امیر المومنین [ع] کی چالیس احادیث، دنیا کے بارے میں
اسي پر اکتفا کرو جو تمہارے پاس ہے.
1. خُذ مِن الدُّنيا ما أَتاکَ، و تَوَلَّ عمَّا تَولّى عنک، فإن أنت لم تَفعل فأجمِل فى الطَّلَب.
(نهج البلاغه، حکمت)
دنيا سے اتنا ہي لے لو جتنا کہ تمہيں ملتا ہے اور جو تم سے روگرداني کرے اسے نظرانداز کرو اور اگر ايسا نہيں کرسکتے ہو تو کم از کم اپني خواہش کو کم کردو?
دنيا پرستي کا ثمرہ
2. إذا أقبلت الدّنيا على أحدٍ أعارته محاسن غيره، و اذا أدبرت عنه سلبته محاسن نفسه?
(مروج الذهب، ج ?، ص ???)
اگر دنيا کسي کي طرف رخ کرے تو وہ دوسروں کي خوبياں وقتي طور پر اس کو دے ديتي ہيں اور جب کسي سے منہ موڑتي ہے تو اس سے اپني خوبياں اور مراعات واپس لے ليتي ہيں?
دنيا کا طالب موت کو مطلوب
3? مَن طَلَبَ الدُّنيا طَلَبهُ المَوت حتّى يُخرِجَه عَنها، وَ مَن طلب الآخره طلبته الدّنيا حتّى يستوفى رزقه منها?
(العقد الفريد، ج ?، ص ???)
جو دنيا کے تعاقب ميں نکلے گا موت اس کا تعاقب کرتي ہے اور جو شخص آخرت کي طلب ميں نکلے گا دنيا اس کو طلب کرے گي اور اس کا رزق اس کو پہنچا دے گي?
ره آورد ترک آخرت به خاطر دنيا
4? لايترک الناس شيئاً من أمر دينهم لاستصلاح دنياهم الّا فتح اللّه عليهم ما هو أضرّ منه?
(نهج البلاغه، حکمت ???)
لوگ اپنے دين کي کسي چيز کو اپني دنيا کي خاطر ترک نہيں کرتے اور اگر ايسا کريں تو اللہ تعالي اس سے کہيں زيادہ نقصان دہ شيئے اس پر وارد کردے گا?
دنيا پريشاني کي لائق نهين
5? من أصبح على الدّنيا حزيناً فقد أصبح لقضاء اللّه ساخطاً و من لهج قلبه بحبّ الدنيا التاط قلبه منها بثلاثٍ: همّ لا يغبّه، و حرص لا يترکھ ، و أملٍ لا يدرکه?
(تذکره الخواص، ص ???)
جو شخص دنيا کي خاطر مغموم و محزون ہوتا ہے وہ درحقيقت خدا کي قضا و قدر سے ناخوشنود ہے اور جس کا دل دنيا کي محبت کے رشتے ميں منسلک ہے اس کا قلب تين چيزوں سے آلودہ ہوتا ہے: 1. ايسا غم و اندوہ جو اس سے کبھي جدا نہ ہوگا 2. ايسا حرص و لالچ جو اسے کبھي بھي تنہا نہ چھوڑے، 3. ايسي آرزو جس کو وہ کبھي بھي حاصل نہ کرسکے?
دنيا سانپ کي مانند
6? مثلُ الدُّنيا کَمَثَل الحَيَّهِ ، لَيِّنٌ مَسُّها ، وَ السَّمُّ الناقِعُ فى جَوفِها ، يَهوى إليها الغِرُّ الجاهل ، و يَحذَرُها ذواللُّب العاقِل?
(نهج البلاغه، حکمت ???)
دنيا سانپ کي مانند ہے، اس کو چھونا نرم اور ملائم ہے مگر اس کا باطن زہر بھرا ہے؛ چنانچہ جاہل فريب خوردہ شخص اس کي طرف مائل ہوجاتا ہے اور عاقل و ہوشيار شخص اس سے اجتناب کرتا ہے?
دنيا غدار غدار ہے دھوکے باز ہے
7? احذروا الدّنيا فإنّها غدّارةٌ غرّارةٌ خدوعٌ، معطيهٌ منوعٌ، ملبسهٌ نزوع، لايدوم رخاؤها، ولا ينقضى عناؤها، و لا يرکد بلاؤها?
(نهج البلاغه، خطبه ???)
دنيا کي چمک دمک سے ہوشيار رہو کيونکہ دنيا دھوکے باز، فريب کار اور غدار و مکار ہے، بخشتي ہے جبکہ محروم کرنے والي ہے؛ پہناوا ديتي ہے جبکہ برہنہ کردينے والي ہے؛ اس کا سکون عارضي اور اس کي مصيبتيں مسلسل ہيں جن کا سلسلہ منقطع نہيں ہوتا?
دنيا کے لئے اہتمام آخرت کا غم
8? مَن کانَتِ الدُّنيا هَمَّهُ کَثُرَ فى القيامهِ غَمُّه?
(شرح ابن ابى الحديد، ج ??، ص ???)
جس شخص کي ہمت دنا ہو روز قيامت غم کثير اس کي پاداش غم کثير ہے?
دنيا کے لئے اہتمام حسرت کا پيش خيمہ
9? مَن کانَتِ الدُّنيا هَمَّهُ اشتدّت حَسرَتُهُ عِندَ فِراقِها?
(مستدرک نهج البلاغه، ص ???)
جس شخص کي ہمت دنيا کے لئے ہو اس سے جدا ہوتے وقت اس کي حسرت شديد ہوگي?
دنيا کا شہد زہر ہے
10? الدُّنيا سَمٌّ يَأکُلُهُ مَن لا يَعرِفُه?
(غررالحکم، ج ?، ص ??)
دنيا مہلک زہر ہے جو اسے نہيں پہچانتا اسے کھا ليتا ہے?
دنيا پر مشغوليت خسارہ ہے
11? المَغبُونُ مَن شَغَلَ بِالدُّنيا، وَفاتَه حَظُّهُ مِن الآخره?
(غررالحکم، ج ?، ص ???)
نقصان اس شخص کا مقدر ہے جو دنيا پر مشغول ہو اور آخرت سے اس کو جو فائدہ ملنا تھا وہ ضائع ہوچکا ہے?
حب دنيا کا انجام
12? إيّاک و الوَلَهَ بالدُّنيا، فإنّها تُورِثُکَ الشَّقاءَ وَ البَلاء، و تَحدُوک على بَيعِ البَقاءِ بالفَناء?
(نهج البلاغه، خطبه ??)
دنيا کے شيدائي بننے سے بچ کر رہو، کيونکہ وہ تمہارے لئے بدبختي اور مصائب و آزمائشيں تمہارے دامن ميں ڈالتي ہے اور تمہيں بقاء کو فناء کے عوض بيچنے پر آمادہ کرتي ہے?
زہد اور انتظار موت کے فوائد
13ـ مَنْ زَهِدَ فِى الدُّنْيَا اسْتَهَانَ بِالْمُصِيبَاتِ وَ مَنِ ارْتَقَبَ الْمَوْتَ سَارَعَ إِلَى الْخَيْرَاتِ
(حکمت 31 نهج البلاغه)
وہ شخص جو دنيا ميں زہد و ترک دنيا پيشہ کرتا ہے مصيبت اور بلا کو آسان سمجھتا ہے اور جو شخص موت کا منتظر ہے تيزي کے ساتھ نيکيوں کي طرف دوڑتا ہے?
دنيا بعض لوگوں کے لئے اچھي ہے!
14? لَا خَيْرَ فِى الدُّنْيَا إِلَّا لِرَجُلَيْنِ رَجُلٍ أَذْنَبَ ذُنُوباً فَهُوَ يَتَدَارَكُهَا بِالتَّوْبَةِ وَ رَجُلٍ يُسَارِعُ فِى الْخَيْرَاتِ?
(حکمت 94 نهج البلاغه)
دنيا ميں دو قسم کے لوگوں کے سوا کسي کے لئے کوئي خير و نيکي نہيں ہے:
ايک وہ گنہگار جو توبہ کرکے گناہ کي تلافي کرتا ہے اور ايک وہ نيک عمل انسان جو نيکيوں ميں عجلت اور تيزرفتاري سے کام ليتا ہے?
دنيا آخرت کي دشمن ...
15? إِنَّ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةَ عَدُوَّانِ مُتَفَاوِتَانِ وَ سَبِيلَانِ مُخْتَلِفَانِ فَمَنْ أَحَبَّ الدُّنْيَا وَ تَوَلَّاهَا أَبْغَضَ الْآخِرَةَ وَ عَادَاهَا وَ هُمَا بِمَنْزِلَةِ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَاشٍ بَيْنَهُمَا كُلَّمَا قَرُبَ مِنْ وَاحِدٍ بَعُدَ مِنَ الْآخَرِ وَ هُمَا بَعْدُ ضَرَّتَانِ ?
(حکمت 103 نهج البلاغه)
(حرام) دنيا اور آخر دو مختلف دشمن اور دو الگ الگ راستے ہيں؛ پس جو اس کے عشق ميں مبتلا ہوا آخرت سے دشمني کرے گا اور اس کي نسبت کينہ رکھے گا اور يہ دو (دنيا اور آخرت) مشرق و مغرب کي مانند اور اس انسان کي طرح ہيں جو ان کے درميان چل رہا ہے جب ايک سے قريب تر ہوگا دوسري سے دورتر ہوجائے گا اور يہ دونوں تسلسل کے ساتھ ايک دوسرے کو نقصان پہنچانے والي ہيں?
ترک دنيا اور آخرت ميں رغبت کے ثمرات
16? يَا نَوْفُ طُوبَى لِلزَّاهِدِينَ فِى الدُّنْيَا الرَّاغِبِينَ فِى الْآخِرَةِ أُولَئِكَ قَوْمٌ اتَّخَذُوا الْأَرْضَ بِسَاطاً وَ تُرَابَهَا فِرَاشاً وَ مَاءَهَا طِيباً وَ الْقُرْآنَ شِعَاراً وَ الدُّعَاءَ دِثَاراً ثُمَّ قَرَضُوا الدُّنْيَا قَرْضاً عَلَى مِنْهَاجِ الْمَسِيحِ?
(حکمت 104 نهج البلاغه)
اے نوف ! خوشبخت ہيں وہ لوگ جنہوں نے دنيا پرستي سے آنکھيں پہيرليں اور آخرت کي جانب راغب ہوئے! وہ ايسے لوگ ہيں جنہوں نے زمين کو بستر، پاني کو خوشبو، قرآن کو اپنا شعار (نچلا لباس)، دعا کو اپنا اوپر والا لباس قرار ديا اور دنيا کے ساتھ عيسي مسيح عليہ السلام کا سا رويہ اپنايا?
آخرت کے فرزند بنو دنيا کے نہيں
17? كونوا من أبناء الآخرة و لا تكونوا من أبناء الدّنيا، فانّ كلّ ولد سيلحق بأمّه يوم القيامة.
(غررالحکم و درر الکلم جلد 1 ـ ص 42)
آخرت کے بيٹے بنو اور دنيا کے بيٹے مت بنو کيونکہ بتحقيق ہر فرزند قيامت کے روز اپني ماں کے ساتھ جاملے گا?
دنيا بقاء سے محروم
18? الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ وَ النَّاسُ فِيهَا رَجُلَانِ رَجُلٌ بَاعَ فِيهَا نَفْسَهُ فَأَوْبَقَهَا وَ رَجُلٌ ابْتَاعَ نَفْسَهُ فَأَعْتَقَهَا?
(حکمت 133 نهج البلاغه)
دنيا گذرنے کا راستہ (گذرگاہ) ہے باقي رہنے کي جگہ نہيں ہے اور اس ميں لوگوں کے دو گروہ ہيں: ايک گروہ نے اپنا سودا کرکے اپنے آپ کو تباہ کيا اور دوسرے گروہ نے اپنے آپ کو خريد کر آزاد کرديا?
ظہور مہدي آخرالزمان عليہ السلام کي خوشخبري:
دنيا آخر کار اہل بيت (ع) کي طرف رجوع کرے گي
19? لَتَعْطِفَنَّ الدُّنْيَا عَلَيْنَا بَعْدَ شِمَاسِهَا عَطْفَ الضَّرُوسِ عَلَى وَلَدِهَا وَ تَلَا عَقِيبَ ذَلِكَ وَ نُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِى الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوارِثِينَ ?
(حكمت 209 نهج البلاغه)
دنيا (ہمارے خلاف طويل) سرکشي کے بعد ہماري طرف رجوع کرے گي اس بدخو اونٹني کي طرح جو اپنے بچے پر مہربان ہوجاتي ہے? (اس کے بعد اميرالمؤمنين عليہ السلام نے اس آيت کي تلاوت فرمائي):
"اور ہم نے ارادہ کيا کہ روئے زمين پر مستضعف بنائے جانے والوں پر احسان کريں اور انہيں ائمہ اور وارث قرار ديں"?(القصص ـ 5)
ہوشيار رہو دنيا پرستي سے
20? قد اصبحتم في زمن لا يزداد الخير فيه الا ادبارا ، و لا الشر الا اقبالا و لا الشيطان في هلاک الناس الا طمعا فهذا اوان قويت عدته و عمت مکيدته و امکنت فريسته. اضرب بطرفک حيث شئت من الناس فهل تبصر الا فقيرا يکابد فقرا او غنيا بدل نعمة الله کفرا او بخيلا اتخذ البخل بحق الله » فرا او متمردا کان باذنه عن سمع المواعظ و قرا . اين خيارکم و صلحاؤکم و اين احرارکم و سمحاؤکم ؟ و اين المتورعون في مکاسبهم و المتنزهون في مذاهبهم ؟
(خطبه خطبه 127 نهج البلاغه)
''بے شک تم ايسے زمانے سے گذر رہے ہو کہ جس ميں بھلائي اور خير و نيکي کے قدم پيچھے ہٹ رہے ہيں اور بدي آگے بڑھ کر آرہي ہے اور لوگوں کو تباہي سے دوچار کرنے پر شيطان کي حرص ہر لمحہ بڑھ رہي ہے. چنانچہ يہي وہ وقت کہ اس کے (ہتھکنڈوں) کا سروسامان مضبوط ہوچکا ہے اور اس کي سازشل پھيل رہي ہيں اور اس کے شکار آساني سے پھنس رہے ہيں? جدھر چاہو لوگوں پر نگاہ ڈوراؤ کيا تمہيں اس فقير کے سوا کوئي نظر آرہا ہے جو فقر و فاقہ جھيل رہا ہے؟ يا وہ دولت مند شخص جو اللہ کي نعمت کو کفران نعمت ميں بدل رہا ہے يا وہ بخيل جو اللہ کا حق دبا کر مال بڑھا رہا ہے ايا وہ سرکش جو پند و نصيحت سے کان بند کئے پڑا ہے؟ کہاں ہيں تمہارے نيک اور صالح افراد اور کہاں ہيں تمہارے عالي حوصلہ اور کريم النفس لوگ؟ کہاں ہيں کاروبار ميں (دغا و فريب سے) بچنے والے اور اپنے طور طريقوں ميں پاک و پاکيزہ رہنے والے؟
دنيا کي تلخي آخرت کي شيريني اور...
21? مَرَارَةُ الدُّنْيَا حَلَاوَةُ الْآخِرَةِ وَ حَلَاوَةُ الدُّنْيَا مَرَارَةُ الْآخِرَةِ ?
(حکمت 251 نهج البلاغه)
دنيا کي تلخي آخرت کي شيريني اور دنيا کي شيريني آخرت کي تلخي ہے?
دنيا کے ساتھ کيسا رويہ اپنائيں؟
22? النَّاسُ فِى الدُّنْيَا عَامِلَانِ عَامِلٌ عَمِلَ فِى الدُّنْيَا لِلدُّنْيَا قَدْ شَغَلَتْهُ دُنْيَاهُ عَنْ آخِرَتِهِ يَخْشَى عَلَى مَنْ يَخْلُفُهُ الْفَقْرَ وَ يَأْمَنُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَيُفْنِى عُمُرَهُ فِى مَنْفَعَةِ غَيْرِهِ وَ عَامِلٌ عَمِلَ فِى الدُّنْيَا لِمَا بَعْدَهَا فَجَاءَهُ الَّذِى لَهُ مِنَ الدُّنْيَا بِغَيْرِ عَمَلٍ فَأَحْرَزَ الْحَظَّيْنِ مَعاً وَ مَلَكَ الدَّارَيْنِ جَمِيعاً فَأَصْبَحَ وَجِيهاً عِنْدَ اللَّهِ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ حَاجَةً فَيَمْنَعُهُ ?
(حكمت 269 نهج البلاغه)
لوگ دنيا ميں دو گروہوں ميں بٹے ہوئے ہيں: ايک گروہ وہ ہے جس نے دنيا کے لئے کوشش و محنت کي اور دنيا نے اس کو آخرت سے باز رکھا؛ وہ اپنے پسماندگان کي غربت سے خائف ہے اور خود غربت سے محفوظ ہے؛ يہ گروہ اپني زندگاني کو دوسروں کے مفاد ميں ضائع کرديتا ہے?
اور دوسرا گروہ وہ ہے جو دنيا ميں آخرت کے لئے کار و کوشش کرتا ہے اور دنيا کي نعمتيں بھي محنت کے بغير اس کي طرف دوڑ کر آتي ہيں، پس اس نے دونوں دنياؤں سے نفع حاصل کي اور دونوں جہانوں کا مالک بن گيا وہ اللہ کي بارگاہ ميں آبرومند ہوکر صبح کرليتا ہے اور اللہ سے جو بھي درخواست کرے برآوردہ ہوجاتي ہے?
دنيا کا دوست اس کا بيٹا
23? النَّاسُ أَبْنَاءُ الدُّنْيَا وَ لَا يُلَامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ أُمِّهِ ?
(حكمت 303 نهج البلاغه)
(دنيا پرست) لوگ دنيا کے فرزند ہيں اور کسي پر بھي ماں سے محبت کرنے کے واسطے ملامت نہيں کي جاتي?
انسان کامل کا عملي نمونہ
24? مَنْ أَكْثَرَ مِنْ ذِكْرِ الْمَوْتِ رَضِيَ مِنَ الدُّنْيَا بِالْيَسِيرِ وَ مَنْ عَلِمَ أَنَّ كَلَامَهُ مِنْ عَمَلِهِ قَلَّ كَلَامُهُ إِلَّا فِيمَا يَعْنِيهِ?
(حكمت 349 نهج البلاغه)
جو شخص موت کو زيادہ ياد کرتا ہے دنيا ميں قليل ترين پر راضي ہے اور جو شخص جان لے کہ اس کي گفتار بھي اس کے اعمال کا حصہ ہے وہ ضرورت سے زيادہ نہ بولے گا?
خودسازي کا راستہ
25? يَا أَسْرَى الرَّغْبَةِ أَقْصِرُوا فَإِنَّ الْمُعَرِّجَ عَلَى الدُّنْيَا لَا يَرُوعُهُ مِنْهَا إِلَّا صَرِيفُ أَنْيَابِ الْحِدْثَانِ أَيُّهَا النَّاسُ تَوَلَّوْا مِنْ أَنْفُسِكُمْ تَأْدِيبَهَا وَ اعْدِلُوا بِهَا عَنْ ضَرَاوَةِ عَادَاتِهَا ?
(حكمت 359 نهج البلاغه)
اے آرزوؤں کے اسيرو! بس کرو! کيونکہ دنيا کے مقامات و مراتب کے مالک لوگوں کو صرف زمانے کے حوادث کے دانت خوفزدہ کرديتے ہيں؛ اے لوگو! اپني تربيت (خودسازي) کا ذمہ داري خود سنبھالو اور اپنے نفس کو ان عادتوں سے لوٹا دو جن پر وہ (نفس) حريص ہے?
دنيا کي فصل اور آخرت کي فصل
26? إنَّ الْمَالَ وَ الْبَنِينَ حَرْثُ الدُّنْيَا وَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ حَرْثُ الْآخِرَةِ.
(خطبه 23 نهج البلاغه)
دولت اور فرزند دنيا کي فصل ہيں اور عمل صالح آخرت کي فصل ہے?
دنيا کي قدر و قيمت اور اسلاف سي عبرت ليني کي ضرورت
27? فَلْتَكُنِ الدُّنْيَا اءَصْغَرَ فِي اءَعْيُنِكُمْ اءَصْغَرَ مِنْ حُثَالَةِ الْقَرَظِ، وَ قُرَاضَةِ الْجَلَمِ، وَ اتَّعِظُوا بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، قَبْلَ أَن يَتَّعِظَ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَ ارْفُضُوها ذَمِيمَةً فَإ نَّهَا قَدْ رَفَضَتْ مَنْ كانَ اءَشْغَفَ بِها مِنْكُمْ?
(خطبه 32 نهج البلاغه)
دنيا تمہاري آنکھوں ميں قرظو (يعني قينچي سے گرنے والے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں) سے بھي زيادہ بے قدر و قيمت ہوني چاہئے؛ گذرے ہوئے لوگوں سے سبق حاصل کرو اس سے پہلے کہ تم خود آئندہ نسلوں کے لئے عبرت بنو? دنيا کو ملوم و مذموم قرار دے کر ترک کردو کيونکہ دنيا نے ان لوگوں کو بھي اپنے سے دور کرديا ہے جو تم سے بھي زيادہ اس کے عاشق و شيدائي تھے?
ترک گناہ توبہ سے آسان تر
28. تَرْكُ الْخَطِيئَةِ أَيْسَرُ مِنْ طَلَبِ التَّوْبَةِ وَ كَمْ مِنْ شَهْوَةِ سَاعَةٍ أَوْرَثَتْ حُزْناً طَوِيلًا وَ الْمَوْتُ فَضَحَ الدُّنْيَا فَلَمْ يَتْرُكْ لِذِي لُبٍّ فَرَحاً
(اصول كافى جلد 4 صفحه : 188 رواية : 1)
خطائيں ترک کرنا توبہ مانگنے سے آسان ہے اور بسا اوقات لمحہ بھر شہوت پرستي طويل غم و حزن کا سبب ہے اور موت نے دنيا کو رسوا کرديا ہے اور اس نے کسي بھي عقلمند شخص کے لئے شادماني نہيں چھوڑي ہے?
دنيا کي فنا اور ناپائيداري
29? وَ الدُّنْيَا دَارٌ مُنِيَ لَها الْفَناءُ، وَ لِاءَهْلِها مِنْهَا الْجَلاَءُ، وَ هِيَ حُلْوَةٌ خَضْرَهٌ، وَ قَدْ عَجِلَتْ لِلطَّالِبِ، وَ الْتَبَسَتْ بِقَلْبِ النَّاظِرِ، فَارْتَحِلُوا مِنْها بِاءَحْسَنِ ما بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ، وَ لا تَسْاءَلُوا فِيها فَوْقَ الْكَفَافِ، وَ لا تَطْلُبُوا مِنْهَا اءَكْثَرَ مِنَ الْبَلاَغِ?
(خطبه 45 نهج البلاغه)
اور دنيا ايک سرائے ہے جس کا مقدر فنا اور ناپائيداري ہے؛ اس ميں رہنے والے اس سے رخت سفر باندھ ليں گے? شيريں و گوارا بھي ہے سبز و خرم بھي ہے اپنے خواہشمندوں کو جلد پاليتي ہے اور اپنے اوپر نظر رکھنے والوں کا دل جلدي موہ ليتي ہے? ((())) پس تم جس حد تک ميسر ہو سفر کے لئے خرچ اٹھاؤ اور سفر کي راہ پر گامزن ہوجاؤ؛ دنيا ميں اس سے زيادہ کي خواہش نہ کرو جتنا کہ تمہارے لئے کافي ہے اور جتنا کچھ اس نے تمہيں ديا ہے اس سے زيادہ مت مانگو?
دنيا نے تم سے منہ موڑ ليا ہے
30? اءَلاَ وَ إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ تَصَرَّمَتْ وَ آذَنَتْ بِانْقِضَاءٍ وَ تَنَكَّرَ مَعْرُوفُهَا وَ اءَدْبَرَتْ حَذَّاءَ فَهِىَ تَحْفِزُ بِالْفَنَاءِ سُكَّانَهَا وَ تَحْدُو بِالْمَوْتِ جِيرَانَهَا وَ قَدْ اءَمَرَّ فِيهَا مَا كَانَ حُلْوا وَ كَدِرَ مِنْهَا مَا كَانَ صَفْوا فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلا سَمَلَةٌ كَسَمَلَةِ الْإِدَاوَةِ اءَوْ جُرْعَةٌ كَجُرْعَةِ الْمَقْلَةِ لَوْ تَمَزَّزَهَا الصَّدْيَانُ لَمْ يَنْقَعْ فَاءَزْمِعُوا عِبَادَ اللَّهِ الرَّحِيلَ عَنْ هَذِهِ الدَّارِ الْمَقْدُورِ عَلَى اءَهْلِهَا الزَّوَالُ وَ لاَ يَغْلِبَنَّكُمْ فِيهَا الْاءَمَلُ وَ لاَ يَطُولَنَّ عَلَيْكُمْ فِيهَا الْاءَمَدُ?
(خطبه 52 نهج البلاغه)
جان لو کہ دنيا اپنا پيوند منقطع کرچکي ہے اور چلے جانے پر بضد ہے اور اس نے وداع کي صدا اٹھا رکھي ہے اس کي خوشيوں نے دوسرا لباس زيب تن کيا ہے? ہاں! دنيا نے منہ موڑ ليا ہے اور تيزي کے ساتھ جارہي ہے اور اپنے ساکنين کو فنا کي طرف ہانک رہي ہے اور اپنے پڑوسيوں کو موت کي وادي ميں دھکيل رہي ہے? اس کا شہد زہر ميں تبديل ہوگيا ہے اور اس کي شفافيت تيرگي ميں تبديل ہوئي ہے؛ اس سے تہہ ماندہ (((()))) کے سوا کچھ بھي باقي نہيں رہا ہے اس قطرے کے برابر جو مشک کي تہہ ميں باقي بچا ہے جس کو اگر جام ميں ڈال ديا جائے اور جام ميں پڑے ہوئے ريت کے ايک ذرے کو بھگو ديتا ہے اور اگر پياسا شخص اس کو چوس لے تو اس کي پياس نہيں بجھتي? اے بندگان خدا! عزم سفر کرو اس سرائے سے جس کے باشندوں کا مقدر زوال ہے? خبردار کہيں اس سرائے فاني ميں نفساني خواہشات سے دوچار نہ ہوجانا اور کبھي بھي مت سمجھنا کہ تمہاري زندگي اس ميں زيادہ عرصے تک طول نہيں کھينچے گي?
دنيا اتفاقيہ آخرت استحقاقيہ
31- احوال الدنيا تتبع الاتفاق و احوال الاخرة تتبع الاستحقاق.
(غرر الحكم: 2036)
دنيا کے حالات اتفاق (واقعات و حوادث) کے تابع ہيں جبکہ آخرت کے حالات استحقاق اور لياقت کے تابع ہيں?
حرص دنيا اور حرص آخرت کا انجام
32- من حرص على الاخرة ملك، من حرص على الدنيا هلك.
(غرر الحكم: (8441 ـ 8442)?
جو شخص آخرت پر حريص ہوگا اسے حاصل کرلے گا اور جو دنيا کے حرص ميں مبتلا ہوگا نيست و نابود ہوجائے گا?
دنيا بدبختوں کي آرزو
33- الدنيا منية الاشقياء، الاخرة فوزالسعداء.
(غرر الحكم: (694 ـ 695))?
دنيا اشقياء اور بدبختوں کي آرزو ہے اور آخرت سعادتمندوں اور خوشبخت انسانوں کي کاميابي ہے?
دنيا تمہارے قدم چھومے
34- عليك بالآخرة تأتك الدنياصاغرة
(غرر الحكم: 6080)
آخرت کا دامن تھام لو، دنيا خوار ہوکر تمہارے قدم چھومے گي?
آخرت کے لئے آمادگي کي ضرورت
35- استعدوا ليوم تشخص فيه الابصار، وتتدله لهوله العقول، وتتبلد البصائر.
(غرر الحكم:2573)
اس دن کے لئے تياري کرو جب انسانوں کي آنکھيں کھلي کي کھلي رہيں گي اور عقليں دہشت و خوف سے ناکارہ ہونگي اور ذہانت و ذکاوت کندذہني ميں تبديل ہوگي?
دنيا منقطع اور آخرت قريب
36- ان الدنيا منقطعة عنك، والاخرة قريبة منك.
(نهج البلاغة خط نمبر 32)
بے شک دنيا تم سے جدا ہونے والي ہے اور آخرت تمہارے قريب ہے?
فرصت نہيں سفرخرچ اٹھا کر چلو
37- اجعلوا اجتهادكم فيها التزود من يومها القصير ليوم الاخرة الطويل، فانها دار عمل،والاخرة دار القرار والجزاء
(نهج السعادة: 3 / 150)
اس (دنيا) ميں ـ جس کا دورانيہ قليل المدت ہے ـ اپني کوششوں کو آخرت کے لئے ـ جس کي مدت بہت طويل ہے ـ خرچہ کمانے کے لئے وقف کرو؛ بتحقيق دنيا محنت اور کوشش کا مقام ہے اور آخرت باقي رہنے، استقرار اور جزا و پاداش حاصل کرنے کا مقام ہے?
ذکر آخرت شفاء اور ذکر دنيا ...
38? ذكر الاخرة دواء وشفاء،ذكرالدنيا ادوا الادواء
(غرر الحكم 5175 ـ 5176)
آخرت کي ياد دوا ہے اور علاج جبکہ دنيا کي ياد بدترين درد اور بيماري ہے?
ميں دنيا کو دور پھينکنے والا ہوں
39- انا كاب الدنيا لوجهها،وقادرها بقدرها، وناظرها بعينها
(شرح نهج البلاغة لابن ابي الحديد: 8 / 125? )?
ميں ہوں جس نے دنيا کو دور پھينک ديا ہے اور جس نے اس کي اہليت کے مطابق اس کي توقير کي ہے اور اس کو اس کي اپني آنکھ (تحقير کي نظر) سے ديکھا ہے?
دنيا کي اچھائياں اور خوبصورتياں:
40ـ إِنَّ الدُّنْيَا دَارُ صِدْقٍ لِمَنْ صَدَقَهَا وَ دَارُ عَافِيَةٍ لِمَنْ فَهِمَ عَنْهَا وَ دَارُ غِنًى لِمَنْ تَزَوَّدَ مِنْهَا وَ دَارُ مَوْعِظَةٍ لِمَنِ اتَّعَظَ بِهَا مَسْجِدُ أَحِبَّاءِ اللَّهِ وَ مُصَلَّى مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَ مَهْبِطُ وَحْيِ اللَّهِ وَ مَتْجَرُ أَوْلِيَاءِ اللَّهِ اكْتَسَبُوا فِيهَا الرَّحْمَةَ وَ رَبِحُوا فِيهَا الْجَنَّةَ فَمَنْ ذَا يَذُمُّهَا وَ قَدْ آذَنَتْ بِبَيْنِهَا وَ نَادَتْ بِفِرَاقِهَا وَ نَعَتْ نَفْسَهَا وَ أَهْلَهَا فَمَثَّلَتْ لَهُمْ بِبَلَائِهَا الْبَلَاءَ وَ شَوَّقَتْهُمْ بِسُرُورِهَا إِلَى السُّرُورِ رَاحَتْ بِعَافِيَةٍ وَ ابْتَكَرَتْ بِفَجِيعَةٍ تَرْغِيباً وَ تَرْهِيباً وَ تَخْوِيفاً وَ تَحْذِيراً فَذَمَّهَا رِجَالٌ غَدَاةَ النَّدَامَةِ وَ حَمِدَهَا آخَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَكَّرَتْهُمُ الدُّنْيَا فَتَذَكَّرُوا وَ حَدَّثَتْهُمْ فَصَدَّقُوا وَ وَعَظَتْهُمْ فَاتَّعَظُوا ?
(حکمت 131 نهج البلاغه)
بے شک دنيا سچوں کے لئے سچائي کا گھر، دنيا شناسوں کے لئے تندرستي کي سرائے، آخرت کا سفرخرچ لينے والوں کے لئے بے نيازي اور استغنا کي منزل، نصيحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصيحت کا مقام ہے? دنيا اللہ کے دوستوں کي سجدہ گاہ، کروبيوں کے لئے نمازخانہ، اللہ کي وحي نازل ہونے کا مقام اور خدا کے دوستوں کا تجارت خانہ ہے جس ميں انھوں نے خدا کي رحمت کمائي اور جنت کو منافع کے طور پر کما گئے? کون ہے جو دنيا پر ملامت کرے حالانکہ دنيا نے اپني جدائي کا اعلان کيا ہے اور چِلّا کر بتايا ہے کہ "وہ باقي اور جاويداني نہيں ہے"، اور اس نے اپني اور اپني پرستش والوں کي نابودي کا اعلان کيا ہے؟? اپني بلاؤں کے ذريعے بلاؤں کي مثال دي اور اپني خوشي کے ذريعے انہيں شادمان کيا? شب کے آغاز پر سلامتي کے ساتھ گذري مگر صبح کو جان گداز مصائب کے ساتھ لوٹ آئي تا کہ لوگوں کو مشتاق کردے، دہمکي دے، ڈرا دے اور خبردار کرے? پس بعض لوگ ندامت کي صبح کو نادم ہوکر دنيا پر مذمت کرتے ہيں اور بعض ديگر قيامت کے روز اس کي تعريف و تمجيد کرتے ہيں (کيونکہ) دنيا نے ان کو حقائق کي يادآوري کي پس وہ ہوشيار ہوئے؛ دنيا نے ان کو حقائق و حوادث کي حکايت کي اور انھوں نے اس کي تصديق کي اور دنيا نے انہيں نصيحت کي اور انھوں نے نصيحت قبول کرلي?
منبع: اہلبیت فانڈیشن
Add new comment