امام موسیٰ صدر(رح)

امام موسیٰ صدر(رح)

پیغمبر نوگانوی

5اگست 2008ئ کو نو تشکیل لبنانی پارلیمانی کمیٹی نے اکثرآرائ سے حزب اللہ کی اسرائیلی مظالم کے خلاف مزاحمت کو قانونی حیثیت سے تسلیم کرلیا اور حزب اللہ کی جوانمردی و فداکاری کی قدردانی کرتے ہوئے اپنی حمایت کا یقین دلایا ،یہ خبربڑی اہمیت کی حامل ہے .امریکہ اور اسرائیل عرصۂ دراز سے سیاسی ،اقتصادی اورفوجی دباؤ ڈال کر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں کرتے آئے ہیں اور اس کے لئے قطیر رقم بھی خرچ کر چکے ہیں علاوہ ازیں حکومت لبنان و شام اور ایران پر بہت زیادہ دباؤ بھی ڈال رہے ہیں ،نہ تو ایران و شام جھکنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی لبنانی حکومت نے گھٹنے ٹیکے ،لبنان میں پچھلے دنوں سیاسی عدم استحکام اور 2006میں امریکہ کی شہ پر اسرائیل کا حزب اللہ پر حملہ اسی سازش کا حصہ تھا،جب کہ حزب اللہ نے 36دن تک اسرائیل کا مردانہ وارمقابلہ کرکے امریکہ کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا،اگرچہ حکومت نے ایسا قدم صرف اس لئے اٹھایا تاکہ اسرائیل کی جارحیت کا سد باب کیا جا سکے اور یہ کام حزب اللہ سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا، حکومت لبنان کے اس فیصلے سے امریکہ کی اُس حکمت عملی کو بھی دھچکا لگا جس کی رو سے امریکہ حزب اللہ کو دہشت گردوں کی صف میں رکھنا چاہتا ہے اگر چہ یہ حکمت عملی تو اسی وقت ناکام ہوچکی تھی جب 36دن تک جاری رہنے والی جنگ میں حزب اللہ نے اسرائیل کو اپنی طاقت کا احساس کرایا تھا، جس سے دنیا بھر کی عوام میں حزب اللہ کی مقبولیت کا گراف بہت اوپر پہنچ گیا تھا. امریکہ اور اسرائیل اگر جمہوریت کی عینک سے حزب اللہ اور اس کے قیام کے عوامل و اسباب کودیکھنے کی کوشش کرتے اور حزب اللہ کے مقصد قیام پر نگاہ ڈال لیتے تو پھر نہ حزب اللہ کو دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتے اور نہ ہی غیر مسلح کراتے اور ان کی سمجھ میں یہ بھی آجاتا کہ حزب اللہ! مغرور و متکبر طاقتوں کے وحشیانہ مظالم پر مظلوموں ،خستہ حالوں اور دبے کچلے عوام کے رد عمل کا نام ہے .بہر حال جب یہ خبر Etv Urduسے سنی تو فوراً امام موسیٰ صدر یاد آئے اور کیوں نہ آتے لبنان میں حزب اللہ یا اس کے جانبازوں کی فداکاریوں میں امام موسیٰ صدر کا اہم کردار ہے ،لبنانی عوام کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا امام موسیٰ صدر کا وہ عظیم کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا .جب امام موسیٰ صدر جنوبی لبنان میں تشریف لائے تو وہاں کی سماجی حالت بہت ہی کرب ناک تھی ،لبنان کو فرانس کے چنگل سے آزاد ہوئے 16ہی برس گزرے تھے ،ابھی تو فرانس کے ذریعہ پھیلائی گئی تباہی کے آثار بھی محو نہ ہوئے تھے ،اسی درمیان فتنۂ اسرائیل بھی وجود میں آچکا تھا. لبنان پر فرانس نے اسی طرح قبضہ کر رکھا تھا جیسے برطانیہ نے ہندوستان پر ،جس طرح ہندوستان میں غیرملکی آریائیوں نے ہندوستان کے اصل باشندوں کو سماج کے سب سے نیچے طبقے میںڈھکیل دیا تھااسی طرح فرانس نے لبنان کے اکثریتی فرقے شیعہ کو سماج میں سب سے نیچے پائدان پر پہنچادیا تھا ،فرانس کے ذریعہ بنائے گئے ایک ہی قانون سے قارئین کو اس کا اندازہ بخوبی ہوجائے گا . 1932ئ میں فرانس نے لبنان میں یہ قانون پاس کیا جس کی رو سے لبنان میں شیعوں کو 20% ، سنیوں کو 30% اور عیسائیوں کو 50%مراعات دی جانے لگیں، اگر پارلمنٹ میں 100ممبر ہوتے تو 20شیعہ، 30سنی ،اور50 عیسائی اس کے علاوہ صدر، وزارت دفاع و اقتصاد جیسے اہم قلمدان بھی عیسائیوں کے ہاتھ میں تھے جب کہ آبادی کا تناسب اس کے برعکس تھا یعنی شیعوں کی تعداد 55%سنیوں کی تعداد 25%اور عیسائیوں کی تعداد 20%تھی . 1947ئ میں لبنان کے آزاد خیال وزیر تعلیم و ثقافت ’’ابو حیدر‘‘ نے پہلی بار اعلان کیا کہ یونیورسٹی میں داخلے فرانس کے قائم کردہ قانون کے تناسب سے نہیں بلکہ صلاحیت کے معیار پر ہوں گے،اس اعلان کے بعد یونیورسٹی میں پہلا ٹیسٹ ٹیچروں کی ٹریننگ کورس کے لئے منعقد کیاگیا جس میں ہزاروں امیدواروں نے شرکت کی ،اتنی بڑی تعداد سے صرف 27امیدوار منتخب ہونے تھے ،جب اس ٹیسٹ کا نتیجہ سامنے آیا تو میرٹ کے اعتبار سے 1سے 21تک شیعہ ،22سے 24تک غیر شیعہ اور 25سے 27تک شیعہ امیدوار کامیاب ہوئے یعنی 27میں سے 24شیعہ اور 3غیر شیعہ،اس نتیجے کو دیکھ کر غیر شیعوں نے آسمان سر پر اٹھالیا کہ اگر ایسا ہی رہا تو لبنان یونیورسٹی شیعوں سے بھر جائے گی ،چنانچہ وزیر تعلیم پر اتنا دباؤ پڑا کہ اُسے مجبوراً اس نتیجے کو کالعدم قرار دینا پڑا اور اُسی پرانے قانون کے اعتبار سے انتخاب عمل میں آیا جس میں بجائے 24کے 5 شیعہ امیدوار منتخب کئے گئے ،لہٰذا طبیعی تھا کہ جو قوم 1932ئ سے اس قسم کی ناانصافیاں اور زیادتیاں جھیل رہی ہو وہ پسماندہ ترین قوم میں تبدیل ہوجائے اور ایسا ہی ہوا ، جنوبی لبنان میں نہ کوئی مدرسہ تھا نہ ہسپتال ،نہ پختہ سڑکیں ،نہ بجلی اور پانی کی سہولت ،جنوبی لبنان کے بعض علاقوں جیسے ’’بعلبک‘‘اور ’’عکار‘‘ کی حالت تو اتنی خراب ہوگئی تھی کہ شیعوں کی سالانہ آمدنی فی کس 75لیرہ ہی رہ گئی تھی جب کہ لبنان کے عیسائی نشین علاقوں میں یہ شرح بڑھ کر کئی ہزار لیرہ فی کس ہوگئی تھی ،ان حالات سے دوچار جنوبی لبنان کے باشندوں کے لئے ایک وقت کی روٹی سنگین مسئلہ تھی ،چہ جائیکہ اعلیٰ تعلیم و تربیت یا علاج و معالجہ یا دیگر ضروریات زندگی ،جو میسر بھی نہ تھیں. لبنان میںمتحارب گروپوں کی تعداد 72سے تجاوز کرگئی تھی جوایک دوسرے سے نبر د آزما رہتے تھے ان گروپوں کو کسی نہ کسی ملک کے سفارت خانے کی حمایت حاصل ہوتی تھی اور لڑنے کے لئے افراد کی سخت ضرورت، لہٰذا یہ گروپ ان خستہ حال شیعوں کو اپنے یہاں بھرتی کرلیتے تھے ،اگر لڑتے ہوئے یہ مرجاتے تو کوئی بات نہیں بیوہ اور یتیموں پر مصیبت کا بوجھ اضافی ہوجاتاتھا اور اگر بچ گئے تو ایک دن کی مزدوری لے کر گھر واپس آجاتے تھے ،ہرگروپ مرنے والوں کے نام پر اپنے ملک سے اچھی رقم معاوضے کی حاصل کرتا تھا مگر ان بے چاروں کواس رقم میں سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا، ابھی تو یہ لوگ ایک وقت کی روٹی کے لئے اس طرح جوجھ ہی رہے تھے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے جان جوکھم میں ڈالے ہوئے تھے کہ1948ئ میں امریکہ اور روس کی نیرنگیوں کے باعث ارض فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہوگیا اسرائیلی وحشی، فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان کے شیعوں پر بھی مظالم کے پہاڑ توڑنے لگے ،ایک طرف تو اقتصادی مار دوسری جانب اسرائیل کی گولیاں اور میزائیل ،اس طرح ان لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب ان کے پاس سر ڈھانپنے کا بھی ٹھکانا نہیں رہا صرف شہر صور ہی کو لے لیجئے یہ جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے اور شیعہ نشین ہے اسرائیل نے 7روزہ جنگ میں 75% منہدم کرڈالا اس شہر کی 4لاکھ آبادی سے 3لاکھ آبادی بے گھر ہوکر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئی. اسرائیلیوں کی غرور و نخوت کا یہ عالم تھا کہ 1972ئ میں اسرائیلی کمانڈوز کا ایک گروہ جنوبی لبنان میں داخل ہوا ،جنوبی لبنان کے چند غریب کسانوں نے اِن کے مظالم پر احتجاج کیا تو اسرائیلی کمانڈرنے تحقیر آمیز لہجے میں کہا کہ : ہمیں لبنان پر قبضہ کرنے کے لئے فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے ،اپنی لڑکیاں بھیج دیں گے وہ جس علاقہ پر چاہیں گی قبضہ کرلیں گی،اس واقعہ سے جنوبی لبنان کے شیعوں کی بے چارگی و لاچاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،اُس وقت اقوام عالم کے کسی بھی ملک نے ان ستم دیدہ افراد کی حمایت میں آواز نہیں اٹھائی تھی .خدا بھلا کرے عراقی خاندانِ صدر کے چشم و چراغ اور آیت اللہ سید محمد باقر الصدر (رح) کے چچا زاد بھائی امام موسیٰ صدر کا جنہوں نے جنوبی لبنان کے عوام کے اس درد اور کرب کو محسوس کیا ،امام موسیٰ صدر اُس وقت ایران کے مقدس شہر قم میں مقیم تھے اور آپ کے والد گرامی عالم تشیع کے مرجع تھے . امام موسیٰ صدر 4مارچ1929ئ میں پیدا ہوئے اور حوزۂ علمیہ قم و نجف اور تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ،آیت اللہ ڈاکٹر بہشتی اور آیت اللہ موسوی اردبیلی آپ کے ہم کلاس تھے .ایران میں اسلامی افکار پر مبنی مجلہ سب سے پہلے آپ ہی نے ’’مکتب اسلام‘‘ کے نام سے نشر کیا جو قم سے آج تک نشر ہو رہاہے . آپ نے طالب علمی کے زمانہ میں لبنان کا سفر پہلی بار کیا تھا اُس وقت آپ کی ملاقات آیت اللہ شرف الدین موسوی سے ہوئی تھی ،آپ لبنان میںشیعوں کے رہبر تھے اور آپ کا تعلق بھی صدر خاندان سے تھا ،شرف الدین موسوی صاحب نے امام موسیٰ صدر کا والہانہ استقبال کیا اور اپنے بعد لبنانی شیعوں کا رہبر معین کردیا ،چند سال بعد آیت اللہ سید عبدالحسین شرف الدین موسوی نے داعی اجل کو لبیک کہا ،لبنانی شیعوں نے وصیت کے مطابق امام موسیٰ صدر کو اپنے رہبر کے طور پر تسلیم کرلیا اور ایران سے لبنان آنے کی دعوت دی.آپ 1959ئ میں ایران سے جنوبی لبنان کے شہر صورتشریف لے آئے اور یہاں مسجد کی امامت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں ناامیدی سے نجات دلا کر زندہ رہنے کی آرزو کا نیا جوش و ولولہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا ،اُدھر ایرانی اسکالر ڈاکٹرشہید مصطفی چمران (رح) بھی یہاں پہنچ گئے اور آپ کے قوت بازو بن گئے دونوں نے مل کر جنوبی لبنان کے باشندوں کی حالت سدھارنے کے لئے رات دن ایک کردیئے،امام موسیٰ صدر کا حکومت لبنان سے شیعوں کے حق میں یہ مطالبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جو انہوں نے شیعوں کی نمائندہ جماعت کی تاسیس کے لئے کیا تھا .لبنان میں تمام فرقوں اور طائفوں کی نمائندہ جماعتیں تھیں جو اپنے اپنے حقوق و مفاد کی نگہبانی کیا کرتی تھیں لیکن شیعوں کی ایسی ایک بھی تنظیم نہ تھی،اگرچہ اس مطالبہ کی لبنان میں پُرزور مخالفت کی گئی مگر امام موسیٰ صدر نے ہمت نہ ہاری اور آخر کار 1969ئ میں لبنانی پارلمنٹ میں آپ نے’’ مجلس اعلای اسلامی شیعیان‘‘ نام کی تنظیم کو قانونی حیثیت سے پاس کرالیا یہ تنظیم لبنان میں شیعوں کے حقوق کی حفاظت کرتی تھی ،اس تنظیم کے رئیس امام موسیٰ صدر ہی قرار پائے ،امام موسیٰ صدر نے ایک سال بعد حکومت لبنان سے شیعوں کی امداد اور ان کی حمایت کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیاتاکہ اسرائیلی وحشیوں کے شر سے جنوبی لبنان کے باشندے کسی حد تک محفوظ رہ سکیں اور ان کے لئے رفاہی و تعلیمی فعالیت کی جاسکے اور اس طرح لبنان کی ترقی کی دوڑ میں یہ لوگ بھی شامل ہوجائیں،حکومت لبنان نے اس ذمہ داری ﴿اسرائیلیوں سے لبنانی شیعوں کی حفاظت اور ترقی کی دوڑ میں انہیں شامل کرنے﴾کو قبول کرنے سے انکار کردیا،حکومت کے اس فیصلے کے خلاف امام موسیٰ صدر نے لبنانی شیعوں کے ساتھ 1970میں بیروت میں زبردست احتجاج کیا اور تمام لبنان سے جوق در جوق شیعہ بیروت پہنچ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بیروت ایئر پورٹ پر دسیوں ہزار احتجاجیوں کا قبضہ ہوگیا جس سے لبنان کا رابطہ پوری دنیا سے منقطع ہوگیا،حکومت لبنان نے مجبور ہوکر سالانہ30ملین لیرہ کا بجٹ جنوبی لبنان میں ترقیاتی کاموں کے لئے منظور کیا یہ جنوبی لبنا ن کے شیعوں کی پہلی کامیابی تھی،اس کامیابی سے متاثر ہوکر جو شیعہ ادھر اُدھر بھٹک رہے تھے وہ بھی امام موسیٰ صدر کے گرویدہ ہوگئے اور اس طرح آپ کی طاقت میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا،چنانچہ امام موسیٰ صدر نے 20نکات پر مشتمل جائز مطالبات کی فہرست حکومت لبنان کو1972میںسونپ دی ،جس میں سے چند مطالبات یہ تھے = جنوبی لبنان کے ہر شیعہ جوان کو مسلح کردیا جائے تاکہ اسرائیل کی زیادتیوں کا مقابلہ کرسکیں= جنوبی لبنان میں پناہ گاہ بنائی جائے تاکہ اسرائیل کی بم باری سے محفوظ رہ سکیں= بیروت سے جنوبی لبنان تک ہائی وے تعمیر کیا جائے جس سے اس علاقے کے لوگ آسانی سے بیروت رفت و آمد کرسکیں=لیطانی ندی پر ڈیم بنایا جائے یہ لبنان کی سب سے بڑی ندی ہے جو جنوبی لبنان ہوتی ہوئی سمندر میں گرتی ہے،اسرائیل کو چونکہ پانی کی شدید ضرورت ہے اس لئے اسرائیل اس ندی کو منحرف کرکے پانی پر قبضہ کرنا چاہتا تھا=جنوبی لبنان کے اُن شیعوں کے شناختی کارڈ بنائے جائیں جنہوں نے استعمارِفرانس کے دوران احتجاجاً شناختی کارڈ نہیں لئے تھے اور ابھی تک یہ لوگ بغیر شناختی کارڈ کے تھے جس سے انہیں بے حد دشواریوں کا سامنا تھا،حکومت لبنان نے ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا،1973میں شیعوں کے اس مطالبے نے زور پکڑ لیااور لبنان کی تمام میڈیا میں اس کا اثر نظر آنے لگا،امام موسیٰ صدر نے حکومت لبنان کو ایک ہفتہ کا الٹیمیٹم دے دیا اور شیعہ وزرائ سے کہا کہ اگر حکومت نے ایک ہفتے کے اندر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو استعفیٰ دے دینا ،اسی دوران یعنی 1973میں اسرائیل کی عربوں سے جنگ چھڑ گئی لہٰذا امام موسیٰ صدر نے اپنی طاقت اسرائیل کے مقابلے لگاکر مطالبات کو ملتوی کردیا،جنگ تمام ہوگئی لیکن حکومت لبنان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا ،مجبور ہوکر امام موسیٰ صدر نے 17مارچ 1974کو 75ہزار مسلح افراد کو ساتھ لے کر اپنے مطالبات کو تسلیم کرانے کے لئے ایک زبردست احتجاج کیا جس سے لبنان کی عیسائی نواز حکومت پر لرزہ طاری ہوگیا،چونکہ عیسائی نوازحکومت کے پاس 12ہزار فوج تھی اور یہ 75ہزار افرادایسے تھے جو قسم کھاکر گھر سے نکلے تھے کہ جب تک ہمیں معاشرے میں ہمارا حق نہیں ملے گا اپنا آخری خون کا قطرہ بھی بہادیں گے، ڈاکٹرشہیدچمرا ن کے بقول:ابھی ان 75ہزار افراد نے صرف نعرۂ حیدری ہی مل کر بلند کیا تھا کہ لبنانی افواج کے بڑے بڑے کمانڈر اور فوجی اپنے ٹینک تک چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ،لہٰذا حکومت لبنان جو اس موضوع پر گفتگو کے لئے بھی تیار نہیں تھی اُس نے فوراً 7نفرہ کمیٹی بناڈالی تاکہ شیعوں کے مطالبات پر یہ کمیٹی غوروخوص کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کرے،اس کمیٹی نے مطالعہ کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کردی اور کہا کہ شیعوں کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے جائیں کیوں کہ یہ مطالبات بنیادی اور جائز ہیں،کمیٹی کی مثبت رپورٹ آنے کے بعد بھی حکومت لبنان ٹس سے مس نہ ہوئی اور یہ مطالبات مسترد کردیئے،لہٰذاامام موسیٰ صدر نے اس سلسلے کا دوسرا احتجاج جنوبی لبنان کے شہر صور میں برپا کیا جو اس سے بھی زیادہ طاقت ور تھا ،اس احتجاج میں1لاکھ 50ہزارشیعوں نے حصہ لیا ،حالانکہ اس کو کم رنگ کرنے کے لئے حکومتی میڈیا نے بہت سی سازشیں رچیں مگر کامیابی نہ ملی تو پھر شہر صور کی ناکہ بندی کرلی تاکہ شہرصورکے علاوہ دیگر شیعہ اس میں شریک نہ ہوسکیں یا یہ احتجاج جلوس کی شکل میں صور سے باہر نہ آجائے،اس احتجاج سے حکومت لبنان کو شیعوں کی طاقت کا اندازہ ہوگیا .ادھر امام موسیٰ صدر بھی چین سے نہ بیٹھے اور یہ طے کیا کہ اگر حکومت اب بھی ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو ہم بیروت میں احتجاج کریں گے .امام موسیٰ صدر1973ئ میں لبنانی شیعوں کے غصب کئے گئے حقوق کی بازیابی کے لئے ’’حرکت محرومین ‘‘ نام کی تنظیم بنا چکے تھے جس کی رکنیت لوگوں نے بڑے پیمانے پر حاصل کرلی تھی ،اس تنظیم کی فعالیت رفاہی و تعلیمی سرگرمیوں تک محدود تھی لیکن جب اسرائیلی دہشت گردی نے اِن لوگوںکا جینا حرام کردیا تو مجبوراً 1974میں اس تنظیم ﴿حرکت محرومین ﴾ کا مسلح بازو بھی بنانا پڑا جس کا نام ’’امل‘‘ رکھا گیا جو ’’افواج مقاومۃ لبنانیۃ‘‘کا مخفف ہے،اس تنظیم میں شیعہ نوجوانوں کو بھرتی کرکے اپنا دفاع کرنے کی ٹریننگ دی جانے لگی ،امام موسیٰ صدر نے اس تنظیم میں دو ایسی خصوصیتیں پیدا کردی تھیں جو دنیا کی کسی بھی تنظیم میں اُس وقت نہ تھیں،ایک یہ کہ سُپر طاقت صرف خداوند عالم کی ذات ہے اور کوئی نہیں یعنی خدا کے علاوہ کسی سے بھی ڈرنا نہیں ہے،دوسرے یہ کہ’’ امل ‘‘کا کوئی بھی رکن کسی بھی حکومت یا ملک سے رشوت لے کر اپنے بھائیوں اور مقصد کو نقصان نہیں پہنچائے گا ،اس میں بھی آپ 100% کامیاب رہے کیونکہ صرف اسرائیل نے ہی فتح تنظیم کے رہبر ﴿ خالد الحسن﴾ کے بقول: 1950میں ایک فنڈ قائم کیا تھا تاکہ اس فنڈ سے فلسطینی رہنماؤں کو رشوتیں دی جائیں ،فلسطینیوں سے جنگ کے وقت اس فنڈ میں 100ملین ڈالر موجود تھے جو بعض فلسطینی رہبروں میں تقسیم کئے گئے جو فلسطینیوں کی شکست کا باعث ہوا،بہر حال امل تنظیم اسرائیلی دہشت گردی کا مردانہ وار مقابلہ کرتی رہی .اور یہ سلسلہ مزاحمت ِ حزب اللہ کی شکل میں آج تک جاری ہے ، جنوبی لبنان کے نوجوانوں میں جتنا بھی جوش و خروش اپنی ناموس، عزت نفس اور حقوق کو بچانے کے لئے ہے وہ سب امام موسیٰ صدر کی دین ہے ،آپ ہی نے اپنے خون پسینے سے لبنانیوں کی آبیاری کی ہے، وہ شیعہ قوم جو آج لبنان میں سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے وہ صرف امام موسیٰ صدر کی قربانی کی وجہ سے ہے ورنہ شیعوں کی لبنان میں کوئی وقعت نہ تھی. جنوبی لبنان کے باشندوں کی اِن کامیابیوں سے خائف امریکہ ،لبنان اور اسرائیل نے امام موسیٰ صدر کو راستے سے ہٹانے کی ٹھان لی ،اورلیبیا کے جنرل قذافی سے امام موسیٰ صدر کے نظریاتی اختلاف نے مہمیز کا کام کیا کیونکہ جنرل قذافی شیعوں اور سنیوں سے مذہبی اختلاف رکھتے تھے اور خود نہ سنی تھے اور نہ شیعہ،اپنے آپ کو ’’زمین پر اللہ کا خلیفہ‘‘ اور ’’امیرالمومنین‘‘ کہلواتے تھے صرف قرآن کو مانتے تھے سنت کا انکار کرتے تھے اور انہوں نے ایک کتاب ’’سبزکتاب‘‘ کے نام سے بھی لکھی تھی جو ان کے عقائد کی آئینہ دار ہے،لیبیا کے 30جید علمائ اہل سنت کو اسی اختلاف کی وجہ سے جنرل قذافی نے جیل میں ڈال رکھاتھا،حتی کہ سنیوں کے نمائندہ اور لبنان کے مفتی کو 10دن جیل میں رکھا تھا،لہٰذا انہوں نے امام موسیٰ صدر کو بھی نہ چھوڑا، امام موسیٰ صدر نے الجزائر کا سفر کیا اور وہاں کی شخصیات بالخصوص ’’بومدین‘‘سے مذاکرات کئے جو بہت کامیاب رہے ،اس کے بعد لبنان کی ’’امل‘‘ تنظیم اور الجزائر کی ’’محاذبرائے آزادی الجزائر‘‘کے درمیان تال میل ہوگیا اور دونوں نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ،اس کامیابی سے متاثر ہوکر الجزائر میں بعض شخصیات نے امام موسیٰ صدر کو مشورہ دیا کہ جنرل قذافی سے بھی بات چیت کرلیں تاکہ دونوں کے درمیان صلح صفائی ہوجائے ،امام موسیٰ صدر نے ملت کی بھلائی کی خاطر اسے قبول کرلیا ،ادھر ان اشخاص نے لیبیا سے بھی ایسی ہی درخواست کی چنانچہ حکومت لیبیاکا امام موسیٰ صدر کو سرکاری دعوت نامہ بھی موصول ہوگیااور آپ 25اگست 1978کو لیبیا روانہ ہوگئے،31اگست تک قیام کیا لیکن جنرل قذافی سے ملاقات نہ ہوسکی ،امام موسیٰ صدر نے لبنان واپس آنے کا ارادہ کرلیا ،اسی روز یعنی 31اگست 1978 ئ کو 2:30بجے دن تک تو آپ اپنی قیام گاہ ﴿ہوٹل ﴾ کے باہر دیکھے گئے لیکن اس کے بعد سے آج تک پتہ ہی نہ چلا کہ کہاں گئے ،زندہ ہیں یا مردہ؟اگلے روز یہ خبر میڈیا کی سرخیوں میں ضرور آئی کہ لیبیا میں امام موسیٰ صدر اغوا کرلئے گئے................
.....................
ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی

امام حسین علیہ السلام ہمیشہ ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ بنوامیہ کی غاصبانہ اور ظالمانہ حکمرانی کے خلاف قیام کرکے ظلم اور ظالم کی بساط لپیٹ لیں؛ تا ہم ایسا موقع امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت تک حتی شہادت امام مجتبی (ع) کے کئی سال بعد تک بھی ہاتھ نہیں آیا؛ لیکن زمانہ جتنی کہ معاویہ کی موت قریب آرہی تھی، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام نے معاویہ کے خلاف اپنی تشہیری اور تبلیغاتی جنگ کو شدت بخشی تا آنکہ معاویہ کی موت سے ایک سال قبل مِنی کے مقام پر 200 صحابیوں اور عالم اسلام کے 500 مفکرین کے اجتماع سے خطاب کیا اور اہل بیت (ع) کے حقوق گنوائے اور انہیں ان حقوق کے احیاء اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی دعوت دی۔ امام علیہ السلام نے ان اقدامات کے ذریعے مرگ معاویہ کے بعد بنو امیہ کی حکومت کے خلاف قیام کے لئے مقدمات فراہم کررہے تھے اور مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔
معاویہ کی موت کے ایک سال بعد امام حسین علیہ السلام سفر حج پر نکلے اور عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر بھی آپ (ع) کے ہمراہ تھے۔ امام (ع) نے بنوہاشم کے تمام مردوں اور خواتین، قرابتداروں اور پیروکاروں کو اکٹھا کیا اور انصار میں سے بھی ان لوگوں کو اکٹھا کیا جنہیں آپ (ع) جانتے تھے یا ان کے خاندان والوں کو جانتے تھے؛ اور کئی قاصد روانہ کرکے اس سال حج کے لئے آنے والے اور صلاح و عبادت کے حوالے سے معروف اصحاب نبی (ص) کو بھی بلوایا تا کہ سب کو اس اجتماع میں حاضر کرسکیں۔
مِنی کے مقام پر امام حسین علیہ السلام کے خیموں میں سات سو اصحاب و عالم اسلام کے ممتاز مفکرین اور علماء اکٹھے ہوئے۔ اکثر افراد تابعی تھے اور 200 صحابہ رسول اللہ (ص) تھے، نیز عام لوگوں کی بھی خاصی تعداد حاضر ہوئی تھی۔
امام حسین علیہ السلام خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور خداوند متعال کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: اما بعد! اس طاغوت نے ہم اور ہمارے پیروکاروں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہے وہ آپ سب نے دیکھا ہے، اور آپ جانتے ہیں اور وہ سب آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ اگر میں نے سچ بولا تو میری تصدیق کریں اور اگر میں نے جھوٹ بولا تو تردید کریں۔
[گر آپ نے تصدیق کرلی تو] آپ پر اللہ کے حق کی قسم! آپ پر رسول اللہ کے حق کی قسم! اور آپ کے پیغمبر (ص) سے میری قرابت کی قسم! کہ اپنے وطن کو لوٹنے کے بعد اپنے قبائل کے قابل اعتماد افراد کو مجتمع کرو اور میری یہ باتیں ان کے لئے بھی نقل کرو؛ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ موضوع (امامت) کہیں آپ کی یادوں سے مٹ نہ جائے اور حق مغلوب ہوجائے اور مٹ جائے؛ "فَادعوهُم إلى ما تَعلَمونَ مِن حَقِّنا ؛ فَإِنّی أتَخَوَّفُ أن یَدرُسَ هذَا الأَمرُ و یَذهَبَ الحَقُّ و یُغلَبَ "، اور خداوند متعال نے ارشاد فرمایا ہے ؛ اور اللہ اپنے نور کو کمال منزل تک پہنچانے والا ہے، چاہے کافر لوگ ناپسند کریں؛ "وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَـفِرُون".(1)
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے ان حقائق کی یادآوری فرمائی جن میں اس ہر ایک اہل بیت علیہم السلام کی امامت اور ولایت کی حقانیت کی سند ہے اور سات سو نامور افراد کے اجتماع میں شریک سات سو افراد میں سے ہر ایک نے ان حقائق پر گواہی دی ہے۔ مذکورہ حقائق و معارف کچھ یوں ہیں:
1۔ مواخات کے مشہور تاریخی سنت کے دن ـ جب مہاجرین و انصار میں سے ہر دو آدمیوں کے درمیان اخوت و برادری کی رسم ادا کی گئی ـ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کو دنیا اور آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا۔
2۔ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند مگر علی علی (ع) کے گھر کا دروازہ!
امام حسین (ع) نے یہ نکتہ بھی سب کو یاد دلایا اور ان سے تصدیق کرائی کہ رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے خانہ علی (ع) کے سوا مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کرواديئے۔
3۔ خدا کے حکم کے مطابق دوسروں کو مسجد کی طرف ایک دریچہ کھولنے کی اجازت نہيں دی گئی۔
4۔ رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے حجۃالوداع سے واپسی کے موقع پر غدیر خم کے مقام پر علی علیہ السلام کو خلافت اور ولایت امر کا عہدہ سونپ دیا؛ کیونکہ یہ اس خاندان کی ولایت و امامت کی اہم ترین دلیل ہے جس پر تأکید ہونی چاہئے۔ امام حسین (ع) نے اس حوالے سے خاص طور پر فرمایا: "آپ کو خدا کی قسم دلاتا ہوں، کیا جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غدیر خم کے دن امیرالمؤمنین (ع) کو منصوب کیا اور ولایت کو ان کے لئے مستقر کردیا اور فرمایا: حاضرین غائبین کو بتائیں؟ اور اجتماع میں حاضر تمام افراد نے مل کر جواب دیا: خدا کی قسم! درست فرما رہے ہیں۔
5۔ حدیث منزلت؛ غزوہ تبوک کے وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا: تیری نسبت میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون کی موسیٰ کے ساتھ، تم میرے بعد ہر مؤمن کے ولی ہو "أنتَ مِنّی بِمَنزِلَةِ هارونَ مِن موسى ، وأنتَ وَلِیُّ كُلِّ مُؤمِنٍ بَعدی"۔
6۔ واقعۂ مباہلہ میں رسول اللہ (ص) کے ہمراہ امیرالمؤمنین، سیدہ فاطمۃالزہراء اور حسنین علیہم السلام کا کردار۔
7۔ قلعۂ خیبرکی فتح اور رسول اللہ (ص) کا یہ کلام مبارک کہ "میں کل یہ عَلَم ایسے فرد کو دونگا جو حملہ کرنے والا اور فرار نہ ہونے والا ہے اللہ اور اس کے رسول (ص) اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول (ص) سے محبت کرتا ہے، اور خداوند متعال اسی کے ہاتھوں قلعۂ خیبر کو فتح فرمائے گا؛ لَأَدفَعُهُ إلى رَجُلٍ یُحِبُّهُ اللّه ُ ورَسولُهُ ویُحِبُّ اللّه َ ورَسولَهُ، كَرّارٍ غَیرِ فَرّارٍ، یَفتَحُهَا اللّه ُ عَلى یَدَیهِ"
8۔ سورہ برائت کا ابلاغ؛ امام حسین علیہ السلام نے اس واقعے کے بارے میں فرمایا: رسول اللہ (ص) نے خدا کے حکم سے ارشاد فرمایا: میری طرف سے میری اپنی ذات یا میرے کسی فرد کے سوا ابلاغ نہیں کر سکتا؛ "لا یُبَلِّغُ عَنّی إلّا أنَا أو رَجُلٌ مِنّی"۔
9۔ رسول اللہ (ص) کو جو بھی مشکل اور دشواری پیش آتی آپ (ص) علی (ع) سے مخاطب ہوتے اور انہیں وہ مسئلہ حل کرنے کے لئے روانہ کرتے۔
10۔ علی علیہ السلام نے فرمایا: اے على! آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں، اور آپ میرے بعد ہر مؤمن اور مؤمنہ کے ولی ہیں؛ "یا عَلِیُّ ! أنتَ مِنّی وأنَا مِنكَ ، وأنتَ وَلِیُّ كُلِّ مُؤمِنٍ ومُؤمِنَةٍ بَعدی"۔
11۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے علوم و معارف کے خزانے علی علیہ السلام کو منتقل کیا کرتے تھے۔
12۔ رسول اللہ (ص) نے علی (ع) سے اپنی سیدہ بیٹی (س) کا نکاح کراتے وقت فرمایا: "زَوَّجتُكِ خَیرَ أهلِ بَیتی، أقدَمَهُم سِلما وأعظَمَهُم حِلما وأكثَرَهُم عِلما؛ جان پدر! آپ کے شوہر میرے خاندان کے بہتریں فرد ہیں، اسلام میں سب پر سبقت لینے والے، حلم و بردباری میں خاندان کے سب سے عظیم اور عالم ترین ہیں؛ اور یوں آپ (ص) نے علی (ع) کو جعفر اور حمزہ (علیہماالسلام) پر فوقیت دی۔
13۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میں، فرزندان آدم کا سردار و سرور ہوں اور میرے بھائی علی (ع) عرب کے سردار، فاطمہ (س) جنت کی خواتین کی سیدہ اور میرے دو بیٹے حسن و حسین (ع) جنت کے جوانوں کے سردار ہیں؛ "أنَا سَیِّدُ وُلدِ آدَمَ، وأخی عَلِیٌّ سَیِّدُ العَرَبِ، وفاطِمَةُ سَیِّدَةُ نِساءِ أهلِ الجَنَّةِ، وَابنایَ الحَسَنُ وَالحُسَینُ سَیِّدا شَبابِ أهلِ الجَنَّةِ"۔
14۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے وصال سے قبل علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ان کو غسل دیں اور انہیں بتایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس امر میں علی (ع) کی مدد کریں گے۔
15۔ رسول اللہ (ص) نے اپنے آخری خطبے کے ضمن میں ارشاد فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: کتاب اللہ اور میرا خاندان، پس تم ان دو کا دامن تھامو ہرگز گمراہ نہ ہونگے؛ "أیُّهَا النّاسُ ! إنّی تَرَكتُ فیكُمُ الثَّقَلَینِ كِتابَ اللّه ِ وأهلَ بَیتی ، فَتَمَسَّكوا بِهِما لَن تَضِلّوا"۔
اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے حاضرین کو قسم دلا‏ئی کہ کیا انھوں نے یہ بات رسول اللہ (ص) سنی ہے کہ "جو شخص گماں کرے کہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور علی (ع) سے بغض و عداوت رکھے، وہ جھوٹا ہے؛ کوئی بھی علی کی دشمنی کرنے والا کوئی شخص بھی مجھ سے محبت نہیں کرتا۔
کسی نے کہا: یا رسول اللہ (ص)! ایسا کیوں ہے؟
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: کیونکہ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ جو ان سے محبت کرے گا وہ میرا حبدار ہے اور جو میرا حبدار ہے وہ خدا کا محب ہے اور جو شخص ان سے دشمنی کرے گا وہ میرا دشمن اور جو مجھ سے دشمنی کرے گا وہ خدا کا دشمن ہے؛ "مَن زَعَمَ أنَّهُ یُحِبُّنی ویُبغِضُ عَلِیّا فَقَد كَذَبَ ، لَیسَ یُحِبُّنی وهُوَ یُبغِضُ عَلِیّا"! فَقالَ لَهُ قائِلٌ: یا رَسولَ اللّهِ وكَیفَ ذلِكَ؟ قالَ: "لِأَنَّهُ مِنّی وأنَا مِنهُ، مَن أحَبَّهُ فَقَد أحَبَّنی ومَن أحَبَّنی فَقَد أحَبَّ اللّهَ، وَ مَن أبغَضَهُ فَقَد أبغَضَنی ومَن أبغَضَنی فَقَد أبغَضَ اللّهَ".
حاضرین نے اس بات کی بھی تصدیق کردی اور اس کے بعد منتشر ہوگئے۔ (2)
نتیجہ:
قرآن اور اہل بیت (ع) سے دوری معاشروں کو اسلام کی تعلیمات و معارف اور اعلی اقدار سے دور کردیتی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام سے دوری کی صورت میں قرآن کی پیروی بھی اسلامی معاشرے کے انحراف اور نابودی کا راستہ نہیں روک سکتی جیسا کہ قرآن کا دامن چھوڑ کر محبت اہل بیت (ع) کا دعوی کرنے والا معاشرہ بھی فلاح نہیں پاسکتا۔ چنانچہ ہلاکت اور نابودی سے بچاؤ اور سعادت و خوشبختی کے حصول کے لئے اہل بیت (ع) کی پیروی اور اہل بیت (ع) کی ذوات مقدسہ سے ہی قرآنی معارف کا حصول، وہی اہم موضوع ہے جو امام حسین علیہ السلام نے انحراف زدہ معاشرے کی نجات کے لئے مورد تأکید ٹہرایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ:
1۔ سوره صفّ آیه 8۔
2۔ كتاب سلیم بن قیس "اسرار آل محمد (ص)"، ج 2 ص 788 ، بحار الأنوار : ج 33 ص 181 و الاحتجاج : ج 2 ص 87۔

ارسال توسط ارشادحسین مطهری

Add new comment