بی بی زینب سلام اللہ علیہا۔قسط سوم

بی بی زینب سلام اللہ علیہا۔ از؛ سیدہ زائرہ عابدی 

---------------------------------------
قسط سوئم

پھر بہت جلد وہ وقت بھی آہی گیا جس کی تلاش میں کفّاربنام مسلمان جنگ بدر کا انتقام لینے کے لئے بڑے صبر سے انتظار میں بیٹھےتھے,,ان فاسقون اور فاجروں نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا تا کہ لشکر اسلام میں گھس کر ان کی پشت سے وار کر سکین ,,
پھر چشم فلک نے یہ دلخراش نظارہ بھی دیکھا کہ شہر کوفہ جس عظیم المرتبت ہستی نے یہ کہ کر بسایا تھا کہ نئے شہر میں بسنے والے لوگ تازہ دم اور تازہ دماغ ہوتے ہیں ،اسی کے لہو سے داغ،داغ ہوگیا ،اور ظاہری اور دنیاوی خلافت کا منصب حضرت امام حسن علیہ ا لسّلام کو ملا لیکن اس منصب کے ا وپر آپ کے فائز ہوتے ہی دشمنان دین و اسلام آپ کے خلاف صف آراء ہو کر کھل کر سامنے آگئے ,, اپنے حق میں چلنے والی اس باد مخالف کو دیکھ کر امام حسن علیہ اسّلام نے ایک مدبّرانہ فیصلہ کیا اور منصب خلافت سے دستبردار ہو کر مدینے واپس آگئے ،جناب زینب بھی اپنے بڑے بھائ کے فیصلے کو سراہنے کے ساتھ انہی کے ہمراہ مدینے واپس آگئیں اور ان فاجروں اور فاسقوں کے مکروہ منصوبے خانوادہء آل محمّد کو ختم کئے بغیر پورے نہیں ہو سکتے تھے اس لئے دوسرا وار امام حسن علیہ السّلام کو زہر سے شہید کر کے کیا ،،،اب امامت کے ایک اور ستوں امام حسین علیہ السّلام تھے جو کہ ان کے مذموم ارادوں میں مزاحم ہو سکتے تھے ،اب خلافت بنو امیّہ کے اس گروہ کے ہاتھ میں تھی جس نے اسلام کے پردے میں رہ کر اسلام کی شکل مسخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

اس گروہ کے اسلام میں سر منبر بیٹھ کر شراب پینا حلال تھا ،اس گروہ کے اسلام میں اپنے سگے باپ کی بہن سے نکاح حلال تھا ،اور اس گروہ کی حمائت کرنے والے حافظ قران تھے ،پانچ وقت کی نمازیں بھی پڑھتے تھے رمضان کے روزے بھی رکھتے تھے اور اولاد رسول کو اللہ اکبر کہ کر زبح کرنا اپنا جائز موروثی حق بھی سمجھتے تھے ،اس تاریک اور گھمبیر دور میں جب اما م عالی مقام سے بیعت طلب کی گئ تو آپ نے اپنی چہیتی بہن زینب سلام اللہ علیہا سے کہا بہن مجھے نا نا کا عمامہ اور عبا لادو تو بی بی زینب نے گھبرا کربھائ کا بازو تھام لیا اور بے چین ہوکر کہا بھائ مجھے ان لوگو ں کا اعتبار نہیں ہئے ،ہاشمی جوان آ پ کے ہمراہ جائیں گے میں آپ کو تنہا تو ہرگز نہیں جانے دوں گی ,پھر بی بی زینب نے اپنے ہاتھوں سے امام عالی مقام کو عمامہ اورعبا زیب تن کروائ اورعصا دست مبارک میں دیا ، امام عالی مقام گورنر مدینہ کے دربار میں جوانان بنی ہاشم ,علی اکبر و جناب عبّاس ،مسلم ابن عقیل ،جناب قاسم ،عون محمّد کے جلو میں دار الامّارہ پہنچے دار لامّارہ سے امام عالی مقام کی واپسی تک جناب زینب سلام اللہ علیہا کاشانہ اما م عالی مقام کے دروازے کےقریب ہی منتظر رہیں اور جیسے اما م عالی مقام واپس تشریف لائے آپ اما م علیہالسّلام کے نزدیک آ گئیں اور آپ علیہالسّلام سے سوال کیا بھائ ولید کیا کہتا ہئے توامام عالی مقام نے بی بی زینب کو بتایا کہ میں جب دارلامّارہ پہنچا تو وہاں ولید بن عتبہ نے فرما ن یزید پڑھ کر اما م عالی مقام کو آگاہ کیا کہ یا تو امام عالی مقام یزید کی بیعت کر لیں ورنہ امام کا سر کاٹ کر یزید کے روبرو پیش کیا جائے ,اما م عالی مقام نے ولید بن عتبہ کو جواب دیا کہ جب مجمع عام میں اپنے خلیفہ کی وفات کا اعلان کر کے یذید کی خلافت کا اعلان کرو گے تب مجھ سے یہ سوال کرنا ،ابھی تمھارا یہ تقاضہ بے وقت ہئے ،پھر امام علیہ السّلام نے بی بی زینب سے فرمایا کہ دربار سے میری واپسی کے وقت میں نے مروان بن الحکم کی آواز سنی کہ ائے ولید کیا کرتا ہئے ،،،حسین دارلامّارہ سے ہرگزجانے نا پائیں جب تک یذید کی بیعت نا کر لیں یہی وقت ہے حسین کو گرفتار کرلے یا قتل کردے ،،اس وقت میں نے دربار میں للکار کر کہا ،کسی کی کیا مجال ہئے جو مجھے قتل کر سکے ،پھر اما م نے فرمایا کہ ہم خاندان رسالت کے لوگ ہیں ،ہم رحمت الٰہی کےخزینے ہیں ،ہمارا گھر ملائکہ کا مسکن ہئے،،اور یذ ید ایک فاسق و فاجر شخص ہئے جس کی بدکاری زمانے پر آشکار ہئے ،میں اس بدکار شخص کی بیعت ہرگز نہیں کروں گا ،امام عالی مقام کی باتوں کے جواب میں جناب زینب نے فرمایا بھائ راہ حق میں درپیش مشکلات کا مقابلہ کرنا ہمارا ورثہ ہے ،،،خدا کے نازل کردہ بہترین دین کی حفاظت اور نانا رسول اللہ کی محنتوں کی حفاظت کے لئے آپ اپنی بہن زینب کو اپنے شانہ باشانہ پائیں گے ،اور بالآخر وہ وقت بھی جلد آہی گیا جب کہ یذید کی طرف سے بیعت کا اصرار بڑھنے لگا ،یہاں بھی آخری حجّت کے طور امام عالی مقام نے یذید کے اصرار کے جواب میں تہدیدی خط بھی لکھا ,اور اسے تنبیہ کی کہ وہ بیعت کے ارادے سے باز آجائے ،امام عالی مقام کے جواب میں یذید نے مدینے کی مقدّس سرزمین کو خون اہلبیت سے رنگنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ امام عالی مقام تک پہنچا تو آپ نے اپنے خانوادے کے گوش گزار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم شہر مدینہ چھوڑ دیں گےاور پھر آپ علیہ السّلام نے بیعت کرنے کے بجائے اپنے نانا جان کا شہر اور اپنی مادر گرامی اور ماںجائے کا مدفن اور چاہنے والے نانا کا جائے مدفن شہر مدینہ چھوڑ دیا۔

اس قافلہ میں شامل ننھے مسافرعلی اصغر نے نے بی بی امّ لیلٰی کی آ غوش میں محض سولہ دن پہلے آنکھ کھولی تھی اس قافلے میں چالیس گھرون سے بنو ہاشم نے اعانت اما م علیہ السّلام اور نصرت امام عالی مقام کی خاطر اپنے بھرے گھر بار چھوڑ دئے اور راہ حق کے مسافر بن کر امام عالی مقام کے ہمراہ کوچ کر گئے جناب زینب تو اسی وقت سمجھ گئیں تھیں کہ اب وہ وقت آپہنچا ہئے جس کا وعدہ پروردگار عالم نے روز الست لے لیا ہئے ,یہ رجب المرجّب کی اٹھّائس تاریخ اور سن ساٹھ ہجری تھی اور منزل بہ منزل سفر کی صعوبتیں اٹھاتا ہوا یہ قافلہ زی الحج کی ابتدائ تاریخوں میں مکّے میں اقامت گزیں ہوا وادئ مکّہ میں حاجیون کے قافلے جوق در جوق آ ،آکر اتر رہے تھے اور ایسے میں امام عالی مقام نے جناب عبّاس اور حضرت علی اکبر کو پاس بلاکر فرمایا ،کوچ کے لئےسامان سفر تیّار کر لو ،بی بی زینب نے امام عالی مقام کا ارادہ دیکھ کر بے چینی سے پوچھا بھائ حج تو آ ہی گیا ہئے تو پھر یہ فیصلہ کیسا ،امام نے فرمایا کہ بہن مجھے یہان بیت اللہ میں قتل کرنے لئے حاجیوں کے بھیس میں گروہ بھیج دئے گئے ہیں۔

میں احرام توڑ کر آٹھ زی الحج کو مکّے سے روانہ ہون گا ،پھر آپ نے بی بی زینب سلام اللہ علیہا سے فرمایا ہمارے نانا نے بھی تو دین کی بقاء کی خاطر ہجرت کی تھی ،جناب زینب سلام اللہ علیہا نے بھائ کے آگے سر تسلیم خم کیا ،،
اور پھر وہ ہستی جس نے پچّیس پا پیادہ حج کئے تھے ،حج کے بھرے موسم میں حج کا ارادہ ترک کے اپنے مرکب کی باگیں تھام کر مکّے سے کوچ کر گئ ،،سفر جاری تھا اور قافلہ بطن الرّمہ،،حاجر،،زرود،،زبالہ بطن عقیق اورپھر سراۃ کے مقام سے بھی گزر کر منزل شراف پر پہنچا ،،قادسیہ کی منزل ابھی تین میل دور تھی کہ اچانک دشمن کی ایک بڑی فوج امام عالی مقام کو گھیرنے کے لئے پیش قدمی کرتی ہو ئ ملی ،لیکن امام عالی مقام بالآخر دشمن سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے تو قافلہ نہر فرات پر پہنچا یہاں امام عالی مقام نے جناب حضرت عبّا س اور حضرت علی اکبر سے فرمایا کہ ہمیں یہیں پر خیمہ زن ہو نا ہئے ،جناب زینب نے فرما یا بھائ یہاں تو بہت عجیب سی وحشت ہئے آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ ہاں بہن یوں سمجھ لو کہ یہی میری قتل گاہ ہئے کیونکہ میرے مرکب نے اس جگہ سے مذید آگے جانے سے انکار کردیا ہئے غرض یہ کہ خیام اہلبیت نہر فرات کے کنارے لگا دئے گئے چہار جانب سے دشمنان دین گروہون کی افواج نے خیام اہلبیت کو گھیر لیا اور بالآخر روز عاشور شروع ہونے والا یہ حق و باطل کا معرکہ شام عاشور تک تمام ہو چکا تھا ،ششماہے مجاہد ننّھے علی اصغر بھی تین کی بھوک اور پیاس میں داخل جناں ہو چکے تھے تو دوسری جانب کمر خمیدہ اور سن رسیدہ صحابئ رسول بھی نصرت امام علیہ السّلام میں اپنی جان کا نذرانہ لبّیک کہ کر دے چکے تھے ۔

ہنگام عصر تمام ہوا تو ایک جانب صحرائے کربلا میں لاشہء ہائے شہدا ء بے گوروکفن تھے تو دوسری جانب یزید ی ملعون فوج کی انتقام کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئ تھی چنانچہ شمرلعیں نے اپنے بدخو ساتھیوں کے ہمراہ غشی کے عالم میں بے ہوش جناب سیّد سجّاد بیمار کربلاکے خیمے پر دھاوا بولا کسی سپاہی نے بیمار کربلا کا بستر کھینچا کسی نے نیزے کی انی چبھوئ اورشمر لعین اپنی تلوار سونت کر اپنے سپاہیوں سے چلّا کر کہنے لگا خبردار حسین کی نسل سے ایک مرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا ہئے اور اسی لمحے جناب زینب سلام اللہ علیہا جو بیمار بھتیجے سے لمحے بھر کو بھی غافل نہیں تھیں اپنی بے ردائ کی پرواہ نا کرتے ہوئے اسی لمحے شمر کی تلوار اور سیّد سجّاد کے درمیا ں آ گئیں اور پھر آپ سلام اللہ علیہا نے شمر کو للکار کر کہا او سنگ دل ! تف ہئے تیری اوقات پر کہ تو ایک مریض کو قتل کرنے چلا ہئے ,,,,,جناب زینب کی تنبیہ وہ بیمار کربلا کے خیمے سے جھلّایا ہوا باہر نکلا اور اپنی ناکامی پر اپنے ساتھیوں سے چلّا کر کہنے لگا ،،خیمو ں میں جلدی آگ لگاؤ تاکہ حسین کا بیمار اور باقی سب بھی جل راکھ ہو جائیں اور بی بی زینب تو ابھی بیمار کربلاکی دلداری میں مصروف تھین کہ خیام اہلبیت سے ننھے بچّوں اور مخدرات کی فلک شگاف چیخیں بلند ہونے لگیں بی بی زینب بیمارکربلا کو چھوڑ کر جیسے ہی باہر آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ خیام اہلبیت میں آگ لگائ جا چکی تھی اور ننھے بچّے اور بیبیاں اپنی جانیں بچانے کو ادھر سے ادھر تک بھاگ رہئے اور ان بھاگتے ہوئے ننھے بچّوں پر اور بیبیوں پر فوج اشقیاء تازیانے برسا رہی تھی ایسے وقت میں بی بی زینب سیّد سجّاد کو خیمے میں چھوڑ کر چھوٹے بچّوں کوایک جگہ جمع کرنے کے لئےجیسے ہی سیّد سجّاد کے خیمے سے باہرآ کر بچّون کی جانب متوجّہ ہوئیں ویسے ہی شمر لعیں اور اس کے ساتھیوں نے بیمار کربلا کے خیمے کو آگ لگا دی اور پھر بی بی زینب سب کو چھوڑ کر وارث امامت کی جان بچانے کے لئے بھڑکتے اورآگ اگلتے شعلوں کی پروا نا کرتے ہوئے بیمار کربلا کےخیمے میں داخل ہو کر جناب سیّد سجّاد کو اپنی پشت پر اٹھا کرجلتے ہوئے خیمے سے باہر لےآ ئیں اور اپنے وارث امامت بھتیجے کو صحرائے کربلا کی گرم ریت پر لٹا دیا ,,,اور آج کی قیامت خیز رات میں بھی نماز شب کا وقت بتانے والے ستاروں نے اپنی پرنم آنکھوں سے صحرا کی گرم ریت پربے وارثوں کے قافلے کی حفاظت پر معمو رایک بی بی کو سر بسجود یہ منظردیکھا،جس کے لب ہائے حزین پر مناجات پروردگار تھی ،،پروردگارا تو ہماری ان قربانیوں کو قبول فرما ،،اور ہمیں کبھی بھی اپنی حمائت سے محروم نا رکھنا ،،ہمیں ہماری منزل مقصود تک ضرور پہنچا دے ،وہ منزل جس کے لئے ہم آل محمّد کو تو نے خلق فرمایا،،زینب حزیں کی دعائے نیم شب تمام ہوئ تو صبح کے اجالے پھیل رہئے تھے اور زینب نے اپنی جگہ ایستادہ ہو کر منظر دیکھا ایک جانب مقتل کربلا تھا جس میں آل محمّد کے سر بریدہ بے گوروکفن لاشے گرم ریت پر بکھرے ہوئے تھے دوسری جانب نگاہ اٹھی تو جلے ہوئےخیام اہلبیت اپنی جلی ہوئ راکھ اڑاتے ہوئے گریہ کناں تھے تیسری جانب دیکھا تو بے ردا بیبیا ں تھیں جن کی گودیاں اجڑ چکی تھیں اور سر سے وارث کا سایہ بھی اٹھ چکا تھا اور ننھے ننھے بچّے جنکے وارث کربلا کے بن میں شہید کئے جاچکے تھے اور پھر جو نگاہ ایک اور سمت گئ تو زینب نے اپنے بہتّر پیارون کے بہتّر کٹے ہوئےسر چمکتے ہوئے نیزوں پر آویزاں دیکھے تو آپ سلام اللہ علیہا نے گھبرا کر آسمان کی جانب دیکھا اور آپ کے لب ہائے مقدّس پر دعاء آئی ,,اے مالک ہماری قربانیوں کو قبول فرما۔

http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&artic...

Add new comment