دینِ اسلام میں دعا کی اہمیت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قال الصادق (ع) اِحفَظ آدابَ الدُّعاءِ و انظُر مَن تَدعو وَ کَیفَ تَدعو وَ لِماذا تَدعو ؟ ؛ (۱)

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا : آداب دعا کی حفاظت کرو (رعایت کرو) اور یہ دیکھو کہ کس کو پکار رھے ھو اور کس طرح پکار رھے ھو اور کیوں ؟

ھم انسانوں کی ذات اور ھمارے وجود کی بنیاد اپنی تمام ضرورتوں کی تکمیل کی وجہ سے ، عین دعا ، طلب ، درخواست اور فقیری ھے اور حضرت حق سے اپنی کمی کو پوری کرنے کے لئے بھیک مانگنا موجودات کی اندرونی اور بیرونی طبیعت کا تقاضا جو در حقیقت عین دعا ، اصل دعا ، بنیاد دعا اور ذات دعا ھے ۔ اور یہ بات کسی کے لئے قابل انکار نہیں ھے اور نہ ھوسکتی ھے ۔

 

دعا کی اھمیت

 

دعا کی اھمیت اور قدر و قیمت نیز اس کے آثار و نتائج اس درجہ واضح اور نمایاں ھیں کہ اغیار نے بھی اپنی فطری ھدایت کی بنیاد پر ، اس بات کی طرف اشارہ کیا ھے اور دعا کو تحریک کا سبب اور انسان کی سب سے زیادہ ضروری نیاز جانا ھے ۔ اور اس سے مرض کا علاج بلکہ جسمانی دردوں کا علاج شمار کی اھے ۔ ھمارے دور میں ایسے ایسے اسپتالوں کا تاسیس کر رھے ھیں جس میں تربیت شدہ (ٹینگ یافتہ) اور اس فن کے حاذق ڈاکٹر مشکل ترین جسمانی بیماریوں کا اس راہ سے مطالبہ کر رھے ھیں ۔

بہر حال دعا ایک ضروری اور فطری امر ھے اور ایک ایسا مسئلہ ھے جس کا خدا نے حکم دیا ھے ، اور اللہ کے عظیم المرتبت انبیا و پیغمبروں کے اخلاق کا جز قرار دیا گیا ھے ۔ اور انسان دعا کے سہارے حضرت حق سے عطیہ لینے کی لیاقت پیدا کرتا ھے ۔

دعا ، طلب ھے اور یہ طلب حقیقی ھو تو انسان پورے شوق کے ساتھ اس کے حصول کے لئے حرکت کرے گا ۔

 

قرآن میں دعا

 

قرآن مجید نے ، دعا کے دستور سے اس کے انجام نہ دینے اور اس سے روگردانی کرنے کو جہنم میں گرنے کا سبب جانا ھے ۔

" وَ قالَ رَبُّکُم ادعونِی أستَجِب لَکُم اِنَّ الَّذِینَ یَستَکبرونَ عَن عِبادَتِی سَیَدخُلونَ جَھَنَّمَ داخِرینَ ؛ (۲)

تمہارے رب نے کہا : مجھے پکارو تاکہ تمہاری (دعا) قبول کروں اور جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے وہ عنقریب ذلت و رسوائی کے ساتھ جہنم میں داخل ھوں گے ۔

قرآن کریم نے دعا کے سلسلہ میں چند باتیں ذکر کی ھیں جو درج ذیل ھیں:

 

۱ ۔ دعا کی روشنی میں کاموں کا حل

 

دعا کو امور میں آسانی کا سبب اور ھم و غم اور رنج و اندوہ سے نجات کا باعث جانتے ھیں اور اس مسلمہ کے ضمن میں بعض دعا کرنے والوں سے شکوہ کرتے ھوئے فرماتا ھے ۔ گرفتاری اور مشکلات کے وقت حد درجہ الحاح و زاری کے ساتھ دعا کرتے ھو اور خدا سے اس کی قبولیت زبردستی چاھتے ھو اور خدا سے عہد و پیمان کرتے ھو کہ نجات کی صورت میں اس کے شکر گزار ھو گے ، لیکن مشکل برطرف ھوتے ھی شرک جو کہ بڑا ظلم ھے کی جانب لوٹ جاتے ھو !!

" قُل مَن یُنَجّیکُم مِن ظُلُماتِ البَرِّ والبَحرِ تَدعونَہُ تَضَرُّعاً وَ خُفیَۃً لَئِن أنجانا مِن ھَذِہِ لَنَکونَنَّ مِن الشَّاکِرینَ ۔ قُل اللہُ یُنَجّیکُم مِنھا وَمِن کُلِّ کَربٍ ثُمَّ اَنۡتُم تُشرِکونَ ؛ (۳)

کہو : تمہیں خشکی اور دریا کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ھے ؟ ! جبکہ اسے تضرع و زاری کے ساتھ (کھلم کھلا) اور پوشیدہ دونوں طریقہ سے پکارتے ھو ۔ اور (اور کہتے ھو) اگر ان (خطروں اور ظلمتوں) سے مجھے نجات دیدے تو ھم شکر گزاروں میں ھوں گے ۔ کہو : خدا تمہیں اس مشکل اور اس کے علاوہ دیگر پریشانیوں سے نجات دیتا ھے لیکن پھر بھی تم اس کا کسی کو شریک قرار دیتے ھو (کفر کا راستہ اختیار کرتے ھو )

 

۲ ۔ دعا نیک افراد کی خصوصیت

 

دعا پسندیدہ امر اور صالح بندوں کی علامت اور خصوصیت ھے اور ان کا زندگی کے تمام شعبوں میں اس بلند و بالا واقعیت کے ھمراہ تعارف کرتی ھے ۔

" اِنّھُم کانوا یُسارِعونَ فِی الخَیراتِ وَ یَدعونَنا رَغَباً وَ رَھَباً وَکانوا لَنا خاشِعِینَ ؛(۴)

کیونکہ وہ لوگ (ایسے خاندان تھے) جو ھمیشہ نیک کاموں میں سبقت کرتے اور خوف و رجا کے درمیان مجھے پکارتے اور ھمیشہ ھمارے سامنے (خاضع) اور خاشع تھے ۔

 

۳ ۔ دعا اور اس کی قبولیت

 

دعا کے شرائط پورے ھونے کی صورت میں دعا کی قبولیت کو ضروری جانتے اور اجابت دعا کو حضرت حق سے مخصوص مسئلہ جانتے ھیں اور اللہ کے بندوں سے اسی بات کا مطالبہ لیے کہ وہ اس معنی کی طرف متوجہ ھیں ۔

" وَ اذَا سَألَکَ عِبَادِی عَنِّی فَاِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعوَة الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلیَستَجِیبوا لِی وَلیُؤمِنوا بی لَعَلَّھُم یَرشُدون ؛ (۵)

جب ھمارے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان سے کہدو) میں قریب ھوں اور دعا کرنے والے کی دعا کا جب وہ مجھے پکارتا ھے جواب دیتا ھوں ۔ لھٰذا ان کو چاھئے کہ وہ ھماری دعوت قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ھدایت پائیں (مقصد تک پہونچیں)

 

۴ ۔ دعا اور اللہ کی عنایتیں

 

قرآن کریم اس اھم نکتہ کی جانب بہت توجہ دیتا ھے کہ اگر دعا نہ ھوتی تو خدا کی جانب سے بندوں پر کوئی توجہ نہ ھوتی ۔

" قُل ما یَعبَؤُا بِکُم رَبّی لَولا دُعاؤُکُم ؛ (۶)

کہو : تمہارا رب ، تمہاری کوئی قدر و قیمت نہ جانتا اگر تمہاری دعا نہ ھوتی ۔

 

۵ ۔ دعا کی فطری ھونا اور انسان کی بھول ۔

 

قرآن کریم انسان کے لئے دعا کو ایک فطری اور ضروری امر جانتا ھے ۔ کیونکہ انسان محدودتیوں کے سمندر انواع و اقسام مشکلات اور شواھد میں مبتلا ھے ۔ اور اس سے ریائی کے لئے حضرت حق کی بارگاہ میں دعا کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رکھتا ۔ اور دعا کو اس سلسلہ میں ھدایت کا عامل اور خدا سے آشنائی کا ذریعہ جانا ھے ۔ اس کے باوجود ، دعا کے بعد کچھ لوگوں کو حضرت حق کی نسبت ناشکرا اور بھلکٹر جانا ھے ۔

" وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرُّ دَعَوا رَبَّھُم مُنیبینَ اِلَیہِ ثُمَّ اِذَا أذَاقَھُم مِنہُ رَحمَۃً اِذَا فَریقٌ مِنھُم برَبِّھِم یُشرِکُونَ ؛ (۷)

جب لوگوں کو نقصان ھوتا اور تکلیف پہونچتی ھے تو اپنے رب کو پکارتے ھیں اور توبہ کرتے ھوئے اس کی بارگاہ میں واپس آتے ھیں ۔ لیکن جیسے ھی انہیں اپنی رحمت سے فیضیاب کرتا ھے ناگاہ ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کی نسبت مشرک ھوجاتے ھیں ۔ (۸)

 

دعا اور روایتیں

 

زندگی میں دعا اور اس کے آثار و نتائج اس درجہ اھم ھیں کہ شیعوں کے مشہور محدث جناب ثقۃ الاسلام کلینی (رح) نے اپنی گرانقدر کتاب " اصول کافی " میں تقریباً ۶۰ / باب دعا کے سلسلہ میں ذکر کیا ھے کہ ان ابواب میں سے کچھ کی طرف ھم اشارہ کر رھے ھیں ۔

 

دعا کی فضیلت

 

قُلبُ لاَبی جَعفَر (ع) أیُّ العِبادَة أفضَلُ ؟ فَقالَ : ما مِن شَیءٍ اَفضَلُ عِندَ اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ مِن اَن یُسئَلُ وَ یُطلَبُ مِمّا عِندَہُ وَما أحَدٌ أبغَضُ اِلی اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ مِمَّن یَستَکبِرُ عَن عِبادَتِہِ وَلا یَسئَلُ ما عِندَہُ ؛ (۹)

راوی کہتا ھے : میں نے امام محمد باقر (ع) سے عرض کیا کہ سب سے افضل عبادت کون سی ھے ؟ امام نے فرمایا : خدا کی نزدیک اس چیز سے افضل کوئی چیز نہیں ھے کہ جو اس کے پاس ھے اس کی درخواست کی جائے اور خدا کے نزدیک حق کی عبادت سے روگردانی کرنے والے انسان سے زیادہ کوئی چیز ناپسند بھی نہیں ھے ۔ اور جو کچھ اس کے پاس ھے اس کی درخواست نہ کرے ۔

مسیر کہتا ھے : حضرت امام جعفر صادق (ع) نے مجھ سے فرمایا : حضرت حق کی بارگاہ میں دعا کرو اور یہ نہ کہو کہ اب وقت گذر گیا ھے اور جو مقدر ھے وھی ھوگا اور دعا کا کوئی اثر نہیں ھے ۔ یقیناً خدا کے نزدیک کچھ مقام اور منزلت ھے جب تک دعا کے بغیر رسائی نہیں ھوگی ۔

اگر بندہ اپنا منہ بند رکھے ۔ اور دعا نہ کرے تو اسے کچھ نصیب نہیں ھوگا ۔ لھذا دعا کرو کہ تم پر عنایت ھو ، اے مسیر کوئی در ایسا نہیں ھے کہ اسے کھٹکھٹایا جائے مگر یہ امید ھے کہ دستک دینے والے کے لئے کھل جائے گا ۔ ۱۰

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) قال : " مَن لَم یَسئَلِ اللہِ عَزّ وَ جَلَّ مِن فَضلِہِ فَقَد اِفتَقَرَ ؛ (۱۱)

امام صادق (ع) نے فرمایا : جو بھی خدا کے فضل کی درخواست نہ کرے وہ بیچارہ اور فقیر ھوجائے گا ۔

سیف تمار کہتے ھیں : امام صادق (ع) سے میں نے سنا کہ آپ فرماتے تھے: تم لوگ دعا کو اپنا شیوہ بنادو ، کیونکہ خداوند عالم سے نزدیک ھونے کے لئے اس کے مانند کوئی چیز نہیں ھے ۔

اور کسی بھی چھوٹی حاجت کو اس کے چھوٹے ھونے کی بنا پر ترک نہ کرو کیونکہ جس کے ہاتھ میں چھوٹی چھوٹی حاجتیں اسی کے ہاتھ میں بڑی بڑی بھی حاجتیں ھیں ۔ (۱۲)

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) قال : " قالَ اَمیرُ المِؤمنین علیہ السلام : اَحَبُّ الاَعمالِ اِلی اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ فی الاَرضِ الدُّعاءُ وَ اَفضَلُ العِبادَة العِفافُ قال : و کانَ اَمیرُ المؤمِنینَ رَجُلاً دَعّاءً ؛ (۱۳)

امام صادق (ع) نے فرمایا : امیر المومنین فرماتے ھیں : خداوند عالم کے نزدیک روئے زمین پر سب سے زیادہ پسندیدہ عمل دعا ھے اور بہترین عبادت عفت اور پاکدامنی ھے ۔ اور امیر المومنین زیادہ دعاؤں کے مالک انسان تھے ۔

 

دعا مومن کا ہتھیار

 

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) قال : قالَ رَسولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : " الدُّعاُ سِلاحُ المُؤمِنِ وَ عَمودُ الدّینِ و نورُ السّماواتِ وَالاَرضِ ؛ (۱۴)

امام صادق (ع) فرماتے ھیں : دعا مومن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور زمین و آسمان کا نور ھے ۔

نیز حضرت صادق (ع) فرماتے ھیں : امیر المومنین نے فرمایا : دعا ، نجات کی کنجی اور کامیابی کا خزانہ ھے ۔ اور بہترین دعا وہ دعا ھے جو پاکیزہ سینوں اور طاھر دلوں سے ظاھر ھو ۔ اور مناجات میں نجات کا ذریعہ ھے اور انسان کی نجات اس کے اخلاص کی بنا پر ھے ۔ اور جب جزع و ضرع اور داد و فریاد دشوار ھوجائے تو پناہ گاہ خدا ھے ۔

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) قال : " الدُّعاءُ اَنقَذُ مِنَ السِّنانِ الحَدیدِ ؛ (۱۵)

دعا ، لوھے کے تیز نیزہ سے بھی زیادہ نفوذ کرنے والی چیز ھے ۔

 

دعا کے ذریعہ بلا اور قضا کو رد کرنا

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) قال : " اِنَّ الدُّعاءَ یَرُدُّ القَضاءَ وَ قَد نَزَلَ مِنَ السَّماءِ وَقَد اُبرِمَ اِبراماً ؛ (۱۶)

امام صادق (ع) نے فرمایا : دعا آسمان سے نازل ھونے والی قضا کو لوٹا دیتی ھے ۔ اگر چہ وہ قضا شدت کےساتھ مبرم اور محکم ھوچکی ھو ۔

کانَ عَلیُّ بنُ الحُسَینِ (ع) یَقُولُ : " الدُّعاءُ یَدفَعُ البَلاءَ النَّازِلَ وَما لَم یَنزِل ؛ (۱۷)

حضرت علی بن الحسین (ع) فرماتے تھے : دعا نازل ھونے والی اور نازل نہ ھونے والی دونوں بلد کو دور کرتی ھے ۔

اس روایت کا مصداق قرآن کریم میں جناب یونس کی قوم ھے ۔ کہ ان کے سروں پر الہی بلا منڈلا رھی تھی لیکن اس عالم ربانی کی رھنمائی سے سب بیابان میں گئے اور خاک مذلت پر سر رکھ کر خدا کی بارگاہ میں رد بلد کی درخواست کی تو ان کی دعا پوری ھوگئی

 

دعا ھر درد کا علاج

 

عَن عَلاءِ بنِ کامِلٍ قالَ : قالَ لی اَبو عَبدِ اللہِ علیہ السلام : " عَلَیکَ بالدُّعاءِ فَاِنَّہُ شِفاءٌ مِن کُلِّ داءٍ ؛ (۱۸)

علاء بن کامل کہتے ھیں : حضرت صادق (ع) نے مجھ سے فرمایا : تم اپنے لئے دعا لازم کرلو کیونکہ دعا ھر درد کا علاج ھے

ھاں ، دعا ھر درد کا علاج ھے ۔ جب دل حضرت محبوب سے آگ جاتا ھے ارو جان اوصاف معشوق کا آئینہ بن جاتی ھے اور آدمی ھر طرف سے رحمت کے دروازے اپنے لئے کھلا دیکھتا ھے ۔ اور دل اتصال کے زیر اثر امید سے مالا مال ھوجاتا ھے ۔

تو روح تسلط اور مالکیت کی مالک ھوجاتی ھے اور دردوں کے حملوں بالخصوص معنوی دردوں کے وقت اپنے محبوب سے رد بلا اور بیماری کی شفا کی درخواست کرتا ھے ۔ اور محبوب بھی اس کی بیماری کو چاھے کوئی سی بھی ھو یقیناً شفا بخشتا ھے ۔

یہاں پر مناسب ھے کہ تین سبق آموز واقعہ کی جانب اختصار سے اشارہ کریں ۔

۱ ۔ میرا ایک دیندار دوست تھا اور مسائل الہی سے ھمدردی رکھتا تھا جس کی ۷۰ سال کی عمر تھی اس نے مجھ سے کہا : جب میں تقریباً ۱۰ سال کا تھا تو شدید بخار میں مبتلا ھوگیا طب اور طبیب دونوں ھی میرے معالجے سے عاجز آگئے تو میرے والد نے مجھے اپنی گود میں لے کر ایک زندہ ضمیر سید کے پاس آئے اور میری تکلیف کی ساری داستان ان سے کہہ سنائی تو اس زندہ دل انسان نے آسمان کی جانب اپنا سر اٹھایا اور میری طرف مخاطب ھوکر کیا : اے جلد دینے والے بخار ! اسے چھوڑ دو ابھی زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ بخار اتر گیا اور ابتک کہ ۷۰ سال کا ھورھا ھوں مجھے کبھی بخار نہیں آیا

۲ ۔ مرحوم محدث قمی کے فرزند مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد آنکھ کے شدید درد میں مبتلا ھوگئے ، عراق کے ڈاکٹر معاجلہ سے عاجز آگئے ، ایک دن انہوں نے میری والدہ سے کتاب کافی مانگی انہوں نے اپنی بیوی کے ہاتھ سے کتاب کافی لی اور کہا : یہ کتاب رسولخدا (ص) کے اھلبیت کا سرمایہ ھے اور یہ ممکن نہیں ھے کہ خداوند عالم اس کتاب سے آنکھ ملنے کے بعد مجھے شفا نہ دے ، حضرت حق کی جانب لو لگائی اور سوختہ دل کے ساتھ اپنی آنکھ کافی نامی کتاب سے مس کردی ان کے دیدہ کا درد ختم ھوگیا ۔

۳ ۔ یہ بھی انہوں نے ھی نقل کیا ھے کہ میرے والد ایک سخت بیماری میں مبتلا ھوئے اور ساری دوائیں بے اثر ھوکر رہ گئیں تو حد درجہ رنجیدہ خاطر ھوکر انہوں نے میری والد سے کہا : یہ انگلیاں برسوں سے اھلبیت (ع) کے آثار لکھ رھی ھیں اگر ان انگلیوں میں اللہ کا اثر نہ ھو تو اسے کاٹ دینا چاھیئے ایک پاکیزہ برتن مانگا اور تھوڑا پانی اس کے پاس رکھا اور اس مرد الہی نے انگلیاں اس ظرف میں رکھیں اور خداوند عالم سے اس کے وسیلہ سے شفا مانگی اور اس پانی کو پی لیا تو بیماری دور ھوگئی ۔

 

دل و زبان کی طہارت ، قبولیت دعا کے لئے شرط

 

دعا کرنے والے کی دعا اس وقت باب اجابت سے ٹکراتی اور اوپر جاتی ھے جب پاکیزہ زبان اور کدورتوں اور آلودگیوں سے دل پاک ھو پھر اپنے خدا سے درخواست کرے ۔ یعنی اس کی سانس بھی الہی ھو ۔ اللہ کی نافرمانیوں کا شکار نہ ھو اور جو چیز بھی اسے خدا سے دور کرتی ھے اس سے اجتناب کرے ۔ پھر ممکن نہیں کہ کوئی قلب سلیم اور پاکیزہ زبان سے خداوند رحیم سے کوئی چیز مانگے اور وہ چیز اس کی مصلحت میں بھی ھو اور خدا اسے رد کردے لھذا دعا کرنے والا ، دعا کرنے سے پہلے دو چیز حاصل کرے ۔ ۱ ۔ پاکیزہ دل اور قلب سلیم ۲ ۔ طاھر زبان

 

دعا کرنے والی کو دعا قبول ھے

 

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) قال : الدُّعاءُ کَھفُ الاِجابَۃِ کَما اَنَّ السَحابَ کَھفُ المَطَرِ ؛ (۱۹)

امام صادق (ع) نے فرمایا : دعا ، قبولیت کا خزانہ جس طرح بادل ، بارش کا خزانہ ھے ۔

حضرت صادق نے فرمایا : مَا أبرَزَ عَبدٌ یَدَہُ اِلَی اللہِ العَزِیزِ الجَبَّارِ اِلا استَحیَا اللہُ عَزَّ وَ جَلَّ أن یَرُدَّھَا صِفراً حَتّی یَجعَلَ فِیھَا مِن فَضلِ رَحمَتِہِ مَا یَشَاءُ فَاِذَا دَعَا أحَدُکُم فَلا یَرُدَّ یَدَہُ حَتّی یَمسَخَ عَلَی وَجھِہِ وَ رَأسِہِ ؛ (۲۰)

کوئی بندہ خداوند عزیز و جبار کی بارگاہ میں دست نیاز دراز نہیں کرتا مگر یہ کہ خداوند عالم اسے خالی ہاتھ لوٹانے سے کرم کرتا ھے ۔ جب تک اس کے ہاتھوں کو اپنے فضول اور رحمت سے پر نہیں کردیتا ۔ لھذا تم میں سے جب بھی کوئی دعا کرے تو اسے محروم نہیں کرتا جب تک کہ اس کے ہاتھ اور سینہ کو مس نہیں کرتا ۔

کیا وجہ ھے کہ بہت ساری دعائیں قبول نہیں ھوتیں ؟

اس شبہ کا چند طریقوں سے جواب دیا جاسکتا ھے :

۱ ۔ خدا کا وعدہ اس کی مشیت سے مشروط ھے اور سورہ انعام کی ۴۱ / ویں آیت میں ارشاد ھوتا ھے اگر ھم چاھیں تو قبول کرتے ھیں اسی نکتہ کی طرف اشارہ ھے ۔

۲ ۔ اجابت سے مراد جس کے بارے میں خدا اور اس کی حجتوں نے فرمایا ھے توجہ اور دعا کا سننا ھے ۔ یعنی فوراً سنی جائے گی اور مورد عنایت واقع ھوگی ۔ لیکن یہ ممکن ھے کہ مصلحتوں کی وجہ سے بندہ کی حاجت دیر میں پوری ھو ۔

۳ ۔ یہ ھے کہ اجابت ، دعا کرنے والے کے لئے حاجت کے خیر ھونے سے مشروط ھے بندہ خدا سے ایک ایسی حاجت کا خواھاں ھوتا ھے جب کہ اپنی درخواست کے تمام مصالح اور مفاسد سے آگاہ نہیں ھے ۔ اسی طرح آئندہ بھی اس کے نتائج اور آثار سے بطور کامل باخبر نہیں ھے ۔ لیکن خداوند سبحان ، عالم مطلق ھے ساری چیز کو جانتا اور اپنے بندہ کی مصلحت کے مطابق بندوں کی حاجتوں کو پوری کرتا ھے ۔

 

دعا کے آداب

دعا میں کلی حضور ضروری ھے ۔

 

سُلَیمانِ بنِ عَمر و قالَ : سَمِعتُ اَبا عَبدِ اللہِ علیہ السلام یقول : اِنَّ اللہَ عَزَّ وَ جَلَّ لا یَستَجیبُ دُعاءً بظَھرٍ قَلبٍ ساہٍ فاِذا دَعَوتَ فاَقبل بِقَلبکَ ثُمّ استَیقِن بالاِجابَۃِ ؛ (۲۱)

سلیمان بن عمرو فرماتے ھیں : امام صادق (ع) کو میں نے فرماتے سنا : خداوند عالم بے خبر دل سے نکلی ھوئی دعا کو قبول نہیں کرتا لھذا جب خدا کی بارگاہ قدس میں دعا کے لئے آؤ تو دل سے لگاؤ اور اس بات کا یقین رکھو کہ جو دل مولیٰ سے دعا میں مشغول ھے اس کی دعا قبول ھوگی

اور دعا کرنے والے کے لئے یہ بھی ضروری ھے کہ اس کے اندر دقت قلب بھی پائی جائے لھذا جس کے اندر سخت دلی پائی جاتی ھے اس کی دعا قبول نہیں ھے ۔

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) قال : " اِنَّ اللہَ عَزَّ وَ جَلَّ لا یَستَجیبُ دُعاءً بظَھرِ قَلبٍ قاسٍ؛ (۲۲)

امام صادق (ع) نے فرمایا :

خداوند عالم سخت دل اور سنگدل انسان کی دعا قبول نہیں کرتا ۔

 

دعا میں اصرار اور بار بار تکرار

 

کچھ لوگ دعا کو معمولی اور سبک جانتے ھیں ۔ کیونکہ بہت سادہ انداز اور جلد بازی میں دعا کرتے ھیں ثانیاً اور مصلحت کو نظر میں رکھے بغیر اجابت کے خواھاں ھوتے ھیں ۔ اس سلسلہ میں ائمہ اطہار (ع) فرماتے ھیں ۔ دعا میں اصرار اور الحاح کرو اور اس کی قبولیت کو خدا کی طرف سے اپنے لئے مصلحت اور اس کے لئے لازم وقت جانو ۔

عَن اَبی عبد اللہ (ع) قالَ : اِنَّ اللہَ عَزَّ وَ جَلَّ کَرِہَ اِلحاَح النَّاسِ بَعضُھُم عَلیٰ بَعضٍ فی المَسئَلَۃِ وَ اَحَبَّ ۔ (۲۳)

عَن اَبی جَعفَرٍ (ع) قال : "لا واللہِ لا یُلِحُّ عَبدُ علی اللہَ عَزَّ وَ جَلَّ اِلا استَجابَ اللہُ لَہُ ؛ (۲۴)

امام باقر (ع) نے فرمایا : خدا کی قسم جب کوئی بندہ خدا کی بارگاہ میں اصرار کرتا ھے تو خدا اس کی دعا قبول فرماتا ھے ۔

 

دعا میں حاجتوں کا اظہار ۔

 

حضرت حق کا وجود اقدس ، تمام ظاھر و باطن ، ماضی ، حال اور مستقبل سب پر ھر جہت سے آگاہ اور عالم ھے اور بندہ کی جائز حاجتیں اور جو کچھ بندہ چاھتا ھے حضرت حق کے لئے آشکار اور ھویدا ھے لیکن خدا یہ چاھتا ھے کہ بندہ دعا کے وقت اپنی زبان سے اپنی حاجتوں کو بیان کرے ۔

عَن اَبی عَبدِ اللہ (ع) " اَنَّ اللہَ تبارَکَ وَ تعالیٰ یَعلَمُ ما یُریدُ العَبدُ اِذا دعاہُ و لکنَّہُ یُحِبُّ اَن تَبُثَّ اِلَیہِ الحَوائِجُ فَاِذا دَعَوتَ فَسَمِّ حَاجَتَکَ و فی حَدیثٍ آخَرَ قالَ : اِنَّ اللہَ عَزَّ وَ جَلَّ یَعلَمُ حاجَتَکَ وَ ما تُریدُ و لکِن یُحِبُّ اَن تَبُثَّ اِلَیہِ الحَوائِجُ ؛ (۲۵)

امام صادق (ع) نے فرمایا : خداوند منان یہ جانتا ھے کہ بندہ دعا کے وقت کیا چاھتا ھے لیکن اس بات کو پسند کرتا ھے کہ حاجتیں اس کی بارگاہ میں کہی جائیں ، لھٰذا جب بھی دعا کرو تو اپنی حاجت زبان سے کہو ، ایک دوسری روایت میں مذکور ھے : خداوند سبحان تمہاری حاجت اور آرزو کو جانتا ھے لیکن اس بات کو پسند کرتا کہ تم اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں اپنی زبان سے کہو

 

خفیہ دعا کی اھمیت

 

عَن ابی الحَسَنِ الرِّضا (ع) قالَ : " دَعوَة العَبدِ سِرّاً دَعوَة واحِدَة تَعدِلُ سَبعینَ دَعوَة عَلانیَۃً ؛ (۲۶)

امام رضا (ع) نے فرمایا : بندہ کی پوشیدہ طور پر ایک دعا ۷۰ / آشکار طور پر دعاؤں کے برابر ھے ۔

اس کا راز یہ ھے کہ پوشیدہ طور پر دعا کرنا خلوص ، اخلاص اور نیت کی پاکیزگی سے زیادہ نزدیک ھے اور عمل جتنا خالص ھوگا اس کی قدر و قیمت بھی اتنی زیادہ ھوگی ۔

 

بارگاہ احدیث میں آنسو بہانے کی اھمیت

 

خدا اور خدا کی راہ میں نیز ان مصائب پر جو خدا کی راہ میں اولیائے الہی پر ٹوٹے ھیں ، پر رونا نیک اور پسندیدہ عمل ھے ۔ قرآن کریم خدا کے لئے رونے کو حق کے عاشقوں کی علامت شمار کرتا ھے :

" وَ اِذَا سَمِعوا مَا اُنزِلَ اِلَی الرَّسولِ تَرَی أعیُنَھم تَفیضُ مِنَ الدَّمعِ مِمَّا عَرَفوا مِن الحَقِّ یَقولونَ رَبَّنا آمَنَّا فاکتُبنا مَعَ الشَّاھِدینَ ؛ (۲۷)

جب بھی پیغمبر (اسلام) پر آیتیں نازل شدہ سنیں تو انہیں تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھیں (شوق سے) اشکبار ھوتی ھیں جو حقیقت انہوں نے دریافت کی ھے، اس کی وجہ سے وہ لوگ کہتے ھیں : خدایا ! ھم ایمان لائے لھذا ھمیں گوایوں کے ساتھ (حق کے شاھدوں اور محمد کے ناصروں میں) لکھ ۔

دعا کے وقت رونا خاص اھمیت کا حامل ھے ، اور آنسو باطنی صفائی کی نشانی ھے آدمی کو رحمت حق سے قریب کرکے گناھوں کے بوجھ سے ھلکا کرتی ھے ۔

امام صادق (ع) فرماتے ھیں : ما من شی الا ولہ کیل أو وزن الا لدموع فان القطرة منھا تطفیٔ بحارا من نار فاذا اغر ورقت العین بمائھا لم یرھق وجھہ قتر ولا ذلۃ فاذا أفاضت حرمھا اللہ علی النار ولو أن باکیا بکا فی أمۃ لرحموا ؛ (۲۸)

گریہ کے سوا ھر چیز کے لئے ایک پیمانہ اور وزن ھے کہ جس کا ایک قطر آگ کے دریاؤں کو خاموش کردیتا ھے اور جب آنسو آنکھ کے حلقوں میں آجاتا ھے تو صاحب گریہ کا چہرہ ذلت و خواری سے دوچار نہیں ھوتا اور جب رخسار پر گرنے لگتا ھے تو اس پر آتش دوزخ حرام ھوجاتی ھے ۔ اور جب بھی کسی امت کے درمیان کوئی ایک شخص گریہ کناں ھوگا تو اس امت پر رحم و کرم کی بارش ھوگی ۔

عَن اَبی جَعفَرٍ (ع) قالَ : " ما مِن قَطرَة اَحَبُّ اِلَی اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ مِن قَطرَة دموعٍ فی سوادِ اللَّیلِ مَخافَۃً مِنَ اللہِ لا یُرادُ بِھا غَیرُہُ ؛ (۲۹)

خدا کے نزدیک شب کی تاریکی میں آنکھ سے نکلنے والے آنسو سے زیادہ کوئی آنسو محبوب نہیں ھے جو خدا کے خوف سے نکلا ھے اور خدا کے علاوہ اس کی کوئی اور غرض بھی رھو ۔

قُلتُ لأبِی عَبدِ اللہِ (ع) : أکُونُ أدعُو فَأشتَھِی البُکَاءَ وَلا یَجِیئُنِی وَ رُبَّمَا ذَکَرتُ بَعضَ مَن مَاتَ مِن أھلِی فَأرِقُ وَ أبکِی فَھَل یَجُوزُ ذَلِکَ فَقَالَ نَعَم فَتَذَکَّرھُم فَاِذَا رَقَقتَ فَابکِ وَ ادعُ رَبِّکَ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی یُعطَ ؛ (۳۰)

اسحاق بن عمار کہتے ھیں : میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا میں دعا کرتے وقت رونا چاھتا ھو ، لیکن آنسو نہیں نکلتے اور بسا اوقات اپنے بعض مرحومین کی یاد کرتا ھوں تو آنکھ سے آنسو نکل پڑتے ھیں اور رقت طاری ھوجاتی ھے ، آیا یہ کام صحیح ھے ؟ آپ نے فرمایا : ھاں ، انہیں یاد کرو اور جب رقت طاری ھو تو گریہ کرو اور اپنے رب کو پکارو اور حضرت حق کی بارگاہ میں دعا کرو۔

 

دعا سے پہلے خدا کی تعریف و توصیف

 

حارث بن مغیرہ کہتے ھیں : حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا : اگر تم میں سے کوئی خدا کی بارگاہ میں دینی اور دنیوی حاجتوں میں سے کوئی حاجت کا طلبگار ھے تو اسے جلدی کرنی چاھیئے لیکن یہ یاد رھے کہ دعا سے پہلے اللہ کی تعریف و توصیف کرو اور پیغمبر اور آپ کی پاکیزہ آل پر درود و سلام بھیجو اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرو " ۔ (۳۱)

محمد بن مسلم فرماتے ھیں : حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا : امیر المومنین (ع) کی کتاب میں ایسا ھی ھے کہ تعریف درخواست سے پہلے ھو لہذا جب بھی خدا کی بارگاہ میں دعا کرو اور اسے پکارو تو اس کی بزرگی اور عظمت بیان کرو ، میں نے عرض کیا : کیسے اس کی تمجید کروں ؟

آپ نے فرمایا : کہو :

" یا مَن ھُوَ اَقرَبُ اِلَیَّ مِن حَبلِ الوَریدِ ، یا فَعِّالاً لِما یُریدً ، یا مَن یَحولُ بَینَ المَرءِ وَ قَلبہِ ، یا مَن ھُوَ بالمَنظَرِ الاَعلیٰ ، یا مَن ھُو لَیسَ کَمِثلِہِ شَیٌٔ ؛ (۳۲)

اے وہ ذات جو میری رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ھے ۔ اسے وہ ذات کہ جو چاھتی ھے انجام دیتی ھے ، اے وہ ذات جو انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ھوجاتی ھے ، اے وہ ذات جو بلند ترین منظر پر ھے اے وہ ذات جس کے مثل کوئی چیز نہیں ھے ۔

 

اجتماعی دعا کرو

 

حضرت امام صادق (ع) فرماتے ھیں : اگر چالیس آدمی اکٹھا ھوکر کسی کام کے لئے خدا سے دعا کریں تو یقیناً خداوند عالم اسے قبول کرے گا ۔ اگر چالیس آدمی نہ ھو بلکہ صرف چار ھوں تو بھی اکٹھا دعا کریں اور دس بار خداوند عز و جل کو پکاریں تو خدا ان کی دعا قبول فرمائے گا ۔ اور اگر چار افراد بھی نہ ھو تو ایک ھی آدمی چالیس بار خدا کو پکارے تو بھی خداوند عزیز و جبار اس کی دعا قبول کرے گا ۔ (۳۳)

 

سب کے لئے دعا کرو

 

عَن اَبی عبد اللہ (ع) قالَ : (قالَ رسولُ اللہِ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اِذا دَعا اَحَدُکُم فَلیَعُمَّ فَاِنَّہُ اَوجَبُ لِلدُّعاءِ ؛ (۳۴)

امام صادق علیہ السلام رسول اکرم (ص) سے نقل فرماتے ھیں : تم میں سے کوئی بھی جب دعا کرے تو سب کے لئے دعا کرے کیونکہ اس کے قبول ھونے کا زیادہ امکان ھے ۔

 

قبولیت میں تاخیر سے گھبراؤ نہیں

 

احمد بن محمد بن ابی نصر فرماتے ھیں : میں حضرت امام رضا (ع) سے عرض کیا :

میں آپ پر قربان جاؤں میں چند سال سے خدا سے ایک حاجت طلب کر رھا ھوں اور اجابت میں تاخیر کی بنا پر میرے دل میں سلبیہ اور اضطراب پیدا ھوگیا ھے تو آپ نے فرمایا : اے احمد ! ایسا نہ ھو کہ شیطان تمہارے دل میں راہ پیدا کرے اور تمہیں مایوسی اور نا امیدی کے میدان میں لے جائے ۔ امام باقر (ع) نے فرمایا : جب بھی کوئی مومن خدا سے حاجت طلب کرے اور اس کی قبولیت میں تاخیر ھو تو یہ تاخیر اس وجہ سے کہ خدا کے نزدیک اس کی آواز محبوب اور گریہ و زاری پسندیدہ ھے ، اس کے بعد فرمایا : خدا کی قسم جو کچھ خدا مومنین کے لئے جو وہ چاھیں ذخیرہ کرتا ھے وہ بہتر ھے اس چیز سے کہ انہیں جلدی انہیں عطا کردے دنیا کی کتنی اھمیت ھے ؟ امام باقر (ع) نے فرمایا : مومن عیش و عشرت کی حالت میں اسی طرح دعا کرے جس طرح مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں کرتا ھے ۔ اور جو کچھ اسے دیا گیا ھے وہ اسے دعا کرنے سے سست نہ بنا دے ، لھذا تم دعا سے گبھراو نہیں کیونکہ خدا کے نزدیک دعا کی بڑی اھمیت ھے ۔

امام سلام کلام کو باقی رکھتے ھوئے فرماتے ھیں :

بتاؤ اگر میں تم سے کوئی چیز کیوں تو کیا تم اس پر اعتماد رکھتے ھو ؟ میں نے کہا : میں آپ پر قربان ھوجاؤں اگر میں آپ کے فرمان پر اعتماد نہیں کروں گا تو پھر کس کی بات پر اعتماد کروں گا ۔ جب کہ آپ خلق پر خدا کی حجت ھیں ؟

آپ نے فرمایا : پھر تو خدا اس کے وعدوں اور کلام پر زیادہ اعتماد کر کیونکہ خداوند عالم نے تم سے قبولیت کا وعدہ کیا ھے ۔ یا یہ کہ تیری دعا کی اجابت ایک میعاد و مدت کے لئے ٹال دی گئی ھے ۔

کیا خدا نے قرآن مجید میں نہیں فرمایا ھے :

" جب ھمارے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو (تم کہو) میں قریب ھوں اور دعا کرنے والے کی دعا جب وہ مجھے پکارتا ھے قبول کرتا ھوں ۔ (۳۵)

یا فرمایا : خدا کی رحمت سے مایوس نہ ھو ۔ (۳۶)

یا فرمایا : خدا نے تم سے اضافہ اور بخشش کا وعدہ کیا ھے ۔ (۳۷)

لھذا خداوند عز و جل پر دوسروں کے مقابل پر اعتماد زیادہ ھونا چاھیئے اور اپنے دل میں عربی کے سوا کسی اور چیز کو راہ نہ دو کیونکہ تم بخشے ھوئے ھو ۔ (۳۸)

حضرت صادق (ع) فرماتے ھیں : جب مومن اپنی حاجت میں خدا کو پکارے تو خدا فرماتا ھے : اس کی قبولیت میں تاخیر کرو ۔ کیونکہ اس کی آواز اور اس کی دعا کا مشتاق ھوں ۔ اور جب قیامت کے دن آئے تو خدا فرمائے گا : اے میرے بندہ ! تم نے مجھے پکارا لیکن میں نے تیری دعا کے قبول کرنے میں تاخیر کی اس وقت اس تاخیر کے بدلے تیرا یہ اور وہ ثواب ھے ۔ اس کے بعد حضرت صادق (ع) نے فرمایا : مومن آرزو کرتا ھے کہ اے کاش دنیا میں اس کی کوئی دعا قبول نہ ھوتی کیونکہ اس کا ثواب عظیم ھے ۔

 

دعا شروع کرنے پہلے محمد اور آل محمد (ص) پر صلوات بھیجو

 

عَن اَبی عبد اللہ (ع) ، قالَ : کُلُّ دُعاءٍ یُدعی اللہُ عَزَّ وَ جَلَّ بہِ مَحجوبٌ عَنِ السَّماءِ حَتّی یُصَلّیٰ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمّدٍ ؛ (۳۹)

امام صادق (ع) نے فرمایا : جس دعا کے ذریعہ بھی خدا کو پکارا جاتا ھے اس وقت ترک وہ آسمان پر نہیں جاتی جب تک کہ محمد و آل محمد پر صلوات نہ بھیجی جائے ۔

امام صادق (ع) نے فرمایا : مَن کَانَت لَہُ اِلَی اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ حَاجَۃٌ فَلیَبدَأ بالصَّلاةِ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِہِ ثُمَّ یَسألُ حَاجَتَہُ ثُمَّ یَختِمُ بالصَّلاةِ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ فَاِنَّ اللہَ عَزَّ وَ جَلَّ أکرَمُ مِن أن یَقبَلَ الطَّرَفَینِ وَ یَدَعَ الوَسَطَ اِذَا کَانَتِ الصَّلاةُ عَلَی مُحَمَّدٍ وََ آلِ مُحَمَّدٍ لا تُحجَبُ عَنہُ ؛ (۴۰)

جسے بھی اللہ کی بارگاہ میں کوئی حاجت ھو تو وہ پہلے محمد و آل محمد پر صلوات بھیجے اس کے بعد اپنی حاجت کو طلب کرے آخر میں بھی محمد و آل محمد (ص) پر صلوات کے ذریعہ ختم کرے اس لئے کہ خداوند عالم اس سے کریم ھے کہ اول و آخر کو قبول کرے اور وسط کو چھوڑ دے کیونکہ صلوات محجوب نہیں ھے ۔

جب تم لوگ صحیفۂ سجادیہ میں سید الساجدین امام زین العابدین (ع) کی دعاؤں پر نظر کرو گے تو دیکھو گے کہ آنحضرت نے اپنی دعاؤں کو صلوات سے شروع کیا ھے ۔ اور یہ بات صحیفہ سجادیہ میں تکرار کے ساتھ ملاحظہ ھوگی ۔

 

اجابت دعا کے اوقات

 

حضرت امام صادق (ع) نے فرمایا : اطلُبُوا الدُّعَاءَ فِی أربَعِ سَاعَاتٍ عِندَ ھُبُوبِ الرِّیَاحِ وَ زَوَالِ الأفیَاءِ وَ نُزُولِ القَطرِ وَ أوَّلِ قَطرَةٍ مِن دَمِ القَتِیلِ المُؤمِنٍ فَاِنَّ أبوَابَ السَّمَاء ؛ (۴۱)

چار وقت دعا کرو جب تیز و تند ھوائیں چل رھی ھوں ، ظھر کے وقت ، بارش کے وقت اور جب کسی مومن کا خون بہایا جارھا ھو ۔ کیونکہ ایسے موقعوں پر رحمت کے دروازے کھلے رھتے ھیں ۔

نیز حضرت صادق (ع) نے فرمایا : یُستَجَابُ الدُّعَاءُ فِی أربَعَۃِ مَوَاطِنَ فِی الوَترِ وَ بَعدَ الفَجرِ و بَعدَ الظُّھرِ و بَعدَ المَغرِبِ ؛ (۴۲)

چار مرحلوں میں دعا قبول ھوتی ھے : نماز وتر میں ، فجر کے بعد ، ظھر اور مغرب کے بعد ۔

حضرت صادق (ع) امیر المومنین (ع) سے نقل کرتے ھیں : اغتَنِمُوا الدُّعَاءَ عِندَ أربَعٍ عِندَ قِرَاءَةِ القُرآنِ وَ عِندَ الآذَانِ وَ عِندَ نُزُولِ الغَیثِ وَ عِندَ التِقَاءِ الصَّفَّینِ لِلشَّھَادَةِ ؛ (۴۳)

چار موقعوں پر دعا کو غنیمت شمار کرو ، قرآن پڑھتے وقت ، آذان کے وقت ، بارش کے وقت اور میدان جہاد میں حق پرستوں کے کفر کے خلاف لڑتے و جہاد کرتے وقت ۔

امام صادق (ع) نے فرمایا : اِذَا قَشَعَّرَ جِلدُکَ وَ دَمَعَت عَینَاکَ فَدُونَکَ دُونَکَ فَقَد قُصِدَ قَصدُکَ ؛ (۴۴)

جب تمہارے جسم لرزنے لگیں اور آنسو نکلیں تو اس بات کی امید رکھو کہ تمہاری طرف عنایت ھوچکی ھے ۔

 

جن لوگوں کی دعا مستجاب ھوتی ھے

 

عَن عیسیٰ بنِ عَبدِ اللہِ القُمِّی قالَ : (سَمِعتُ اَبا عبدِ اللہِ علیہ السلام یَقولُ : ثلاثۃٌ دَعوَتُھُم مُستجَابۃٌ : اَلحاجُّ فانظُروا کَیفَ تَخلُفونَہُ ، والغازی فی سَبیلِ اللہِ فانظُروا کَیفَ تَخلُفونَہُ ، والمَریضُ فَلا تُغیظوہُ وَلا تُضجِروہُ ؛ (۴۵)

عیسی بن عبد اللہ قمی حضرت امام صادق (ع) سے روایت کرتے ھیں : تین گروہ کی دعا مقبول ھے :

جو حج پر جائے ، لہذا غور کرو کہ اس کے پسماندگان سے کیسی رفتار دکھو گے ، جو راہ خدا میں جہاد کے لئے نکلتا ھے ۔ لھذا اس کی غیبت میں اس کے پسماندگان کے ساتھ رفتار رکھنے میں احتیاط سے کام لو ۔ تیسرے بیمار کی ۔ لھذا اسے غصہ نہ دلاؤ اور اسے عاجز نہ کرو " کہیں تمہارے لئے نفرین ارو بد دعا نہ کرے"۔

نیز حضرت فرماتے ھیں : میرے والد بزرگوار نے فرمایا : تُفَتَّحُ عِندَ ھَذِہِ خَمسُ دَعَوَاتٍ لا یُحجبنَ عَنِ الرِّبِّ تَبَارَکَ وَ تَعَالَیٰ دَعوَةُ الاِمَامِ المُقسِطِ دَعوَةُ المَظلُومِ یَقُولُ اللہُ عَزَّ وَ جَلَّ لأنتَقِمَنَّ لَکَ وَلَو بَعدَ حِینٍ وَ دَعوَةُ الوَلَدِ الصَّالِحِ لِوَالِدَیہِ وَ دَعوَةُ الوَالِدِ الصَّالِحِ لِوَلَدِہِ وَ دَعوَةُ المُؤمِنِ لأَخِیہِ بظَھرِ الغَیبِ فَیَقُولُ وَلَکَ مِثلُہُ ؛ (۴۶)

پانچ دعا اللہ جل جلالہ کی بارگاہ کبریائی میں رد نہیں ھوتی ۔ عادل رھبر اور پیشوا کی دعا ، مظلوم کی دعا کہ جس کے بارے میں خدا نے فرمایا ھے : یقیناً میں تمہارا انتقام لوں گا اگرچہ ایک طولانی مدت کے بعد ھو ، والدین کے لئے نیک اولاد کی دعا ، صالح والد کی فرزند کے لئے دعا، اور برادر مومن کی دعا برادر ایمانی کے لئے اس کے پس پشت خدا فرماتا ھے : تمہارے لئے اسی کے مثل ھونا چاھیئے ۔

 

جن لوگوں کی دعا قبول نہیں ھوتی

 

امام صادق (ع) فرماتے ھیں : چار انسان کی دعا قبول نہیں ھوتی :

۱ ۔ ایسے شخص کی جو گھر میں بیٹھتا کہتا ھو : خدایا مجھے روزی دے ، اس سے کہا جاتا ھے کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا ھے کہ روزی کے لئے گھر سے باھر نکلو اور تلاش کرو

۲ ۔ ایسا انسان جس کے پاس بیوی ھو اور اس عورت کی ناقابل برداشت اذیت سے چھٹکارا پانے کے لئے عورت کے لئے بد دعا کرے تو اس سے کہا جاتا ھے کہ اسے طلاق اسے طلاق دینے اور اس سے چھٹکارا پانے کا اختیار تمہارے ہاتھ میں ھے لھذا یہ بد دعا کا مقام نہیں ھے ۔

۳ ۔ وہ شخص جسے مال و دولت ملی لیکن اس نے سب ضائع و برباد کر کے اب کہتا ھے : خدا یا مجھے رزق عطا کر تو اس سے کہا جاتا ھے کیا میں نے تجھے میانہ روی کا حکم نہیں دیا تھا ۔ آیا میں نے تجھے مال کی اصلاح کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اس کے بعد حضرت نے سورہ فرمان کی ۶۷ / ویں آیت سے دلیل پیش کی ۔ (۴۷)

۴ ۔ وہ انسان جو کسی غیر کو شاھد اور گواہ کے بغیر قرض دے اور قرض لینے والا انکار کردے اور منکر مدیون سے طلب دریافت کرنے کے لئے خدا کی بارگاہ میں دعا کرے اور اس سے مانگے تو اس سے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تمہیں یہ حکم نہیں دیا کہ قرض دیتے وقت شاھد بناؤ ۔

 

منابع و ماخذ

 

۱ ۔ محدث نوری ، مستدرک الوسائل ، ج ۵ ، ص ۲۱۷ ۔

۲ ۔ سورہ مؤمن ، آیت ۶۰ ۔

۳ ۔ سورہ انعام ، آیت ۶۳ ۔ ۶۴ ۔

۴ ۔ سورہ انبیاء ، آیت ۹۰ ۔

۵ ۔ سورہ بقرہ ، آیت ۱۸۶ ۔

۶ ۔ سورہ فرقان ، آیت ۷۷ ۔

۷ ۔ سورہ روم ، آیت ۳۳ ۔

۸ ۔ آیات ۶۵ عنکبوت ، ۳۲ لقمان ، ۱۲ یونس ۔

۹ ۔ اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۶۔

۱۰ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۷ ۔

۱۱ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۷ ۔

۱۲ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۷ ۔

۱۳ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۷ ۔

۱۴ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۸ ۔

۱۵ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۹ ۔

۱۶ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۹ ۔

۱۷ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۶۹ ۔

۱۸ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۰ ۔

۱۹ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۱ ۔

۲۰ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۱ ۔

۲۱ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۳ ۔

۲۲ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۴ ۔

۲۳ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۵ ۔

۲۴ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۵ ۔

۲۵ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۴ ۔

۲۶ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۲۷۴ ۔

۲۷ ۔ سورہ مائدہ ، آیہ ۸۳ ۔

۲۸ ۔ مجموعہ ورام ، ج ۲ ، ص ۲۰۲ ۔

۲۹ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۸۲ ۔

۳۰ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۸۲ ۔

۳۱ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۸۴ ۔

۳۲ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۸۴ ۔

۳۳ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۸۷ ۔

۳۴ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۳ ۔

۳۵ ۔ سورہ بقرہ ، آیت ۱۸۶ ۔

۳۶ ۔ سورہ زمر ، آیت ۵۳ ۔

۳۷ ۔ سورہ بقرہ ، آیت ۲۶۸ ۔

۳۸ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۸۸ ۔

۳۹ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۹۳ ۔

۴۰ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۹۴ ۔

۴۱ ۔ حر عاملی ، وسائل الشیعہ ، ج ۷ ، ص ۶۴ ۔

۴۲ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۷ ۔

۴۳ ۔ حر عاملی ، وسائل الشیعہ ، ج ۷ ص ۶۴ ۔

۴۴ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۴۷۸ ۔

۴۵ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۵۰۹ ۔

۴۶ ۔ کلینی ، اصول کافی ، ج ۲ ، ص ۵۰۹ ۔

۴۷ ۔ " وَ الَّذِینَ اِذَا أنفَقُوا لَم یُسرِفُوا وَلَم یَقتَرُوا وَ کَان بَینَ ذَلِکَ قَوَاماً ؛ وہ جب انفاق کرتے ھیں تو نہ اسراف کرتے ھیں اور نہ بخل سے کام لیتے ھیں ۔ بلکہ ان دونوں کے درمیان میانہ روی اختیار کرتے ھیں ۔

http://aliakbarkarimi.blogfa.com/

Add new comment