردن بندھے ہوئے تھے )اور بے کجاوا اونٹوں پر ایک دوسرے کو سوار کروایا ،،اور اب اونٹوں کے قافلے کی مہا ر بحیثیت سارباں,,امام سیّد سجّاد کے ہاتھ میں دے کر حکم دیا گیا کہ( آپ ) کہ قیدی اپنے قافلے کی مہا ر پکڑ کر ساربانی کرے گا ،،میرا بیمار امام جب مہار تھام کر دو قدم چلا تو فوج اشقیاء کی جانب سے حکم ملا کہ قافلہ کربلا کی قتل گاہ سے گزارا جائے نیزوں پر بلند سر ہائے شہداء کو قافلے کے آگے آگے رہنے کا حکم دیا گیا ،اور اس طرح سے آل محمّد کے گھرانے کےمعصوم بچّے اور باپردہ بیبیا ں بے ردائ کے عالم میں اونٹوں پر سوار پہلے مقتل کربلا لائے گئے تاکہ اپنے پیارون کے بے گورو کفن سر بریدہ لاشے دیکھیں ،پس سیّد سجّاد کی نظر جو اپنے بابا کے سر بریدہ بے گورو کفن لاشے پر پڑی آ پ کے چہرے کا رنگ متغیّر ہوگیا
اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا جو وارث امامت اپنے بھتیجے سے پل بھر کو بھی غافل نہیں تھیں ان کی نظر جو اما م وقت پر گئ آپ سلام اللہ علیہا خیال کیا کہ کہیں امام سجّاد کو صدمے سے کچھ ہو ناجائے اور اسی لمحے بی بی زینب سلا م اللہ علیہا نے اپنے آپ کو کھڑے ہوئے اونٹ کی پشت سے نیچے زمین پر گرا دیا ،،امام زین العابدین سکتے کے عالم میں اپنے بابا حسین کے سر بریدہ خون میں ڈوبے ہوئے اور لاتعداد پیوستہ تیروں سے آراستہ لاشے کو دیکھ رہئے تھے بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے زمین پر گرتے ہی پھو پھی کی جانب جلدی سے آگئے اور اپنے نحیف ہاتھوں سے بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو سہارا دیتے ہوئے سوال کیا پھو پھی ا مّاں کیا ہوا ?بی بی زینب نے جناب امام سجّاد کو جواب دیا ،بیٹا سجّاد تم امام وقت ہو ،خدائے عزّو جل تمھین اپنی امان میں رکھّے تمھارا عہد اما مت بہت ہی کڑی منزلون سے شروع ہوا ہئے ،،اپنے آپ کو سنبھالو اور اپنے بابا حسین کے حسینی مشن کی تکمیل کے لئے تیّار ہو جاؤ ,,,,,,,
تمھیں یاد ہوگا کہ بھائ حسین نے کہا تھا کربلا کے دو حصّے ہون گے ایک حصّے کی تکمیل کے لئے ان کی شہادت کی ضرورت ہو گی اور دوسرے حصّے کی تکمیل ہمیں کرنی ہوگی بھائ حسین شہادت کی اولٰی و اعلٰی منزل پر پہنچ کر اپنا فریضہ ادا کر کے جاچکے ہیں اب کربلا کی تکمیل کا دوسرا حصّہ شروع ہوا ہئے جس کے مکمّل کرنے کےلئے ہماری باری ہئے ,,اپنی چاہنے والی پھوپھی کی زبان سے یہ باتین سن کر جناب سیّد سجّاد نے اپنی لہو روتی آنکھیں صاف کیں اور اپنے بابا کو سلام آخر کیا ،اسّلام علیک یا ابا عبداللہ ،پھر انتہائ پیارے چچا کو مخاطب کیا پیارے چچا الوداعی سلام لیجئے،،پھر بھائیوں سے مخاطب ہوئے اے میرے کڑیل جوا ن بھائ علی اکبر ننھا علی اصغر بھی تمھارے ساتھ ہئے,, پیارے چچامسلم کے بیٹون ,,،میری چاہنے والی پھوپھی کے بیٹون ,,،میرا سلام لو ،،،ائے ہمارے بابا کے انصاران باوفا خدا حافظ,,,,,مقتل میں اپنے تمام شہید پیاروں کو الوداعی سلام کرکے جناب سیّد سجّاد نےپھر ایک بار قافلہ سالاری کے لئے اونٹوں کی مہار تھام لی, اور اسی طرح اپنے پیاروں کی لاشوں پر بین کرتی بیبیوں کا قافلہ جانب کوفہ اس طرح سے ہنکا یا گیا کہ کربلا سے کوفے تک ستّاون میل کا فاصلہ جو عام کیفیت میں اونٹ ڈھائ سے تین دن میں طے کرتے تھے انہوں نے تیز تیز ہنکائے جانے کے باعث صرف ایک دن میں طے کیا ,,,,,,,اس طویل اور اندوہ گیں سفر کے دوران اونٹوں پر سوار ننھے بچّو ن کو اس بیدردی سے ہنکائے جانے کے سبب کربلا سے کوفے تک لاتعداد بچّے اونٹون سے گر ،گر کر شہید ہوتے رہے ،اگر کسی گر جانے والے بچّے پر بی بی زینب کی نظر پڑ جاتی تھی تو بی بی زینب اپنے آپ کو خود اونٹ سے گرادیتی تھیں اس طرح فوج اشقیاء کے کہنے سے دوڑتے ہوئے اونٹ زبردستی روکے جاتے تھے ،ورنہ بچہ اونٹ کے پیروں تلے آکر کچل کر شہید ہو جاتا تھا
,,,,
بالآخر شہر کوفہ جب چند کوس کے فاصلے پر رہ گیا اس وقت عمر بن سعد نے فوج اشقیاء کو وہیں ٹہرنے کا حکم دیا ،اس حکم کے ملتے ہی فوج اشقیاء کے آرام کرنے کے لئے خیمے لگائے گئے،اور لٹی ہوئ آل نبی کو ریت پر بیٹھ جانے کا حکم ملا ،یہاں یذیدی فوج کے لئے ٹھںڈے پانی کا بندو بست کیا گیا ،وہ ٹھنڈے پانئ سے اپنے سیاۃ چہرے دھو دھو کر اپنے اپنے کارنامے فخریہ بیان کر رہئے تھے۔
ایک شقی نے کہا،مین نے حسین نے کے کڑیل جوا ن کے سینے میں برچھی کا پھل مارا اور برچھی کی انی سینے میں ہی رہنے دی پھل توڑ کر انی سے الگ کر لیا اور حسین کی کمر توڑ دی ،،دوسرے نے کہا بھلا عبّاس کو بھی کوئ عام ہستی شکست دے سکتی تھی میں نے اس شجاعوں کے شجاع کا ایک ایک بازو قلم کر کے یذید کے دل خوش کرنے کا سامان بہم پہنچایا تیسرے نے کہا ،میں نے حسین کے بوڑھے کمر جھکے ساتھی کو ہلاک کیا ،یہ تمام آوازیں ریت پر بیٹھی ناموس رسول صلعم تک آرہی تھیں لکن لٹے ہوئے قافلے پر موت کا سکوت طاری تھا ،زندہ بچ جانے والے بچّے اتنے سہمے ہوئے تھے کہ اپنی ماؤں سے ناکھانا مانگتے تھے نا ہی پانی طلب کرتے تھے ۔
الغرض ایک اور رات ریت بسر کر کے پھر صبح ہوئ تو قیدیوں کو اونٹوں پر سوار ہونے کا حکم ملا اور پھر قافلہ کوفہ کے دروازے تک جب پہنچا تو بیبیوں نے اور بیمار امام نے ایک مانوس آواز سنی ،اسّلام علیک یا رسول ا للہ ،،بیبیوں کی شرم سے جھکی ہوئ نگاہیں اس مانوس آواز پر بے اختیار اٹھیں تو سامنے سفیر کربلا جناب حضرت مسلم بن عقیل کا تن بریدہ سر باب کوفہ کی بلندی پر آویزاں نظر آیا
,,,,اب بی بی زینب نے دیکھا کہ شہر کوفہ میں جشن کا سمان ہئے لوگ جوق درجوق باغیوں کا تماشہ دیکھنے ہجوم کی شکل میں امڈے چلے آرہئے ہیں اور یہ ہجوم خوشی کے شادیانے بجاتا ،،باغیون کے خلاف نعرے لگاتا قافلے کے گرد جمع ہورہا ہے تو بی بی زینب نے بالون میں چھپے نوران اور پر جلال لہجے میں ہجوم کو للکار کر کہا ،،خاموش ہو جاؤ ،،،زینب کی للکار کے جواب میں مجمع پر سکوت طاری ہوگیا اور زینب نے خطاب شروع کیا ،،جو علی علیہ السّلام کو سن چکے تھے انہوں نے سنا وہی ہیبت و جلال ،،تمام تعریفیں اللہ کی بزرگی و جلالت کے لئے ہیں اور سلام ہو میرے جدّ اعلٰی محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم پر اور اپنے آبائے طاہرین پر اور ان کی پاکیزہ تر آل پر جن
کو اللہ نے ہر عیب سے مبرّا رکھّا اور منزّہ قرار دیا ،،آپ پھر گویا ہوئین ،بد بخت اور شقی لوگوں آگاہ ہو جاؤ کہ قیامت کے دن کے واسطے تم نے اپنے لئے آگ کے الاؤ دہکا کر تیّار رکھّے ہیں ،اس دن وہ کامران ہوں گے جنہوں نے اس کے سچّے دین کے لئے قربانیاں دیں اور حق کا پرچم بلندکیا زینب کا خطاب تھا اور مجمع پر سکوت طاری تھا کہ قیدیون کی تشہیر کا حکم نامہ آگیا ،کوچہ بکوچہ قیدیو ن کا قافلہ گزارا جانے لگا اور پھر دربار ابن زیاد میں پیشی کا حکم آ یا
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&artic...
Add new comment