اہلبیتؑ کو بنو امیہ کی گالیاں،ثبوت13
ثبوت نمبر 13: مغیرہ بن شعبہ کا علی ابن ابنی طالب پر سب و شتم
مغیرہ بن شعبہ، جو معاویہ ابن ابی سفیان کا ایک اور گورنر تھا، وہ بھی علی ابن ابی طالب کو معاویہ ابن ابی سفیان کے حکم سے گالیاں دیا کرتا تھا اور لعنت بھیجتا تھا۔
تاریخ کامل، جلد 3، صفحہ 234:
"معاویہ ابن ابی سفیان نے مغیرہ کو بطور گورنر نامزد کیا اور کہا: "میں نے تمہاری نامزدگی اپنی عقل کے مطابق کی ہے، تو اب تم مجھے ان شرائط پر بیعت دو کہ تم اس روایت کو جاری رکھو گے کہ تم علی کی بے عزتی کرنا اور لعن کرو گے مگر حضرت عثمان کی تعریف کرو گے۔ مغیرہ کچھ عرصے کوفہ کا گورنر رہا اور اس دوران وہ علی ابن ابی طالب کی بدگوئی کرتا تھا اور ان پر لعنت کرتا تھا۔
اورابن کثیر البدایہ و النہایہ جلد8، صفحہ50 پر لکھتے ہیں:
قال: قال سلمان لحجر: يا ابن أم حجر لو تقطعت أعضاؤك ما بلغت الإيمان، وكان إذ كان المغيرة بن شعبة على الكوفة إذا ذكر علياً في خطبته يتنقصه بعد مدح عثمان وشيعته فيغضب حجر هذا ويظهر الإنكار عليه.
ترجمہ:
"جب مغیرہ بن شعبہ کوفہ کا والی تھا تو وہ خطبے میں عثمان اور انکے ساتھیوں کی مدح کے بعد علی ابن ابی طالب کی تنقیض کرتا تھا۔ اس پر حضرت حجر غضبناک ہو کر احتجاج کرتے تھے۔"
مسند احمد بن حنبل، جلد 4، حدیث 18485، اول مسند الکوفین، حدیث زید بن ارقم:
آنلائن لنک:
حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن الحجاج مولى بني ثعلبة عن قطبة بن مالك عم زياد بن علاقة قال نال المغيرة بن شعبة من علي فقال زيد بن أرقم قد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينهى عن سب الموتى فلم تسب عليا وقد مات
ترجمہ:
زید بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: مغیرہ بن الشعبہ نے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دی، تو اس پر زید بن ارقم کھڑے ہو گئے اور کہا: "تمہیں علم ہے کہ رسول ص نے مردہ لوگوں کو گالیاں دینے سے منع کیا ہے، تو پھر تم علی ابن ابی طالب پر کیوں سب کر رہے ہو جب کہ وہ وفات پا چکے ہیں؟
یہ صحیح روایت ہے اور اسے حاکم، اور پھر الذھبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
اور شیخ الارنؤوط نے مسند احمد کے حاشیے میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور حتی کہ شیخ البانی نے بھی اسے سلسلہ احادیث صحیحیہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح روایت ہے:
2397 - " نهى عن سب الأموات " .
قال الألباني في " السلسلة الصحيحة " 5 / 520 :
أخرجه الحاكم ( 1 / 385 ) عن شعبة عن مسعر عن زياد بن علاقة عن عمه : " أن المغيرة بن شعبة سب علي بن أبي طالب ، فقام إليه زيد بن أرقم فقال : يا مغيرة ! ألم تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن سب الأموات ؟ فلم تسب عليا و قد مات ؟ ! " ، و قال : " صحيح على شرط مسلم "
Add new comment