کربلا کی شیر دل خواتین
نوشین نقوی
کہا جا تاہے کہ آج کی عورت کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں ہے،کسی شعبے میں اس کا کردار مردوں کی نسبت کم نظر نہیں آتا،لیکن اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو اسلام کی آمد کے ساتھ عورت کو وہ حقو ق مل گئے تھے ،جنہوں نے عورت کے اندر برابری اور فخر کے احساس کو پیدا کیا اور اسے ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ خواتین نے اس دنیا میں ہونے والی تمام تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر عظیم پیغمبروں کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ خواتین کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اورحضرت اسماعیلؑ کی تاریخ جناب ہاجرہؑ کے بغیر نامکمل ہے۔ حضرت عیسیٰؑ ؑکا نام جناب مریم ؑکے بغیر نہیں آتا۔ہمارے پیارے نبی اکرمؐ کے ساتھ جناب خدیجہ ؓ کی قربانی نظر آئے گی۔ اس کے علاوہ جناب فاطمہ ؓ بھی ہر مشکل میں‘ ہر جگہ اپنے بابا بزرگوار اور اپنے شوہر نامدار حضرت علی ؓ کے ساتھ ساتھ نظرآتی ہیں۔ عورت کسی بھی رشتے میں کبھی اپنے کردار سے کم نظر نہیں آئی بلکہ ہمیشہ اس نے توقع سے بڑھ کر ہی کردار نبھایا ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد خواتین کا کردار اور زیادہ مضبوط ہو گیا، انہیں اور زیادہ حقو ق مل گئے ۔ نبی کریمؐ نے خواتین کو بطور انسان فرائض اور حقوق سونپنے کی بات کی۔حضرت خدیجہؓ ،حضرت عائشہ ؓ و دیگر امہات المومنین کے روشن کردار سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔اسی طرح کربلا کے واقعات کو زندہ و جاوید بنانے میں بھی حضرت زینب ؓ، حضرت کلثومؓ، حضرت سکینہؓ، اسیران اہل بیت اور کربلا کے دیگر شہدا کی بیویوں اور ماؤں کا اہم کردار رہا ہے۔ کسی بھی تحریک کے پیغام کو عوام تک پہنچانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کربلا کی تحریک کے پیغام کو عوام تک کربلا کی اسیر خواتین نے پہنچایا ہے۔ جناب زینبؓ کے بیمثل کردار اور قربانیوں سے تاریخ کربلا روشن نظر آتی ہے۔ واقعہ کربلا میں صرف عاشورہ میں ہی نہیں بلکہ انہوں نے شہادت امام حسین ؓ کے بعد مختلف مقامات پر اپنا کردارادا کرکے یہ بات ثابت کی ہے کہ حضرت امام حسین ؓ اپنے ساتھ رہتی دنیا تک اپنے کردار سے تربیت کرنے والی مثالی خواتین کو مدینے سے ساتھ لے کر نکلے تھے۔ اس لیے بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ: حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق یکی حسینؓ رقم کرد و دیگری زینبؓ عاشورہ کو وجود دینے والے امام کے دلیر ساتھی در حقیقت انہی عظیم ماؤں کی گود کا سرمایہ تھے۔ واقعہ کربلا اس چیز کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ معاشرے کو اگر شجاع و جانثار افراد کی ضرورت ہو تو اس کے لیے ہر مردِ مومن کواپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کے لیے ایسی زوجہ کا انتخاب کرنا چاہیے جو با ایمان، بہادر اور پاکیزہ کردار کی مالک ہو،تا کہ اس کے دامن تربیت سے تاریخ ساز افراد پرورش پاسکیں۔ کربلا میں امام حسینؓ کے انصار و مجاہدین کو ان کی ماؤں اور بیویوں نے ہمت اور حوصلہ دیا کہ تم سے زیادہ قیمتی جناب فاطمہ زہراؓ کے فرزند ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے ہوتے ہوئے دشمن ان کو نقصان پہنچا دے‘ اگر ایسا ہوا تو ہم روز محشر سیدہ زہراؓ کو کیا منہ دکھائیں گے۔ جناب زہیر بن قین کو ان کی زوجہ دیلم بنت عمرو نے ہی تشویق دلائی تھی۔ ابتداء میں وہ امام حسینؓ کے کہنے پر امامؓ کی خدمت میں چلے آئے۔ شب عاشورہ انہوں نے امامؓ سے عرض کیا کہ ’’خدا کی قسم میں چاہتا ہوں کہ ہزار مرتبہ قتل کیا جاؤں لیکن آپؓ اور آپؓ کے اہل بیت کی جان بچ جائے۔‘‘ اگر آپ کی زوجہ آپ کے جذبے کو بیدار نہ کرتیں تو آپ اتنے عظیم مرتبہ پر فائز نہ ہوسکتے۔ اسی طرح جناب امام حسین ؓکی شریک حیات جناب ام لیلیؓ اور جناب ام رباب ؓکے بیمثل کردارآج بھی تاریخ کو خون کے آنسو رلاتے ہیں۔ یہ ان عظیم مائوںکی ہمت ہی تھی کہ اسلام کی سر بلندی کے لئے ایک نے اپنی عمر بھر کی کمائی جناب علی اکبرؓ کو امام حسینؓ کے لیے عظیم مشن پرقربان کیا تو جناب ربابؓ نے اپنے چھ ماہ کے ننھے شیر خوار کو امام کا مجاہد بنا کر پیش کیا۔ تربیت اگر ایسی ماؤں کی ہو تو پھر فرزند تاریخ میں باقی رہ جانے والے سپوت کیوں نہ بنیں۔ کربلا کے ان کرداروں میں جناب سکینہ ؓ کا کردار آج بھی اہل قلب کو سسکیاں لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہ حضرت امام حسین ؓ کی سب سے کمسن دختر عزیز تھیں۔ واقعہ کربلا سے لے کر زندان شام میں آخری دم تک تاریخ گواہ ہے کہ مصائب اور پیاس کی شدت کے باوجود اس بچی نے کسی کو تنگ نہ کیا۔یہ سکینہؓ اور ان کی والدہ گرامی ام ربابؓ ہی تھیں جنہیں خراج محبت پیش کرتے ہوئے حضرت امام حسینؓ نے فرمایا تھا کہ ’’مجھے وہ گھر اچھا نہیں لگتا جس میں سکینہ اور ام رباب نہ ہوں۔‘‘ جناب عباس ؓکی والدہ نے بھی اپنے بیٹوں کو مدینہ سے روانگی کے وقت حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ روانہ کیا تھا اور اپنے پاس ایک بیٹے کو بھی نہیں رکھا۔ امام حسین ؓ کی شریک سفر ان کی عزیز جاں بہن جناب زینب ؓ نے بھی اپنے دونوں بیٹوں عون اور محمد کو اپنے بھائی کے عظیم مقصد پر صدقے کرکے میدان جنگ کی طرف روانہ کیا تھا۔ یہ جناب زینبؓ ہی تھیں جن کے خطبوں سے کربلا کی تحریک کو تا قیامت اسی شدید جذبے سے یاد رکھا جائے گا جیسے وہ صدیوں کی بات نہیں‘ کل ہی کا قصہ ہو۔ حضرت زینب ؓ قوت برداشت اور صبر کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھیں۔ حضرت امام حسین ؓکی شہادت کے بعد آپ کی تین اہم ذمہ داریوں کا آغاز ہوا تھا جن کو آپ نے کمال کامیابی کے ساتھ نبھایا۔ سب سے بڑی ذمہ داری جناب سجادؓ کی تیمارداری اور دشمن سے ان کی حفاظت، دوسری ذمہ داری ان عورتوں اور بچوں کی حفاظت، جو بیوہ ہوچکی تھیں اور بچے یتیم۔ تیسری ذمہ داری کربلا کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا تھا۔ دم توڑتی انسانیت کو زندہ کرنے کا جو ارادہ حضرت امام حسین ؓ گھر سے لے کر نکلے تھے اس کو انجام تک کردارِ اور گفتارِ زینبؓ نے پہنچایا۔ جناب زینب ؓکی سربراہی میں حضرت امام حسین ؓکے اہل حرم نے کوفہ و شام کے گلی کوچے میں اپنے خطبوں کے ذریعے یزیدیت کے ظلم کا پردہ چاک کیا اور رہتی دنیا تک ہونے والی کسی بھی سازش کو بروقت بے نقاب کردیا۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نہ صرف اپنی نسلوں کی تربیت کرنے میںیہ عظیم خواتین باکمال تھیں بلکہ میدان عمل میں بھی ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ ٭…٭…٭
....................
کربلا میں امام حسین - نے اپنے اعزا ٔ اور اقربا ٔ کی قربانی پیش کرنے کے بعد جو استغاثہ بلند فرماکر اپنے چاہنے والوں کو اپنے مشن کی نصرت کے لئے بلایا تھاوہ آج بھی فضاؤں میں گونج رہا ہے ، جنگوں میں اپنے چاہنے والوں سے مدد طلب کرنا عام بات ہے مگر یہ مدد یا تو جنگ سے پہلے طلب کی جاتی ہے یا پھر اُس وقت کی جاتی ہے جب جنگ شکست کے قریب پہنچ جائے ،لیکن کربلا میں امام حسین- کا استغاثہ نہ تو جنگ سے پہلے تھا اور نہ ہی اس خدشہ میں تھا کہ جنگ میں شکست ہورہی تھی ، اگر ہم ایسا سوچ لیں تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ سب کی شہادت کے بعد مدد طلب کرکے امام حسین- صرف اپنی جان بچانا چاہتے تھے باقی کسی کی جان کی آپ کو پرواہ نہ تھی ﴿نعوذ باللہ﴾ امام حسین -اپنے یاور و انصار کی شہادت کے بعد استغاثہ بلند کرکے ہمیں بہت ہی اہم زندگی ساز پیغام دے رہے تھے، اسی لئے امام عالی مقام کا یہ استغاثہ صرف کربلا کے میدان میں روز عاشور تک محدود نہ تھاآج بھی امام کا استغاثہ ہمیں اُس مقدس مشن کی مدد کے لئے آواز دے رہاہے جس کی داغ بیل امام حسین- نے کربلا میں ڈالی تھی ،اگر ایسا نہ ہوتا تو ائمہ٪ کے اقوال کی روشنی میں یہ مفہوم نہ ہوتا کہ’’ ہر زمین کربلا ہے اور ہر روز عاشور ہے‘‘یعنی جس سرزمین پر جب بھی یزیدیت سر ابھارے اور اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچائے تو وہ سرزمین ،کربلا اور وہ دن عاشور کا دن ہوگا ، جب بھی ایسا ہو تو ہر حسینی کا فرض ہے کہ وہ امام حسین- کے استغاثے کا جواب ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ کی شکل میں دے کر یزیدیت سے مقابلہ کے لئے نکل پڑے ،ایسا کرناہر مسلمان پر انفرادی اور اجتماعی طور پر فرض ہے .
اسلام نے معاشرے کے انفرادی ﴿ایک فرد﴾ اور اجتماعی﴿سماجی﴾ مفادات کے تحفظ کی تاکید کی ہے ،اسی لئے ہر فرد پر یہ دونوں ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،اگر اجتماعی امور کی انجام دہی کے لئے زمین ہموار نہ ہو تو صرف انفرادی ذمہ داری ہی عائد ہوتی ہے ،ارشاد الٰہی ہے : اے ایمان والو! تم اپنے نفس کی فکر کرو ،اگر تم ہدایت یافتہ رہے توگمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی﴿1﴾ اور جب اجتماعی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لئے حالات سازگار ہوں تو اس وقت انسان پر فرض ہے کہ وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کوبھی انجام دے، حضور اکرم کا ارشاد ہے : تم میں سے ہر ایک پر اجتماعی مسئولیت عائد ہوتی ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جوابدہ ہے﴿2﴾ ،دین اسلام نہ تو کیپٹل ازم کی طرح صرف انفرادی مفادات کی بات کرتا ہے اور نہ ہی کمیونزم کی طرح صرف اجتماعی مفادات کی ضمانت فراہم کرتا ہے بلکہ حالات کے مطابق دونوں ذمہ داریاں ضروری ہیں .
امام حسین - کی امامت کا زمانہ ایسا ہی تھا جس میں مسلمانوں پر انفرادی اور اجتماعی دونوں ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں ،چونکہ بنی امیہ کی سیاست نے معاشرے کو انفرادی اور اجتماعی طور پربرباد کر کے رکھ دیا تھا ، ان کے ذریعہ پھیلائے گئے قبائلی اور خاندانی تعصب اورقبیلہ پرستی نے مسلمانوں کو ان مقاصد تک پہنچنے ہی نہ دیا جن تک جانے کی اسلامی تعلیمات نے ترغیب دلائی تھی ،بلکہ مسلمان قبائلی حدود میں بند چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھتے رہے لہٰذا اس سیاست نے مسلمانوں کو انقلابی عمل سے باز رکھا اور محرومیت و نکبت کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ،دوسری جانب بنی امیہ نے ’مرجئہ ‘ فرقے کے گمراہ عقیدے کو اپنی غیر اسلامی سیاست کو مذہبی رنگ دینے کے لئے استعمال کیا اور اس عقیدہ کی ہر سطح پر حمایت کی اور لوگوں میں رائج کردیا،جسے آج تک مسلمان سینے سے لگائے ہوئے ہیں،اس کی بنیاد پر بنی امیہ بالخصوص معاویہ لوگوں کو یہ سمجھاتے تھے کہ حکومت کا وجود اور اس کے کارنامے چاہے کتنے ہی غیر اسلامی اور ظالمانہ کیوں نہ ہوں تقدیر الٰہی ہیں اور کسی بھی صورت میں تغیر و تبدل کے لائق نہیں ہیں لہٰذا بنی امیہ کی حکومت کی مخالفت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ،اس گمراہ عقیدے سے معاویہ نے بہت فائدہ اٹھایا اور اپنی تمام بد اعمالیوں کو تقدیر الٰہی کا نام دے کر حکومت کرتا رہا اور لوگوں کو یہ باور کراتا رہا کہ میں اسلامی خلیفہ ہوں اور کیسا ہی گناہ کیوں نہ انجام دے لوں مقام خلافت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ، در اصل مرجئہ فرقہ کا عقیدہ یہ تھا کہ اچھے اور برے اعمال میں بندہ کو اختیار نہیں ہے بلکہ ہر خیر و شر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے﴿نعوذ باللہ﴾ اسی طرح اموی سیاست کے تیسرے ستون یعنی ’’مذہب ہی کو مذہب کے خلاف استعمال کرنے ‘‘ سے اس وقت کے اسلامی معاشرے کو کتنا نقصان پہنچا اس کا اندازہ اس کے انفرادی ، اجتماعی اور دینی مخدوش حالات سے بخوبی ہوجاتا ہے کہ کس طرح مسلمان اس پر اعتراض کرنے اور حالات کو درست کرنے کے لئے کوشش کرنے سے کتراتے تھے جس کے نتیجے میں معاشرے کے ضمیر میں گناہ کا شعور ہی مردہ ہوگیا تھا ،جبکہ یہی شعورِ گناہ اگر زندہ ہوتا تو ایک انقلاب کے لئے بنیاد بن سکتا تھا اور جب یہ شعور مردہ ہوجاتا ہے تو معاشرے پر موت کی سی خاموشی چھا جاتی ہے لہٰذا وہ مسلمان جو پوری انسانیت کا درد سینے میں رکھتے تھے اور دوسروں کے دکھ درد کو کم کرنے کے لئے ہمیشہ سعی و کوشش میں لگے رہتے تھے ان کو اس اموی سیاست نے قبیلہ پرست بناکر اپنے ہی قبیلے کے محدود دائرے میں مقید کردیا تھا اور عیناً زمانہ جاہلیت کی طرح قبائلی اور خاندانی اختلافات تک محدود ہوکر رہ گئے تھے ،ان کی شخصیتیں قبائلی چہاردیواری سے باہر نکل کر دوسرے میدانوں میں نہ ابھر سکیں ،دور جاہلیت میں بھی یہی چیز کار فرما تھی جو بنی امیہ کے دور اقتدار میں دوبارہ زندہ ہوگئی تھی ، جس کی طرف معروف اہل سنت دانشور اور عالم مولانا ابوالحسن علی ندوی نے یوں اشارہ کیا ہے :’’ دنیا کی بدقسمتی تھی کہ خلفائے راشدین کے بعد دنیا کی راہنمائی کے منصب جلیل پر وہ لوگ ﴿بنی امیہ﴾ حاوی ہوگئے تھے جنھوں نے اس کے لئے کوئی حقیقی تیاری نہیں کی تھی ،خلفائے راشدین کی طرح اور خود اپنے زمانے کے بہت سے مسلمانوں کی طرح انہوں نے اعلیٰ دینی اور اخلاقی تربیت نہیں پائی تھی ،ان کا دینی ،روحانی اور اخلاقی معیار اتنا بلند نہ تھا جو ملت اسلامیہ کے راہنماؤں کے شایان شان ہے ،ان کے ذہن اور طبیعتیں عرب کی قدیم تربیت اور ماحول ﴿دور جاہلیت ﴾ سے بالکلیہ آزاد نہیں ہوئی تھیں﴿3﴾ لہٰذا جب اموی خاندان کے فاسق و فاجر یزید بن معاویہ نے اسلام سے انسانی اقدار کو نکال پھینکا اور اسلام کو ایک خاص ٹولے کے مفاد میں استعمال کرنے لگا تو امام حسین- نے اسلام کادفاع کیا اور انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کردیا ،البتہ یہ کام اتنا آسان نہ تھا اس راہ میں امام حسین - اور آپ کے ساتھیوں نے اپنا سب کچھ قربان کرکے اسلامی معاشرے کو وہ جرأت عطاکردی کہ پھر کبھی کسی ظالم کے سامنے مسلمان خاموش نہیں رہے اور انقلاب کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ، امام حسین -کے اس انقلاب کو ’’حسینی انقلاب‘‘ کہاجاتا ہے ،حسینی انقلاب میں محبت و ہمدردی اور ایثار و فدا کاری کا بے مثال نمونہ پیش کیا گیا ہے ،یہ محبت و ہمدردی جلادوں اور قاتلوں تک کے ساتھ بھی تھی جن کو ظالم حکمران نے دھوکہ دے کر ان شخصیتوں کے ساتھ لڑنے بھیجا تھا جو خود انہی کی بھلائی چاہتی تھیں اور ان جانبازوں نے اس محبت کا مظاہرہ روز عاشور آپس میں بھی کیا جو موت کی طرف ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے تھے تاکہ اپنے ساتھی کے قتل کا منظر دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہیں ،ان کے مقابلہ میں یزیدی لشکر تھاجو بدترین کینے اور عداوت کا مظاہرہ کررہاتھا ،جس نے حسینی جانبازوں اور ان کے کمسن بچوں کو پانی تک سے محروم رکھا اور عورتوں اور بچوں تک کا خون بہانے سے باز نہیں آیا جس سے ہر انسان کا دل کانپ جاتا ہے اور اسی چیز نے اس انقلاب پر لکھنے اور بولنے والوں کی توجہ اپنی طرف اس طرح مبذول کرائی کہ انہوں نے اس انقلاب کے صرف انہیں واقعاتی پہلوؤں پر اپنی توجہ مرکوز کردیں ،حالانکہ حسینی انقلاب میں تعلیم و تربیت ، اخلاق و کردار ، ایثار و فدا کاری کی بے شمار خصوصیات موجود ہیں بلکہ یہ انقلاب ایک درسگاہ ہے جو صرف واقعات تک محدود نہیں ہے ،دنیا میں اب تک بے شمار انقلاب آچکے ہیں لیکن جو اثر سن 61ہجری میں عراق کے شہر کربلا میں رونما ہونے والے حسینی انقلاب کا ہے وہ کسی کا نہیں ہے ، حسینی انقلاب کی یاد ہر سال محرم میں دنیا کے گوشہ گوشہ میں منائی جاتی ہے ،دنیا میں رونما ہونے والے دیگر انقلابوں کا مقصد اقتدار پر قبضہ ہوتا ہے لیکن حسینی انقلاب میں اقتدار پر قبضے کی کوئی خواہش کسی کو نہ تھی اگر چہ خلافت و اسلامی حکومت قطعی طورسے امام حسین -کا حق تھا جسے یزید غصب کئے بیٹھا تھا ، حسینی انقلاب نے تمام انصاف پسندوں کو اپنا گرویدہ بنالیا ہے اور باشعور لوگ اس انقلاب سے بے حد متاثر نظر آتے ہیں ،اس انقلاب نے تمام حریت پسندوں کے دلوں میں اس طرح جوش و ولولہ بھردیا ہے جس سے وہ ہر بڑی طاقت کے مقابلے پہ آجاتے ہیں ،چاہے گاندھی جی کی قیادت میں ہندوستان کا انقلاب آزادی ہو ،یا پھرامام خمینی کی قیادت میں ایران کا اسلامی انقلاب ہو اور یا سپر پاور امریکہ کوانگلیوں پر نچانے والے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مزاحمت ہو سبھی میں حسینی انقلاب کے اثرات نمایاں ہیں ،غرض حسینی انقلاب کے بعد دنیا میں ظالم و جابر حکمرانوں اور حکومتوں کو ہمیشہ انقلاب کا ڈرلگا رہتا ہے .
امام حسین -کا یہ عظیم انقلاب کسی شخص ،گروہ خاندان اور حکومت کے خلاف نہیں تھا بلکہ یہ انقلاب اُن سماجی برائیوں کے خلاف تھا جنہوں نے اسلامی معاشرے کے تانے بانے ادھیڑکر رکھ دیئے تھے ،جس کا ذمہ دار اموی خاندان اور پشت پناہ بنی امیہ کی حکومت تھی جس کے پُر تشدد ،دباؤ اور استحصالی سیاست نے لوگوں کے دلوں سے جذبۂ آزادی کو ختم کرکے رکھ دیا تھا.
جس دن سے شام پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا تھا شام والوں نے ’’خالد بن ولید‘‘ اور ’’معاویہ بن ابی سفیان‘‘ جیسے حاکموں کو دیکھا تھا ، شام والے نہ تو پیغمبر اسلام کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تھے اور نہ ہی اصحاب پیغمبر کی روش سے آشنا تھے اور نہ پیغمبر کے اہل البیت ٪ کو جانتے تھے اور نہ مدینہ میں رائج اسلام کے بارے میں کچھ خبر رکھتے تھے ، البتہ تاریخ میں 113اصحاب پیغمبرکی تعداد ضرور ملتی ہے کہ جو ،یا تو سرزمین شام کو فتحہ کرنے میں شریک تھے یا آہستہ آہستہ وہاں مقیم ہوگئے تھے ان میں بھی اکثر ایسے تھے جنہوں نے بہت کم وقت حضور(ص) کی صحبت میں گزارا تھا ان میں سے اکثر معاویہ کے زمانے میں مرچکے تھے اور امام حسین- کے انقلاب کے زمانے میں صرف 11افراد باقی تھے جن کی عمریں 70سے 80سال کے درمیان تھیں جو بڑھاپے کی وجہ سے گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے تھے ،اس لئے عوام میں ان کا کوئی نفوذ اور اثر نہیں تھا لہٰذا شام کی وہ جوان نسل جو یزید کی ہم عمر تھی محمدی (ص)اسلام سے بے خبر اور نابلد تھی ان کی نظر میں بنی امیہ کی روش اور طرز حکومت ہی اسلام تھا ، اسی لئے معاویہ کے ٹھاٹ باٹ ، لوگوں کے مال پر زبردستی قبضہ ، بڑے بڑے محلوں کی تعمیر ات ، مخالفوں کو قید کرنا،شہر بدر کرنا یا قتل کرنا شامیوں کی نگاہ میں کوئی جرم نہ تھا کیونکہ انہوں نے 50سال تک بنی امیہ کے ذریعہ مذکورہ تمام غیر اسلامی افعال کو بنام اسلام انجام دیتے دیکھا تھا ، غرض اہل شام معاویہ کے افعال و کردار کو ہی اسلام سمجھتے تھے ،اسی لئے جب رجب 60ہجری میں معاویہ کے انتقال کے بعد یزید کو حکومت اسلامی کی باگ ڈور سونپ دی گئی تو شامیوں نے قطعاً اعتراض نہ کیا بلکہ بخوشی یزید کی حاکمیت کو قبول کرلیا جبکہ یزید کا کردار سب پر آشکار تھا، جس سے اُس زمانہ کے اسلامی سماج کی بے حسی کا اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح بنی امیہ نے لوگوں کو بزدل بنادیا تھا جو اپنے اوپریزید جیسے فاسق و فاجرحاکم کو مسلط کرلینے پر آمادہ ہوگئے تھے .
یزید کے بارے میں سب کو معلوم تھا کہ اُس کی پرورش ایک عیسائی عورت کی گود میں ہوئی ہے ،کیونکہ یزید کی ماں ’’میسون بنت بجدل کلبی ‘‘عیسائی قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی اور وہ بھی صحرا نشین !اور اس کا شمار شام کی معروف عورتوں میں ہوتا تھا ، یزید کا حمل ٹھہرنے کے بعد میسون کو معاویہ نے ایک شعر پڑھتے ہوئے سنا جس میں معاویہ اور اس کے قصر کی تمام زیبائی اور خوبصورتی نیز شام کی آب و ہوا کی مذمت اور اپنے دیہات کی جھونپڑی ، وہاں کی آب و ہوا ، گلہ گوسفند میں رہنے والے اپنے چچا زاد بھائی کی مدح سرائی کی تھی ،معاویہ نے یہ شعر سن کر میسون کو طلاق دے دی ، وہ حاملہ اپنے گاؤں چلی گئی جہاں پر یزید کی ولادت ہوئی ، ولادت کے بعد یزید کو ایک عیسائی عورت کے سپرد کردیاگیا جو قبیلہ طائف سے تعلق رکھتی تھی ، برے اور قبیح کام اس کے معمول تھے ﴿4﴾ ،تربیت کا دوسرا دور وہ ہوتا ہے جب بچہ استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتا ہے ،اس موقع پر یزید کے لئے جس استاد اور اتالیق کا انتظام کیا گیا وہ بھی شام کا عیسائی تھا ﴿5﴾اس کے علاوہ روم کے عیسایئوں سے بنی امیہ کے بڑے اچھے تعلقات تھے جس کی بنائ پر روم کے عیسایئوں نے اموی دربار میں کافی نفوذ کرلیا تھا ،اسی لئے یزید کے درباری مشیر بھی عیسائی تھے ،جب یزید کو یہ اطلاع ملی کہ امام حسین- عازم کوفہ ہوچکے ہیں تو یزید نے اپنے ایک عیسائی مشیر ’’سرجون‘‘رومی کے مشورہ پر کوفہ سے نعمان بن بشیر کو ہٹا کر عبیداللہ بن زیاد کو گورنر بناکر بھیج دیا تھا﴿6﴾ چونکہ ابن زیاد اہل بیت٪رسول (ص) سے شدیدعداوت رکھتا تھا لہٰذا اس نے آل رسول (ص) کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا ،اسی طرح یزید کا وزیر خزانہ اورمنشی بھی دمشق کا عیسائی ’’منصور بن سرجون‘‘ تھا ﴿7﴾اس کے علاوہ یزید کا درباری شاعر ’’اخطل‘‘ بھی عیسائی تھا اور یزید نے اسی عیسائی شاعر سے انصار کی ہجو﴿مذمت﴾ کرائی تھی ﴿8﴾اور یزید نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لئے جس معلم اور اتالیق کا انتظام کیا تھاوہ بھی عیسائی تھا ﴿9﴾ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ یزید کی زندگی بگڑی ہوئی عیسائیت کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکی جس کا اظہار یزید کے اشعار سے بخوبی ہوجاتا ہے:
رسومات حج میں سے ایک رسم ’’ہرولہ‘‘ ہے اس کی توہین کرتے ہوئے یزید اپنے اشعار میں کہتا ہے : ’’میرا سورج انگور سے ہے اور اس سورج کا برج صراحی میں شراب کی گاد ہے ،﴿یہ سورج﴾مشرق سے دست ساقی سے طلوع کرتا ہے اور مغرب میں میرے منھ میں جاکر غروب ہوجاتا ہے ،اور جب صراحی سے جام میں شراب پلٹی جاتی ہے تو اُس کی آواز ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے حجاج حج میں دیوار کعبہ اور زمزم کے درمیان ہرولہ میں مشغول ہوں ،پس اگر دین احمد میں ﴿شراب پینا ﴾حرام ہے تو تم اسے دین مسیح بن مریم کے نام پر لے لو اور پی جاؤ‘‘﴿10﴾﴿جبکہ دین مسیح میں بھی شراب حرام تھی ،مگر بگڑی ہوئی عیسائیت نے شراب کو جائز کرلیاتھا﴾ ،اسی طرح کے دیگر اشعار میں یزید اپنے فاسد عقائد کا اس طرح اظہار کرتا ہے : اے میرے ہم پیالہ دوستو! اٹھو اور اچھی آوازوں والے گانے سنو ،شراب کے پیالے پے در پے پی جاؤ اور معنوی ذکر﴿یاد ِقرآن﴾ کو چھوڑ دو‘‘گانے کی آوازیں مجھے اذان کی آوازسننے سے روک لیتی ہیں ،میں نے جنت کی حوروں کے بدلے﴿جو کہ ادھار ہیں کیونکہ ان کا وعدہ ہی تو کیا گیا ہے ﴾ پرانی شراب کے جام ﴿جو کہ نقد ہیں ﴾کو انتخاب کیا ہے‘‘﴿11﴾
یزید کو نہ تو اسلامی حکومت کے امور میں دلچسپی تھی اور نہ ہی اسے ارکان حکومت سے کوئی ہمدردی تھی ،ایک سال معاویہ نے سفیان بن عوف غامدی کی سربراہی میں رومیوں سے جنگ کے لئے ایک لشکر ترتیب دے کر قسطنطنیہ روانہ کیا اور یزید کو بھی ساتھ بھیجا ،یزید اِس سفر میں اپنی محبوبہ ’’ام کلثوم بنت عبداللہ بن عامر کریز ‘‘ کو ساتھ لے گیا ،سفیان تو لشکر لے کر روم تک پہنچ گیا لیکن یزید دمشق کے نزدیک عیسائیوں کے ’’دیرمراں‘‘ میں اپنی محبوبہ کے ساتھ ٹھہر گیا اور عیش و عشرت میں مشغول ہوگیا ،اُس زمانے میں عیسائیوں کے دیر موج مستی کے اڈے ہوا کرتے تھے ،اُدھر اسلامی لشکر میں بُری آب و ہوا کے اثر سے ’’ غد قدونہ‘‘ کے مقام پر چیچک اور بخار پھیل گیا ،یزید کو جب اس کی اطلاع دی گئی تو اس نے یہ شعر کہا: مجھے کوئی خوف نہیں ہے کہ مسلمان سپاہی ’’غدقدونہ‘‘ میں چیچک میں مبتلا ہوکر مرجائیں جب کہ میں تو دیر مران کے کمروں کے درمیان نرم گاؤ تکیوں پر تکیہ کئے بیٹھا ہوں اور ام کلثوم میری بغل میں ہے‘‘﴿12﴾بنی امیہ کے پروپیگنڈے سے متاثر بعض نادان مسلمان یزید کی مغفرت کے سارٹیفکٹ مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرتے پھرتے ہیں جس میں اسی قسطنطنیہ کی جنگ کا حوالہ دیتے ہیں ،حالانکہ یزید قسطنطنیہ تک پہنچا ہی نہیں اور اگر پہنچ بھی جاتا اور جنگ میں شریک بھی ہوجاتا تو اس کا یہ عمل قیامت تک کے لئے گارنٹی نہیں بن سکتا تھا کیونکہ قسطنطنیہ کی جنگ کے بعد خلافت سنبھالتے ہی یزید نے تین بڑے گناہ ایسے انجام دیئے ہیں کہ جن کی پاداش اسے جہنم کے سخت عذاب کی شکل میں ضرور ملے گی ، یزید کی عیسائیت نوازی یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ یزیدنے حکومت سنبھالنے کے بعد روم کے دو جزیروں سے مسلمان سپاہیوں کو ہٹا کر اسلامی قبضہ ختم کراکے عیسائیوں کو ہمیشہ کے لئے مطمئن کردیا ،یزید کے اس اقدام کو عیسائیت نوازی اور اسلام دشمنی ہی سے تعبیر کیاجاسکتا ہے ،محقق عصر مولانا محمد عبدالرشید نعمانی نے ابن کثیر کی کتاب بدایہ والنہایہ اور تاریخ طبری کے حوالے سے اس بارے میں لکھا ہے کہ : ’’ حضرت معاویہ کے دور حکومت میں 53 ہجری میں جزیرۂ’’روڈس‘‘ فتح ہوا اور وہاں مسلمانوں کی فوجی چھاؤنی قائم کردی گئی ،اس چھاؤنی کی وجہ سے بحر روم میں عیسائی فوجوں کی نقل و حرکت خطرہ میں پڑ گئی تھی ،امیر معاویہ ان مجاہدین اسلام کا بڑا خیال رکھتے تھے اور ہر وقت ان کی مدد پر کمر بستہ رہتے تھے مگر ان کے نالائق بیٹے نے سب سے پہلے کام یہ کیا کہ ان مجاہدین کو اس جزیرہ سے منتقلی کے فوری احکام بھیجے ،آخر وہ بیچارے پیچھے سے رسد اور کمک منقطع ہوجانے کے ڈر سے شاہی حکم کے مطابق ’’روڈس‘‘ کو خالی کرکے اپنی زمین جائداد ،کھیت اور باغات کو خیر باد کہہ کر بادل نا خواستہ وہاں سے چلے آئے اور یوں بغیر لڑے بھڑے مفت میں یہ مسلمانوں کا مفتوحہ جزیرہ نصاریٰ ﴿عیسائیوں﴾ کے ہاتھ آگیا ، اسی طرح54 ہجری میں مسلمانوں نے قسطنطنیہ کے قریب جزیرہ ’’ارواد‘‘ فتح کیا تھا وہاں بھی مسلمان سات سال تک قابض رہے مگر یزید کو وہاں بھی مسلمانوں کا قبضہ ایک آنکھ نہ بھایا اور اپنے دورِ حکومت کے پہلے ہی سال میں مسلمانوں کو وہاں سے واپسی کا حکم دے کر بلوالیا ﴿13﴾معاویہ نے یزید کے بعض کرتوت تو اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے پھر بھی ایسے نالائق کو امت مسلمہ پر مسلط کرنا !اور شامیوں کا بے چوں و چرا اپنا حاکم مان لینا شامیوں اور دوسرے مسلمانوں کی بے حسی ، بزدلی اور بنی امیہ کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کو بیان کرتا ہے ،امام حسین- اسلامی معاشرے سے اسی بزدلی اور بے حسی کے ساتھ بنی امیہ کے چالیس سالہ پروپیگنڈے کو بے اثر کرنا چاہتے تھے تاکہ شام کے ہر گھر میں یہ پیغام پہنچ جائے کہ رسول اللہ (ص) کے حقیقی وارث اہل البیت٪ ہیں نہ کہ بنی امیہ .
بہر حال یزید کااسلام کے ساتھ رابطہ بہت کمزور تھا ،وہ جس اسلام کے نام پر حکومت کررہا تھا اسی کو پامال کررہاتھا ،یزید برسر اقتدار آنے سے پہلے ہی ایک ہوس پرست آدمی تھا اور اس کے دل میں جو خواہش ابھرتی تھی وہ اسے پورا کرلیتا تھا ،حد سے زیادہ خواہش پرستی کی وجہ سے وہ کسی بھی طرح تقویٰ اور زہد کا مظاہرہ بھی نہیں کرسکتا تھا اور اس قدر گناہ اور معصیت سے آلودہ ہوچکاتھا کہ یہ بات سب پر پوری طرح عیاں ہوگئی تھی کہ یہ مقام خلافت کا اہل نہیں ہے اور یہ چیز امام حسین- کے انقلاب کے لئے بہترین مجوز تھی کیونکہ اموی حکومت کے حامیوں کے لئے اس صورت میں ممکن ہی نہ رہاتھا کہ انقلاب امام حسین- کو رائے عامہ کے سامنے ’’اقتدار کی جنگ ‘‘یا ’’خطائے اجتہادی ‘‘کے طور پر پیش کرسکیںجب کہ معاویہ کے ہر گناہ پر بنی امیہ ’’خطائے اجتہادی‘‘ کا لیبل چسپاں کردیتے تھے ، یہ چیز لوگوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہوچکی تھی کہ اس وقت یزید کی ناپاک سیرت کے مقابلہ میں انقلاب کا شرعی جواز موجود ہے ،یزید کی وہ سیرت جو کسی بھی اعتبار سے دینی نہ تھی ،لہٰذا دین کی حمایت اور بنی امیہ کے ظلم سے مسلمانوں کو نجات دینے کے لئے حسینی انقلاب کو اب ہر شخص قبول کرسکتا تھا ،حالانکہ امام حسین - اسلامی معاشرے کی اس بزدلی کی وجہ سے فکر مند بھی تھے جس نے یزید کی مذکورہ نصاریٰ دوستی اور اسلام دشمنی کے باوجود اُسے اپنے حاکم کے طور پر قبول کرلیا تھا ،امام حسین- سماج کی اس بزدلی اور جمود کو توڑنا چاہتے تھے اور اسلامی سماج کو ایسا دیکھنا چاہتے تھے جو متحرک ،بیدار اور فعال ہواور آئندہ کبھی ایسے بدکرداروں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کردے ، اسی لئے امام حسین- نے خوب سوچ سمجھ کر قیام و انقلاب کا منصوبہ تیار کیا تھا اوراس سے پہلے کہ آپ باقاعدہ طور پر قیام کا اعلان فرماتے معاویہ کے انتقال کے فوراًبعد یزید نے بیعت کا مطالبہ کرڈالا ،یعنی یزید چاہتا تھا کہ امام حسین- کو مجبور کردے کہ وہ بھی معاشرے کے دیگر افراد کی ماننداموی حکومت اور خود یزید کے تمام فسق و فجور اور ظلم و زیادتی پر خاموش رہیں ،اور زبان نہ کھولیں ! یزید کی جانب سے بیعت کا مطالبہ حسینی انقلاب کی اصل وجہ نہیں ہے اور نہ ہی اہل کوفہ کے خطوط کو قیام امام حسین -کا سبب قرار دیا جا سکتا ہے ،یہ دونوں وجہیں جزئی طور پر حسینی انقلاب میں موثر واقع ہوئی ہیں ،یزید کے مطالبہ بیعت سے پہلے ہی امام حسین- اموی سیاست و حکومت پر اعتراض اور مخالفت کرچکے تھے ،تاریخ کی کتابوں میں امام حسین- کی بہت سی تقریریں اور خطوط موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت بنتے ہیں ،اسی طرح اہل کوفہ کے خطوط بھی امام حسین- کے انکار بیعت کے ڈیڑھ ماہ بعد ان کے پاس آنا شروع ہوئے اور اس سلسلہ کا پہلا خط عبداللہ بن سبع ہمدانی اور عبداللہ بن دال آپ کے پاس 10 رمضان 60ہجری کو مکہ میںلے کر آئے﴿14﴾ اگر اہل کوفہ کی دعوت امام کے قیام کا اصل سبب ہوتی تو آپ کوفہ کے حالات سے آگاہ ہونے کے بعد اپنا سفر جاری نہ رکھتے ،اس کے برخلاف ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسین- نے حضرت مسلم کی شہادت اور کوفیوں کی دغا کے بارے میں خبریں سن کر پہلے سے زیادہ پُرجوش خطبے دیئے اور تقریریں کیں ،کیونکہ امام حسین- کامقصد یزید کی غیر اسلامی روشِ حکومت کے خلاف انقلاب برپا کرنا تھا ،جس سے اسلامی معاشرہ منکرات اور فساد و آلودگیوں میں جکڑ گیا تھا، جس کا سرچشمہ یزید کی حکومت تھی ،لہٰذا ایسی صورت میں امام حسین- یزید کی حکومت کے خلاف انقلاب برپا کرنے کو الٰہی اور شرعی فریضہ سمجھتے تھے، اوراپنے چاہنے والوں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اس انقلاب میں شامل ہوجائیں ،یہ استغاثہ ہمیں اسی انقلاب میں شامل ہونے کی دعوت دے رہاہے اور یہ استغاثہ قیامت تک اسی طرح فضاؤں میں گونجتا رہے گا اور حسینیوں کو دعوت انقلاب دیتا رہے گا، امام کے اس استغاثے سے جہاں کربلا میں موجود شامیوں پر حجت تمام ہوگئی وہیں قیامت تک ہم پر بھی’’ لبیک یا حسین (ع)‘‘ کے ذریعہ امام کے استغاثے کاجواب واجب ہوگیا ہے ،اگر ہم صرف زبان سے ’’لبیک یا حسین (ع) ‘‘کہیں تو کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ عمل سے امام حسین - کی نصرت کریں ،خدا نخواستہ اگرآج سماج میں ایسی برائیاں موجودہوں جو یزید ی سماج میں تھیںاور ان سماجی برائیوں کے مقابلے میںکوئی شخص،انجمن یا ادارہ آگے نہیں آئے تو کیا ایسا سماج حسینی ہوسکتا ہے ؟کیا ایسا سماج امام حسین - کے استغاثے کا جواب ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ کی شکل میں دے سکتا ہے ؟یوں تو یزید ی بھی نماز پڑھتے تھے ،قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور حج وغیرہ کے علاوہ دیگر ارکان اسلام بھی بجالاتے تھے لیکن اُن کے سماجی اورمعاشرتی معاملات میں اسلام کا کوئی دخل نہیں رہ گیا تھا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ بہت مقدس نعرہ ہے اس نعرہ کودل سے لگانے والا حقیقی حسینی بن جاتا ہے ، سچا حسینی اس نعرہ کے معنی کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے اورجانتا ہے کہ ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تنہا اپنے لئے نہ سوچنا بلکہ پوری قوم اور سماج کی بہبودی کی فکر کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی نہ خود کسی پر ظلم کرنا اور نہ کسی کا ظلم برداشت کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی جھوٹ نہ بولنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی کیسے ہی بدکردار کو اپنے اوپر حاکم نہ بنالینا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی ظالم سے مظلوم کو اُس کا حق دلانے کے لئے قرآن کے مطابق فیصلہ کرنا، ظالم اور مظلوم دونوں کو آدھے آدھے پر بیٹھ جانے کو نہ کہنا ! ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی عام راستوں کو تنگ نہ کردینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی امر بالمعروف کرنے والوں کو بے وقوف نہ سمجھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی مریضوں کو ﴿پاگل سمجھ کر﴾ان کا مذاق نہ اڑانا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی دینی بھائیوں کو پریشان کرنے کے لئے اُن کے ذرائع بندنہ کردینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اپنی زبان کو گالیوں سے محفوظ رکھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی یتیم اور بیواؤں کا حق نہ کھالینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ایک دوسرے کی زمین ،جائیداد اور مکان پر ناجائز قبضے نہ کرلینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تھانوں کچہریوں میں اپنے دینی بھایئوں کی جیب نہ لٹوادینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی دینی بھایئوں کے خلاف جھوٹی گواہیاںنہ دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی دینی بھایئوں کے خلاف انہیں ستانے کے لئے ان پر جھوٹے مقدمے قائم نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی چند سکوں میں اپنے مذہب اور عقائد کا سودا نہ کرلینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی حرام روزی سے اپنے بچوں کی پرورش نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی شادی بیاہ اور مرنے جینے میں نئی نئی بے ہودہ رسمیں قائم کرکے سماج کے غریبوں کو پریشان نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ماڈرن ازم کے نام پر اپنی ناموس کو اپنے ہاتھوں بے حجاب نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تمام واجبات کوان کے وقت پر ادا کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی تمام حرام کاموں سے پرہیز کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اپنے دینی بھائیوں کو بغیر سود کے قرض دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اپنے پڑوسی یا رشتہ دار کو بھوکا نہ سونے دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی قوم کے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ہر وقت فکر مند رہنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی قوم کے لئے علاج معالجہ کی سہولتوں پر توجہ رکھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی چند سکوں میں پوری قوم کا سودا نہ کرلینا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی مومن بھائیوں کی غیبت نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی حق بات یا تحریر کی مخالفت نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ایک دوسرے سے حسد نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی سماج کی اصلاح کرنے والوں کی ہر طرح حمایت کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی چند سکوں میں اپناضمیر نہ بیچنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی کسی پر ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش نہ بیٹھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ماتمی انجمنوں کو سیاست کا اکھاڑا نہ بننے دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی ماتمی انجمنوں کی کمان مذہبی افراد کے ہاتھوں میں ہی دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اشعار یا خطابت کے ذریعہ امام حسین (ع) کے خون کی تجارت نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی محافل و مجالس جیسے اہم اسلامی پلیٹ فارم کوکم علم اور غیر ذمہ دار ذاکرین کے ذریعہ تباہ و برباد نہ ہونے دینا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی کھانے پینے کی اشیائ میں ملاوٹ نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی دین پر رسموں کو ترجیح نہ دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی دینی اداروں کی سربراہی میراث کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی قومی و مذہبی سرمائے سے بنائے گئے دینی اداروں کو اپنی ملکیت قرار نہ دینا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اوقاف کی لوٹ کھسوٹ نہ کرنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘یعنی خمس و زکات کو اپنا ذاتی سرمایہ نہ سمجھنا ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی چند سکوں کی خاطر مرجعیت کی مخالفت نہ کرنا’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ یعنی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین سے بغاوت نہ کرنا ، اس نعرہ کو دل سے لگانے والا یہ بھی جانتا ہے کہ خدانخواستہ اگر کسی سماج میں یزیدی سماج کی علامتیں پائی جائیں تو اسے حسینی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے ؟کیا سماج سے مذکورہ برائیوں کو دور کرنے کے لئے صرف موجودہ رسوم عزا ہی کافی ہیں ؟! تو ان مراسم عزا سے سماج میں تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ اس وقت ہمارے ہندوستانی شیعہ سماج کو تبدیلی اور حسینی انقلاب کی ضرورت ہے،لہٰذا اپنے سماج کو حسینی بنانے کے لئے ہمیں میدان عمل میںآکر ’’لبیک یا حسین (ع)‘‘ کہنا چاہئے جو وقت کی اہم ضرورت ہے .
منابع
﴿1﴾سورۂ مائدہ ، آیت 105.﴿2﴾ بحار الانوار ، جلد72، صفحہ 38، مطبوعہ تہران.﴿3﴾ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ،تالیف مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ، صفحہ 163، گیارہواں ایڈیشن 1992،ناشر مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ،پوسٹ بکس 119 لکھنؤ. ﴿4﴾ تفسیر سیاسی قیام امام حسین (ع) ، تالیف سید علی شرف الدین موسوی علی آبادی ، صفحہ 325،ناشر دار الثقافۃ الاسلامیہ پاکستان ، پہلا ایڈیشن مئی 1994.﴿5﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ179، ناشر موسسۂ تعلیماتی و تحقیقاتی امام جعفر صادق (ع)، قم . ﴿6﴾ تاریخ ابن خلدون، جلد 2،صفحہ 75، ترجمہ علامہ حکیم احمد حسین الہ آبادی ، ناشر نفیس اکیڈمی کراچی ، دسواں ایڈیشن 1986.﴿7﴾ استاد مہدی پیشوائی نے اپنی کتاب سیرۂ پیشوایان میں صفحہ180 کے حاشیہ پر ’’تجارب الامم ‘‘ صفحہ 211 اور291 ،مطبوعہ تہران کے حوالے سے لکھا ہے. ﴿8﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ 179. ﴿9﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ179.﴿10﴾ مجموعہ آثار استاد شہید مطہری، جلد 17،صفحہ 664﴿11﴾ سیرۂ پیشوایان ، تالیف استاد مہدی پیشوائی ، صفحہ176، بحوالہ سبط ابن الجوزی ، تذکرۃ الخواص ،صفحہ291، ناشر منشورات المکتبۃ الحیدریہ،1383 ہجری ﴿12﴾ یزید کی شخصیت اہل سنت کی نظر میں ،مرتب ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی ،صفحہ184،ناشر مجلس علمی نئی دہلی.﴿13﴾ یزید کی شخصیت اہل سنت کی نظر میں ،مرتب ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی ،صفحہ 387.﴿14﴾ تاریخ ابن کثیر، ترجمہ مولانا اختر فتحپوری، جلد 8،صفحہ 1013،ناشر نفیس اکیڈمی کراچی.
..................http://www.masoomeen.blogfa.com/
.............
Add new comment