تھا کربلا کو ازل سے جو انتظارِ حُسین
تھا کربلا کو ازل سے جو انتظارِ حُسین
وہیں تمام ہوئے جملہ کاروبارِ حسین
دکانِ صدق نہ کھولو، اگر نہیں توفیق
کہ جاں چھڑک کے نکھرتا ہے کاروبارِ حسین
وہ ہر قیاس سے بالا، وہ ہر گماں سے بلند
درست ہی نہیں اندازۂ شمارِ حسین
کئی طریقے ہیں یزداں سے بات کرنے کے
نزولِ آیتِ تازہ ہے یادگارِ حسین
وفا سرشت بہتّر نفوس کی ٹولی
گئی تھی جوڑنے تاریخِ زرنگارِ حسین
عبدالحمید عدم
Add new comment