اہل سنت کی کتابوں میں حضرت فاطمہ[س] کی نماز جنازہ
محمد بن اسماعیل بخاری لکھتے ہیں:
وعَاشَتْ بَعْدَ النبي صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها.
فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول خدا (ص) کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں جب دنیا سے رخصت ہوئیں تو آپ کے شوہر علی (ع) نے رات کے عالم میں آپ کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو اطلاع نہیں دی۔
البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.
ابن قتیبہ دینوری نے تاویل مختلف الحدیث میں لکھا ہے:
وقد طالبت فاطمة رضي الله عنها أبا بكر رضي الله عنه بميراث أبيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما لم يعطها إياه حلفت لا تكلمه أبدا وأوصت أن تدفن ليلا لئلا يحضرها فدفنت ليلا.
فاطمہ(س) نے ابوبکر سے اپنے باپ کی میراث کا مطالبہ کیا ابوبکر نے قبول نہیں کیا تو فاطمہ(س) نے قسم کھائی کہ ابوبکر کے ساتھ بات نہیں کریں گی اور وصیت کی کہ انہیں رات کو دفن کیا جائے اور وہ (ابوبکر) ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو۔
الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، تأويل مختلف الحديث، ج 1، ص 300، تحقيق: محمد زهري النجار، ناشر: دار الجيل، بيروت، 1393هـ، 1972م.
عبد الرزاق صنعانی لکھتے ہیں:
عن بن جريج وعمرو بن دينار أن حسن بن محمد أخبره أن فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم دفنت بالليل قال فرَّ بِهَا علي من أبي بكر أن يصلي عليها كان بينهما شيء.
ابن جریح اور عمرو بن دینار سے نقل کیا ہے کہ انہیں حسن بن محمد نے خبر دی کہ فاطمہ (س) بن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کو رات میں دفن کیا گیا اس نے کہا کہ فاطمہ (س) اور ابوبکر کے درمیان جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے علی (ع) نے اسے نماز پڑھنے کے لیے مطلع نہیں کیا۔
نیز لکھتے ہیں:
عبد الرزاق عن بن عيينة عن عمرو بن دينار عن حسن بن محمد مثله الا أنه قال اوصته بذلك
حسن بن محمد سے اس کے مشابہ ایک اور روایت بھی نقل ہوئی ہے اس میں صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں آیا ہے کہ فاطمہ(س) نے خود اس کام کی وصیت کی تھی۔
الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، ج 3، ص 521، حديث شماره 6554 و حديث شماره: 6555، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ.
ابن بطال نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے:
أجاز أكثر العلماء الدفن بالليل... ودفن علىُّ بن أبى طالب زوجته فاطمة ليلاً، فَرَّ بِهَا من أبى بكر أن يصلى عليها، كان بينهما شىء.
اکثر علماء نے جنازہ کو رات میں دفن کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔۔۔ اور علی بن ابی طالب نے اپنے زوجہ فاطمہ کا جنازہ رات کو دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکے چونکہ ان دونوں ( فاطمہ اور ابوبکر) کے درمیان کوئی اختلاف تھا۔
إبن بطال البكري القرطبي، أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 3، ص 325، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.
ابن ابی الحدید نے جاحظ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:
وظهرت الشكية، واشتدت الموجدة، وقد بلغ ذلك من فاطمة ( عليها السلام ) أنها أوصت أن لا يصلي عليها أبوبكر۔
فاطمہ کی شکایت اور نارضگی اس حد تک تھی کہ انہوں نے وصیت کی کہ ابوبکر ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھے۔
إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج 16، ص 157، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1418هـ - 1998م.
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
وأما إخفاء القبر، وكتمان الموت، وعدم الصلاة، وكل ما ذكره المرتضى فيه، فهو الذي يظهر ويقوي عندي، لأن الروايات به أكثر وأصح من غيرها، وكذلك القول في موجدتها وغضبها.
فاطمہ (س) کی قبر کا مخفی ہونا، موت کو چھپانا، اور ابوبکر کا نماز جنازہ نہ پڑھنا، اور مزید جو کچھ سید مرتضی نے لکھا ہے وہ سب میرے نزدیک واضح اور مورد تائید ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع پر کثرت سے روایات موجود ہیں اور باقی روایتوں سے صحیحتر ہیں اور اس طرح ( شیخین کے سلسلے میں ) آپ کی ناراضگی اور غضب کی بات بھی میرے نزدیک مورد تائید ہے۔
شرح نهج البلاغة، ج 16، ص 170.
http://www.ahl-ul-bayt.org/ur.php/page,18783A118099.html?PHPSESSID=a2493...
Add new comment