زینب کبریٰ ؑ کی شہادت

سیدہ معصومہ نقوی
حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا پندرہ رجب المرجب سن باسٹھ ہجری کودرجہ شہادت پر فائز ہوئیں تاریخ اسلام کے تقدیر ساز معرکے میں اس عظیم الشان خاتون کاجاوداں کردار افق فضل و کمال پر آج بھی جگمگا رہا ہے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے پر شکوہ انقلاب کے ساتھ ثانئی زہرا کانام ہمیشہ کے لئے جڑ گیا ہے۔
تاریخ کربلا میں ہر ہر قدم پر جناب زینب کا مثالی کردار موجود ہے چاہے وہ بھائی کی آخری رخصت وجدائی کا دلخراش منظر ہو یا عصر عاشورہ کی تنہائی و بے بسی کی روداد ہو یا ظالم کے دربار میں حق و حقیقت کے دفاع کا مرحلہ ہو آپ کی بے مثال شخصیت تاریخ کے ہر دور اور ہر زمانے کے لئے نمونہ و اسوہ ہے۔
البتہ اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جناب زینب (س) مکتب اہل نبوت و ولایت کی ممتاز و عظیم اور منفرد و یگانہ نمونہ کامل بی بی حصرت فاطمہ زہرا کی آغوش کی پلی ہیں اور پیغمبر اسلام اور حضرت علی علیہ السلام جیسی الہی و آسمانی ہستیوں کے دامان فضیلت میں پروان چڑھی ہیں علم و عبادت ، عفت و تقویٰ ، فصاحت و بلاغت ، ثابت قدمی ، حق کا مخلصانہ دفاع ، عزت نفس اور وفاداری اس گرانقدر خاتون کے نمایاں صفات و کمالات میں شامل ہیں۔
جناب زینب ؓوہ پاکیزہ سیرت خاتون ہیں جو اپنے والد حضرت علیؓ اور اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا ؓ کی سیرت و گفتار پر صدق دل سے ایمان رکھتی تھیں اور اخلاق و آداب میں مہربان ، صادق اور مہذب و مو¿دب خاتون تھیں وہ دوسروں کی جان کی حفاظت کے لئے اپنی جان کو خطروں میں ڈال دیا کرتی تھیں اور تمام میدانوں میں دوسروں کو خود پر مقدم رکھتی تھیں۔ معرکہ کربلا میں آپ حتی کہ اپنے حصے کا پانی بھی نوش نہیں فرماتی تھیں بلکہ بچوں کو پلادیا کرتی تھیں۔ ایسے بحرانی حالات اورمصا ئب و آلام کے ماحول میں جہاں ہر انسان کے قدم متزلزل ہوجایا کرتے ہیں۔ جناب زینب ؓ ثابت قدم رہیں ، ظالموں اور جابروں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اورموقع و محل کے مطابق گوناگوں حالات میں بہترین کردار کامظاہرہ کیا۔آپ نے کبھی دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے عظیم خطبوں کے وار سے ان کے دلوں پر کاری ضربیں لگائیں تو کبھی، غمزدہ بیبیوں اور بچوں کی تسکین کے لئے نرم ومہربان مشفقانہ لہجے میں دلجوئی کی اور امام وقت سید سجاد ؓ زین العابدین کی جان کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں جلتے ہوئے شعلوں سے نکال کر امام حسین کے بعدحسینی انقلاب کی قیادت و پاسبانی کے فرائض ادا کئے اور ایسے خطرناک مراحل میں صرف خداوند عالم سے مدد طلب کی۔ آپ نے کربلا سے کوفہ اورکوفہ سے شام کے سفر کے دوران ظالم و جابر ستمگروں کے درباراور لوگوں کے ہجوم میں اپنے حکیمانہ خطبوں اور تقریروں سے کربلا کے انقلاب کوحیات نو عطاکی۔ خطبوں اور تقریروں کی فصاحت و بلاغت آپ کے علم و کمال کے ساتھ دیگرشخصی خصوصیتوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ خطابت کے علاوہ آپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ نے جگہ جگہ وقت و حالات کے مطابق بالکل صحیح و بجا مستحکم فیصلے کئے ہیں۔
حضرت زینب اس بات سے بخوبی واقف تھیں کہ کہاں پر نرم لہجے میں گفتگو کرنا ہے اور کہاں جوش و خروش کے ساتھ حماسہ آفریں تقریر کرنی ہے حضرت زینبؓ کی تاریخ شہادت کی مناسبت سے آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے ہم شہزادی عالم جناب زینب کبری ؓ کے تاریخ ساز خطبوں پر ایک طائرانہ نظرکرتے ہیں۔آپ کے ان خطبوں اور تقریروں میں آپ کی عظمت و قوت اور ایمان کی استقامت کے جوہر نمایاں ہیں۔
اسیری کے بعد جب جناب زینب دیگر اہل حرم کے ساتھ کوفہ و شام کے دربار میں ابن زیاد اور یزید لعین کے سامنے لائی گئیں تو آپ نے تو آپ نے بے مثال خطبے پیش کئے۔ یہ خطبے ایسے حالات میں دئیے گئے جب اہل بیت پیغمبر یزیدیوں کے زر خرید غلاموں کی قید میں اذیتوں کے سخت دور سے گزر رہے تھے اور دشمن اپنی پوری طاقت و توانائی صرف کرکے اپنے زعم ناقص میں انہیں معاذ اللہ ذلیل و خوار کرناچاہتے تھے لیکن جناب زینب ؓ نے اپنی شعلہ بار تقریروں سے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا اور ان کی نیندیں حرام کردیں۔ یہ خطبے اور تقریریں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ تمام مصائب وآلام ، جناب زینب کے پائے ثبات کو متزلزل کرنے میں ناتواں تھے ایسے سخت حالات میں ایک دلشکستہ وغمگین خاتون کے ذریعے دیئے گئے وعظ خطبے اور تقریریں مخصوص الہی امداد کے بغیر ممکن نہ تھیں اور یہ چیز جناب زینب ؓ کی کرامت میں شمار ہوتی ہے۔
جناب زینب ؓ کے خطبات ، دینی معارف سے مالامال ، اجتماعی پہلوو¿ں کی حامل حقیقتوں کے عکاس مطالب پر مشتمل تھے۔ جناب زینب ؓ جو خود مکتب وحی کی ایک ممتاز معلمہ ہیں ہمیشہ اپنے خطبے کا آغاز پرودگار عالم کے ذکر سے کرتی ہیں آپ خدا کی یاد میں اس قدر غرق تھیں کہ رضائے الہی کے مقابل تمام مصیبت و آلام کومعمولی تصور کرتی تھیں لہذا پوری جرات وشہامت اور خندہ پیشانی کے ساتھ اسے برداشت کیا اورراہ حق میں پیش آنے والی مصیبتوں کو بھی نعمت الہی تصور کیا۔ جب کوفہ کے گورنرابن زیاد نے آپ سے پوچھا کہ اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امرکو کیسا پایا تو آپ نے بڑے ہی اطمینان و یقین کے ساتھ جواب دیا : ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ انھیں مقتول دیکھے اوراب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کررہے ہیں ، عنقریب ہی خداوند عالم تمہیں اورانہیں قیامت کے دن محشور کرے گا پس تم لوگ اس دن کے بارے میں فکرکرو کہ اس دن حقیقت میں کون کامیاب ہوگا۔
یہ عظیم روحانی اقتدار ،جو دشمن کی ذلت و حقارت کا سبب بنا ہے خداکی جانب سے مدد و نصرت پر اعتماد واطمینان کا سرچشمہ ہے۔ گویا جناب زینبؓ نے اپنے کو خدا کی لازوال طاقتوں سے متصل کرلیا تھا۔
حضرت زینب ؓ معاشرے کی ہدایت و رہنمائی میں امام کے کردار اور مقام و منزلت سے بخوبی واقف تھیں اسی لئے واجب سمجھتی تھیں کہ اپنے بھائی امام حسین اور بھتیجے امام زین العابدین (ع) کے عظیم مقام کو اسلامی معاشرے میں امام و راہ بر کے اعتبار سے پہچانیں لہذا آپ نے کوفیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:تم لوگ فرزند پیغمبر، جوانان بہشت کے سردار امام حسین اور ان کے بچوں کے قتل سے اپنے دامن پر لگے ننگ و عار کے بدنما داغ کو کس طرح مٹاو¿ گے اس عظیم ہستی کے قتل کا داغ ،جو تمہارے لئے بہترین پناہ گاہ،امن و اتحاد کا علمبردار، تمہارے دین کا ذمہ دار اور شریعت کا پاسباں تھا "
حضرت زینب ؓ نے قرآنی مفاہیم پر کامل تسلط کی بنا ء پر اپنی تقریروں میں الہی آیات سے استفادہ کیا منجملہ ان کے آپ نے سورہ احزاب کی تینتیسویں آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خاندان اور اپنی مادرگرامی فاطمہ زہرا ؓ اوراپنے والد ماجد حضرت علی ؓ اور اپنے دونوں بھائیوں کی عصمت و طہارت کا اعلان کرتے ہوئے شجاعت و شہامت کے ساتھ فرمایا: اس خدا کا شکر جس نے ہمیں پیغمبر کے ذریعے شرف و کمال عطا کیا اور ہرطرح کے نجس سے پاک و پاکیزہ رکھا۔ اسی طرح آپ نے سورہ آل عمران کی ایک سو اٹھہترویں آیت کی تلاوت کرکے یزید لعین سے کہا :
تیری یہ عیش و عشرت کی زندگی جلد ہی ختم ہوجائے گی اور تیری یہ بادہ نوشی و مد ہوشی عارضی اور چند روزہ ہے۔
خدا وندعالم تجھ سے سخت مواخذہ کرے گا یہ دنیا اور اس کی زندگی گناہگاروں کے لئے مہلت ہے کہ وہ اپنے عذاب میں اور زیادہ اضافے کے لئے مواقع فراہم کریں۔
کربلا کی شیر دل خاتون نے بارہا اپنے خطبوں میں یزید و ابن زیاد کو ذلیل و خوار کیا اور ان کی کھل کر مذمت کی اور قران و اسلام سے ان کی دیرینہ دشمنیوں کو یاد دلایا۔
آپ نے خدا و پیغمبر کے خلاف ، یزید کی سرکشی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا " تونے اس کام کے ذریعے خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے اور پیغمبر اسلام ، قران اور احکام اسلامی کا انکار کیا۔
" اگر مصیبتوں ، پریشانیوں ، سختیوں اور موجودہ حالات نے ہمیں ایسی منزل پر لاکر کھڑا نہ کیا ہوتا کہ میں تجھ سے کلام کرنے پر مجبور ہوتی تو تجھ جیسے بدترین فاسق و فاجر سے کبھی بھی کلام نہ کرتی، میں تیرے ظاہری رعب و دبدبے کو تیری حقیقی حالت سے بہت زیادہ پست جانتی ہوں اور تجھ پر بہت زیادہ لعنت بھیجتی ہوں۔
حق کی باطل پر کامیابی ایک ایسی سنت الہیہ ہے جو جناب زینب ؓ کے خطبات اور تقریروں میں پوری طرح حکمراں تھے۔ جناب زینب کے کلام سے یہ بات صاف طور پرظاہر ہوتی ہے کہ باطل اگر چہ ممکن ہے ظاہری کامیابی اور اقتدار پر قبضہ جما لے اور ایک دنیا پرست ظالم و جابر حکمراں اپنے جھوٹے جاہ وحشم اور اقتدار کی دھونس جما کر چند دنوں اپنا رعب و دبدبہ قائم کرلے لیکن بالآخر دنیا اور آخرت میں حق کو ہی کامیابی ملے گی۔
اسی بنیاد پر جو افراد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ آخری دم تک موجود رہے ہیں اور درجہ شہادت پرفائز ہوئے ہیں وہ زندہ جاوید ہیں۔
حضرت زینب ؓ نے یزید کو مخاطب کرتے ہوئے بھرے دربار میں فرمایا تھا:
اے یزید ، دنیا کی زندگی بہت ہی مختصر ہے اور تیری دولت اور عیش و عشرت کی زندگی اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح ہماری دنیوی مصیبتیں اور مشکلیں ختم ہوجاتی ہیں مگر کامیابی و کامرانی ہمارے ساتھ ہے کیونکہ حق ہمارے ساتھ ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد در اصل حضرت زینب نے حسینی پیغام کو دنیا والوں تک پہنچانا ایک دینی و الہی فریضہ تصور کیا اور اپنی خداداد فصاحت و بلاغت اور بے نظیر شجاعت و شہامت کے ذریعے ظلم و ستم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی۔ حضرت زینب (س) نے اپنی پاک و پاکیزہ زندگی کے دوران اہل بیت پیغمبر کے حقوق کا دفاع کیا اور کبھی اس بات کی اجازت نہ دی کہ دشمن، واقعہ کربلا سے ذاتی فائدہ اٹھا سکے ، جناب زینب ؓ کے خطبوں کی فصاحت وبلاغت اور انداز بیاں نے لوگوں کو آپ کے بابا علی مرتضی ؓکی یاد یں تازہ کردیں تھیں۔
اس عظیم خاتون نے الہی حقائق ایسے فصیح و بلیغ الفاظ میں بیان کئے جو ان کے عالمہ غیر معلمہ ہونے اور قرآن و سنت پر کامل دسترس پیدا کر لینے کو ظاہر کرتے تھے۔ چنانچہ عرب کے مشہور ومعروف ادیب جاحظ نے کسی کا قول ، کہ جس نے جناب زینب کے خطبوں اورتقریروں کو سنا تھا ، نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
میں حسین ابن علی کی شہادت کے بعد کوفہ میں داخل ہوا اس وقت زینب بنت علی ؓخطبہ دے رہی تھیں ہم نے آج تک اسیری کی حالت میں کسی بھی خاتون کو ان سے زیادہ فصیح و بلیغ خطبہ پیش کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے علیؓ خطبہ دے رہے ہوں۔
ہم محمد و آل محمد پر درودوسلام کے ساتھ ایک بار پھر حضرت زینب ؓ کو یوم شہادت پرآپ سب کی خدمت میں تسلی وتعزیت پیش کرتے ہیں۔

 

Add new comment