مقتل امام حسين علیہ السلام

 

حضرت امام حسین (ع) میدان جنگ میں

جب آپ کے بہتراصحاب وانصاراوربنی ہاشم قربان گاہ اسلام پرچڑھ چکے توآپ خوداپنی قربانی پیش کرنے لیے میدان کارزارمیں آپہنچے ،لشکر یزیدجوہزاروں کی تعدادمیں تھا،اصحاب باوفااوربہادران بنی ہاشم کے ہاتہوں واصل جہنم ہوچکاتھا امام حسین (ع) جب میدان میں پہنچے تودشمنوں کے لشکرمیں تیس ہزارسواروپیادے باقی تہے ،یعنی صرف ایک پیاسے کوتیس ہزاردشمنوں سے لڑناتھا (کشف الغمہ)۔میدان میں پہنچنے کے بعدآپ نے سب سے پہلے دشمنوں کومخاطب کرکے ایک خطبہ اراشادفرمایاآپ نے کھا:

”ائے ظالمو! میرے قتل سے بازآؤ،میرے خون سے ہاتہ نہ رنگو،تم جانتے ہومیں تمھارے نبی کانواسہ ہوں، میرے باباعلی سابق الاسلام ہیں، میری ماں فاطمة الزہراتمھارے نبی کی بیٹی ہیں اورتم جانتے ہوکہ میرے نانا رسول اللہ نے مجہے اورمیرے بھائی حسن کوسردارجوانان بہشت فرمایاہے،افسوس تم اپنے نبی کی ذریت اوراپنے رسول کی آل کا خون بہاتے ہواورمیرے خون ناحق پرآمادہ ہوتے ہو،حالانکہ نہ میں نے کسی کوقتل کیاہے نہ کسی کامال چھیناہے کہ جس کے بدلے میں تم مجھ کوقتل کرتے ہو،میں تودنیاسے بے تعلق اپنے نانارسول کی قبرپرمجاوربیٹھاتھا تم نے مجہے ہدایت کے لیے بلایااورمجہے نہ نانا کی قبرپربیٹھنے دیا نہ خداکے گھرمیں رہنے دیا،سنواب بھی ہوسکتاہے کہ مجہے اس کاموقع دے دو، کہ میں ناناکی قبرپرجابیٹہوں یاخانہ خدامیں پناہ لے لوں۔

اس کے بعدآپ نے اتمام حجت کے لیے عمرسعدکوبلایا اوراس سے فرمایا تم میرے قتل سے بازآؤ . یا مجہے پانی دے دو۔ اگریہ منظورنہ ہوتوپھرمیرے مقابلہ کے لیے ایک ایک شخص کوبھیجو۔

اس نے جواب دیاآپ کی تیسری درخواست منظورکی جاتی ہے اورآپ سے لڑنے کے لیے ایک ایک شخص مقابلہ میں آئے گا۔(روضة الشہداء)۔

امام حسین (ع) کی نبردآزمائی

معاہدہ کے مطابق آپ سے لڑنے کے لیے شام کا ایک ایک شخص آنے لگا اورآپ اسے فناکے گھاٹ اتارنے لگے سب سے پہلے جوشخص مقابلہ کے لیے نکلاوہ ثمیم ابن قحطبہ تھا آپ نے اس پربرق خاطف کی طرف حملہ کیا اوراسے تباہ وبربادکرڈالا،یہ سلسلہ جنگ تہوڑی دیرجاری رہا اورمدت قلیل میں کشتوں کے کشتے لگ گئے اورمقتولین کی تعدادحدشمارسے باہرہوگئی یہ دیکھ کرعمرسعدنے لشکروالوں کوپکارکرکہاکیادیکھتے ہوسب مل کریکبارگی حملہ کردو، یہ علی کاشیرہے اس سے انفرادی مقابلہ میں کامیابی قطعا ناممکن ہے ،عمرسعدکی اس آوازنے لشکرکے حوصلے بلندکردئیے اورسب نے مل کر یکبارگی حملہ کافیصلہ کیا آپ نے لشکر کے میمنہ اورمیسرہ کوتباہ کردیاآپ کے پہلے حملہ میں ایک ہزارنوسوپچاس دشمن قتل ہوئے اورمیدان خالی ہوگیا ابھی آپ سکون نہ لینے پائے تہے کہ اٹھائیس ہزاردشمنوں نے پھرحملہ کردیا،اس تعدادمیں چارہزارکمانڈرتہے اب صورت یہ ہوئی کہ سوار،پیادے اورکمانڈروں نے ایک ساتھ ہوکرمسلسل اورمتواتر حملے شروع کردئیے اس موقع پرآپ نے جوشجاعت کاجوہردکہلایااس کے متعلق مورخین کاکہناہے کہ سربرسنے لگے دہڑگرنے لگے ،اورآسمان تھرتھرایا زمین کانپی، صفیں الٹیں، پرے درہم برہم ہوگئے۔

اللہ رے حسین کاوہ آخری جھاد

ہروارپرعلی ولی دے رہے تہے داد

کبھی میسرہ کوالٹتے ہیں،کبھی میمنہ کوتوڑتے ہیں ،کبھی قلب لشکرمیں درآتے ہیں کبھی جناح لشکر پرحملہ فرماتے ہیں شامی کٹ رہے ہیں کوفی گررہے ہیں لاشوں کے ڈھیرلگ رہے ہیں حملے کرتے ہوئے فوجوں کوبھگاتے ہوئے نہرکی طرف پہنچ جاتے ہیں بھائی کی لاش ترائی کے کنارے پڑی نظرآتی ہے آپ پکارکرکہتے ہیں اے عباس تم نے یہ حملے نہ دیکہے ،یہ صف آرائی نہ دیکھی افسوس کہ تم نے میری تنھائی نہ دیکھی علامہ اسفرائنی کاکہناہے کہ امام حسین (ع) دشمنوں پر حملہ کرتے تہے ،تولشکراس طرح سے بھاگتاتھاجس طرح ٹڈیاں منتشرہوجاتی ہیں نورالعین میں ایک مقام پرلکھاہے کہ امام حسین (ع) بہادرشیرکی طرح حملہ فرماتے اورصفوں کودرہم برہم کردیتے تہے اوردشمنوں کواس طرح کاٹ کرپھینک دیتے تہے جس طرح تیزدھارآلہ سے کھیتی کٹتی ہے۔

علامہ اربلی لکہتے ہیں کہ آنحضرت حملہ گراں افگندہرکہ بادکوشید شربت مرگ نوشیدوبہرجانب کہ تاخت گردہے را بخاک انداخت ،کہ آپ عظیم الشان حملہ کی کوئی تاب نہ لاسکتاتھا جوآپ کے سامنے آتاتھا ،شربت مرگ سے سیراب ہوتاتھا اورآپ جس جانب حملہ کرتے تہے گروہ کے گروہ کوخاک میں ملادیتے تہے (کشف الغمہ ص ۷۸)

مورخ ابن اثیرکابیان ہے کہ جب امام حسین (ع) علیہ السلام کو یوم عاشورا داہنے اوربائیں دونوں جانب سے گھیرلیاگیاتوآپ نے دائیں جانب حملہ کرکے سب کوبھگادیا پھرپلٹ کر بائیں جانب حملہ کرتے ہوئے آئے توسب کومارکرہٹادیاخداکی قسم حسین سے بڑھ کرکسی شخص کوایساقوی دل ثابت قدم، بہادرنہیں دیکھاگیاجوشکستہ دل ہو،صدمہ اٹھائے ہوئے ،بیٹوں ،عزیزوں اوردوست، احباب کے داغ بھی کھائے ہوئے ہو، اورپھرحسین کی سی ثابت قدمی اوربے جگری سے جنگ کرسکے، بخدا دشمنوں کی فوج کے سواراورپیادے حسین کے سامنے اس طرح بھاگتے تہے جس طرح بھیڑبکریوں کے گلے شیرکے حملہ سے بھاگتے ہیں حسین جنگ کررہے تہے ”اذاخرجت زینب“ کہ جب جناب زینب خیمہ سے نکل آئیں اورفرمایا کاش آسمان زمین پرگرپڑتا اے عمرسعد تودیکھ رہا ہے اورعبداللہ قتل کئے جارہے ہیں ،یہ سن کرعمرسعد روپڑا،آنسوڈاڑھی پربہنے لگے ،اوراس نے منہ پھیرلیا، امام حسین (ع) اس وقت خزکاجبہ پہنے ہوئے تہے سرپرعمامہ باندھاہواتھا اوروسمہ کاخضاب لگائے ہوئے تہے ،حسین نے گہوڑے سے گرکر بھی اسی طرح جنگ فرمائی جس طرح جنگ جوبہادرسوارجنگ کرتے ہیں تیروں کامقابلہ کرتے تہے حملوں کوروکتے تہے اورسواورں کے پیروں پرحملہ کرتے تہے اورکہتے تہے ، اے ظالمو! میرے قتل پرتم نے ایکاکرلیاہے قسم خداکی تم میرے قتل سے ایساگناہ کررہے ہوجس کے بعدکسی کے قتل سے بھی اتنے گنہگارنہ ہوگے تم مجہے ذلیل کررہے ہواورخدامجہے عزت دے رہاہے اورسنو وہ دن دورنہیں کہ میراخدا تم سے اچانک میرابدلہ لے گا،تمہیں تباہ کردے گا تمھاراخون بہائے گاتمہیں سخت عذاب میں مبتلاکرے گا۔(تاریخ کامل جلد ۴ ص ۴۰) ۔

مسٹرجسٹس کارکرن امام حسین (ع) کی بہادری کاذکرکرتے ہوئے واقعہ کربلاکے حوالے سے لکہتے ہیں کہ ”دنیامیں رستم کانام بہادری میں مشہور ہے لیکن کئی شخص ایسے گزرے گئے ہیں کہ ان کے سامنے رستم کانام لینے کے قابل نہیں ،چنانچہ اول درجہ میں حسین بن علی ہیں کیونکہ میدان کربلامیں گرم ریت پر اورگرسنگی میں جس شخص نے ایساایساکام کیاہو،اس کے سامنے رستم کانام وہی شخص لیتاہے جوتاریخ سے واقف نہیں ہے کسی کے قلم کوقدرت ہے کہ امام حسین (ع) کاحال لکہے کس کی زبان میں طاقت ہے کہ ان بہتربزرگواروں کی ثبات قدمی اورتہوروشجاعت اورہزاروں خونخوارسواروں کے جواب دینے اورایک ایک کے ہلاک ہوجانے کے باب میں ایسی مدح کرے جیسی ہونی چاہئے کس کے بس کی بات ہے جوان پرواقع ہونے والے حالات کاتصورکرسکے، لشکرمیں گھرجانے کے بعد سے شھادت تک کے حالات عجیب وغریب قسم کی بہادری کوپیش کرتے ہیں، یہ سچ ہے کہ ایک کی دوا، دو مشہور ہے اورمبالغہ کی یہی حدہے کہ جب کسی کے حال میں یہ کہاجاتاہے کہ تم نے چارطرف سے گھیرلیالیکن حسین اوربہترتن کوآٹھ قسم کے دشمنون نے تنگ کیاتھا چارطرف سے یزیدی فوج جوآندھی کی طرح تیربرسارہی تھی ،پانچواں دشمن عرب کی دہوپ ،چھٹادشمن ریگ گرم جوتنورکے ذرات کی مانندلودے رہی تھی ،اورساتواں اورآٹہواں دشمن بہوک اورپیاس جو دغاباز ہمراہی کے مانند جان لیوا حرکتیں کررہے تہے پس جنہوں نے ایسے معرکہ میں ہزاروں کافروں کامقابلہ کیا ہو ان پربہادری کاخاتمہ ہوچکا،ایسے لوگوں سے بہادری میں کوئی فوقیت نہیں رکہتا (تاریخ چین دفتردوم باب ۱۶ جلد ۲) ۔

امام حسین (ع) عرش زین سے فرش زمین پر

آپ پرمسلسل وارہوتے رہے تہے کہ ناگاہ ایک پتھرپیشانی اقدس پرلگا اس کے فورابعدابوالحتوف جعفی ملعون نے جبین مبارک پرتیرماراآپ نے اسے نکال کرپھینک دیااورپوچھنے کے لیے آپ اپنادامن اٹھاناہی چاہتے تہے کہ سینہ اقدس پرایک تیرسہ شعبہ پیوست ہوگیا،جوزہرمیں بجھاہواتھا اس کے بعدصالح ابن وہب لعین نے آپ کے پہلوپراپنی پوری طاقت سے ایک نیزہ مارا جس کی تاب نہ لاکرزمین گرم پرداہنے رخسارکے بل گرے، زمین پرگرنے کے بعدآپ پھرکھڑے ہوئے ورعہ ابن شریک لعین نے آپ کے داہنے شانے پرتلوارلگائی اوردوسرے ملعون نے داہنے طرف وارکیا آپ پھرزمین پرگرپڑے ، اتنے میں سنان بن انس نے حضرت کے ”ترقوہ“ ہنسلی پرنیزہ مارااوراس کوکھینچ کر دوسری دفعہ سینہ اقدس پرلگایا، پھراسی نے ایک تیرحضرت کے گلوئے مبارک پرمارا۔

ان پیہم ضربات سے حضرت کمال بے چینی میں اٹھ بیٹہے اورآپ نے تیرکواپنے ہاتہوں سے کھینچا اورخون ریش مبارک پرملا، اس کے بعدمالک بن نسرکندی لعین نے سرپرتلوارلگائی اوردرعہ ابن شریک نے شانہ پرتلوارکاوارکیا،حصین بن نمیرنے دہن اقدس پرتیرمارا،ابویوب غنوی نے حلق پرحملہ کیا نصربن حرشہ نے جسم پرتیرلگائی صالح ابن وہب نے سینہ مبارک پرنیزہ مارا۔

یہ دیکھ کرعمرسعدنے آوازدی اب دیرکیاہے ان کاسرکاٹ لو، سرکاٹنے کے لیے شیث ابن ربیع بڑھا، امام حسین (ع) نے اس کے چہرہ پرنظرکی اس نے حسین کی آنکہوں میں رسول اللہ کی تصویردیکھی اورکانپ اٹھا،پھرسنان ابن انس آگے بڑھا اس کے جسم میں رعشہ پڑگیا وہ بھی سرمبارک نہ کاٹ سکا یہ دیکہ کر شمرملعون نے کہا یہ کام صرف مجھ سے ہوسکتاہے اوروہ خنجرلیے ہوئے امام حسین (ع) کے قریب آکرسینہ مبارک پرسوارہوگیا آپ نے پوچھاتوکون ہے؟ اس نے کہامیں شمرہوں ،فرمایاتومجہے نہیں پہچانتا ،اس نے کہا،”اچہی طرح جانتاہوں“ تم علی وفاطمہ کے بیٹے اورمحمدکے نواسے ہو، آپ نے فرمایاپھرمجہے کیوں ذبح کرتاہے اس نے جواب دیا اس لیے کہ مجہے یزیدکی طرف سے مال ودولت ملے گا(کشف الغمہ ص ۷۹) ۔ اس کے بعدآپ نے اپنے دوستوں کویادفرمایا اورسلام آخری کے جملے اداکئے۔

جب آپ اس کی شقی القلبی کی وجہ سے مایوس ہوگئے توفرمانے لگے اے شمرمجہے اجازت دیدے کہ میں اپنے خالق کی آخری نمازاداکرلوں اس نے اجازت دی آپ سجدہ میں تشریف لے گئے (روضة الشہداء ص ۳۷۷)

اورشمرنے آپ کے گلومبارک کوخنجرکے بارہ ضربوں سے قطع کرکے سراقدس کونیزہ پربلندکردیاحضرت زینب خیمہ سے نکل پڑیں ،زمین کانپنے لگی، عالم میں تاریکی چھاگئی ،لوگوں کے بدن میں کپکپی پڑگئی،آسمان خون کے آنسو رونے لگا جو شفق کی صورت سے رہتی دنیاتک قائم رہے گا(صواعق محرقہ ص ۱۱۶) ۔

اس کے بعدعمرسعدنے خولی بن یزیداورحمیدبن مسلم کے ہاتہوں سرمبارک کربلاسے کوفہ ابن زیادکے پاس بھیج دیا (الحسین ازعمربن نصرص ۱۵۴) امام حسین (ع) کی سربریدگی کے بعدآپ کالباس لوٹاگیا،اخنس بن مرتدعمامہ لے گیا اسحاق ابن حشوہ قمیص،پیراہن لے گیا ،ابحربن کعب پاجامہ لے گیا اسودبن خالدنعلین لے گیاعبداللہ ابن اسیدکلاہ لے گیا،بجدل بن سلیم انگشتری لے گیا قیس بن اشعث پٹکا لے گیا عمربن سعد زرہ لے گیا جمیع بن خلق ازدی تلوارلے گیا اللہ رے ظلم، ایک کمربندکے لیے جمال معلون نے ہاتہ قطع کردیا ایک انگوٹھی کے لیے بجدل نے انگلی کاٹ ڈالی۔

اس کے بعددیگرشہداء کے سرکاٹے گئے اورلاشوں پرگہوڑے دوڑانے کے لیے عمرسعدنے لشکریوں کوحکم دیادس افراداس اہم جرم خدائی کے لیے تیارہوگئے جن کے نام یہ ہیں کہ اسحاق بن حویہ، اطنس بن مرثد، حکیم بن طفیل،عمروبن صبیح ،رجابن منقذ،سالم بن خثیمہ صالح بن وہب، واعظ بن تاغم ،ھانی مثبت،اسید بن مالک ،تورایخ میں ہے کہ ”فداسواالحسین بحوافرخیولھم حتی رضواظھرہ وصدرہ “ امام حسین (ع) کی لاش کواس طرح گہوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیاکہ آپ کاسینہ اورآپ کی پشت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی بعض مورخین کاکہناہے کہ جب ان لوگوں نے چاہاکہ جسم کواس طرح پامال کردیں کہ بالکل ناپیدہوجائے توجنگل سے ایک شیرنکلااوراس نے بچالیا (دمعة ساکبة ص ۳۵۰) علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ حضرت امام حسین (ع) علیہ السلام کی شھادت کے فورابعدوہ مٹی جورسول خدامدینہ میں ام سلمہ کودے گئے تہے خون ہوگئی (صواعق محرقہ ۱۱۵) اوررسول خدا،ام سلمہ کے خواب میں مدینے پہنچے ان کی حالت یہ تھی وہ بال بکھرائے ہوئے خاک سرپرڈالے ہوئے تہے ام سلمہ نے پوچھاکہ آپ کایہ کیاحال ہے؟ فرمایا”شہدت قتل الحسین انفا“ میں ابھی ابھی حسین کے قتل گاہ میں تھا اوراپنی آنکہوں سے اسے ذبح ہوتے ہوئے دیکھاہے (صحیح ترمذی جلد ۲ ص ۳۰۶ ،مستدرک حاکم جلد ۴ ص ۱۹ ،تہذیب التہذیب جلد ۲ ص ۳۵۶ ،ذخائرالعقبی ص ۱۴۸) ۔

امام حسین علیہ السلام کے مصائب

امام حسین علیہ السلام کے حامیوں میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا، "حبیب"، "زہیر"؛ "بریر" اور "حر" سمیت تمام اصحاب و انصار شہید ہوچکے ہیں اور "اکبر"، "قاسم"، "جعفر" اور دیگر جوانان بنی ہاشم – حتی کہ شش ماہہ علی اصغر (ع) اپنی جانیں اسلام پر نچھاور کر چکے ہیں، اور عباس، علمدار حسین، ساقی لب تشنگان، بے سر و بے دست ہو کر خیام اہل بیت (‏ع) سے دور گھوڑے سے اترے ہیں اور شہید ہوچکے ہیں۔

حسین علیہ السلام نے دائیں بائیں نظر دوڑائی، اس وسیع و عریض دشت میں، مگر آپ (ع) کو کوئی بھی نظر نہیں آیا۔ کوئی بھی نہ تھا جو امام (ع) کی حفاظت اور حرم رسول اللہ کے دفاع کے لئے جانبازی کرتا... جو تھے وہ اپنا فرض ادا کرچکے تھے... چنانچہ امام علیہ السلام خیام میں تشریف لائے، جانے کے لئے آئے تھے... بیبیوں سے وداع کا وقت آن پہنچا تھا... عجیب دلگداز منظر تھا، خواتین اور بچیوں نے مولا کے گرد حلقہ سا تشکیل دیا تھا... ہر کوئی کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کیسے بولے... کیا بولے...؟ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔

بیٹیاں زیادہ آسانی سے بول لیتی ہیں چنانچہ "سکینہ" آگے بڑھیں اور عرض کیا: "باباجان! کیا آپ نے موت کو قبول کیا اور دل رحیل کے سپرد کردیا؟" امام نے فرمایا: کیونکر موت قبول نہ کرے وہ آدمی جس کا نہ کوئی دوست ہے نہ کوئی حامی؟"۔ گریہ وبکاء کی صدا اٹھی... مگر امام رلانے کے لئے نہیں آئے تھے وقت کم تھا اور ایک بڑی امانت آپ کی پاس تھی جس كو اس کے اہل کے سپرد کرنا تھا... وصیت بھی کرنی تھی... چنانچہ امام نے سب کو وصیتیں کیں اور امامت کے ودائع و امانات اور انبیاء کی مواریث امام علی ابن الحسین علیہ السلام کے سپرد کردیں... ثانی زہراء سے کہا: نماز تہجد میں مجھے یاد رکھنا... یہ بھی امام کی ایک وصیت تھی... اور ہم جانتے ہیں کہ غل و زنجیر اور قید و بند کے با وجود ثانی زہراء نے کربلا سے شام تک "تہجد ترک نہ کیا"... یہ لوگ نماز کو زندہ رکھنے کے لئے ہی توآئے تھے کربلا میں اور نماز کی برپائی ہی کے لئے تو اسیری قبول کی تھی...

امام علیہ السلام روز عاشور مشیت الہی سے بیمار تھے شدت سے علیل تھے...ایک دو روز کے لئے... اس لئے کہ جہاد بیماروں پر فرض نہیں ہے اور اس لئے کہ امامت کا سلسلہ جاری رہنا ہے... امام حسین علیہ السلام نے ودائع امامت اور مواریث انبیاء امام سجاد علیہ السلام کے سپرد کرکے اطمینان خاطر کے ساتھ حرم رسول اللہ (ص) سے وداع کیا...

[امام سجاد روز عاشور بیمار تھے لیکن بیمار نہ رہے لیکن اموی تشہیراتی مشینری نے آپ (ع) کو بیمار کے نام سے مشہور کیا اور آج حتی کہ بعض پیروان اہل بیت (ع) بھی آپ (ع) کو بڑے فخر سے "عابد بیمار" کا عنوان دیتے ہیں جو سراسر غلط اور اموی طاغوتوں کی تشہیراتی مہم کا حصہ بننے کے مترادف ہے]۔

سیدالشہداء علیہ السلام تنہا تھے، تشنہ لب تھے، بھائیوں، بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں، رشتہ داروں، اصحاب اور انصار کے لاشے اٹھاچکے تھے عباس و اکبر کی جدائی کا غم سہہ چکے تھے مگر یہاں ان ہزاروں دشمنوں کے خلاف علی وار وارد کارزار ہوئے میمنہ اور میسرہ کو نشانہ بنایا قلب لشکر یزید پر حملے کئے اور رجز پڑھتے رہے:

الموت اولی من رکوب العار

والعار اولی من دخول النار

موت عار و ننگ قبول کرنے سے بہتر ہے

اور عار و ننگ دوزخ کی آگ سے بہتر ہے

اور اس کے بعد میسرہ (بائیں جناح) پر حملہ کرکے رجز کو جاری رکھتے:

انا الحسین بن علی

آلیت ان لا انثنی

احمی عیالات ابی

امضی علی دین النبی

یعنی:

میں حسین ہوں علی کا بیٹا

کبھی بھی ساز باز نہ کروں گا

اپنے والد کی حریم (دین خداوندی) کا دفاع کرونگا

اور اپنے جد رسول اللہ (ص) کے دین پر استوار ہوں

ایک کوفی نے یوں روایت کی ہے:

"میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی کو جس پر اتنا بڑا لشکر حملہ کرے اور اس کے انصار اور بیٹے بھی قتل ہوئے ہوں اور وہ پھر بھی اتنا جری اور شجاع ہو۔ سپاہ یزید کے دستے ان پر ٹوٹ پڑتے مگر آپ (ع) شمشیر کے ذریعے ان پر حملہ کرتے اور لشکر یزید کو بکریوں کے ریوڑ کی مانند – جس پر شیر حملہ آور ہوا – دائیں بائیں جانب بھگاتے اور تھتربھتر کرتے۔ اور پھر اپنی جگہ لوٹ آتے اور تلاوت فرماتے: "لاحول و لا قوة ال باللہ العلی العظیم" ... شهید مطهری فرماتی هین که "امام حسین علیہ السلام نے خیموں کے قریب ایک نقطہ معین کیا تھا اور حملہ کرکے وہیں واپس آجاتے تهے کیوں کہ وہ خیموں سے دور نہیں جانا چاہتے تھے... یہ آپ (ع) کی غیرت کا تقاضا تھا..."

تاریخی منابع میں ہے کہ فرزند حیدر و صفدر حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں دوہزار یزیدی فوجیوں کو واصل جہنم کیا۔ عمر سعد نے خطرے کا احساس کرلیا کہنے لگا اپنے لشکریوں سے: وائے ہو تم پر! کیا تم جانتے ہو کہ کس کے خلاف لڑرہے ہو؟ یہ عرب کے بہادر پہلوانوں کو ہلاک کردینے والے علی ابن ابیطالب کا بیٹا ہے۔ یکبارگی کے ساتھ چاروں جانب سے حملہ کرو"۔ عمر نے چارہزار تیراندازوں کو حکم دیا کہ امام علیہ السلام پر چاروں جانب سے تیر پھینکیں اور بعض اشقیاء نے پتھروں سے آپ (ع) پر حملہ کیا۔

بعض روایات میں ہے کہ اتنے تیر جسم امام علیہ السلام کو لگے تھے کہ امام کا بدن سیہ کی طرح ہوچکا تھا۔ (جس کی کھال کانٹوں سے پر ہوتی ہے) اور شہادت کے بعد بدن مبارک پر زخموں کی گنتی ہوئی تو ہزار زخم اس جسم نازنین پر موجود تھے جن میں سے 32 زخم تیروں کے سوا دیگر ہتھیاروں کے تھے۔ امام علیہ السلام تھکے ماندے،مجروح اور پیاسے تھے۔ سستانے کے لئے لمحہ بھر رک گئے مگر دشمن بہت ہی نامرد دشمن تھا ... ایک دشمن نے پتھر اٹھا کر جبین مبارک کو مارا، جبین امام (ع) سے خون جاری ہوا تو امام نے کرتے کے دامن سے خون پونچھا ہاتھ جبین پر ہی تھا کہ ایک سہ شعبہ تیر زیر بغل لگا (کہا جاتا ہے کہ یہ تیر بھی حرملہ نے پھینکا تھا) تیر زہرآلود تھا اور اس کا نشانہ امام علیہ السلام کا قلب و سینہ تھا... امام علیہ السلام نے فرمایا: "بسم اللہ و باللہ وعلی ملة رسول اللہ" اور سر آسمان کی جانب اٹھایا اور بارگاہ خداوندی میں مناجات کی: "خدایا تو جانتا ہے کہ یہ قوم ایک ایسے انسان کو قتل کررہی ہے جس کے سوا کوئی اور فرزند نبی (ص) نہیں ہے"۔ امام نے تیر اپنی پشت کی جانب سی سے نکال لیا۔ پرنالے کی طرح خون جاری ہوا امام نے اپنے ہاتھوں میں خون اٹھایا اور آسمان کی جانب اچھالا اور کوردل حاضرین نے دیکھا کہ وہ خون زمین پر واپس نہیں آیا اور اسی لمحے کربلا کا آسمان سرخ ہوگیا۔ اس کے بعد دوسری مرتبہ اسی خون سے ہاتھ بھر دیئے اور چہرہ مبارک پر مل دیئے اور فرمایا: "میں خضاب خون سے رنگی ہوئی داڑھی کے ساتھ اپنے جد رسول اللہ صلی اللہ (ص) کی ملاقات کو جاؤں گا اور رسول اللہ کی عدالت میں ان لوگوں کی شکایت کروں گا"۔

دشمن کے بعض پیدل دستوں نے امام علیہ السلام کے گرد گھیرا ڈالا۔ ایک یزیدی نے رسول اللہ کے فرزند کے سر کو شمشیر کا نشانہ بنایا تو امام کا خود ٹوٹ گیا اور وار نے سرمبارک کو زخمی کیا اور خون جاری ہوگیا۔ اسی وقت شمر ملعون نے کچھ یزیدیوں کو لے کر خیموں کا رخ کیا۔ شمر خیموں کو آگ لگانا چاہتا تھا کہ امام (ع) نے سر اٹھایا اور وہ تاریخی جملہ ادا کیا:

"ان لم یکن لکم دین و لاتخافون المعاد فکونوا احرارا فی دنیاکم = اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے اور تم قیامت کے حساب و کتاب سے نہیں ڈرتے تو کم از کم اپنی دنیا میں آزاد اور جوانمرد رہو"۔

امام علیہ السلام نے یزیدی افسروں سے خطاب کرکے فرمایا: "میرے اہل و عیال کو اپنے رذیلوں، بے عقلوں اور سرکشوں سے بچا کر رکھنا" "شبث نک ربعی" جلدی سے شمرکے پاس پہنچا اور غصے کے ساتھ اسے خیموں کو متعرض ہونے سے خبردار کیا... شمر گویا کہ نادم ہوا اور اپنے سپاہیوں کو حرم سے دور کرکے کہا: "حسین کی جانب چلے جاؤ کہ ہمیں یہاں ایک عظیم القدر اور جوانمرد حریف کا سامنا ہے"۔

اسی اثناء میں امام حسن علیہ السلام کا نابالغ فرزند عبداللہ بن حسن چچا کے دفاع کے لئے خیموں سے نکلا اور امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا مگر یزیدی اشقیاء نے انہیں بھی شہید کردیا (عبداللہ بن حسن (ع) کی شہادت کا واقعہ پانچویں مجلس میں بیان ہوچکا ہے) یہ وہ وقت تھا جب امام حسین علیہ السلام نے ہل من ناصر کی ندا دی تھی اور امت کے تمام افراد پر اتمام حجت کیا تھا...

سپاہ یزید امام حسین علیہ السلام کے قریب آگئے۔ گھیرا تنگ سے تنگ تر ہوتا گیا۔

"زرعة بن شریک" نے امام حسین علیہ السلام کے بائیں ہاتھ پر وار کیا اور دوسرے یزیدی نے پیچھے سے آکر آپ کے دائیں شانے پر تلوار کا زخم لگایا اس ضرب کی سنگینی کی وجہ سے امام (ع) چہرے کے بل زمین پر گر گئے۔ یہ دو ملعون پیچھے ہٹے جبکہ امام علیہ السلام کمزور ہوچکے تھے اور بمشکل اٹھ کر بیٹھ جاتے مگر سنبھل نہیں سکتے تھے اس حال میں "سنان بن انس" نامی ملعون نے نیزہ آپ کی پشت پر رسید کیا اور نوک نیزہ سینے سے باہر نکلا۔ امام گودال قتلگاہ میں گر گئے اور اپنے رب کے ساتھ آخری راز و نیاز و مناجات کا آغاز کیا... حسین علیہ السلام کا چہرہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حسین تر و تازہ اور حسین و جمیل تر ہوتا گیا اور اس کی چمک میں اضافہ ہوتاگیا۔ راویوں نے لکھا ہے کہ ہم نے کسی بھی خون میں لت پت مقتول کو حسین علیہ السلام سے زیادہ خوبصورت و خوش سیما اور چمکتا دمکتا نہیں دیکھا تھا ... یہ راوی درحقیقت لشکر یزید کے سپاہی تھے...کہتے ہیں : ہم امام کو قتل کرنے کے لئے گئے تھے مگر ہم نے جب ان کے رخسار کی چمک اور چہرے کی خوبصورتی کا نظارہ کیا تو اپنے ارادے سے نادم ہوکر پیچھے ہٹ کر آئے۔ آپ (ع) کی ہیبت و عظمت نے قتل کا خیال ہمارے ذہن سے نکال دیا تھا"۔

یزیدی گماشتوں اور جلادوں نے بھوکے بھیڑیوں کی مانند امام علیہ السلام کے گرد گھیرا ڈالا تھا تا کہ بزعم خویش حق و حقیقت کو ہمیشہ کے لئے ذبح کردیں اور امام (ع) کا کام تمام کردیں۔

امام (ع) مسلسل تکبیر کا نعرہ لگاتے آئے تھے مگر اب تکبیر کی صدا خیموں میں نہیں آرہی تھی چنانچہ ثانی زہراء حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا خیموں سے باہر آئیں جبکہ فریاد کررہی تھیں: "وا اخاہ! وا سیداہ! وا اہل بیتاہ! اے کاش آسمان زمین پر آپڑتا! اے کاش پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر دشتوں میں منتشر ہوجاتے..."۔ سیدہ سلام اللہ علیہا گودال کے اوپر واقع ایک ٹیلے (تلّ زینبیہ) کے اوپر چلی گئیں اور انہوں نے اس دلخراش حادثے کا مشاہدہ کیا۔

سیدہ (س) نے قتل حسین (ع) کے لئے اکٹھے ہونے والے بھیڑیوں کو دیکھا تو عمر سعد کو پکار کر فرمایا: وائے ہو تم پر اے عمر! یہ لوگ اباعبداللہ کو قتل کررہے ہیں اور تم تماشا دیکھ رہے ہو!؟" عمر سعد کے چہرے پر آنسو جاری ہوئے مگر خاموش رہا اور سیدہ سے منہ پھیر لیا۔ سیدہ (س) نے یزیدی لشکر سے مخاطب ہوکر فرمایا: وائے ہو تم پر! کیا تمہارے درمیان کوئی مسلمان نہیں ہے؟" کون جواب دے سکتا تھا وہ جواب دیتے تو کیا کہتے... کیا وه مسلمانی کا دعوی کرسکتے تهے؟... سب خاموش رہے۔ شمر نے اپنے گماشتوں سے کہا: تم اس مرد کو انتظار کیوں کرا رہے ہو؟ وہ چاہتا تھا کہ ان ہی میں سے کوئی کام تمام کردے۔ ایک ملعون "خولی بن یزید اصبحی" گھوڑے سے اترا اور تیزی سے امام کے پاس آکر کھڑا ہوگیا تا کہ امام علیہ السلام کا سر تن سے جدا کردے مگر قریب پہنچا تو شدت سے لرز اٹھا اور اپنی نیت کو عملی جامہ نہ پہنا سکا۔ شمر نے کہا: "تیرے بازو کمزور و ناتوان ہوں! کانپ کیوں رہے ہو؟" اور اس کے بعد خود خنجر تھاما اور سنان بن انس کے ہمراہ امام کا سر جسم سے جدا کرنے کے لئے آگے بڑھا ...

(روایت میں ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام گودال قتلگاہ میں تھے تو ہلال پانی لانے گیا وہ امام (ع) کو پانی پلانا چاہتا تھا مگر جب پانی لے کر آیا اور گودال میں اترنے لگا تو شمر گودال سے لرزتا کانپتا خارج ہورہا تھا... ہلال سے کہنے لگا بس اب پانی کی ضرورت نہیں ہے... سر مبارک شمر کے دامن میں تھا... ہلال نے پوچھا: تم کیوں کانپ رہے ہو؟ شمر نے کہا: جب میں نے اپنا جرم انجام دیا تو گودال کے گوشے سے ایک بی بی کی صدا آئی: اے عزیز مادر اے جان مادر...۔

الا لعنة اللہ علی القوم الظالمین و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون

فارسی اشعار کا ترجمہ:

روز تاسوعا گذرگیا اور رات ہوئی

پیاسے جان بلب ہوئے

پانی بند تھا اور حرم بے تاب

بچے پانی کی راہ تک رہے تھے

سینے بے آبی سے کباب

تشنہ لبوں کا ورد تھا آب آب

گوکہ تشنگی سے لب نیلے پڑگئے تھے

ماؤں کو تشنگی کی فکر نہ تھی

مائیں بچوں کاماتم کررہی تھیں

دلبندوں کے ماتم میں قلوب مجروح تھے

فاطمہ زہرا (س) کے اسماعیلوں کی خاطر

ہاجروں کے پاس زمزم تو نہ تھا مگر دعا کر رہی تھیں

ماؤں کی آنکھیں درد سے بھری ہوئی تھیں

وہ (آئندہ) کل کے روز کے لئے اشک بہارہی تھیں

رباب کی پرخون آنکھیں اشکبار تھیں

پانی کے لئے بے تاب ششماہے کے لئے

ہائے اگر کل ماتم کے لمحے آجائیں

ان عزیزوں کا ایک بال بیکا ہوجائے

ہائے اگر کل اکبر کا سر قلم ہو

ہائے اگر خون خدا خون میں تڑپ اٹھے

اے سحر! رات کے بعد جلوہ گر نہ ہونا

اے فلک! دل زینب خون نہ کرنا

گردن زیر خنجر تھی مگر آنکھیں کھلی

آنسو رخسار پر حالت نماز میں ہیں

اشک ان کے خون رخسار دھورہے ہیں

اس فلک کو شرمندہ کررہے ہیں

مست بادہ تھے اور اشک تھے بادہ

کربلا کی گرم خاک تھی ان کا سجادہ

گودال میں سجدے اتنے کئے

کہ آنکھیں نیلی پڑگئیں

ایک پہلو شکستہ خاتون ساتھ بیٹھی ہے

کون ہو سکتی ہے خدایا یہ ان کی ماں کے سوا؟

ماں آئی ہے ان کی لیکن مضطر ہے

کیونکہ ان کے سوکھی گلے پر خنجر ہے

خنجر نے اتنے بوسے لئے اس گلے کے

کہ ماں کی صدا آسمانوں تک جاپہنچی

مرکزکی جانب سلطان ابرار لوٹ کر چلے

تاکہ کچھ لمحے رزم و پیکار سے دور آرام کریں

دست دشمن سے فلک نے پتھر جو پھینکا

وجہ اللہ احسن کی جبین کو پیار کیا اس نے

عشق ابدی کا چہرہ پرخون ہؤا

محمد (ص) کے چہرے کی مانند احد کے روز

شاہ نے دامن کرامت سے

خون جو پونچھنا چاہا اچانک

لشکرکی جانب سے الماس مانند ایک تیر

قلب شہ میں پر تک وارد ہوا

پناہگاہ اہل ایمان کی پشت سے

پیکان زہرآلود کا نوک، عیاں ہوا

منابع اصلی:

1. سید بن طاووس ؛ اللهوف فی قتلی الطفوف ؛ قم: منشورات الرضی، 1364 ۔

2۔ شیخ عباس قمی ؛ نفس المهموم ؛ ترجمه و تحقیق علامه ابوالحسن شعرانی ؛ قم: انتشارات ذوی‌القربی، 1378۔

http://www.shiaarticles.com/index.php/2011-11-25-17-33-27/508-2011-11-27...

Add new comment