مصر میں حماس کی سرگرمیوں پر پابندی اور اثاثے منجمند

ٹی وی شیعہ [میڈیا نیوز]مصری عدالت نے فلسطینی عسکری تنظیم حماس کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ مصر میں حماس کے دفاتر بند کئے جائیں۔ حماس کی تمام تر سرگرمیوں پر پابندی لگا دی اور اثاثے بھی منجمند کر دیئے ہیں۔ حکومت کے اہلکاروں نے الزام لگایا فلسطینی عسکری تنظیم معزول صدر مرسی کے ساتھ مل کر ملک میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ترجمان حماس نے ردعمل میں کہا اسرائیل کی پشت پناہی کے سبب یہ فیصلہ دیا گیا۔ باسم نیام نے مزید کہا کہ اقدام مزاحمت کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ حماس فلسطینی مجلس قانون ساز میں اکثریت کی حامل اور غزہ کی پٹی میں حکمران جماعت ہے، تاہم وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی ہے، غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مصری عدالت کے ایک جج نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ عدالت نے فلسطینی تنظیم کی مصر میں سرگرمیوں پر پابند لگا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حماس کو مصر میں عبوری حکومت کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی جماعت اخوان المسلمون کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ مصر میں پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی صدارت سے برطرفی کے بعد سے اخوان المسلمون سکیورٹی فورسز کے سخت کریک ڈاؤن کی زد میں ہے۔ معزول صدر مرسی کے دور حکومت نے حماس کو رفح کی راہداری پر کافی سہولت دے رکھی تھی۔ اب عبوری حکومت اس راہداری کو بند کرچکی ہے۔

Add new comment