شیعوں کے فضائل سے متعلق چالیس حدیثیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیعوں کے فضائل
پہلی حدیث
علی علیہ السلام سے محبت کے فوائد
بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين و صلواته على محمد و آله الطاهرين قال أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين بن بابويه القمي الفقيه رضي الله عنه
قال حدثنا أبي رضي الله عنه قال: حدثنا عبد الله بن الحسين المؤدب عن أحمد بن علي الأصفهاني عن محمد بن أسلم الطوسي قال حدثنا أبو رجاء عن نافع عن ابن عمر قال:
سألنا النبي ص عن علي بن أبي طالب ع؟
فغضب ص ثم قال: ما بال أقوام يذكرون من منزلته من الله كمنزلتي۔
إلا و من أحب عليا أحبني و من أحبني فقد رضي الله عنه و من رضي الله عنه كافأه الجنة۔
ألا و من أحب عليا لا يخرج من الدنيا حتى يشرب من الكوثر و يأكل من طوبى و يرى مكانه في الجنة۔
ألا و من أحب عليا قبل صلاته و صيامه و قيامه و استجاب له دعاه۔
ألا و من أحب عليا استغفرت له الملائكة و فتحت له أبواب الجنة الثمانية يدخلها من أي باب شاء بغير حساب۔
ألا و من أحب عليا أعطاه الله كتابه بيمينه و حاسبه حساب الأنبياء۔
ألا و من أحب عليا هون الله عليه سكرات الموت و جعل قبره روضة من رياض الجنة۔
ألا و من أحب عليا أعطاه الله بكل عرق في بدنه حوراء و شفع في ثمانين من أهل بيته و له بكل شعرة في بدنه حوراء و مدينة في الجنة۔
ألا و من أحب عليا بعث الله إليه ملك الموت كما يبعث إلى الأنبياء و دفع الله عنه هول منكر و نكير و بيض وجهه و كان مع حمزة سيد الشهداء۔
ألا و من أحب عليا [لا يخرج من الدنيا حتى يشرب من الكوثرو يأكل من طوبى] أثبت الله في قلبه الحكمة و أجرى على لسانه الصواب و فتح الله عليه أبواب الرحمة۔
ألا و من أحب عليا سمى في السماوات و الأرض أسير الله۔
ألا و من أحب عليا ناداه ملك من تحت العرش يا عبد الله استأنف العمل فقد غفر الله لك الذنوب كلها۔
ألا و من أحب عليا جاء يوم القيامة و وجهه كالقمر ليلة البدر۔
ألا و من أحب عليا وضع على رأسه تاج الملك و ألبس حلة الكرامة۔
ألا و من أحب عليا جاز على الصراط كالبرق الخاطف۔
ألا و من أحب عليا كتب له براءة من النار و جواز على الصراط و أمان من العذاب و لم ينشر له ديوان و لم ينصب له ميزان و قيل له ادخل الجنة بلا حساب۔
ألا و من أحب عليا صافحته الملائكة و زارته الأنبياء و قضى الله له كل حاجة۔
ألا و من أحب آل محمد أمن من الحساب و الميزان و الصراط۔
ألا و من مات على حب آل محمد فأنا كفيله بالجنة مع الأنبياء۔
ألا و من مات على بغض آل محمد لم يشم رائحة الجنة۔
قال أبو رجاء:كان حماد بن زيد يفتخر بهذا و يقول هو الأمل [الأصل] [1]
ترجمہ
شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ابن عمر کا کہنا ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے امیر المومنین علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا: آنحضرت نے ناراضگی کی حالت میں فرمایا: کچھ لوگ اللہ کے نزدیک علی کے مقام و منزلت کے سلسلے میں پرس و جو کرتے ہیں ان کا اس عمل سے کیا مقصد ہے؟ علی کا مقام اللہ کے یہاں وہی مقام ہے جو میرا ہے۔
آگاہ ہو جاو!جس نے علی کو دوست رکھا اس نے مجھے دوست رکھا اور جو مجھے دوست رکھے گا اللہ اس سے راضی ہو جائے گا۔ اور جس شخص سے اللہ راضی ہو جائے جنت اس کی پاداش ہے۔
جان لو ! جو شخص علی کو دوست رکھے وہ دنیا سے نہیں اٹھے گا مگر حوض کوثر سے پی لے اور درخت طوبی سے کھا لے اور جنت میں اپنا گھر دیکھ لے۔
آگاہ ہو جاو !جو شخص علی کو دوست رکھےگا اللہ اس کی نمازیں اور روزے قبول کر لے گا اور اس کی دعائیں مستجاب ہوں گی۔
یاد رکھو !جو شخص علی کو دوست رکھے گا ملائکہ اس کے لیے مغفرت کریں گے اور بہشت کے آٹھ دروازے اس پر کھول دیئے جائیں گے وہ جس دروازے سے چاہے گا بغیر حساب و کتاب کے داخل ہو جائے گا۔
آگاہ ہو جاو! جو شخص علی سے محبت کرے گا خدا اس کے نامہ اعمال کو اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور انبیاء کے مانند اس کا حساب ہو گا۔
جان لو! جو علی سے محبت کرے گاخدا اس کی موت کے وقت کی مشکلات کو آسان کر دے گا اور اس کی قبر کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ بنا دے گا۔
آگاہ ہو جاو !جو شخص علی سے محبت کرے گا خدا وند عالم اس کے بدن کی ہر رگ کی تعداد میں اسے حور العین عطا کرے گا اور اس کے رشتہ داروں میں سے اسّی افراد کی نسبت اس کی شفاعت قبول کرےگا۔ اور اس کے بدن پر اگنے والے ہر بال کی تعداد میں اسے حور اور جنت میں شہر د ے گا۔
جان لو! جو شخص علی کو دوست رکھے گا خدا وند عالم موت کے فرشتے کو روح قبض کرتےوقت اس شکل میں اس کے پاس بھیجے گا جس شکل میں وہ انبیاء اور مرسلین کے پاس بھیجتا رہا ہے۔ اور منکر اور نکیر کے خوف کو اس کے دل سے ختم کر دے گا۔ اس کے چہرے کو سفید اور نورانی کر دے گا۔ اور اسے سید الشہداء جناب حمزہ کے ساتھ محشور کرے گا۔
جان لو!جو شخص علی سے محبت کرے گا خدا حکمت کو اس کے دل میں ذخیرہ کر دے گا اور صداقت اور صواب کو اس کی زبان پر جاری کر دے گا۔ اور اسے ہر خطا اور لغزش سے محفوظ رکھے گا اور اپنی رحمت کے دروازے اس پر کھول دے گا۔
آگاہ ہو جاو! جو شخص علی کو دوست رکھے گا زمین و آسمان میں "اللہ کا اسیر" کہلوائے گا۔
جان لو !جو شخص علی سے محبت کرے گا فرشتے آسمان پر یہ ندا دیں گے: " اے اللہ کے بندے اپنے عمل کو نئے سرے سے شروع کر کہ خدا وند عالم نے تمہار ے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر دیا ہے"۔
جان لو !جو شخص علی سے محبت کرے گا قیامت کے دن چودہویں کے چاند کی طرح نورانی وارد ِمحشر ہو گا۔
جان لو! جو شخص علی کو دوست رکھے گا تاج اس کے سرپررکھا جائے گا اور اسےباعزت لباس پہنایا جائے گا۔
جان لو !جو علی کو دوست رکھے گا بجلی کی طرح پل صراط سے گزر جائے گا۔
جان لو !جو علی سے محبت کرے گا آتش جہنم سے محفوظ رہے گا اور پل صراط سے گزرنے کا اجازت نامہ اسے مل جائے گا۔ اس کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہو گا۔ اس کا نامہ عمل نہیں کھولا جائے گا اور اس کے اعمال کو تولا نہیں جائے گا۔ اور اس سے کہا جائے گا: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو جاو۔
جان لو !جو شخص علی سے محبت کرے گا فرشتے اس سے مصافحہ کریں گے اور انبیاء الہی اس کی زیارت کریں گے اور خدا اس کی تمام آرزوں کو بھر لائے گا۔ جو شخص اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دوست رکھے گا روز قیامت اعمال کے حساب و کتاب سے محفوظ اور پل صراط سے امان میں رہے گا۔
آگاہ ہو جاو!جو شخص اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت پر دنیا سے مرے گا میں جنت میں اس کے پیغمبروں کے ساتھ ہمنشینی کا ضامن رہوں گا۔
خبردار ہو جاو!جو شخص اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دشمنی پر مرے گا جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ پائے گا۔
ابو رجاء نے کہا: حماد بن زید اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت پر فخر کرتا تھا اور کہتا تھا: "محبت اہلبیت ہی اعمال کی قبولیت کا ذریعہ ہے"۔
دوسری حدیث
اہلبیت علیہم السلام سے محبت سات جگہوں پر کارآمد
2- حدثنا الحسن بن عبد الله بن سعد عن جابر عن علي بن الحسن عن أبي جعفر عن علي بن الحسين عن أبيه ع قال:
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم : حب أهل بيتي نافع في سبعة مواطن أهوالهن عظيمة عند الوفاة و في القبر و عند النشور و عند الكتاب و عند الحساب و عند الميزان و عند الصراط [2]
ترجمہ
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
میرے اہلبیت کے ساتھ دوستی سات مشکل جگہوں پر کارآمد ثابت ہو گی:
۱: موت کے وقت۔ ۲: قبر میں۔ ۳: قبر سے اٹھتے وقت ۔ ۴: نامہ اعمال کھولتے وقت ،۵: حساب و کتاب کے وقت۔ ۶: نامہ اعمال تولنے کے وقت، ۷: پل صراط سے گزرتے وقت۔
تیسری حدیث
محبت اہلبیت علیہم السلام اور پل صراط
3- حدثنا جعفر بن علي بن الحسين بن علي بن عبد الله بن المغيرة عن إسماعيل بن مسلم الشعيري عن الصادق جعفر بن محمد عن أبيه ع قال
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم: أثبتكم قدما على الصراط أشدكم حبا لأهل بيتي[3]
ترجمہ
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
جس شخص کی محبت میرے اہلبیت علیہم السلام کی نسبت زیادہ ہو گی پل صراط پر اس کے پیر لڑکھڑانے سے زیادہ محفوظ میں رہے گا۔
چوتھی حدیث
علی علیہ السلام کی محبت اور پل صراط پر ثبات قدم
4- حدثنا الحسين بن إبراهيم رحمه الله عن هشام بن حمزة الثماليعن أبي جعفر محمد بن علي عن آبائه ع قال:
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم لعلي ع : ما ثبت حبك في قلب امرئ مؤمن فزلت به قدمه على الصراط إلا ثبت له قدم حتى أدخله الله بحبك الجنة [4]
ترجمہ
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اے علی تمہاری محبت جس مومن کے دل میں جگہ پا لےگی خدا اسے پل صراط پر لڑکھڑانے سے محفوظ رکھے گا اور اس کے قدموں کو مضبوط بنائے گا یہاں تک کہ اسے بہشت میں داخل کردے گا۔
پانچویں حدیث
علی علیہ السلام سے محبت اور دشمنی کا صلہ
5- حدثنا علي بن أحمد بن الحسين القزويني أبو الحسن المعروف بابن مقبر عن زيد بن ثابت قال:
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم: من أحب عليا في حياته و بعد موته كتب الله عز و جل له الأمن و الإيمان ما طلعت شمس أو غربت و من أبغضه في حياته و بعد موته مات موته جاهلية و حوسب بما عمل[5]
ترجمہ
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
جو شخص علی کو زندگی میں اور موت کے بعد دوست رکھے گا جب تک سورج طلوع اور غروب کرتا رہے گا خدا اس کو امن و امان دیتا رہے گا۔ اور جو شخص اس کے ساتھ زندگی میں اور موت کے بعد دشمنی رکھے گا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور اس کا ذرہ ذرہ حساب و کتاب لیا جائے گا۔
چھٹی حدیث
قیامت میں چار چیزوں کے بارے میں سوال
6- حدثنا محمد بن أحمد بن علي الأسدي المعروف بابن جرادة البردعي قال: حدثتنا رقية بنت إسحاق بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب ع قالت حدثني أبي إسحاق بن موسى بن جعفر قال: حدثني أبي موسى بن جعفر عن أبيه جعفر بن محمد عن أبيه محمد بن علي عن أبيه علي بن الحسين عن أبيه الحسين بن علي عن أبيه أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ع قال:
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم: لا يزول قدم عبد يوم القيامة حتى يسأل عن أربعة أشياء عن شبابه فيما أبلاه و عن عمره فيما أفناه و عن ماله من أين اكتسبه و فيما أنفقه و عن حبنا أهل البيت [6]
ترجمہ
قیامت کے دن انسان ہر قدم جو اٹھائے گا ان چار چیزوں کے بارےمیں اس سے سوال کیا جائے گا:
۱: اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں استعمال کیا ہے؟
۲: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں ضایع کیا ہے؟
۳: اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں خرچ کیا ہے؟
۴: ہم اہلبیت کی محبت کے بارے میں۔
ساتویں حدیث
عالین کون لوگ ہیں؟
7- حدثنا عبد الله بن محمد بن ظبيان عن أبي سعيد الخدري قال: كنا جلوسا مع رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم إذ أقبل إليه رجل فقال: يا رسول الله أخبرني عن قوله عز و جل لإبليس أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ فمن هو يا رسول الله الذي هو أعلى من الملائكة؟
فقال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم : أنا و علي و فاطمة و الحسن و الحسين كنا في سرادق العرش نسبح الله و تسبح الملائكة بتسبيحنا قبل أن يخلق الله عز و جل آدم بألفي عام فلما خلق الله عز و جل آدم أمر الملائكة أن يسجدوا له و لم يأمرنا بالسجود فسجد الملائكة كلهم إلا إبليس فإنه أبى و لم يسجد فقال الله تبارك و تعالى أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ عنى من هؤلاء الخمسة المكتوبة أسماؤهم في سرادقالعرش فنحن باب الله الذي يؤتى منه بنا يهتدي المهتدي فمن أحبنا أحبه الله و أسكنه جنته و من أبغضنا أبغضه الله و أسكنه ناره و لا يحبنا إلا من طاب مولده [7]
ترجمہ
ابو سعید خدری کا کہنا ہے: ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی سامنے سے آیا اور عرض کی: یا رسول خدا ، اللہ کے اس فرمان " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ تو نے تکبر کیا ، یا بڑے لوگوںمیں سے ہو گیا" کے بارے میں مجھے بتلائیے کہ یہ عالین کون لوگ ہیں کہ جن کا مقام فرشتوں سے بھی بلند و بالا ہے؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
آدم کی خلقت سے دس ہزارسال پہلے میں ، علی، فاطمہ ، حسن اور حسین عرش الہی کے سامنے اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرتے تھے اور فرشتے ہماری تسبیح پر تسبیح پڑھتے تھے ۔ پھر جب اللہ نے آدم کو خلق کیا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کو حکم دیا لیکن ہمیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیا تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ نہیں کیا۔
اس کے بعد خداوند متعال نے فرمایا: " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ [8]"تو نے تکبر کیا یا عالین میں سے ہو گیا"۔ عالین سے مراد پنجتن پاک تھے جن کے نام عرش اعظم پر لکھے ہوئے تھے ۔ لہذا ہم اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس سے وارد ہو کر لوگ اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں ہمارے ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور جو ہمیں دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے جت میں مقام عطاکرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ دشمنی رکھے خدا اس کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اور اسے جہنم کی آگ میں ڈھکیل دیتا ہے اور یہ جان لو حلال زادہ کے علاوہ کوئی ہمیں دوست نہیں رکھے گا۔
آٹھویں حدیث
امام باقر علیہ السلام کی اپنے اصحاب کو نصیحتیں
8- حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب قال حدثنا محمد بن حمران عن أبيه عن أبي عبد الله جعفر بن محمد الصادق ع قال:
خرجت أنا و أبي ذات يوم إلى المسجد فإذا هو بأناس من أصحابه بين القبر و المنبر قال فدنا منهم و سلم عليهم
و قال: إني و الله لأحب ريحكم و أرواحكم فأعينوا على ذلك بورع و اجتهاد و اعلموا أن ولايتنا لا تنال إلا بالورع و الاجتهاد من ائتم منكم بقوم فليعمل بعملهم أنتم شيعة الله و أنتم أنصار الله و أنتم السابقون الأولون و السابقون الآخرون و السابقون في الدنيا إلى محبتنا و السابقون في الآخرة إلى الجنة ضمنت لكم الجنة بضمان الله عز و جل و ضمان النبي ص و أنتم الطيبون و نساؤكم الطيبات كل مؤمنة حوراء و كل مؤمن صديق بكم من مرة
قال أمير المؤمنين ع: لقنبر أبشروا و بشروا فو الله لقد مات رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم و هو ساخط على أمته إلا الشيعة ألا و إن لكل شيء شرفا و شرف الدين الشيعة ألا و إن لكل شيء سيدا و سيد المجالس مجالس الشيعة ألا و إن لكل شيء إماما و إمام الأرض أرض تسكنها الشيعة ألا و إن لكل شيء شهوة و إن شهوة الدنيا سكنى شيعتنا فيها و الله لو لا ما في الأرض منكم ما استكمل أهل خلافكم طيبات و ما لهم في الآخرة من نصيب كل ناصب و إن تعبد و اجتهد منسوب إلى هذه الآية عامِلَةٌ ناصِبَةٌ تَصْلى ناراً حامِيَةً من دعا لكم مخالفا فأجابه دعائه لكم و من طلب منكم إلى الله تبارك و تعالى اسمه حاجة فله مائة و من دعا دعوة فله مائة و من عمل حسنة فلا يحصى تضاعفا و من أساء سيئة فمحمد رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم حجته على تبعتها و الله إن صائمكم ليرفع في رياض الجنة تدعو له الملائكة بالفوز حتى يفطر و إن حاجكم و معتمركم لخاصة الله عز و جل و إنكم جميعا لأهل دعوة الله و أهل ولايته لا خوف عليكم و لا حزن كلكم في الجنة فتنافسوا الصالحات و الله ما أحد أقرب من عرش الله عز و جل بعدنا من شيعتنا ما أحسن صنع الله إليهم لو لا أن تفشلوا و يشمت به عدوكم و يعظم الناس ذلك لسلمت عليكم الملائكة قبيلا قال أمير المؤمنين يخرج أهل ولايتنا من قبورهم يخاف الناس و هم لا يخافون و يحزن الناس و هم لا يحزنون و قد حدثني محمد بن الحسن بن الوليد رحمه الله بهذا الحديث عن أبي بصير عن أبي عبد الله ع مثله إلا أن حديثه لم يكن بهذا الطول و في هذه زيادة ليست في ذلك و المعاني متقاربة [9]
ترجمہ
عبد اللہ بن محمد بن عبد الوھاب کا کہنا ہے کہ محمد بن حمران نے اپنے باپ سے انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک دن میں اپنے والد بزرگوارکے ساتھ مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں گیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر اور آپ کے منبر کے درمیان ہم نے ان [امام باقر علیہ السلام ]کے کچھ اصحاب کے ساتھ ملاقات کی ۔ ہم ان کے قریب گئے میرے والد بزرگوارنے ان پر سلام کیا اور فرمایا:
خدا کی قسم میں تمہاری سانسوں اور جانوں کو دوست رکھتا ہوں لہذا پرہیزگاری اور اپنے نفس کے ساتھ جہاد کر کے اس رابطہ کو مضبوط بناو۔ اور جان لو ہماری ولایت اور دوستی،گناہوں سے دوری اور راہ حق میں تلاش و کوشش کے بغیر حاصل نہیں ہو گی۔ جو شخص کسی گروہ کی پیروی کرتا ہے اسے چاہیے کہ ان کی طرح عمل کرے۔ تم اللہ کے شیعہ ہو تم اللہ کے ناصر و مددگار ہو تم اولین اور آخرین میں سے سبقت کرنے والے ہو۔ دنیا میں ہماری محبت کی طرف اور آخرت میں جنت میں داخلے کی طرف سسبقت کرنے والوں میں سے ہو۔
میں اللہ اور اس کے رسول [ص] کی ضمانت سے تمہاری جنت کا ضامن ہوں تم اور تمہاری عورتیں پاک ہیں ہر مومنہ عورت حور ہے اور ہر مومن مرد صدیق اور سچا ہے۔
امیر المومنین علی علیہ السلام نے بارہا اپنے غلام قنبر سے فرمایا: تمہیں خوشخبری اور بشارت ہو، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دنیا سے گئے اس حال میں کہ اپنی پوری امت پر غضبناک تھے سوائے تم شیعوں کے۔
جان لو! ہر چیز کے لیے ایک شرف ہے اور دین کا شرف شیعہ ہیں۔
آگاہ ہوجاو !ہر چیز کا ایک سرور اور سردار ہے اور مجالس کی سردار شیعوں کی مجالس ہیں۔
جان لو! ہر چیز کا ایک رہبر ہے اور زمین کا رہبر وہ زمین ہے جس پر شیعہ رہتے ہیں۔
جان لو !ہر چیز کا ایک تمایل اور رجحان ہے اور دنیا کا تمایل اور رجحان اس گھر کی طرف ہے جس میں شیعہ بستے ہیں۔
خدا کی قسم! اگر تم میں سے کوئی روئے زمین پر نہ ہوتا تمہارے دشمن کبھی بھی کسی نعمت سے بہرہ مند نہ ہو سکتے ۔ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے جو شخص ہمارا اور تمہارا دشمن ہے اگروہ عبادت اور نیک کام انجام دینےمیں محنت و کوشش بھی کرے اس کی محنت کا نتیجہ یہ ہو گا جو اس آیت میں بیان ہوا ہے : " عامِلَةٌ ناصِبَةٌ تَصْلى ناراً حامِيَةً [10]۔ وہ لوگ جو مسلسل عمل کرتے ہیں اور تھک جاتے ہیں اور [آخر میں] بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو جاتے ہیں۔
اگر تمہارے دشمنوںمیں سے تمہارے لیے کوئی دعا کرے تو اس کی دعا تمہارے حق میں قبول ہو جائے گی اور اگرتم میں سے کوئی حاجت طلب کرے یا دعا کرے تو اس کا سو گنا اس کو ملے گا۔
اگر تم میں سے کوئی نیکی کرے تو اس کے ثواب کو شمار نہیں کیا جاسکے گا اور تم میں سے کوئی برائی کرے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کو اس کے عواقب اور برے نتائج سے محفوظ رکھیں گے۔
خدا کی قسم تم میں سے روزہ رکھنے والا جنت کے باغات میں ٹہلے گا اور ملائکہ اسے کامیابی اور کامرانی کی خوشخبری دیں گے یہاں تک کہ افطار کرے۔ تم میں سے حج اور عمرہ کرنے والا بارگاہ خدا وندی کے خاص افراد میں سے ہو گا اور یقینا تم سب مدعوِ الہی اور اہل ولایت میں سے ہو تمہیں کوئی خوف و ڈر نہیں ہے تم سب کے سب جنت میں رہو گے لہذا نیک کام انجام دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لو۔
خدا کی قسم ہمارے بعد اللہ کے نزدیک تم لوگوں سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔ اللہ نے کتنی تمہارے ساتھ نیکی کی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگ بے چارہ اور بے بس ہو جاتے اور تمہارے دشمن تمہیں ذلیل و رسوا کرتے اور لوگ اس کو بہت بڑی بات سمجھتے۔ فرشتے تمہیں سامنے سے آکرسلام کرتے ہیں۔
امیر المومنین [ع] نے فرمایا : ہمارے چاہنے والے اس حال میں اپنی قبروں سے اٹھیں گے کہ انہیں کسی قسم کا کوئی خوف اور ہراس نہیں ہو گا حالانکہ باقی سب لوگ خوف و دہشت میں گرفتار ہوں گے۔
نویں حدیث
محبت اہلبیت علیہم السلام شرافتمندی کی دلیل
9- عن أبي ذر رضي الله عنه قال:
رأيت رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم قد ضرب كتف علي بن أبي طالب ع بيده و قال:
يا علي من أحبنا فهو العربي و من أبغضنا فهو العلج فشيعتنا أهل البيوتات و المعادن و الشرف و من كان مولده صحيحا و ما على ملة إبراهيم ع إلا نحن و شيعتنا و سائر الناس منها براء إن الله و ملائكته يهدمون سيئات شيعتنا كما يهدم القدوم البنيان [11]
ترجمہ
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے دیکھاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کے شانے پر ہاتھ مار کر فرمایا: یا علی جو شخص ہمیں دوست رکھے ہم میں سے ہے اورجو شخص ہم سے دشمنی رکھے کافر ہے۔ اس بنا پر ہمارے شیعہ شرافتمند، حلال زادےاور باعزت ہیں ان کی ولادتیں صحیح ہوئی ہیں اور ہمارے اور ہمارے پیروکاروں کے علاوہ کوئی بھی دینِ ابراہیم پر نہیں ہے باقی لوگ اس راستے سے دور ہیں۔ خدا اور ملائکہ اس طرح ہمارے شیعوں کی برائیوں کو محوکردیتے ہیں جیسے ہتھوڑا شیشہ کو چکناچور کر دیتا ہے۔
دسویں حدیث
علی علیہ السلام کی محبت اور گناہوں کی بخشش
10- حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد الوهاب قال حدثنا حماد بن يزيد عن أيوب عن عطاء عن ابن عباس قال:
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم : "حب علي بن أبي طالب يأكل [الذنوب] السيئات كما تأكل النار الحطب"[12]
ترجمہ
عبد اللہ بن محمد بن عبد الوہاب نے روایت کی ہے کہ حماد بن یزید نے ایوب سے اس نے عطاء سے اس نےابن عباس سےنقل کیا ہے ابن عباس کا کہنا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کی محبت گناہوں کو ایسے جلا دیتی ہے جیسے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔
گیارہویں حدیث
شیعہ کامیاب ہیں
11- و بهذا الإسناد عن مستفاد بن محيي قال: حدثنا زكريا بن يحيى بن أبان القسطاط قال: حدثنا محمد بن زياد عن عقبة عن عامر الجهني قال:
دخل رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم المسجد و نحن جلوس و فينا أبو بكر و عمر و عثمان و علي ع في ناحية فجاء النبي ص فجلس إلى جانب علي ع فجعل ينظر يمينا و شمالا ثم قال:
إن عن يمين العرش و عن يسار العرش لرجالا على منابر من نورتتلألأ وجوههم نورا
قال: فقام أبو بكر و قال بأبي أنت و أمي يا رسول الله أنا منهم؟
قال اجلس ثم قام إليه عمر فقال: مثل ذلك فقال له اجلس فلما رأى ابن مسعود ما قال لهما النبي ص قام حتى استوى قائما على قدميه ثم قال بأبي أنت و أمي يا رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم فهم لنا نعرفهم بصفتهم
قال: فضرب على منكب علي ع ثم قالصلی اللہ علیہ و الہ : هذا و شيعته هم الفائزون [13]
ترجمہ
عامر جہنی کا کہنا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسجد میں داخل ہوئے ہم بیٹھے ہوئے تھے ہمارے درمیان ابوبکر، عمر عثمان اور علی بھی تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم علی علیہ السلام کے پاس بیٹھ گئے دائیں بائیں نگاہ کی اس کے بعد فرمایا: عرش کے دائیں بائیں کچھ لوگ نورانی منبروں پر بیٹھے ہیں کہ جن کے چہروں سے نور چمک رہا ہے۔ ابوبکر کھڑے ہوگئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟
فرمایا: بیٹھ جاو۔
اس کے بعد عمر اٹھے اور یہی سوال کیا۔
رسول خدا [ص] نے انہیں بھی بیٹھا دیا۔ جب ابن مسعود نے اس واقعہ کو دیکھا کھڑے ہوئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یارسول! اللہ ان کے صفات بیان کیجیے۔ تاکہ ہم ان کے صفات سے انہیں پہچانیں۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کے شانہ پراپنا ہاتھ مار کر فرمایا: وہ علی اور ان کے شیعہ ہیں جو کامیاب ہیں۔
بارہویں حدیث
ظالم اور عادل امام کی اطاعت میں فرق
12- حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل رحمه الله عن هشام بن سالم عن حبيب السجستاني عن أبي جعفر ع قال:
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم قال الله عز و جل لأعذبن كل رعية في الإسلام دانت بولاية إمام جائر ظالم ليس من الله و إن كانت الرعية في أعمالها بارة تقية و لأعفون عن كل رعية في الإسلام دانت بولاية إمام عادل من الله و إن كانت الرعية في أعمالها ظالمة سيئة [14]
ترجمہ
حبیب سجستانی نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: خدا وند عالم نے فرمایا ہے: ہر امت جو ایسے ظالم امام اور رہبر کی اطاعت کرے جو اللہ کی طرف سے منصوب نہ ہو اور اسے دوست رکھے اگر چہ باتقوی اور پرہیزگار ہی ہو میں اس کو عذاب کروں گا۔ اور وہ اسلامی امت جو عادل امام کی اطاعت کرے جو میری طرف سے منصوب ہوا ہو اگر چہ بدکردار اور گناہگار ہی کیوں نہ ہو میں اسے معاف کر دوں گا۔
تیرہویں حدیث
شیعوں پر اللہ کا سلام
۱۳۔ حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رحمه الله قال حدثنا المفضل عن أبي حمزة قال: سمعت أبا عبد الله ع يقول:
أنتم أهل تحية الله و سلامه و أنتم أهل أثرة الله برحمته و أهل توفيق الله و عصمته و أهل دعوة الله و طاعته لا حساب عليكم و لا خوف و لا حزن [15]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
تم اللہ کی تحیت اور اس کے سلام کے سزاوار ہو تم اللہ کے مکرم بندے اور اس کی رحمت کے مستحق ہو تم اللہ کی توفیق کے لائق اور اس کی پناہ میں ہو تم اللہ کی دعوت کے قابل اور اس کی اطاعت اور بندگی کے لیے شائستہ ہو۔ تمہارے اوپر نہ کوئی حساب و کتاب ہے اور کوئی خوف و غم۔
چودہویں حدیث
شیعوں کے گناہ مرفوع القلم ہیں
14- قال أبو حمزة و سمعت أبا عبد الله جعفر بن محمد ع يقول:
رفع القلم عن الشيعة بعصمة الله و ولايته [16]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
ہمارے شیعوں کے گناہ لکھے نہیں جاتے اس لیے کہ خدا وند عالم ان کی حفاظت کرتا ہے اور وہ اللہ کی ولایت کے سائے میں رہتے ہیں۔
پندرہویں حدیث
شیعہ اللہ کے حفظ و امان میں
15- قال أبو حمزة و سمعت أبا عبد الله ع يقول:
إني لأعلم قوما قد غفر الله لهم و رضي عنهم و عصمهم و رحمهم و حفظهم من كل سوء و أيدهم و هداهم إلى كل رشد و بلغ بهم غاية الإمكان قيل من هم يا أبا عبد الله قال أولئك شيعتنا الأبرار شيعة علي[17]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
میں ایک ایسے گروہ کو پہچانتا ہوں جن کے گناہوں کو اللہ نے معاف کر دیا ہے ، ان سے راضی ہےان پر رحم کیا ہے ، انہیں ہر گناہ سے محفوظ رکھا ہے اور ان کی تائید کی ہے اور ان کی راہ مستقیم کی طرف ہدایت کی ہے اور حتی الامکان ان کو ابلاغ کرتا ہے۔
آپ سے پوچھا گیا: یا ابا عبد اللہ وہ کون سا گروہ ہے؟
فرمایا: وہ علی علیہ السلام کی نیک شیعہ ہیں۔
سولہویں حدیث
شیعہ لوگوں کے اعمال پر گواہ
16- و قال أبو عبد الله ع :
نحن الشهداء على شيعتنا و شيعتنا شهداء على الناس و بشهادة شيعتنا يجزون و يعاقبون [18]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
ہم اپنے شیعوں پر گواہ ہیں اور ہمارے شیعہ باقی لوگوں کے اعمال پر گواہ ہیں۔ اور لوگ ہمارے شیعوں کی گواہی کی وجہ سے ثواب و عقاب پائیں گے۔
سترہویں حدیث
شیعوں کے فضائل رسول کی زبانی
17- أبي رحمه الله قال حدثني سعد بن عبد الله عن أبي بصير عن أبي عبد الله ع قال
قال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم:
يا علي إن الله وهبك حب المساكين و المستضعفين في الأرض فرضيت بهم إخوانا و رضوا بك إماما فطوبى لمن أحبك و صدق عليك و ويل لمن أبغضك و كذب عليك
يا علي أنت العالم بهذه الأمة من أحبك فاز و من أبغضك هلك
يا علي أنا المدينة و أنت بابها و هل تؤتى المدينة إلا من بابها يا علي أهل مودتك كل أواب حفيظ و كل ذي طمر لو أقسم على الله لبر قسمه
يا علي إخوانك كل طاهر و زكي [طاو و ذاك] مجتهد يحب فيك و يبغض فيك محتقر عند الخلق عظيم المنزلة عند الله
يا علي محبوك جيران الله في دار الفردوس لا يتأسفون على ما خلفوا من الدنيا
يا علي أنا ولي لمن واليت و أنا عدو لمن عاديت يا علي من أحبك فقد أحبني و من أبغضك فقد أبغضني
يا علي إخوانك الذبل الشفاة تعرف الرهبانية في وجوههم
يا علي إخوانك يفرحون في ثلاثة مواطن عند خروج أنفسهم و أنا أشاهدهم و أنت و عند المساءلة في قبورهم و عند العرض و عند الصراط إذا سئل سائر الخلق عن إيمانهم فلم يجيبوا
يا علي حربك حربي و سلمك سلمي و حربي حرب الله من سالمك فقد سالم الله عز و جل
يا علي بشر إخوانك بأن الله قد رضي عنهم إذ رضيك لهم قائدا و رضوا بك وليا
يا علي أنت أمير المؤمنين و قائد الغر المحجلين يا علي شيعتك المبهجون و لو لا أنك و شيعتك ما قام لله دين و لو لا من في الأرض لما أنزلت السماء قطرها
يا علي لك كنز في الجنة و أنت ذو قرنيها شيعتك تعرف بحزب الله
يا علي أنت و شيعتك القائمون بالقسط و خيرة الله من خلقه
يا علي أنا أول من ينفض التراب من رأسه و أنت معي ثم سائر الخلق
يا علي أنت و شيعتك على الحوض تسقون من أحببتم و تمنعون من كرهتم و أنتم الآمنون يوم الفزع الأكبر في ظل العرش يفزع الناس و لا تفزعون و يحزن الناس و لا تحزنون فيكم نزلت هذه الآية إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنى أُولئِكَ عَنْها مُبْعَدُونَ لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَها وَ هُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خالِدُونَ لا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَ تَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هذا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ
يا علي أنت و شيعتك تطلبون في الموقف و أنتم في الجنان تتنعمون
يا علي إن الملائكة و الخزان يشتاقون إليكم و إن حملة العرش و الملائكة المقربون ليخصونكم بالدعاء و يسألون الله بمحبتكم و يفرحون لمن قدم عليهم منهم كما يفرحون الأهل بالغائب القادم بعد طول الغيبة
يا علي شيعتك الذين يخافون الله في السر و ينصحونه في العلانية
يا علي شيعتك الذين يتنافسون في الدرجات لأنهم يلقون الله و ما عليهم ذنب
يا علي إن أعمال شيعتك تعرض علي كل يوم جمعه فأفرح بصالح ما يبلغني من أعمالهم و أستغفر لسيئاتهم
يا علي ذكرك في التوراة و ذكر شيعتك قبل أن يخلقوا بكل خير و كذلك في الإنجيل ليتعاظمون إليا و ما يعرفون شيعته و إنما يعرفونهم لما يجدونهم في كتبهم...
يا علي إن أصحابك ذكرهم في السماء أعظم من ذكر أهل الأرض لهم الخير فليفرحوا بذلك و ليزدادوا اجتهادا
يا علي أرواح شيعتك تصعد إلى السماء في رقادهم فتنظر الملائكة إليها كنظر الهلال شوقا إليهم لما يرون منزلتهم عند الله عز و جل
يا علي قل لأصحابك العارفين بك يتنزهون عن الأعمال التي يقرفها عدوهم فما من يوم و لا ليلة إلا و رحمة من الله تغشاهم فليجتنبوا الدنس
يا علي اشتد غضب الله على من قلاهم و برئ منك و منهم و استبدل بك و بهم و مال إلى عدوك و تركك و شيعتك و اختار الضلال و نصب الحرب لك و لشيعتك و أبغضنا أهل البيت و أبغض من والاك و نصرك و اختارك و بذل مهجته و ماله فينا
يا علي أقرئهم مني السلام من لم أر و لم يرني و أعلمهم أنهم إخواني الذين أشتاق إليهم فليلقوا علمي إلى من يبلغ القرون من بعدي و ليتمسكوا بحبل الله و ليعتصموا به و ليجتهدوا في العمل فإنا لا نخرجهم من هدى إلى ضلالة و أخبرهم أن الله عنهم راض و أنه يباهي بهم ملائكته و ينظر إليهم في كل جمعة برحمته و يأمر الملائكة أن يستغفروا لهم
يا علي لا ترغب عن نصره قوم يبلغهم و يسمعون أني أحبك فحبوك بحبي إياك و دانوا الله عز و جلبذلك و أعطوك صفو المودة من قلوبهم و اختاروك على الآباء و الإخوة و الأولاد و سلكوا طريقك و قد حملوا على المكاره فينا فأبوا إلا نصرنا و بذلوا المهج فينا مع الأذى و سوء القلب و معاشرته مع مضاضته ذلك فكن بهم رحيما و اقنع بهم فإن الله اختارهم بعلمه لنا من بين الخلق و خلقهم من طينتنا و استودعهم سرنا و ألزم قلوبهم معرفة حقنا و شرح صدورهم و جعلهم متمسكين بحبلنا لا يؤثرون علينا من خالفنا مع ما يزول من الدنيا عنهم و ميل الشيطان [السلطان] بالمكاره عليهم و اليألف كذا أيديهم الله و سلك بهم طريق الهدى فاعتصموا به و الناس في غمرة الضلالة متحيرون في الأهواء عموا عن الحجة و ما جاء من عند الله فهم يمسون و يصبحون في سخط الله و شيعتك على منهاج الحق و الاستقامة لا يستأنسون إلى من خالفهم ليست الدنيا منهم و ليسوا منها أولئك مصابيح الدجى أولئك مصابيح الدجى أولئك مصابيح الدجى [19]
ترجمہ
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اے علی! اللہ نے مسکینوں اور ضعیفوں کی محبت کو تمہیں بخشا ہے اور تم بھائی ہونے کے اعتبار سے ان سے راضی ہو اور وہ تمہارے امام ہونے پر راضی ہیں۔
خوش بخت ہے وہ شخص جو تمہیں دوست رکھے اور تمہاری تصدیق کرے اور بد بخت ہے وہ شخص جو تمہارا دشمن ہو اور تمہیں جھٹلائے۔
اے علی! تم اس امت کے عالم ہو۔ جو تمہیں دوست رکھے وہ کامیاب ہے اور جو تم سے دشمنی رکھے وہ ہلا ک ہو جائے گا۔
اے علی! میں علم کا شہر ہوں اور تم اس کے دروزہ ہو کیا دروازہ کے بغیر گھر میں داخل ہوا جا سکتا ہے؟
اے علی! تمہارے چاہنے والے اللہ کے حضور میں بہت توبہ کرنے والے اور اس پر پابندی کرنے والے ہیں اور پرانا لباس پہننے والے ہیں کہ اگر خدا کو کسی چیز کی قسم دیں تو وہ قبول کرتا ہے۔
اے علی! تمہارے بھائی گناہوں سے پاک ہیں اور کم کھانے والے اور زیادہ محنت کرنے والے ہیں ان کی محبت تمہارے لیے اور ان کی دشمنی تمہارے راہ میں ہوتی ہے وہ لوگوں کے نزدیک پست ہیں لیکن اللہ کے نزدیک بلند مقام رکھتے ہیں۔
اے علی! تمہارے دوست جنت الفردوس میں اللہ کے ہمسایہ ہیں اور مال دنیا کے کھو جانےسے پریشان نہیں ہوتے۔
اے علی! میں اس کا دوست ہوں جو تمہارا دوست ہے اور اس کا دشمن ہوں جو تمہارا دشمن ہے۔
اے علی! تمہارے دوست وہ لوگ ہیں جن کے ہونٹ روزے اور ریاضتوں کی وجہ سے خشک ہو جاتے ہیں اور ترک دنیا کے آثار ان کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔
اے علی! تمہارے بھائی تین جگہوں پر شاد و خرم ہوتے ہیں: ۱: جان نکلتے وقت اس حال میں کہ میں اورتم ان کے سرہانے ہوں گے۔ ۲: منکر و نکیر کے سوال و جواب اور نامہ اعمال لیتے وقت۔ ۳: پل صراط سے گزرتے وقت، جب لوگوں کے ایمان کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور وہ کوئی جواب نہیں دے پائیں گے۔
اے علی! تمہاری جنگ میری جنگ ہے اور تمہاری صلح میری صلح ہے اور میری جنگ خدا کی جنگ ہے۔ اور جس نے تمہارے ساتھ صلح کی اس نے خدا کے ساتھ صلح کی۔
اے علی! اپنے دوستوں کو خوشخبری دو کہ خدا ان سے راضی ہے اس لیے کہ انہوں نے تمہاری رہبری کو پسند کیا ہے۔ اور وہ تمہاری دوستی اور رہبری پرراضی ہوئے ہیں۔
اے علی !تم مومنین کے امیر اور نورانی پیشانی والوں کے قائد ہو۔
اے علی! تمہارے شیعہ نجیب اور پاکیزہ ہیں ۔ اور اگرتم اور تمہارے شیعہ نہ ہوتے تو اللہ کا دین قائم نہ رہتا اور آسمان سے پانی کا قطرہ بھی زمین پر نہ گرتا۔
اے علی !جنت میں تمہارے لیے ایک خزانہ ہے اور تم اس امت کے ذوالقرنین ہو اور تمہارے پیروکار حزب اللہ ہیں۔
اے علی !تم اور تمہارے شیعہ عدالت کو قائم کرنے والے اور اللہ کے منتخب بندے ہیں۔
اے علی! میں اور تم سب سے پہلے وہ افراد ہیں جو زمین سے اٹھیں گے اور ہمارے بعد باقی مخلوق اپنی قبروں سے اٹھے گی۔
اے علی! تم اور تمہارے شیعہ اپنے دوستوں کو حوض کوثر سے سیراب کریں گے اور اپنے دشمنوں کو اجازت نہیں دیں گے۔ قیامت کے دن تم لوگ عرش الہی کے سائے میں امان میں رہوں گے اس حال میں کہ باقی تمام لوگ نگران اور پریشان ہوں گے اور تم لوگ پریشانیوں سے دور ہوں گے۔
اے علی!یہ آیت تمہارے بارے میں نازل ہوئی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنى أُولئِكَ عَنْها مُبْعَدُونَ لا يَسْمَعُونَ حَسِيسَها وَ هُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ خالِدُونَ لا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ وَ تَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ هذا يَوْمُكُمُ الَّذِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ[انبیاء،۱۰۱،۱۰۳]
اے علی!قیامت کے دن توقف گاہوں پر لوگ تمہارے اور تمہارے شیعوں کے پیچھے پیچھے ہوں گے اور تم اور تمہارے شیعہ اپنے پروردگار کی نعمتوں میں غرق ہوں گے۔
اے علی !ملائکہ اور جنت کے کلید بردار تمہارے مشتاق ہیں اور حاملین عرش اور درگاہ الہی کے مقرب فرشتے صرف تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور خدا وند عالم سے تمہاری محبت کے طلبگار ہیں اور اس خانوادے اور گھرانے کی طرح جس کا کوئی فرد جب سفر سے آتاہے تو باقی والے کتنے خوش ہوتے ہیں فرشتے بھی شیعوں کے جنت میں آنے سے ویسے ہی خوش ہوتے ہیں۔
یا علی !تمہارے شیعہ خلوت میں خدا سے ڈرتے ہیں اور جلوت میں خدا کی اطاعت کرتے ہیں۔اور لوگوں کو حق کی پیروی کے لیے نصیحت کرتے ہیں۔
اے علی! ہر جمعہ کو تمہارے شیعوں کے اعمال مجھے دکھلائے جاتے ہیں۔ میں ان کے نیک عمل سے خوش ہوتا ہوں اور ان کے گناہوں کی مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔
اے علی! توریت میں تم اور تمہارے شیعوں کا ذکرخیر ہوا اس سے پہلے کہ تمہارے شیعہ پیدا ہوں اوراسی طرح انجیل میں بھی انہیں بزرگ جانا گیا اس حال میں کہ وہ شیعوں کو صرف اتنا جانتے تھے جتنا ان کی کتابوں میں لکھا ہے۔
اے علی! تمہارے شیعوں کو آسمان میں زمین والوں سے زیادہ بہتریاد کیا جاتا ہےلہذا انہیں چاہیے کہ وہ اس نعمت پر خوش ہوں اور اس بنا پر ہر لمحہ اللہ کی بندگی میں بسر کرنے کی زیادہ کوشش کریں۔
اے علی! تمہارے شیعوں کی روحیں نیند کے عالم میں آسمان کی طرف پرواز کر جاتی ہیں اور فرشتے انہیں ان کے مقام و منزلت کی بنا پر اس اشتیاق کے ساتھ دیکھتے ہیں جیسے چاند کو دیکھا جاتا ہے ۔
اے علی! اپنے بامعرفت اصحاب سے کہو ان اعمال سے پرہیز کریں جن کے ذریعے ان کے دشمن پہچانے جاتے ہیں اور ہر شب و روز اللہ کی طرف سے ان پر رحمت سرازیر ہوتی ہے لہذا انہیں برائیوں سے دوری اختیار کرنا چاہیے۔
اے علی!اللہ تبارک و تعالی شدید غضبناک ہوتا ہےان لوگوں پر جو تمہارے اور تمہارے شیعوں کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں اور تم اور ان سے دور رہتے ہیں اور ان لوگوں پر جو تمہارے اور تمہارے شیعوں کے بجائے دوسروں کو دوست بناتےاور تمہارے دشمن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور تمہیں اور تمہارے شیعوں کو ترک کر کے گمراہی کا راستہ اختیار کرتے اور تمہارے اور تمہارے شیعوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور اہلبیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نسبت اور ان کے دوستوں اور ان کی مدد کرنے والوں کی نسبت اور ان لوگوں کی نسبت دشمنی رکھتے ہیں جنہوں نے اپنا خون ، جا ن و مال سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا اور ہمیں دوسروں پر ترجیح دی ۔
اے علی! میرا سلام اس گروہ کو پہنچا دینا جن کو نہ میں نے دیکھا اور نہ انہوں نے مجھے دیکھا اور انہیں یہ خوشخبری دینا کہ وہ میرے بھائی ہیں اور میں ان کی زیارت کا مشتاق ہوں ۔ لہذا انہیں چاہیے کہ آنے والی صدیوں تک میری تعلیمات منتقل کریں اور اللہ کی رسیوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں اوران کا دامن تھامے رہیں اور عمل کرنے میں پیش قدم رہیں اور جان لیں کہ ہم انہیں ہدایت سے گمراہی کی طرف نہیں لائیں گے اور انہیں خبر دینا کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ ان کے اور اپنے فرشتوں کے وجود پر فخر کرتا ہے اور ہر جمعہ کو اپنی مخصوص رحمت کے ذریعے انہیں سر فراز کرتا ہے اور ملائکہ کو حکم کرتا ہے کہ ان کی مغفرت کی دعا مانگیں۔
اے علی! ان لوگوں کی مدد کرنے سے دریغ نہ کرنا جنہوں نے یہ سنا کہ میں تمہیں دوست رکھتا ہوں تو تمہیں میری وجہ سے دوست رکھنے لگے ۔اس وسیلہ سے وہ خداکا تقرب حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی خالصانہ محبت کو تمہارے لیے مخصوص کر دیا ہے اور تمہیں اپنے والدین اور اولاد پر برتری دی ہے اور تمہارا راستہ انتخاب کیا ہے اور تمام مشکلات اور سختیوں کو ہمارے ساتھ دوستی کی راہ میں اپنے اوپر تحمل کیا ہے۔ لہذا ان کے لیے دل سوز رہواور صرف ان کے ساتھ دوستی کرو اس لیے کہ خدا وند عالم نے اپنے علم کی بنا پر انہیں باقی لوگوں میں سے ہمارے لیے انتخاب کیا ہے اور انہیں ہماری سرشت میں سے پیدا کیا ہے اور ربوبیت، عبودیت ، ولایت اور محبت کے راز کو ان کے دلوں میں قرار دیا ہے اور ان کے دلوں کو ہماری واقعی معرفت سے مالامال کیا ہے اور انہیں شرح صدر دیا اور ہماری ولایت کے رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والوں میں سے قرار دیاہے۔ وہ کبھی بھی ہماری مخالفت کو انتخاب نہیں کریں گے حتی اگر ان کی دنیا بھی ان سے چھین لی جائے اور حاکم ان کو عذاب کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑے۔ خدا ان کی نصرت کرتا ہے اورانہیں راہ ہدایت کی طرف ارشاد کرتا ہے تاکہ انہیں گمراہی سے محفوظ رکھے حالانکہ باقی لوگ گمراہی اور نفسانی خواہشات میں گرے پڑے ہیں اور اللہ کی نشانی اور اس کی حجت کو دیکھنے سے محروم ہیں صبح و شام اللہ کے غضب میں بسر کرتے ہیں لیکن تمہارے شیعہ حق کے راستے پر ہیں۔ اور ان لوگوں کے ساتھ جو مخالفت کے راستے میں ہیں مانوس نہیں ہوتے۔ دنیا ان میں سے نہیں ہے اور وہ دنیا میں سے نہیں ہے۔
وہ ظلمتوں کے لیے چراغ ہیں، وہ ظلمتوں کے لیے چراغ ہیں، وہ ظلمتوں کے لیے چراغ ہیں۔
اٹھارہویں حدیث
شیعوں کا آخرت میں مقام
18- حدثنا محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رحمه الله قال حدثني محمد بن الحسن الصفار قال حدثني عباد بن سليمان عن محمد بن سليمان عن أبيه سليمان الديلمي قال كنت عند أبي عبد الله ع إذ دخل عليه أبو بصير و قد حضره النفس فلما أن أخذ مجلسه قال أبو عبد الله ع ما هذا النفس العالي قال جعلت فداك يا ابن رسول الله كبر سني و دق عظمي و اقترب أجلي مع ما أني لا أدري على ما أرد عليه في آخرتي؟
قال: له أبو عبد الله ع يا أبا محمد و إنك لتقول هذا
قال: قلت جعلت فداك فكيف لا أقول؟
قال: يا أبا محمد أ ما علمت أن الله تبارك و تعالى يكرم الشباب منكم و يستحي من الكهول
قال الله يكرم الشباب منكم أن يعذبهم و من الكهول أن يحاسبهم
قال: قلت جعلت فداك هذا لنا خاص أم لأهل التوحيد
قال: فقال لا و الله إلا لكم خاصة دون العامة و في الخبر أن الله تعالى يقول شيب المؤمنين نوري و أنا أستحي أن أحرق نوري بناري و قد قيل الشيب حلية العقل و سمة الوقار
قال: قلت: جعلت فداك فإنا قد رمينا بشيء انكسرت له ظهورنا و ماتت له أفئدتنا و استحلت به الولاة دماءنا في حديث رواه لهم فقهاؤهم
قال: فقال أبو عبد الله ع: الرافضة؟ قال: قلت: نعم
قال: لا و الله ما هم سموكم به بل إن الله سماكم به أ ما علمت يا أبا محمد أن سبعين رجلا من بني إسرائيل رفضوا فرعون إذ استبان لهم ضلالته و لحقوا بموسى إذ استبان لهم هداه فسموا في عسكر موسى الرافضة لأنهم رفضوا فرعون و كانوا أشد ذلك العسكر عبادة و أشدهم حبا لموسى و هارون و ذريتهما فأوحى الله إلى موسى أن أثبت لهم هذا الاسم في التوراة فإني سميتهم به و نحلتهم إياه فأثبت موسى الاسم لهم ثم ادخر الله هذا الاسم حتى نحلكموه۔
يا أبا محمد رفضوا الخير و رفضتم الشر بالخير
تفرق الناس كل فرقة فاستشعبوا كل شعبة فانشعبتم مع أهل بيت نبيكم محمد ص و سلم فذهبتم حيث ذهب الله و اخترتم من اختار الله و أردتم من أراد الله
فأبشروا ثم أبشروا فأنتم و الله المرحومون المتقبل من محسنكم المجاوز عن مسيئكم من لم يأت الله بما أنتم عليه لم يتقبل منه حسنة و لم يتجاوز عنه سيئة
يا أبا محمد إن لله ملائكة تسقط الذنوب من ظهور شيعتنا كما تسقط الريح الورق عن الشجر في أوان سقوطه و ذلك قول الله عز و جل وَ الْمَلائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ
فاستغفارهم و الله لكم دون هذا الخلق يا أبا محمد فهل سررتك قال قلت جعلت فداك زدني
قال: يا أبا محمد ما استثنى الله أحدا من أوصياء الأنبياء و لا أتباعهم ما خلا أمير المؤمنين و شيعته فقال في كتابه و قوله الحق يَوْمَ لا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئاً وَ لا هُمْ يُنْصَرُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
يعني بذلك عليا و شيعته يا أبا محمد فهل سررتك؟
قال: قلت: جعلت فداك زدني
قال لقد ذكركم الله إذ يقول يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ و الله ما أراد بهذا غيركم
يا أبا محمد فهل سررتك ؟
قال: قلت: جعلت فداك زدني
قال: لقد ذكركم الله في كتابه فقال إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ و الله ما أراد بهذا إلا الأئمة و شيعتهم
يا أبا محمد فهل سررتك؟
قال: قلت: جعلت فداك زدني
قال ذكركم الله في كتابه فقال فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَ الشُّهَداءِ وَ الصَّالِحِينَ وَ حَسُنَ أُولئِكَ رَفِيقاً و رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم في هذه الآية من النبيين و نحن في هذا الموضع الصديقون و الشهداء و أنتم الصالحون فتسموا بالصلاح كما سماكم الله
يا أبا محمد فهل سررتك؟
قال: قلت: جعلت فداك زدني
قال لقد ذكركم الله إذ حكى عن عدوكم و هو في النار إذ يقول ما لَنا لا نَرى رِجالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرارِ أَتَّخَذْناهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ ما عنى و لا أراد بهذا غيركم إذ صرتم في هذا العالم شرار الناس فأنتم و الله في الجنة تحبرون و أنتم في النار تطلبون
يا أبا محمد فهل سررتك
قال: قلت: جعلت فداك زدني
قال: يا أبا محمد ما من آية نزلت تقود إلى الجنة و تذكر أهلها بخير إلا هي فينا و في شيعتنا و ما من آية نزلت تذكر أهلها بسوء و تسوق إلى النار إلا و هي في عدونا و من خالفنا
قال: قلت: جعلت فداك زدني
فقال: يا أبا محمد ليس على ملة إبراهيم ص إلا نحن و شيعتنا و سائر الناس من ذلك براء يا أبا محمد فهل سررتك [20]
ترجمہ
سلیمان دیلمی کا کہنا ہے: میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ ابو بصیر سانس پھولے ہوئے وارد خانہ ہوئے جب بیٹھ گئے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیوں سانس پھولی ہے؟
عرض کیا : اے فرزند رسول ! میرا سن زیادہ ہو گیا ہے دماغ کی ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور موت اب نزدیک ہے اس حال میں کہ مجھے نہیں معلوم آخرت میں میرا کیا انجام ہو گا۔
فرمایا: اے ابو محمد! تم بھی ایسا کہتے ہو؟
عرض کیا: قربان جاوں، کیوں ایسا نہ کہوں؟
فرمایا: اے ابو محمد! تمہیں معلوم نہیں خدا وند عالم نے تمہارے جوانوں کو مکرم جاناہے اور بوڑھوں کو عذاب سے بری قرا ردیا ہے؟
عرض کیا: قربان جاوں، کیا خدا کا یہ لطف وکرم صرف ہم لوگوں سے مخصوص ہے یا سب اہل توحید کو شامل ہوگا؟
فرمایا: نہیں، یہ فقط آپ لوگوں سے مخصوص ہے خداوند عالم فرماتا ہے: مومنین کے بالوں کی سفیدی میرا نور ہے مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس نور کو جہنم کی آگ سے جلاوں۔ اور کہا گیا ہے کہ بالوں کی سفیدی عقل کی زینت اور وقار کی علامت ہے۔
عرض کیا: قربان جاوں، فقہا نے جو حدیث ان [ حکام] کے لیے روایت کی ہے اس کی وجہ سے ہمیں حملات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ہماری کمر توڑی جا رہی ہے اور حکام نے ہمارے خون کو حلال کر دیا ہے۔
امام نے فرمایا: رافضہ؟ [ یعنی شیعہ رافضی ہیں والی حدیث]
کہا: جی ہاں یابن رسول اللہ۔
فرمایا: خدا کی قسم انہوں نے تم لوگوں کا یہ نام نہیں رکھا ہے۔ بلکہ پروردگار عالم نے تمہارے لیے یہ نام انتخاب کیا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ فرعون کی گمراہی بنی اسرائیل کے ستر افراد کے ذریعے آشکارا ہوئی، اور اسے چھوڑ کر حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ مل گئے، جب ان کا ہدایت پانا لوگوں کے درمیان ظاہر ہوا تو فرعون کے ماننے والوں نے انہیں رافضی کہنا شروع کر دیا چونکہ انہوں نے فرعون کو چھوڑ دیاتھا۔ یہ گروہ خدا کی بندگی ، حضرت موسی کی محبت اور ان کے جانشین ہارون علیہما السلام کی اطاعت میں مصرّ تھے۔خدا وند عالم نے موسی علیہ السلام کو وحی کی کہ اس نام کو توریت کے اندر درج کر دو کہ میں نے اس نام کو ان کے لیے قرار دیا ہے۔ لہذا جناب موسی نے اس نام کو توریت میں درج کر دیا اس کے بعد خدا نے اس نام کو محفوظ رکھا یہاں تک کہ تم لوگوں کو عطا کیا۔
اے ابو محمد!انہوں نے نیکیوں کو چھوڑ دیا اور تم لوگوں نے نیکی کے لیے شر کو ترک کر دیا۔ اس حال میں کہ لوگ پراکندہ ہو گئے تم لوگ اہلبیت رسول علیہم السلام کے ساتھ مل گئے۔ اور جو راستہ سیدھا اللہ کی طرف جاتا ہے اس پر چل پڑے۔اور اسے اپنا راہبر انتخاب کیا جسے اللہ نے مقرر کیا ہے۔ جس چیز کا اللہ نے ارادہ کیا اس کا ارادہ کیے ہو۔لہذا خوشخبری ہو تم کو کہ اللہ کی رحمت اور عنایت تمہارے شامل حال ہے۔ تمہارے نیک اعمال قبول ہوتے ہیں برے اعمال معاف ہو جاتے ہیں۔ اور جو اس راستے پرنہ چلے جو سیدھا خدا کی طرف جاتا ہے ، اس کے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے اور گناہ معاف نہیں ہوتے۔
اے ابو محمد! اللہ کے یہاں کچھ فرشتے ہیں جو شیعوں کے گناہوں کو اس طرح سے جھڑتے ہیں جیسے ہوا درختوں سے پتے جھڑتی ہے۔ اوریہ قرآن کریم کی اس آیت کا مصداق ہیں:والملائکۃ یسبحون بحمد ربھم و یستغفرون لمن فی الارض [21]اور فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو زمین میں ہیں طلب مغفرت کرتے ہیں۔
فرشتوں کا استغفار صرف تم لوگوں کے لیے ہے نہ دوسرے لوگوں کے لیے۔
اے ابا محمد! کیا خوش ہو گئے؟
قربان ہو جاوں، مزید فرمائیے۔
فرمایا: اے ابو محمد! خدا وند عالم نے کسی بھی نبی کے جانشین کو مستثنی نہیں کیا ہے سوائے امیر المومنین اور ان کے شیعوں کو، قرآن میں فرمایا: یوم لا یغنی مولی عن مولی شیئا و لا ھم ینصرون الا من رحم اللہ[22]" وہ دن جس دن کوئی دوست معمولی سی مدد بھی اپنے دوست کی نہیں کرے گا اور ان کی کوئی نصرت نہیں کی جائے گی مگر اس شخص کی جس پر اللہ نے رحم کیا ہو"
اس آیت سے مراد علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ ہیں۔
اے ابو محمد ! کیا خوشحال ہوئے ہو؟
عرض کیا: مولا قربان جاوں، مزید بیان کیجیے۔
فرمایا: خداوند عالم نے اس آیت کے اندر تم لوگوں کو یاد کیا ہے:
" یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انہ ھو الغفور الرحیم"[23]اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بیشک اللہ سب کے گناہوں کو بخش دیتا ہے وہ غفور اور رحیم ہے۔
اے ابو محمد ! راضی ہوئے ہو؟
عرض کیا : قربان جاوں مولا اور فرمائیے۔
خدا وند عالم نے قرآن میں تم لوگوں کو اس طرح سے یاد کیا ہے:
"ان عبادی لیس لک علیھم سلطان" [24]تو [شیطان] ہر گز میرے بندوں پر مسلط نہیں ہو پائے گا۔
خدا کی قسم آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کی پیروکاروں کے علاوہ اس آیت سے مراد کوئی اور نہیں ہے۔
اے ابو محمد! خوش ہوئے ہو؟
عرض کیا: قربان جاوں مولا کچھ مزید بیان کیجیے۔
فرمایا: خدا نے قرآن میں ان الفاظ سے تم لوگوں کو یاد کیا ہے:
"فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین و الصدیقین و الشھداء و الصالحین و حسن اولئک رفیقا" [25]وہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گے جن پر اللہ نے اپنی نعمتیں نازل کی ہیں وہ انبیاء،صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہی بہترین رفقاء ہیں۔
اس آیت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انبیاء میں سے ہیں اور ہم صدیقین اور شھدا میں سے اور تم لوگ صالحین میں سے ہو۔ اور تم لوگوں کو صلاح اور نیکی کا نام دیا گیا ہے جیسا کہ خود خدا نے یہ نام دیا ہے۔
اے ابو محمد! راضی ہوئے ہو؟
عرض کیا: قربان ہو جاوں مزید بیان کیجیے۔
فرمایا: جب اللہ نے تمہارے دشمن کا تذکرہ کیا کہ وہ جہنم میں رہے گا تو وہاں بھی آپ لوگوں کو یاد کیا ہے:
" و قالوا ما لنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار، اتخذ نھم سخریا ام زاغت عنھم الابصار" [26]" پھر خود ہی کہیں گے کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے ہیں جنہیں شریر لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ ہم نے ناحق ان کا مذاق اڑایا تھا یا اب ہماری نگاہیں ان کی طرف سے پلٹ گئی ہیں"۔
اس آیت سے مراد تم لوگوں کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے اس لیے کہ اس دنیا میں لوگوں کی نظر میں تم ہی سب سے بدتر لوگ تھے حالانکہ بہشت میں اللہ کی نعمتوں میں غرق ہو اور وہ تم لوگوں کو جہنم میں تلاش کرتے ہیں۔
اے ابو محمد! کیا اب خوش ہوئے ہو؟
عرض کیا: قربان جاوں مولا، مزید فرمائیے۔
اے ابو محمد! کوئی آیت جنت اور اہل جنت کے لیے نازل نہیں ہے مگر وہ ہمارے اور ہمارے چاہنے والوں کے بارے میں ہے۔ اور کوئی آیت جہنم کے بارے میں نازل نہیں ہوئی ہے مگر دشمنوں اور مخالفین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
عرض کیا: اے ابو محمد! جناب ابراہیم علیہ السلام دین و مذہب پر ہمارے اور ہمارے شیعوں کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور باقی لوگ اس راستے سے دور ہیں۔
اے ابو محمد! راضی ہوئے ہو؟
عرض مولا: جی ہاں، کافی ہے۔
انیسویں حدیث
اہلبیت علیہم السلام کے چاہنے والے جہنم سے بری
19- أبي رحمه الله قال حدثني سعد بن عبد الله قال: حدثني عباد بن سليمان عن أبان بن تغلب عن أبي عبد الله ع قال:
قلت جعلت فداك فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ قال: فقال من أكرمه الله بولايتنا فقد جاز العقبة و نحن تلك العقبة من اقتحمها نجا قال فسكت ثم قال هلا أفيدك حرفا فيها خيرا من الدنيا و ما فيها قال قلت بلى جعلت فداك قال قوله تعالى فَكُّ رَقَبَةٍ الناس كلهم عبيد النار غيرك و أصحابك فإن الله عز و جل فك رقابكم من النار بولايتنا أهل البيت [27]
ترجمہ
ابان بن تغلب کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: قربان جاوں اس آیت " فلا اقتحم العقبۃ" [28]کے کیا معنی ہیں؟
فرمایا: وہ شخص جسے اللہ نے ہماری ولایت عطا کی ہے وہ عقبہ سے گزر جائے گا اور ہم وہ عقبہ ہیں کہ جہاں سے جو شخص گزرے گا نجات پا جائے گا۔ [ اس کے بعد تھوڑا خاموش رہے] پھر فرمایا: کیا میں ایک بات تمہیں کہوں جس میں محض خیر ہو اور دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ بہتر ہو؟
عرض کیا: قربان جاوں یابن رسول اللہ، فرمائیے۔
فرمایا: خدا وند عالم کا قول " فک رقبہ" سب لوگ جہنم کی آگ میں گرفتار ہوں گے سوائے تمہارے اور تمہارے دوستوں کے کہ خدا وند عالم نےہم اہلبیت کی محبت کے طفیل تم لوگوں کی گردنوں کو آتش جہنم کی زنجیروں سے آزاد رکھا ہے ۔
بیسویں حدیث
امیر المومنین کا گلّہ
20- و بهذا الإسناد عن سليمان الديلمي عن أبي بصير عن أبي عبد الله ع قال:
قال أمير المؤمنين ع :أنا الراعي راعى الأنام أ فترى الراعي لا يعرف غنمه قال فقام إليه جويرية قال يا أمير المؤمنين فمن غنمك قال صفر الوجوه ذبل الشفاه من ذكر الله[29]
ترجمہ
امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: میں لوگوں کا چوپان ہوں کیا تم یہ سوچتے ہو کہ چوپان اپنے گلّہ کو نہیں پہچانتا؟
جویریہ نے عرض کیا: یا امیر المومنین آپ کا گلّہ کون لوگ ہیں؟
فرمایا: وہ لوگ جن کے یاد ِخدا کی وجہ سے چہرہ زرد اور زبانیں خشک ہو گئی ہوں۔
اکیسویں حدیث
مومن اللہ کے نور کو دیکھتا ہے
21- و بهذا الإسناد عن سليمان بن عنتمة بن أسلمة عن معاوية الدهني قال: قلت: لأبي عبد الله جعلت فداك هذا الحديث الذي سمعته منك ما تفسيره؟
قال: و ما هو؟ قلت: إن المؤمن ينظر بنور الله ۔
فقال: يا معاوية إن الله خلق المؤمنين من نوره و صنعهم من رحمته و اتخذ ميثاقهم لنا في الولاية على معرفته يوم عرفهم نفسه فالمؤمن أخو المؤمن لأبيه و أمه أبوه النور و أمه الرحمة إنما ينظر بذلك النور الذي خلق منه[30]
ترجمہ
معاویہ دھنی نے کہا: امام صادق علیہ اسلام کی خدمت میں عرض کیا:
قربان جاوں مولا ! اس حدیث کی تفسیر جو آپ سے سنی ہے کیا ہے؟
فرمایا: وہ حدیث کون سی ہے؟
عرض کیا : "مومن اللہ کے نور کو دیکھتا ہے"۔
فرمایا: اے معاویہ خدا وند عالم نے مومنین کو اپنے نور سے پیدا کیا ہے اور اپنی رحمت کے نور سے انہیں بنایا ہے اوراس دن ان سے اپنی معرفت کے ساتھ ہماری ولایت کا عہد لیا ہے جس دن اس نے انہیں اپنے آپ کو پہچنوایا۔ مومن ایک ہی ماں باپ سے دوسرے مومن کا بھائی ہے اس کا باپ نور اور اس کی ماں رحمت ہے۔ مومن اس نور کو دیکھتا ہے جس سے وہ پید اہوا ہے۔
بائیسویں حدیث
امام زمانہ کی معرفت ،حقیقی ہدایت
22- و بهذا الإسناد عن سليمان عن داود بن كثير الرقي قال: دخلت على أبي عبد الله ع فقلت له: جعلت فداك قوله تعالى وَ إِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى فما هذا الهدى بعد التوبة و الإيمان و العمل الصالح قال:
فقال: معرفة الأئمة و الله إمام كذا يا سليمان [31]
ترجمہ
داوود بن کثیر رقی نے کہا: میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور عرض کیا: قربان جاوں مولا خدا وند عالم نے فرمایا ہے:
" وا نی لغفار لمن تاب و آمن و عمل صالحا ثم اھتدی" اور میں اس شخص کو معاف کر دوں گا جو توبہ کرے ، ایمان لائے ،نیک عمل بجا لائے اوراس کے بعد ہدایت کے راستے پر چلے ۔
اس آیت میں آخری ہدایت کے معنی کیا ہے جو توبہ ، ایمان اور عمل صالح کے بعد ہے؟
فرمایا: خدا کی قسم آئمہ کی معرفت ہے۔ ایک امام کے بعد دوسرے امام کی معرفت [ یعنی ہرزمانے کے امام کی معرفت]۔
تیئیویں حدیث
نیند اور موت کی حالت میں اللہ کی عبادت
23- أبي رحمه الله قال حدثني سعد بن عبد الله عن عباد بن سليمان عن سدير الصيرفي عن أبي عبد الله ع قال دخلت عليه و عنده أبو بصير و ميسرة و عدة من جلسائه فلما أن أخذت مجلسي أقبل علي بوجهه و قال:
يا سدير أما إن ولينا ليعبد الله قائما و قاعدا و نائما و حيا و ميتا
قال: قلت جعلت فداك أما عبادته قائما و قائدا و حيا فقد عرفنا كيف يعبد الله نائما و ميتا قال إن ولينا ليضع رأسه فيرقد فإذا كان وقت الصلاة وكل به ملكين خلقا في الأرض لم يصعدا إلى السماء و لم يريا ملكوتها فيصليان عنده حتى ينتبه فيكتب الله ثواب صلاتهما له و الركعة من صلاتهما تعدل ألف صلاة من صلاة الآدميين و إن ولينا ليقبضه الله إليه فيصعد ملكاه إلى السماء فيقولان:
يا ربنا عبدك فلان بن فلان انقطع و استوفى أجله و لأنت أعلم منا بذلك فأذن لنا نعبدك في آفاق سمائك و أطراف أرضك
قال: فيوحي الله إليهما أن في سمائي لمن يعبدني و ما لي في عبادته من حاجة بل هو أحوج إليها و أن في أرضي لمن يعبدني حق عبادتي و ما خلقت خلقا أحوج إلي منه فيقولان يا ربنا من هذا يسعد بحبك إياه
قال: فيوحي الله إليهما ذلك من أخذ ميثاقه بمحمد عبدي و وصيه و ذريتهما بالولاية اهبطا إلى قبر وليي فلان بن فلان فصليا عنده إلى أن أبعثه في القيامة
قال: فيهبط الملكان فيصليان عند القبر إلى أن يبعثه الله فيكتب ثواب صلاتهما له و الركعة من صلاتهما تعدل ألف صلاة من صلاة الآدميين
قال: سدير جعلت فداك يا ابن رسول الله فإذن وليكم نائما و ميتا أعبد منه حيا و قائما قال فقال:
هيهات يا سدير إن ولينا ليؤمن على الله عز و جل يوم القيامة فيجيز أمانه۔[32]
ترجمہ
سدیر صیرفی کا کہنا ہے: امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور ابو بصیر ،میسرہ اور کچھ دیگر اصحاب آپ کے پا س موجود تھے جب میں آپ کے پاس بیٹھا تو آپ نے میری طرف رخ کر کے مجھے فرمایا:
اے سدیر! ہمارے دوست اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ، زندہ مردہ ہر حالت میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
عرض کیا: قربان جاوں ، اٹھتے بیٹھتے جاگتے اور زندگی میں بندگی تو سمجھ میں آ گئی لیکن نیند اور موت کی حالت میں اللہ کی بندگی کیسے ہو گی؟
فرمایا: جب ہماراکوئی چاہنے والا سر،زمین پر رکھتا ہے اور سو جاتا ہے تو حالت نماز میں جواس کے لیے دو فرشتے خلق ہوئے ہوتے ہیں اور آسمان کی طرف نہیں گئے ہوتے اس کی طرف سےوکیل بن جاتے ہیں اور اس کے پاس کھڑے ہو کرنماز پڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے خدا وند عالم ان دو فرشتوں کی نمازوں کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھتا ہے اس حال میں ان دو فرشتوں میں سے ہر ایک کی ایک رکعت نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے جو انسان پڑھتے ہیں۔
جب ہمارے دوستوں میں سے کسی کی روح قبض ہوتی ہے تو وہ دو فرشتے آسمان کی طرف جاتے ہیں اور اللہ سے کہتے ہیں خدایا !تیرا فلاں بندہ مر گیا ہے اور تو خود اس خبر کو بہتر جانتا ہے ہمیں اجازت دے کہ ہم اس کی جگہ زمین و آسمان میں تیری عبادت کریں۔
وحی آتی ہے کہ کون آسمان میں میری اس طرح عبادت کر سکتا ہے جس طرح کا میں لائق ہوں حالانکہ مجھے اس کی عبادتوں کی ضرورت نہیں۔ بلکہ خود اس کو اس کی ضرورت ہے۔ اور کون ہے زمین میں جو کما حقہ میری عبادت کرے گا حالانکہ میں نے کسی مخلوق کو اس سے زیادہ اپنی طرف محتاج ،خلق نہیں کیا ہے ۔
فرشتے عرض کریں گے: پس کون تیری محبت کے واسطے سعادتمند ہو گا؟
وحی آئے گی: وہ شخص جس سے میں نے اپنے نبی محمد کی نبوت کا اقرار لیا اور اس کے جانشینوں کی ولایت کا عہد لیا۔ میرے فلاں دوست کی قبر میں جاو اور جب تک وہ دوبارہ زمین سے نہ اٹھے اس کے سرہانے نماز پڑھتے رہو۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ دو فرشتے زمین پر آتے ہیں اور اس شخص کی قبر میں جاتے ہیں اور عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ قیامت آ جاتی ہے اور ان دونوں کی نمازوں کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا ہوتا ہے کہ ان کی ہر رکعت کا ثواب ہزار رکعت کے برابر ہے۔
سدیر نے عرض کیا:قربان جاوں مولا، اس بناپر آپ کا دوست نیند اور مردہ حالت میں اس شخص سے زیادہ عابد تر ہے جو زندہ یا بیدار ہے۔
فرمایا: ہر گز اے سدیر! ہمارا دوست قیامت میں دوسروں کے لیے آتش جہنم سے امان طلب کرے گا اور اسے شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔
چوبیسویں حدیث
مومن کی قبض روح کے وقت خوشی
24- و بهذا الإسناد عن سدير قال: قلت لأبي عبد الله ع: جعلت فداك يا ابن رسول الله هل يكره المؤمن على قبض روحه؟
قال: لا إذا أتاه ملك الموت ليقبض روحه جزع عند ذلك فيقول له ملك الموت يا ولي الله لا تجزع فو الذي بعث محمدا بالحق لأنا أبر بك و أشفق عليك من الوالد الرحيم لولده حين حضره افتح عينيك و انظر قال و يمثل له رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم و أمير المؤمنين و فاطمة و الحسن و الحسين و الأئمة هم رفقاؤك قال فيفتح عينيه و ينظر و تنادى روحه من قبل العرش يا أيتها النفس المطمئنة ارجعي إلى محمد و أهل بيته و ادخلي جنتي قال فما من شيء أحب إليه من انسلال روحه و اللحوق بالمنادي۔[33]
ترجمہ
سدیر کا کہنا ہے: امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: کیا مومن روح قبض کرنے سے ناراحت ہوتا ہے؟
فرمایا: نہیں، جب ملک الموت روح قبض کرنے مومن کے پاس جاتا ہے وہ گریہ و زاری کرتا ہے۔ ملک الموت اسے کہتا ہے اے اللہ کے دوست !گریہ نہیں کرو۔ اس خدا کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مبعوث کیا میں اس طرح سے تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی سے پیش آوں گا جیسے ایک باپ بیٹے کے ساتھ مہربانی کرتا ہے۔ اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھوکیا دیکھ رہے ہو؟ وہ کہتا ہے: پیغمبر اسلام ، امیر المومنین، جناب فاطمہ، حسن و حسین اور دیگر آئمہ معصومین علیھم السلام کو دیکھ رہا ہوں۔
ملک الموت اسے کہتا ہے :یہ تمہارے دوست ہیں۔ وہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے اور ان کی زیارت کرتا ہے اور عرش سے روح کو کہا جاتا ہے: اے نفس مطمئنہ! محمد اور آل محمد کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ، اس حال میں کہ تم اپنے پروردگار کی ولایت سے راضی ہو اور خدا بھی ثواب دینے پر راضی ہے پس میرے بندوں میں داخل ہو جا یعنی محمد اور آل محمد کی صف میں، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
سدیر نے کہا: پس اس کے نزدیک اس سے زیادہ کیا چیز محبوب ہو گی کہ اس کی جان نکلے اور اس کی روح دعوت کرنے والوں کی طرف چلی جائے؟!۔
پچیسویں حدیث
قیامت میں شیعوں کے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح
25- أبي رحمه الله قال حدثني سعد بن عبد الله عن معاوية بن عمار عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده ع قال
قال: رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم إذا كان يوم القيامة يؤتى بأقوام على منابر من نور تتلألأ وجوههم كالقمر ليلة البدر يغبطهم الأولون و الآخرون ثم سكت ثم أعاد الكلام ثلاثا
فقال: عمر بن الخطاب بأبي أنت و أمي هم الشهداء
قال: هم الشهداء و ليس هم الشهداء الذين تظنون
قال: هم الأوصياء
قال: هم الأوصياء و ليس هم الأوصياء الذين تظنون
قال: فمن أهل السماء أو من أهل الأرض
قال: هم من أهل الأرض
قال: فأخبرني من هم
قال: فأومأ بيده إلى علي ع فقال: هذا و شيعته ما يبغضه من قريش إلا سفاحي و لا من الأنهار كذا إلا يهودي و لا من العرب إلا دعي و لا من سائر الناس إلا شقي يا عمر كذب من زعم أنه يحبني و يبغض عليا [34]
ترجمہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن آئے گا کچھ لوگ نور کے منبروں پر بیٹھیں گے کہ ان کے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح درخشاں ہونگے اور اولین اور آخرین ان پر حسرت کھائیں گے۔
اس کے بعد آپ خاموش ہو گئے کچھ دیر کے بعد آپ نے پھر اسی جملہ کو تین بار تکرار کیا۔
عمر بن خطاب نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ شہداء ہیں کیا؟
فرمایا: شہداء ہیں لیکن نہ وہ شہداء جو تم سوچ رہے ہو۔
عرض کیا: انبیا ہیں کیا؟
فرمایا: انبیاء ہیں لیکن نہ وہ انبیاء جو تم خیال کر رہے ہو۔
عرض کیا: انبیاء کے جانشین ہیں کیا؟
فرمایا: اوصیاء ہیں لیکن نہ وہ اوصیاء جو تم سوچ رہے ہو۔
عرض کیا: وہ آسمانی مخلوق ہیں یا زمینی؟
فرمایا: زمینی ہیں۔
عرض کیا یہ کون لوگ ہیں؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امیر المومنین علی علیہ السلام کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہ [علی] اور ان کے شیعہ ہیں۔ قریش میں سے سوائے اس کے جو حرام زادہ ہو اور دیگر مذاہب میں سے سوائے یہودیوں کے ، عربوں میں سے سوائے اس کے جو مشکوک النسب ہو اور دوسرے لوگو ں میں سے سوائے بدبخت کے کوئی ان کا دشمن نہیں ہو گا۔
اے عمر ! جھوٹ بولتا ہے وہ شخص جو گمان کرتا ہےکہ مجھے دوست رکھتا ہے حالانکہ وہ علی کا دشمن ہے۔
چھبیسویں حدیث
شیعوں پر انبیاء اور ملائکہ کا غبطہ کرنا
26- حدثني محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رحمه الله قال حدثني محمد بن الحسن الصفار عن محمد بن قيس و عامر بن السمط عن أبي جعفر ع قال:
قال: رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم يأتي يوم القيامة قوم عليهم ثياب من نور على وجوههم نور يعرفون بآثار السجود يتخطون صفا بعد صف حتى يصيروا بين يدي رب العالمين يغبطهم النبيون و الملائكة و الشهداء و الصالحون قال له عمر بن الخطاب من هؤلاء يا رسول الله الذين يغبطهم النبيون و الملائكة و الشهداء و الصالحون قال أولئك شيعتنا و علي إمامهم[35]
ترجمہ
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
قیامت کے دن کچھ لوگ نور کا لباس زیب تن کئے نورانی چہروں کے ساتھ وارد محشر ہوں گےکہ انہیں ان کے سجدوں کے نشانات سے پہچانا جائے گا صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھیں گے تاکہ پہلی صف میں پروردگار عالم کے سامنے کھڑے ہوں۔ انبیاء، ملائکہ، شہداء اور نیک افراد ان کے حال پر غبطہ کریں گے۔
عمر بن خطاب نے کہا: یہ کون لوگ ہوں گے؟
فرمایا: یہ لوگ ہمارے شیعہ اور پیروکار ہیں کہ جن کے امام علی علیہ السلام ہیں۔
ستائیسویں حدیث
رسول خدا کی شیعوں سے عالم طین میں ملاقات
27- حدثني محمد بن الحسن بن أحمد بن الوليد رحمه الله قال حدثني محمد بن الحسن الصفار عن معاوية بن عمار عن أبي عبد الله ع عن أبيه عن جده ع قال:
قال: رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم لعلي يا علي لقد مثلت إلي أمتي في الطين حين رأيت صغيرهم و كبيرهم أرواحا قبل أن تخلق أجسادهم و إني مررت بك و شيعتك فاستغفرت لكم فقال علي يا نبي الله زدني فيهم قال نعم يا علي تخرج أنت و شيعتك من قبوركم و وجوهكم كالقمر ليلة البدر و قد فرجت عنكم الشدائد و ذهبت عنكم الأحزان تستظلون تحت العرش تخاف الناس و لا تخافون و تحزن الناس و لا تحزنون و توضع لكم مائدة و الناس في المحاسبة [36]
ترجمہ
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا:
اے علی ! عالم طین میں میری امت میرے پاس حاضر ہوئی میں نے حتی چھوٹے بڑے سب کی ارواح کو دیکھا اس سے پہلے کہ ان کے بدن خلق ہوں اور میں تمہارے اور تمہارے شیعوں کے پاس گیا تم سب کے لیے طلب مغفرت کی۔ علی علیہ السلام نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی مزید بیان کیجیے۔
فرمایا: اے علی ! تم اور تمہارے شیعہ چودہویں کے چاند کی طرح نورانی اپنی قبروں سے باہر آئیں گے تمام مشکلات تم پر آسان ہو جائیں گی۔ اور بغیر کسی خوف و ہراس کے عرش الہی کے زیر سایہ آرام کریں گے حالانکہ باقی تمام لوگ پریشان ہوں گےلیکن تم لوگ نہیں ڈرو گے ، لوگ محزون ہوں گے اور تم لوگوں کو کوئی حزن نہیں ہو گا۔ تم لوگوں کے لیے دسترخوان الہی بچھایا جائے گااس حال میں کہ باقی لوگ اپنا حساب و کتاب دینے میں گرفتار ہوں گے۔
اٹھائیسویں حدیث
سنت اہلبیت سنت رسول
28- أبي رحمه الله قال حدثنا سعد بن عبد الله عن محمد القبطي قال سمعت أبا عبد الله ع يقول للناس أغفلوا قول رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم في علي في يوم غدير خم كما أغفلوا قوله يوم مشربة أم إبراهيم أتى الناس يعودونه فجاء علي ع ليدنو من رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم فلم يجد مكانا فلما رأى رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم أنهم لا يفرجون لعلي ع قال:
يا معشر الناس هذا أهل بيتي تستخفون بهم و أنا حي بين ظهرانيكم أما و الله لئن غبت فإن الله لا يغيب عنكم إن الروح و الراحة و الرضوان و البشرى و الحب و المحبة لمن ائتم بعلي و تولاه و سلم له و للأوصياء من بعده حق علي أن أدخلهم في شفاعتي لأنهم أتباعي فمن تبعني فإنه مني مثل جرى في إبراهيم لأني من إبراهيم و إبراهيم مني و ديني دينه و سنتي سنته و فضله فضلي و أنا أفضل منه و فضلي له فضل تصديق قول ربي ذُرِّيَّةً بَعْضُها مِنْ بَعْضٍ وَ اللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
و كان رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم قد أثبت رجله في مشربة أم إبراهيم حين عاده الناس[37]
ترجمہ
محمد قبطی کا کہنا ہے: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: لوگوں نے علی علیہ السلام کے بارے میں، رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کی غدیر خم کے دن کی باتیں فراموش کر دیں جیسا کہ آنحضرت کی مشربہ ام ابراہیم کے دن کی باتیں بھی بھلا دیں۔ جب علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے اور لوگوں نے انہیں بیٹھنے کی جگہ نہیں دی۔ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس صحنہ کو دیکھا فرمایا:
اے لوگو ! یہ میرے اہلبیت ہیں تم لوگ انہیں ہلکا شمار کرتے ہو حالانکہ میں تمہارے درمیان زندہ ہوں؟ خدا کی قسم اگر میں تمہارے درمیان سے مخفی ہو جاوں تو خدا تو مخفی نہیں ہو گا۔ آرام، راحت، رضوان، بشارت اور محبت صرف ان کے لیے ہے جو علی کی پیروی کریں اور انہیں دوست رکھیں ان کے بعدان کے اوصیاء کے سامنے تسلیم رہیں ایسے لوگوں کی شفاعت کرنا مجھ پر لازمی ہے اس لیے کہ انہوں نے میری پیروی کی ہے اور جس نے میری پیروی کی وہ مجھ سے ہے جیسا کہ ابراہیم کی نسبت میرے بارے میں وارد ہوا ہے کہ میں ابراہیم میں سے ہوں اور ابراہیم مجھ سے ہیں۔ میرا دین ان کا دین اورمیری سنت ان کی سنت ہے ان کی فضیلت میری فضیلت ہے اس حال میں کہ میں ان سے افضل ہوں ان کے لیے میری فضیلت میرے پروردگار کےاس قول سے ثابت ہے: " ذریۃ بعضھا من بعض و اللہ سمیع علیم" [38]"یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اللہ سب کی سننے والا اور جاننے والا ہے"۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس وقت ان باتوں کو بیان کیا جب آپ مشربہ ام ابراہیم کے پاس تھے آپ کے پاوں کے درد کی وجہ سے لوگ آپ کی عیادت کو آ رہے تھے۔
انتیسویں حدیث
اہلبیت سے محبت نیکی اور ان سے دشمنی برائی
29- أبي رحمه الله قال حدثنا سعد بن عبد الله عن أبي داود الأعمى عن أبي عبد الله الجدلي قال:
قال علي ع يا أبا عبد الله أ لا أحدثك بالحسنة التي من جاء بها أمن من فزع يوم القيامة و السيئة التي من جاء بها أكبه الله على وجهه في النار قال قلت بلى قال الحسنة حبنا و السيئة بغضنا[39]
ترجمہ
ابو عبد اللہ جدلی کا کہنا ہے: امام علی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:
اے ابو عبد اللہ! آیا میں ایک نیک کام کی خبر دوں کہ اگر کوئی اسے انجام دے توقیامت کے ہولناک منظر سے امان میں رہے گا اور ایک برے عمل کی خبر دوں کہ اگر کوئی اس سے مانوس ہو جائے تو خدا وند عالم آتش جہنم میں اسے منہ کے بل گرائے گا؟
عرض کیا: ہاں یا امیر المومنین!
فرمایا: وہ نیکی، ہماری محبت اور وہ برائی ہماری دشمنی ہے۔
تیسویں حدیث
شیعہ آئمہ کے تابع
30- و بهذا الإسناد عن الحسن بن علي عن عاصم بن حميد عن إسحاق النحوي قال سمعت أبا عبد الله ع يقول:
إن الله أدب نبيه ص على محبته إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ ثم فوض إليه فقال ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا و قال مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ و إن رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم فوض إلى علي ع فائتمنه فسلمتم و جحد الناس فو الله لنحبكم أن تقولوا إذا قلنا و تصمتوا إذا صمتنا و نحن فيما بينكم و بين الله و الله ما جعل لأحد من خير في خلاف أمره [40]
ترجمہ
اسحاق نحوی کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
خداو ند عالم نے اپنے رسول کو محبت کے آداب سکھائے اور اس کے بعد فرمایا: " وانک لعلی خلق عظیم"[قلم، ۴] "آپ اخلاق کے عظیم درجہ پر فائز ہیں"۔
اس کے بعد دینی امور کو آپ کے حوالے کیا اور فرمایا: ما ءا تاکم الرسول فخذوہ و ما نھاکم عنہ فانتھوا" [حشر ۔۷]"جو پیغمبر تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں باز آجاو" اور مزید فرمایا: " من یطع الرسول فقد اطاع اللہ" [41]"جس نے پیغمبر کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی"۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان امور کو اپنے بعد علی علیہ السلام کے حوالے کر دیا اور انہیں اس کام کے لیے امین سمجھا۔ تم شیعوں نے انہیں تسلیم کر لیا لیکن دوسرے لوگوں نے انہیں قبول نہیں کیا۔ خدا کی قسم میں تم لوگوں کو دوست رکھتا ہوں کہ اس وقت بولو جب ہم بولیں اور خاموش ہو جاو جب ہم خاموش ہو جائیں ہم تمہارے اور تمہارے خدا کے درمیان شاہد ہیں۔ خدا کی قسم علی علیہ السلام کے حکم کی مخالفت میں کسی کے لیے خیر نہیں ہے۔
اکتیسویں حدیث
مومنین کے گناہوں کی بخشش
31- و بهذا الإسناد عن الحسن بن علي بن علاء عن محمد بن مسلم عن أبي جعفر ع قال:
إن ذنوب المؤمنين مغفورة لهم فليعمل المؤمن لما يستأنف أما إنها ليست إلا لأهل الإيمان [42]
ترجمہ
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
مومنین کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور مومن اس کے بعد اس طرح ہے جیسے اس نے ابھی عمل انجام دینے کی ابتدا کی ہو۔ واضح ہے کہ یہ بخشش الہی صرف اہل ایمان سے مخصوص ہے۔
بتیسویں حدیث
دنیا اور آخرت میں فرق
32- و بهذا الإسناد عن أبي جعفر ع قال:
إن الله عز و جل يعطي الدنيا من يحب و يبغض و لا يعطي الآخرة إلا من أحب و إن المؤمن ليسأل ربه موضع سوط من الدنيا فلا يعطيه و يسأله الآخرة فيعطيه ما شاء و يعطي الكافر من الدنيا قبل أن يسأله ما شاء و يسأله موضع سوط في الآخرة فلا يعطيه إياه [43]
ترجمہ
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
خدا وند عالم نے دنیا ، اپنے دوست اور دشمن دونوں کو دی ہے لیکن آخرت صرف اپنے دوستوں سے مخصوص کر رکھی ہے مومن خدا وند عالم سے اس دنیا میں سے صرف ایک تازیانہ کی مقدار طلب کرتا ہے لیکن خدا اسے نہیں دیتا۔ اور آخرت سے جتنا وہ مانگتا ہے اسے دے دیتا ہے۔ اور کافروں کودنیا ان کے مانگے بغیر دی جاتی ہے لیکن جب وہ خدا سے چاہتےہیں کہ آخرت میں ان سے عذاب کو دور کردے تو انہیں کوئی جواب نہیں ملتا۔
تینتیسویں حدیث
شیعہ اور بہشت
33- و بهذا الإسناد عن الحسن بن علي بن فضال عن محمد بن الفضل عن أبي حمزة قال سمعت أبا عبد الله ع يقول:
أنتم للجنة و الجنة لكم أسماؤكم الصالحون و المصلحون و أنتم أهل الرضا عن الله برضاه عنكم و الملائكة إخوانكم في الخير إذا اجتهدوا[44]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
آپ اور جنت ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے ہیں آپ کو صالح اور اصلاح کرنے والا کہا جاتا ہے۔ آپ خدا سے راضی ہو ں گے اور خدا آپ سے راضی۔ اور اگر نیک اعمال انجام دینے کی کوشش کرو گے تو ملائکہ تمہارے ناصر اور بھائی ہوں گے۔
چونتیسویں حدیث
شیعوں کی قبریں جنت
34- و بهذا الإسناد قال أبو عبد الله ع:
دياركم لكم جنة و قبوركم لكم جنة للجنة خلقتم و إلى الجنة تصيرون [45]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
تمہارے شہر اور قبریں تمہارے لیے بہشت ہیں آپ لوگ بہشت کےلیے خلق ہوئے ہیں اور جنت کی طرف جائیں گے۔
پینتسویں حدیث
مومن کی نماز صرف اللہ کے لیے
35- و بهذا الإسناد قال سمعته يقول:
إذا قام المؤمن في الصلاة بعث الله الحور العين حتى يحدقن به فإذا انصرف و لم يسأل الله منهن شيئا تفرقن و هن متعجبات [46]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
جب مومن نماز پڑھتا ہے خدا وند عالم حور العینوں کو بھیجتا ہے کہ وہ اس کے پاس رہیں اور جب مومن نماز ادا کر لیتا ہے اور ان کی خداوند عالم سے درخواست نہیں کرتا وہ تعجب کے ساتھ اس سے دور ہو جاتی ہیں۔
چھتیسویں حدیث
بہشت میں مومنین کا مقام
36- حدثني محمد بن الحسن الصفار عن الحارث بن محمد الأحول عن أبي عبد الله ع عن أبي جعفر ع قال سمعته يقول:
إن رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم لما أسري به قال لعلي ع:
يا علي إني رأيت في الجنة نهرا أبيض من اللبن و أحلى من العسل و أشد استقامة من السهم فيه أباريق عدد نجوم السماء على شاطئه قباب الياقوت الأحمر و الدر الأبيض فضرب جبرئيل بجناحه إلى جانبه فإذا هو مسك أذفر ثم قال:
و الذي نفس محمد بيده إن في الجنة لشجرا يتصفق بالتسبيح بصوت لم يسمع الأولون و الآخرون بأحسن منه يثمر ثمرا كالرمان و تلقى الثمرة على الرجل فيشقها عن تسعين حلة و المؤمنون على كراسي من نور و هم الغر المحجلون أنت قائدهم يوم القيامة على الرجل نعلان شراكهما من نور يضيء أمامه حيث شاء من الجنة فبينا هو كذلك إذ أشرفت عليه امرأة من فوقه تقول سبحان الله يا عبد الله ما لك فينا دولة؟
فيقول: من أنت؟ فتقول: إنا من اللواتي قال الله عز و جل فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ ما أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزاءً بِما كانُوا يَعْمَلُونَ
ثم قال: و الذي نفس محمد بيده إنه ليجيئه كل يوم سبعون ألف ملك يسمونه باسمه و اسم أبيه [47]
ترجمہ
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے معراج سے واپس آنے کے بعد امام علی علیہ السلام سے فرمایا:
اے علی ! میں نے جنت میں ایک نہر کو دیکھا جو دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ شیریں اور تیر سے زیادہ تیز چلنے والی ہے۔ آسمانوں کے ستاروں کی تعداد میں اس کے اندر پیالے موجود تھے اس کے کنارے پر سرخ یاقوت اور سفید درّ کے گنبد بنائے ہوئے تھے۔ جبرئیل نے اپنے پروں سے ان کے کناروں پر مارا کہ ایک مرتبہ خشبو کا فوارا نکلا۔
اس کے بعد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے جنت میں ایک درخت کو دیکھا کہ جس کے پتے تسبیح کررہے تھے اولین اور آخرین میں سے کسی نے ان کی زیبا آواز کو نہیں سنا تھا۔ انار کے مانند اس کے میوہ ہیں جب ان میں سے کوئی نیچے گرتا ہے اور اسے اٹھا کرکوئی کاٹتا ہے تو وہ نوے حصوں میں تقسیم ہو جا تا ہے۔
مومنین نور کے تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ان کی پیشانی اور ہاتھو ں سے نور چمکتا ہے۔اور اے علی !تم ان کے امام ہو۔ ان کے پیروں میں ایسے جوتے ہیں جن کے تسمے نور کے ہیں جنت میں وہ اپنے سامنے جہاں تک چاہتے ہیں ان کے نور سے روشن کرتے ہیں۔ اس حال میں ایک عورت اوپر سے اسے کہتی ہے سبحان اللہ! اے اللہ کے بندے ہمارے لیے تمہارے پاس کیا ہدیہ ہے؟
مومن کہتا ہے: تم کون ہو؟
جواب ملتا ہے: میں ان کنیزوں میں سے ہوں جن کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے: " فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزاء بما کانوا یعملون" [48]"پس کسی نفس کو نہیں معلوم ہے کہ اس کے لیے کیا کیا خنکی چشم کا سامان چھپا کر رکھا گیا ہے جو ان کے اعمال کی جزا ہے"۔
اس کے بعد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ہر روز ستر ہزارفرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے اس کے اور اس کے باپ کےنام سے بلاتے ہیں۔
سنتیسویں حدیث
شیعہ علی علیہ السلام کے ساتھ محشور ہونگے
37- حدثني محمد بن موسى بن المتوكل عن مالك بن الجهني عن أبي عبد الله ع قال يا مالك ما ترضون أن تقيموا الصلاة و تؤدوا الزكاة و تكفوا أيديكم و تدخلوا الجنة ثم قال:
يا مالك إنه ليس من قوم ائتموا بإمام في دار الدنيا إلا جاء يوم القيامة يلعنهم و يلعنونه إلا أنتم و من كان بمثل حالكم ثم قال:
يا مالك من مات منكم على هذا الأمر شهيد بمنزله الضارب بسيفه في سبيل الله
قال: و قال مالك: بينما أنا عنده ذات يوم جالس و أنا أحدث نفسي بشيء من فضلهم فقال لي أنتم و الله شيعتنا لا تظن أنك مفرط في أمرنا۔
يا مالك إنه لا يقدر على صفة الله أحد فكما لا يقدر على صفة الله فكذلك لا يقدر على صفة الرسول ص و كما لا يقدر على صفة الرسول فكذلك لا يقدر على صفتنا و كذلك لا يقدر على صفة المؤمن۔
يا مالك إن المؤمن ليلقى أخاه فيصافحه فلا يزال الله ينظر إليهما و الذنوب تنحات عن وجوههما حتى يتفرقا و إنه لا يقدر على صفة من هو هكذا۔
و قال: إن أبي ع كان يقول لن تطعم النار من يصف هذا الأمر[49]
ترجمہ
مالک جہنی کا کہنا ہے: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے مالک ! آیا تم نہیں چاہتے نماز ادا کرو، زکات دو اور حرام کی طرف ہاتھ نہ بڑھاو تاکہ اس کے بدلےمیں جنت حاصل کرو؟
اے مالک ! جوقوم دنیا میں جس امام اور پیشوا کی پیروی کرے گا قیامت کے دن امام اور اس کی قوم دونوں ایک دوسرے کو لعنت کریں گے سوائے آپ اور آپ کے جیسوں کے۔
اے مالک ! تم میں سے جو ہماری دوستی پر مر جائے شہید مرے گا اور اس شخص کی طرح ہے کہ جس نے راہ خدا میں جہاد کیا ہے۔
مالک نے کہا: ایک دن میں آنحضرت کی خدمت میں تھا اور آپ کے فضائل کے بارے میں خود سے باتیں کر رہا تھاکہ آنحضرت نے مجھ سے فرمایا: خدا کی قسم! تم شیعہ یہ گمان نہ کرنا کہ تم نے ہمارے بارے میں افراط کیا ہے۔
اے مالک ! کوئی خدا وند عالم کی کما حقہ توصیف اور عبادت نہیں کر سکتا جس طریقے سے خدا کی توصیف نہیں کی جاسکتی خدا کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توصیف اور تعریف بھی کما حقہ ممکن نہیں ہے اور جس طریقے سے رسول خدا کی تعریف و توصیف ممکن نہیں ہے ہماری توصیف و تعریف بھی کما حقہ کوئی نہیں کر سکتا اور اسی طریقے سے ایک مومن کی توصیف کرنے سے بھی انسان عاجز ہے۔
اے مالک ! مومن جب اپنے مومن بھائی کے ساتھ ملاقات کرتا ہے اور اس کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے اس ہنگام خدا وند عالم ان کی طرف نگاہ کرم کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے جب تک کہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں اور کوئی بھی قادر نہیں ہے ان مومنین کی تعریف کرے جیسا کہ ان کا حق ہے ۔
میرے والد گرامی نے فرمایا: آگ اس شخص کو نہیں جلائے گی جو اس امر کی توصیف کرے۔
اڑتیسویں حدیث
شیعوں کا حج مقبول
38- حدثني محمد بن علي ماجيلويه عن عمه محمد بن أبي القاسم عن جعفر بن عمر الكلبي قال قال أبو عبد الله ع:
ما أكثر السواد قال قلت له يا ابن رسول الله ما أكثر السواد فقال أما و الله ما يحج لله عز و جل غيركم و لا يصلي الصلاتين غيركم و لا يؤتى أجره مرتين غيركم و إنكم لدعاة الشمس و القمر و النجوم و لكم يغفر و منكم يتقبل [50]
ترجمہ
جعفر بن عمر کلبی کاکہنا ہے: امام صادق علیہ السلام نے حج کے دوران حاجیوں کی طرف نگاہ کرتے ہوئے فرمایا: کتنے زیادہ لوگ ہیں؟!
عرض کیا: جی ہاں یابن رسول اللہ ! کتنے زیادہ لوگ ہیں!
فرمایا: خدا کی قسم سوائے تم لوگوں کے کسی نے خدا کے لیے حج نہیں کیا،کسی نے دو نمازیں نہیں پڑھیں۔ اور کسی نے تم لوگوں کے سوا دوہری جزا نہیں پائی۔ تم لوگ سورج ، چاند اور ستاروں کے مدعو ہو۔ تم لوگوں کے گناہ معاف اور اعمال قبول ہیں۔
انتالیسویں حدیث
نیکی پانا بغیر نیکی کئے
39- حدثنا جعفر بن محمد بن مسرور رحمه الله قال حدثني الحسن بن محمد بن عامر عن الصباح بن سيابة عن أبي عبد الله ع قال:
إن الرجل ليحبكم و ما يدري ما تقولون فيدخله الله الجنة و إن الرجل ليبغضكم و ما يدري ما تقولون فيدخله الله النار و إن الرجل ليملأ صحيفته من غير عمل۔
قلت: فكيف؟ قال: يمر بالقوم ينالون منا و إذا رأوه قال بعضهم لبعض إن هذا الرجل من شيعتهم و يمر بهم الرجل من شيعتنا فيرمونه و يقولون فيه فيكتب الله له بذلك حسنات حتى يملأ صحيفته من غير عمل[51]
ترجمہ
صباح بن سبایہ کا کہنا ہے: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
بسااوقات ایک شخص تمہیں دوست رکھتا ہے اس حال میں کہ نہیں جانتا تم لوگ کیا کہتے ہو اور خدا اسےبہشت میں داخل کر دے گا اور بسا اوقات ایک شخص تم لوگوں سے دشمنی کرتا ہے اس حال میں کہ نہیں سمجھتا تم لوگ کیا کہہ رہے ۔خدااس کو جہنم میں ڈھکیل دے گا۔ اور ایک انسان ایساہے جس کا نامہ اعمال بغیر کوئی نیکی کئے، نیکیوں سے بھر جاتا ہے۔
عرض کیا: کیسے یہ چیز ممکن ہے؟
فرمایا: ایک شخص ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتا ہے جوہمارے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں جب اسے دیکھتے ہیں تو ان میں سے بعض دوسروں سے کہتے ہیں یہ ان کا شیعہ ہے ۔ اور ہمارے شیعوں میں سے جب کوئی ان کے پاس سے گزرتا ہے تو اس پر تہمت لگاتے ہیں اور جو کچھ وہ نہیں کہتا اس کے بارے میں کہتے ہیں۔ لہذا خدا وند عالم اس شیعہ کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھ دیتا ہے بغیر اس کے کہ اس نے کوئی نیک عمل انجام دیا ہو۔
چالیسویں حدیث
شیعوں کے اعمال قابل قبول
40- أبي رحمه الله قال حدثني سعد بن عبد الله عن منصور الصيقل قال كنت عند أبي عبد الله ع في فسطاطه بمنى فنظر إلى الناس فقال:
يأكلون الحرام و يلبسون الحرام و ينكحون الحرام و لكن أنتم تأكلون الحلال و تلبسون الحلال و الله ما يحج غيركم و لا يتقبل إلا منكم [52]
ترجمہ
منصور صیقل کا کہنا ہے : امام صادق علیہ السلام کے ساتھ منیٰ میں تھا آپ نے لوگوں کے ہجوم پر ایک نظر ڈالی اور فرمایا: یہ حرام کھاتے ہیں اور حرام پہنتے ہیں اور حرام کی شادیاں کرتے ہیں اور تم لوگ حلال کھاتے ہو اور حلال پہنتے ہو اور حلال شادیاں کرتے ہو۔ خدا کی قسم تم لوگوں کے علاوہ کسی نے حج انجام نہیں دیا اور کوئی عمل تمہارے عمل کے علاوہ قابل قبول نہیں ہے۔
اکتالیسویں حدیث
شیعوں کا دین تمام انبیاء کا دین
41- و بهذا الإسناد عن الحسن بن علي بن عاصم بن حميد عن عمر بن حنظلة قال:
قال أبو عبد الله ع :يا عمر إن الله يعطي الدنيا من يحب و يبغض و لا يعطي هذا الأمر إلا صفوته من خلقه أنتم و الله على ديني و دين آبائي إبراهيم و إسماعيل لا أعني علي بن الحسين و لا الباقر و لو كان هؤلاء على دين هؤلاء[53]
ترجمہ
عمر بن حنظلہ کا کہنا ہے: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
اے عمر خدا وند عالم دنیا کواپنے دوست اور دشمن دونوں کو دیتا ہے لیکن ہماری دوستی کو صرف اپنی منتخب مخلوق کو عطاکرتا ہے۔ خدا کی قسم تم لوگوں کا دین ہمارا دین ، ہمارے اجداد کا دین اور ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کا دین ہے۔ ہمارے اجداد سے مراد میرے والد محمد باقر اور علی بن حسین علیہما السلام نہیں ہے اگر چہ یہ دین ان کا دین بھی ہے ۔[میری مراد یہ ہے کہ تم لوگ گزشتہ تمام انبیاء کے دین پر ہو]۔
بیالیسویں حدیث
جو جس کو دوست رکھتا ہے اسی کے ساتھ رہے گا
42- و بهذا الإسناد عن الحسن بن علي بن عقبة عن موسى النميري عن أبي عبد الله ع قال:
أتي رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم رجل فقال: يا رسول الله إني لأحبك فقال انک لتحبنی؟ فقال:واللہ انی لاحبک۔ فقال رسول الله صلی اللہ علیه و آله و سلم : أنت مع من أحببت [54]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
ایک شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے رسول خدا ! میں آپ کو دوست رکھتا ہوں۔ آنحضرت نے فرمایا: کیا تم مجھے دوست رکھتے ہو؟ عرض کیا: خدا کی قسم میں آپ کو دوست رکھتا ہوں یا رسول اللہ!
فرمایا: تم اس کے ساتھ رہو گے جس کو دوست رکھتے ہو۔
تینتالیسویں حدیث
شیعوں سے عذاب ساقط
43- حدثنا محمد بن علي بن ماجيلويه رحمه الله قال حدثنا محمد بن يحيى عن حنظلة عن ميسر قال سمعت أبا الحسن الرضا ع يقول:
لا يرى منكم في النار اثنان لا و الله و لا واحد قال:
فقلت: أين ذا من كتاب الله فأمسك هنيئة قال: فإني معه ذات يوم في الطواف إذ قال: يا ميسر أذن لي في جوابك عن مسألتك كذا۔ قال: قلت:
فأين هو من القرآن فقال في سورة الرحمن و هو قول الله عز و جل فيومئذ لا يسأل عن ذنبه منكم إنس و لا جان فقلت له ليس فيها منكم۔
قال: إن أول من قد غيرها ابن أروى و ذلك أنها حجة عليه و على أصحابه و لو لم يكن فيها منكم لسقط عقاب الله عز و جل عن خلقه إذا لم يسأل عن ذنبه إنس و لا جان فلمن يعاقب الله إذا يوم القيامة [55]
ترجمہ
مُیَسِّر کا کہنا ہے: میں نے امام رضا علیہ السلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:
تم لوگوں میں سے دو آدمی بھی جہنم میں دکھائی نہیں دیں گے ، نہیں، خدا کی قسم ایک آدمی بھی۔
میں نے عرض کیا: یہ بات کتاب الہی میں کہاں پر ہے؟
آپ نے مجھے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ ایک دن ہم طواف میں دونوں ساتھ ہو گئے۔ فرمایا: اے میسر ! آج اپنا جواب سن لو۔
عرض کیا: قرآن میں کہاں پر ہے؟
فرمایا: سورہ رحمٰن میں:
" فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس و لا جان" [56]"اس دن کسی انسان یا جن سےاس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا"
عرض کیا: آیت میں لفظ" منکم" نہیں ہے!
فرمایا: سب سے پہلے جس نے اس میں تبدیلی کی ابن اروی تھا اور یہ دلیل ہے اس کے اور اس کے دوستوں کے برخلاف، اور اگر آیت میں لفظ منکم نہ ہوتا اللہ کا عذاب تمام مخلوقات سے ساقط ہو جاتا۔ اگر خدا انسانوں اور جنوں کے گناہوں کا حساب و کتاب نہ کرے تو قیامت کے دن کس کو عذاب کرے گا۔
چوالیسویں حدیث
شیعہ بغیر اجازت کے جنت میں داخل ہوں گے
44- حدثنا محمد بن الحسن بن الوليد رحمه الله قال حدثنا محمد بن الحسن الصفار عن العباس بن يزيد قال قلت لأبي عبد الله ع ذات يوم جعلت فداك قول الله عز و جل وَ إِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيماً وَ مُلْكاً كَبِيراً ؟قال:
فقال لي: إذا أدخل الله أهل الجنة الجنة أرسل رسولا إلى ولي من أوليائه فيجد الحجبة على بابه فتقول له قف حتى يستأذن لك فما يصل إليه رسول الله إلا بإذن و هو قوله وَ إِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيماً وَ مُلْكاً كَبِيراً[57]
ترجمہ
عباس بن یزید کا کہنا ہے : ایک دن میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: قربان جاوں مولا !خدا وند عالم کے اس قول کی تفسیر کیجیے:
" و اذا رایت ثم رایت نعیما و ملکا کبیرا" [58] " اور پھر دوبارہ دیکھو گے تو نعمتیں اور ایک ملک کبیر نظر آئے گا"
فرمایا: جب خدا وند عالم جنتیوں کو وارد بہشت کرے گا توایک رسول کو ان کے دوستوں میں سے ایک کی طرف بھیجے گا ،جنت کے نگہبان اسے باہر روکتے ہوئے کہیں گے: باہر کھڑے ہو جاو تاکہ تمہارے لیے اجازت لیں۔
اللہ کا بھیجا ہوا نمائندہ بغیر اجازت کے جنت میں داخل نہیں ہو گا، اور اس آیت میں خدا وند عالم اسی مطلب کی طرف اشارہ کر رہا ہے: "واذا رایت ثم رایت نعیما و ملکا کبیرا"
پینتالیسویں حدیث
شیعوں کی شفاعت
45- حدثنا محمد بن موسى بن المتوكل رحمه الله قال حدثنا محمد بن يحيى العطار عن أحمد بن العيص رفعه عن جعفر بن محمد ع قال:
إذا كان يوم القيامة نشفع في المذنبين من شيعتنا فأما المحسنون فقد نجاهم الله[59]
ترجمہ
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب قیامت کا دن آئے گا ہم اپنے شیعوں میں سے گناہگاروں کی شفاعت کریں گے لیکن نیک لوگوں کو خدا خود نجات دے دے گا۔
[1] عنہ البحار: ۲۲۱/۷ ح ۱۳۳ و ج ۲۷۷/۳۹ ح ۵۵ و ص ۲۷۸ و ج ۱۲۶/۶۸ بشارۃ المصطفی: ۴۳، عنہ البحار: ۱۲۴/۶۸ ح ۵۳۔
[2] امالی الصدوق، ۷، الخصال: ۳۶۰/۲ ح ۴۹، عنھما البحار: ۱۵۸/۲۷ ح ۳۔
[3] عنہ البحار ۶۹/۸ ح ۱۶ و ج ۱۵۸/۲۷ ح ۵۔
[4] عنہ البحار: ۶۹/۸ ح ۱۷ و ج ۱۵۸/۱۷ ح ۶ و ج ۳۰۵/۳۹ ح ۱۱۹ ، امالی الصدوق: ۳۴۸۔
[5] علل الشرائع: ۱۴۴/۱ ح ۱۱، عنہ البحار: ۸۹/۲۷ ح ۴۰ و ص ۷۶ ح ۷ و عن الامالی: ۴۶۷ ح ۲۷۔
[6] اخرجہ فی البحار: ۲۵۸/۷ ح ۱ عن امالی الصدوق ۴۲ ح ۹ و الخصال : ۲۵۳/۱ ح ۱۲۵ و ج ۱۸۰/۷۱ ح ۳۳ عن الامالی ۔ مناقب ابن شھر آشوب: ۴/۲، عنہ البحار: ۳۱۱/۲۷ ح ۱، تحف العقول : ۵۶ ح ۱۶۳ عنہ البحار: ۱۶۰/۷۷ ح ۱۶۲۔
[7] عنہ البحار ۱۴۲/۱۱ ح ۹ و ج ۲۱/۱۵ ح ۳۴ و ج ۲/۲۵ ح ۲ و ج ۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۱۔ تاویل الایات: ۱۸۲ ج۱، عنہ البحار: ۳۴۶/۲۶ ح۱۹۔
[8] ص،۷۵
[9] البحار: ۶۵/۶۸ ح ۱۱۸ عن صفات الشیعہ و الصحیح عن فضائل الشیعہ۔ الکافی : ۲۱۳/۸ ح ۲۵۹، عنہ البحار ۸۰/۶۸ ح ۱۴۱۔ تفسیرفرات: ۲۰۸، عنہ البحار: ۲۰۳/۷ ح ۹۰۔ بشارۃ المصطفی: ۱۶ ، المستدرک : ۲۷۲/۱۱ ح ۱۶ الوسائل: ۶۶/۱ ذح ۱۱ ، روضۃ الواعظین: ۳۴۷، مشکاۃ الانوار: ۹۲، البرھان: ۳۴۷/۲ ح ۳ و ج ۴۵۳/۴ ح۶ ، العوالم: ۴۳۶/۴۲ ح ۴۔
[10] غاشیہ ۳،۴
[11] امالپپی الطوسی، ۱۱۹، عنہ البحار: ۲۳/۶۸ ح ۴۱ ، امالی المفید: ۱۶۹ ح ۴، غایۃ المرام: ۵۸۸ ح۱، العوالم: ۵۳۹/۴۲ ح ۷ و ص ۵۸۰ ح۱۔
[12] عنح البحار: ۱۳۵/۲۷ ح ۱۳۵و ج۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۱ و ص ۲۵۷ ذح ۲۲ عن مناقب ابن شھر آشوب: ۱۲/۳ ، مقصد الراغب: ۳۱ العوالم: ۱۷۰/۴۲ ح۷۔
[13] عنہ البحار: ۱۷۸/۷ ح ۱۵ و ج ۶۶/۶۸ ح ۱۲۰ و اثبات الھداۃ: ۴۴۲/۳ ح ۳۴۵ و العوالم: ۹۸/۴۱ ح۱۔
[14] ثواب الاعمال: ۲۴۵ ح ۱، عنہ البحار : ۱۱۰/۲۵ ح۱ و ج ۱۹۳ /۱۷ ح ۵۱ عن غیبۃ النعمانی: ۶۴ والکافی: ۳۷۶/۱ ح ۴ وج ۱۴۲/۶۸ ح ۸۸ عن الاخصاص: ۲۵۴، اعلام الدین ۲۴۷، اثبات الھداۃ: ۲۳۷/۱ ح ۱۹۳، غایۃ المرام: ۱۲ ح ۱۱۔
[15] عنہ البحار: ۱۴۲/۶۸ ح ۸۹ و العوالم : ۴۷۷/۴۲ ح ۱۔
[16] عنہ البحار ۱۴۳/۶۸ ذح ۸۹ والعوالم : ۴۸۷/۳۲ ح ۱۔
[17] عنہ البحار: ۱۴۳/۶۸ ذح ۸۹۔
[18] عنہ البحار : ۳۲۵/۷ ح۱۹ و ج ۱۴۳/۶۸ ذح ۸۹ و العوالم: ۱۳۴/۴۱ ح۲۔
[19] عنہ البحار: ۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۲ و اثبات الھداۃ: ۴۴۲/۳ ح ۳۴۶ و فی البحار: ۴۵/۶۸ ح۹۱ عن بشارۃ المصطفی: ۲۲۱۔ امالی الصدوق: ۴۵۰ ح ۲ عنہ البحار ۲۸/۸ ح ۳۲۔ تاویل الایات: ۳۳۱/۱ ح ۱۸۔ مصباح الانوار: ۱۶۴ و ص ۲۰۱ العوالم: ۲۵۸/۴۲ ح ۱ وص ۵۰۳ ح۳ و ص ۵۹۴ ح۳۔
[20] عنہ البحار: ۱۷۹/۷ ح۷ و عنہ البحار: ۵۲/۶۸ ح ۹۳ و عن الکافی: ۳۳/۸ ح۶ و الاختصاص: ۱۰۱۔ تاویل الایات: ۵۰۷/۲ ح ۸ و۹ ، عنہ البحار: ۲۵۹/۲۴ ح۹۔ آخرجہ فی البحار: ۳۹۰/۴۷ ح ۱۱۴ عن الاختصاص۔
[21] مومن،۷
[22] ۔دخان، ۴۱
[23] زمر ، ۵۲
[24] حجر ،۴۲
[25] نساء، ۶۹
[26] سورہ ص، ۶۲۔۶۳
[27] عنہ البحار: ۱۴۳/۶۷۸ ح ۹۰ ۔ الکافی: ۴۳۰/۱ ح۸۸۔
[28] بلد،۱۳
[29] عنہ البحار: ۱۷۶/۶۷ ، ح ۳۲، الوسائل: ۱۱۸۴/۴ ،ح ۱۲، العوالم: ۶۱۶/۴۲ ح۱۔
[30] بصائر الدرجات: ۸۰ ح۲، عنہ البحار: ۷۴/۶۷ ح ۲ و العوالم: ۳۵۹/۴۲ ح۲ و ص۳۷۶ ح۲۔
[31] عنہ البحار: ۱۹۸/۲۷ ح ۶۴، اثبات الھداۃ: ۲۳۷/۱۔ شواھد التنزیل: ۳۷۵/۱ ح ۵۹۱، البرھان: ۴۰/۳ ح ۱۱، العوالم: ۱۴۹/۱۲ ح۶۶، احقاق الحق: ۵۵۸۸/۱۴۔
[32] عنہ البحار: ۳۲۷/۵ ح۲۳ و ج ۶۷/۶۸ ح ۱۲۱ و اثبات الھداۃ: ۴۵۳/۲ ح ۳۵۵ و البرھان: ۲۲۲/۴ ح ۲۱، ۵۷۴/۴۲ ح۱۔
[33] الکافی: ۱۲۷/۳ ح۲، عنہ البحار: ۱۹۶/۶ ح۴۹ و ج ۴۸/۶۱ ح۲۴، تاویل الایات: ۹۷/۲ ح۹، عنہ البحار: ۹۴/۲۴ ح۷، البرھان: ۴۶۰/۴ ،العوالم: ۶۹/۳۹ ح ۴۲ و ۴۱۱/۴۲ ح۲۔
[34] عنہ البحار: ۱۷۹/۷ ح۱۸ و ۶۸/۶۸ ح ۱۲۲، مشکاۃ الانوار: ۹۷، البرھان : ۲۹۳/۴ ح۱۳، العوالم: ۱۰۵/۴۱ ح۲۸۔
[35] عنہ البحار:۱۸۰/۷ ح ۱۹ و ج ۶۸/۶۸ ح۱۲۲ و العوالم : ۱۰۱/۴۱ ح۱۷ و ح ۴۴۶/۴۲ ح۳۔
[36] عنہ البحار:۱۸۰/۷ ح۲۰ وعنہ البحار:۲۷/۶۸ ح۵۰ وعن بصائر الدرجات: ۸۴ ح۵ ۔ اعلام الدین: ۲۸۲، العوالم:۴۷۹/۴۲ ح۱۔
[37] عنہ البحار: ۱۵۴/۲۳ ملحق ح۱۱۸۔ بصائر الدرجات: ۵۳ ح۱، عنہ البحار: ۲۴۸/۳۶ ح۵۶۔ امالی الصدوق: ۹۸ ح۱۰، عنہ البحار: ۹۵/۳۸ ح۱۲، بشارۃ المصطفی: ۲۴، اثبات الھداۃ: ۴۲۱/۲ ح ۲۸۵ وص۴۵۶ح ۳۵۹، العوالم:۳۴۰/۴۸ح۱۔
[38] آل عمران، ۳۴
[39] عنہ البحار، ۱۴۳/۶۸ ذح ۹۰، اعلام الدین: ۲۷۵، العوالم: ۵۸۱/۴۲ ح۱۔
[40] سورۃ المحاسن: ۱۶۲/۱، عنہ البحار: ۹۵/۲ ح۳۷، الکافی:۲۶۵/۱، عنہ البحار:۳/۱۷ح ۱، بصائر الدرجات: ۳۸۴ ح۴ وص ۳۸۵ ح۷، عنہ البحار: ۳۳۴/۲۵ ح۱۳ السائل: ۵۰/۱۸ ح۳۲، البرھان:۳۱۴/۴ ح۱ ،العوالم: ۱۳۸/۴۹ ح۱۔
[41] نساء، ۸۰
[42] الکافی: ۴۳۴/۲ ح۶۔
[43] عنہ البحار: ۳۶۸/۹۳ ح۲۔
[44] عنہ البحار:۱۴۴/۶۸ ذح۹۰ و العوالم: ۴۶۰/۴۲ ح۲ و ص ۴۸۴ح۱۔۔
[45] عنہ البحار: ۳۶۰/۸ ح۲۶،و ج ۱۴۴/۶۸ ذح ۹۰ و العوالم: ۴۴۰/۴۱ ح ۲۷ و ج ۴۵۷/۴۲ ح۲۰۔
[46] عنہ البحار: ۱۷/۸۶ ح ۱۴ و عن اعلام الدین : ۲۷۹ و عدۃ الداعی: ۵۸۔ الوسائل: ۱۰۴۰/۴ ح۴۔
[47] المحاسن: ۱۸۰/۱ ح۱۷۲، تاویل الایات: ۱۵۸ ح۱، البحار:۱۳۸/۸ح۵، البرھان: ۲۸۵/۳ ح۷۔
[48] سجدہ، ۱۷
[49] عنہ البحار:۱۸۰/۷ ح۲۱ و ج ۶۸/۶۸ ح۱۲۴ عن صات الشیعہ۔ الکافی: ۱۴۶/۸ ح۱۲۲، تنبیۃ الخواطر: ۱۴۶/۲، العوالم:۲۰۸/۴۲ ح۵ وص۴۷۶ ح۱۔
[50] البحار:ج۲۷، س۱۸۴، مستدرک، ج۱،ص۱۶۰۔
[51] عنہ البحار:۳۶۰/۸و ج۱۳۶/۲۷ ح۱۳۶ و فی ج ۲۴۶/۶۹ ح۲۱ عن الکافی:۱۲۶/۲ ح۱۰ و الکافی:۳۱۵/۸ ح۴۹۵۔ الوسائل:۴۳۹/۱۱ ح۱، العوالم: ۱۳۵/۱۲ ح۱۷۲، ج ۴۴۰/۴۱ ح۲۸ و ج ۴۳۹/۴۲ ح۱۔
[52] عنہ البحار:۱۹۹/۲۷ ح۶۵ و المستدرک: ۲۳/۱ ح۵۳۔
[53] اعلام الدین: ۲۷۵، عنہ البحار: ۱۲۲/۲۷ ح۱۰۷ و العوالم:۴۴۰/۴۲ح۲۔
[54] عنہ البحار:۱۳۷/۲۷ ح۱۳۷ و العوالم:۱۲۰/۱۲ ح ۷۲، اعلام الدین: ۲۷۵۔
[55] عنہ البحار: ۲۷۳/۷ ح ۴۵ و ح۳۶۰/۸ ح۲۸۔ تفسیر فرات: ۱۷۷۔
[56] رحمن، ۳۹
[57] عنہ البحار: ۱۹۷/۸ ح۱۸۸، معانی الاخبار:۲۱۰ ح۱، البرھان:۴۱۵/۴ح۲۔
[58] دھر، ۲۰
[59] عنہ البحار: ۵۹/۸ ح۷۷۔
ترجمہ: افتخار علی جعفری
Add new comment