دین اسلام میں جنگ اور صلح
محقق : حجة الاسلام سید محمد جواد بنی سعید
مترجم : حجة الاسلام سید حسین حیدر زیدی
”صلح و جنگ“ کے ساتھ اسلام کے ارتباط کی بحث ایسا موضوع ہے جس کی طرف آج کی دنیا پر حاکم سیاسی روابط ،خصوصا آخری تین دھائیوں میں عموی افکار نے بہت زیادہ توجہ دی ہے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے علمی مجالس میں بھی اس پر تحقیق کی گئی ہے ۔
میری نظر میں اس مسئلہ اور اس مسئلہ کے نقطہ آغاز کی طرف توجہ کرنے کی اصلی وجہ ،غیر مسلمان ممالک کا مسلمانوں کے ساتھ سیاسی مباحث اور برخورد کے طور طریقہ کو برقرار کرنا ہو ۔
اس برخوردکی وجہ سے ایک زمانہ میںاسلام کے خلاف ”ٹروریزم“ اور ”شدت پسندی“ کے عنوان سے انتہا پسند افراد اپنی میڈیا کے ذریعہ حملہ کرتے تھے ، میڈیا کے اسی غلط پروپیکنڈہ کی وجہ سے عام لوگ اس طرف متوجہ ہوگئے اور تمام لوگ اس کے صحیح ارتباط کو سمجھنے کی فکر میں پڑ گئے (۱) ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علمی محفلوں میں دانشوروں کے افکار سامنے آنے لگے تاکہ وہ اس مسئلہ کی حقیت کو صحیح طریقہ سے حل و فصل کرسکیں اور اسلام کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے اسلام کے ارتباط کو انتہا پسندی اور ٹروریزم کے ساتھ حاصل کرسکیں ۔
لیکن ابھی تک لوگوں کی فکروں پرجو فضا حاکم ہے وہ مغرب کے میڈیا کے وسائل ہیں جو غیر علمی معیار و ملاک پر جاری و ساری ہیں ۔اوریہ ملاک و معیار ان سیاستمداروں کے ذریعہ وجود میں آتے ہیں جو ان ”شایعات“ کو منتشر کرنے میں میںاپنے فائدوں کو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام سختی ،انتہا پسندی اور سے نزدیک ہے اور صلح کے ساتھ اس کا کوئی رابطہ نہیں ہے !
اس مسئلہ میں حقیقت کو پہچاننے کے لئے منطقی طور پر سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ اسلام کے اصلی متون (۲) کی طرف مراجعہ کیا جائے کیونکہ تعلیمات اسلامی بہرحال علوم نقلی سے مرتبط ہیں اور علوم نقلی جیسا کہ اس کے نام ہی سے معلوم ہے کہ یہ اپنے موضوع کے مدارک و اسناد اور متون سے مرتبط ہے ، جس کے نتیجہ میں اس کے مقدمات ، اس کی تحقیق کا طریقہ اور ا س کے نتایج ، علوم نقلی سے متفاوت ہیں ، اگر چہ معقول ہیں ! یعنی مباحث نقلی کا معقولی ہونا ان کو علوم نقلی کی حد سے خارج نہیں کرتا ۔
ہم شروع سے کہتے آرہے ہیں کہ اسلام ، زندگی کا آئین ہے ، عبادت اور عشرت کا آئین نہیں ہے اور نہ ہی رہبانیت اور تجمل گرائی کا آئین ہے ، نہ ہی صلح و جنگ کا آئین ہے ، اسلام ، زندگی کا آئین ہے اور زندگی ان تمام مفاہیم اور دنیا کی واقعیت کا ایک مجموعہ ہے ۔
آرمان و آرزو کے معاشرہ کے لئے آرمان و آرزو کا نسخہ آج کے معاشرہ کے فائدہ میں نہیں ہے ، آروزؤں کا نسخہ آج کے معاشرہ کے لئے اس طرح باندھا جائے جو آج کے معاشرہ کو آرمان و آرزو کی طرف دھکیلے ۔ ہمارا آج کا معاشرہ آرزؤں کا معاشرہ نہیں ہے بلکہ جنگ ، ظلم و جور، تجاوز ، فقر و فساد اور فحشاء سے بھرا ہوا ہے جو بھی نسخہ ان مفاہیم سے چشم پوشی کرے گا اس میں کبھی بھی معاشرہ کو چلانے اور اصلاح کرنے کی طاقت نہیں ہوگی اور کسی خاص پروگرام کو دور پھینک دینا اور اس کو متہم کرنا صرف اس وجہ سے کہ اس میں یہ مفاہیم استعمال ہوئے ہیں ، عقل و خرد اور منطق سے بہت دور ہے (۳) ۔
بیل بوٹے اور بلبل کے تصور کے ساتھ کسی کے اس عمل کو محکوم نہیں کیا جاسکتا جو طاعون زدہ وسائل کو آگ میں جلاتا ہے !
طاقت اور سلامت کے متعادل خیال کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی کے اس عمل کو قبیح نہیں کہا جاسکتا جو مواد پڑے ہوئے زخم پر داغ لگاتا ہے ۔
اگر طاعون ہے تو آگ لگانے کے عمل کو قبول کرنا پڑے گا ، اور اگر بیمار ی ہے تو داغ لگانے کو تحمل کرنا پڑے گا ۔
بات بہت سادی ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ صرف اور صرف ”صلح“ کے متعلق اور دوسرے تمام مفاہیم سے الگ اسی ماحول میں غور و فکر کرنا چاہتے ہیں تو کوئی بات نہیں ہے ، لیکن سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ماحول صرف اور صرف اکیڈمیک ماحول ہو اور آپ کی تحقیق کے نتائج ، اجتماع کے ماحول میں کام نہیں آئیں گے اور اگر اسلام کو مدنظر رکھنا چاہتے ہیں تب بھی یہ اس قاعدہ کی پیروی نہیں کرے گا اور صرف اسی بُعد اور اسی مفہوم میں اسلام میں غور و فکر کریں!
ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر اسلام کی بات ہے اور اس کے متعلق فیصلہ تو اسلام کی کتاب کا مطالعہ کریں ، اس کی کسی ایک فصل کا مطالعہ نہ کریں !
لیکن اگر اس کی صرف کسی ایک فصل کا مطالعہ کرنا چاہتے ہو تو اس کو اسی فصل کے ذریعہ اپنی کتاب سے تطبیق دیں، کسی صلح کی کتاب کی فصل کا اسلام کی کتاب کی جنگ کی فصل سے مقایسہ کرنے کو اگر احمقانہ کام نہ کہیں تو کم سے کم عادلانہ نہیں ہوگا ۔
اب کتاب اسلام کی جنگ و صلح کی فصلوں کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ یہ جان لیں کہ یہ کس سطح تک مقبول اور معقول ہے اور کیا ایسے اصول و احکام رکھنے والے کو صلح طلب کہا جاسکتا ہے یا نہیں ؟!
اسلام کا اپنی پیروی کرنے والوں کو عمومی حکم
قرآن کریم فرماتا ہے : ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے صلح و آرام میں داخل ہوجاؤ ”یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِی السِّلْمِ کَافَّة“ (۴)۔
لغت میں ”سلم“ اور ”سلام“ کے معنی صلح و آرام کے ہیں اور بعض علماء نے اس کے معنی اطاعت کے بیان کئے ہیں ، یہ آیت تمام مومنین افراد کو خدا وند عالم کے حکم کے سامنے صلح ، سلام اور تسلیم ہونے کی دعوت دیتی ہے ۔
غیر مسلمان افراد سے برخورد کرنے کا حکم
قرآن کریم فرماتا ہے : اور اگر مشرکین میں کوئی تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو تاکہ وہ کتاب خدا سنے ،اس کے بعد اسے آزاد کرکے جہاں اس کی پناہ گاہ ہو وہاں تک پہنچا دو اور یہ مراعات اس لئے ہے کہ یہ جاہل قوم حقائق سے آشنا نہیں ہے․”وَ إِنْ اٴَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکینَ اسْتَجارَکَ فَاٴَجِرْہُ حَتَّی یَسْمَعَ کَلامَ اللَّہِ ثُمَّ اٴَبْلِغْہُ مَاٴْمَنَہُ ذلِکَ بِاٴَنَّہُمْ قَوْمٌ لا یَعْلَمُون“ ۔
یعنی بہت ہی آرام و سکون کے ساتھ اس کے ساتھ برخورد کریں اور اس کو غور و فکر کرنے کا موقع دیں، تاکہ وہ آزادانہ طور پر آپ کی دعوت کے مضامین کی تحقیق کرسکے اور اگر اس کے دل پر نور ہدایت چمکنے لگے تو اس کو قبول کرلو ۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے : اس کے مطالعہ کا وقت پورا ہونے کے بعد اس کو امن و سکون کی جگہ پہنچا دو تاکہ اس راہ میں کوئی اس کے لئے رکاوٹ نہ بنے ”ثُمَّ اٴَبْلِغْہُ مَاٴْمَنَہ“ ۔
اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اسلامی حکومت کے سپاہیوں کو یہی حکم سکھایا ہے ، آپ فرماتے ہیں :
”و ایما رجل من ادنی المسلمین او افضلھم ، نظر الی رجل من المشرکین ، فھو جار، حتی یسمع کلام اللہ، فان تبعکم فاخوکم فی الدین، و ان ابی فابلغوہ مامنہ“ (۶) ۔
مسلمانوں میں سے اگر کوئی بھی مسلمان چاہے وہ کسی بھی مقام ومنزلت پر ہو چاہے امیر ہو یا عام لوگوں میں سے ہو ، کسی مشرک کو امان دیدے تو وہ مشرک تمہارے ہمسایہ کی طرح ہے تاکہ وہ خدا اور اسلام کے اصول کو سن سکے اور ان کو پہچان سکے ، اگر وہ مطالعہ اورتحقیق کے بعد اس کو قبول کرلے تو وہ تمہارا دینی بھائی ہے اور اگر قبول نہ کرے تو اس کو اس کی جگہ پہنچا دو اور اس کو کچھ نہ کہو !
مخالفین سے عہد و پیمان کی رعایت کرنے کا حکم
اسلام، غیر مسلمانوں سے صلح و دوستی کے عہد و پیمان کو معتبر سمجھتا ہے اورجب تک وہ اپنے عہدوپیمان پر قائم ہیں اس وقت تک پیمان شکنی کی اجازت نہیں دیتا !
ان افراد کے علاوہ جن سے تم مسلمانوں نے معاہدہ کررکھا ہے اور انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور تمہارے خلاف ایک دوسرے کی مدد نہیں کی ہے ۔
إِلاَّ الَّذینَ عاہَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِکینَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوکُمْ شَیْئاً وَ لَمْ یُظاہِرُوا عَلَیْکُمْ اٴَحَدا ۔
اس گروہ کے متعلق ان کی جو مدّت طے کی ہے اس وقت تک عہد کو پورا کرو ” فَاٴَتِمُّوا إِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ إِلی مُدَّتِہِمْ “ ۔
کیونکہ خدا وند عالم ،تقویٰ اختیار کرنے والوں اور ہر طرح کی پیمان شکنی اور تجاوز سے اجتناب کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔”إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقین“ ۔
ظالموں کے ساتھ برخورد کرنے کا حکم
اگر کوئی متجاوز، ستمگر، خود خواہ اور خونریز گروہ تم پر ، تمہارے گھر پر اور تمہارے ملک پر حملہ کرے اور بغیر کسی دلیل کے قتل و غارت کرے تو اس وقت آئین صلح کیا پیشنہاد دیتا ہے ؟ کیا اس گروہ کے سامنے بھی آرام و سکون سے رہیں؟ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے ؟ یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس کے حملوں کو دیکھتے رہیں؟!
ہم سوال کرتے ہیں کہ بوسنی ،یوروپ ! ،حقوق بشر کے مدعی!اور صلح جہانی کے مدعی کے سیاستمداروں کی سیاست کے تحت جو کچھ ہمارے زمانہ میں ہورہا ہے وہ کس قانون کی رسم ہے؟ !
ان وحشی گروہ کے مقابلہ میں کس آئین و قوانین کی پیروی کی جاسکتی ہے جو کہ دوسروں کے گھروں پر (مسلمان ہونے کے جرم میں!) حملہ کرتے ہیں اورماں باپ کے سامنے ان کی بیٹی سے زنا کرتے ہیں، اور پھر نیزہ کے نوک کے ذریعہ پیٹ کو سینہ تک چاک کردیتے ہیں !! تاکہ کچھ دیر کے لئے ہنسے اور خوش ہوں؟!
اس گروہ کے بارے میں ”آئین صلح “ کے پاس کیا نسخہ ہے جو اپنے راستہ میں اگر کسی حاملہ عورت کو دیکھتے ہیں تو اس پر شرط لگاتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی اور پھر بعد میں بغیر کسی احساس کے اس کے پیٹ کو پھاڑ دیتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ کون جیتا اور کون ہارا!! اور پھر بچہ کو اس کی فیملی کے سامنے کباب بنا تے ہیں !!! ؟
اس قوم کے ساتھ کیا کرنا چاہئے جس کی فوج ، انسان(بے پناہ غیر فوجی انسانوں) کا سر کاٹنے کے طریقہ کو سورہ کے اوپر تعلیم دیتے ہیں، اور تمرین کرتے ہیں! اور میدان عمل میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں کہ کون انسان کا سر سب سے پہلے کاٹتا ہے !!!؟
اس وقت بھی ہم یہ کہیں کہ ہمارا آئین صلح کا آئین ہے ! آؤ اور ہمیں قتل کردو ! ہماری تحقیر کرو! ہماری ناموس کو لوٹ لو ! ہم کچھ نہیں کہیں گے !!؟
آئین اسلام کی منطق یہ نہیں ہے ، اسلام انسان کو ظلم قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا ، اسلام انسان کی زندگی کو انسانی زندگی کے ساتھ پسند کرتا ہے، اگر یہ قرار پاجائے کہ ظلم ، تجاوز، اور بے عدالتی کے نیچے غلاموں کی طرح زندگی بسر کی جائے تو زندہ نہ رہنا بہتر ہے ، اس وقت قیام کریں اوراپنے انسانی حق سے دفاع کریں اور تجاوز کرنے والے کے ساتھ جنگ کریں ! یا اس کو ایسا جواب دیں جس سے وہ انسان کی طرح جینے کے قاعدہ کو قبول کرلے ، یا اس کو قتل کردے یا خود قتل ہوجائے (۸) ۔
قرآن کریم فرماتا ہے : ” فَمَنِ اعْتَدی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدی عَلَیْکُمْ وَ اتَّقُوا اللَّہَ “ ۔ جو تم پر زیادتی کرے تم بھی ویسا ہی برتاؤ کرو جیسی زیادتی اس نے کی ہے اور اللہ (کی مخالفت کرنے)سے ڈرتے رہو ا(اور زیادہ روی نہ کرو)اور جان لو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (۹) ۔
قرآن کریم مزید کہتا ہے : اور تمام مشرکین سے اسی طرح جہاد کرنا جس طرح وہ تم سے جنگ کرتے ہیں ”وَ قاتِلُوا الْمُشْرِکینَ کَافَّةً کَما یُقاتِلُونَکُمْ کَافَّة“ ۔ (۱۰) ۔
جولوگ تم سے جنگ کرتے ہیں تم بھی ان سے راہِ خدا میں جہادکرو ”وَ قاتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ الَّذینَ یُقاتِلُونَکُمْ “ (۱۱) ۔
جو لوگ تمہارے ساتھ جنگ کریں ان کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم ہے ! یہاں پر صلح (۱۲) کرنے ،ناز و نوازش کرنے ،ذلت اور پستی کو قبول کرنے کی بات نہیں ہے ، صلح انسان کے لئے اور انسانی زندگی کرنے کیلئے ہوتی ہے لیکن اگر قرار یہ ہوجائے کہ کسی گروہ کو اس کے انسانی حقوق سے محروم کردیا جائے اور وہ خفت و ذلت کے ساتھ، ظلم،اسارت اور دوسروں کے تجاوز کے نیچے زندگی بسر کریں تو یہاں پر صلح کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ ایسے شرایط میں صلح جس کا موضوع آزاد معاشرہ میں انسانی زندگی ہے ، باقی نہیں رہ جاتی ہے ۔
جن لوگوں سے عقل و منطق کے ذریعہ بات نہیں کی جاسکتی اور وہ گستاخی کے ساتھ ہدایت و راہنمائی کے راستہ کو بند کرتے ہیں اور دشمنی و عناد کے ساتھ اسلام سے جنگ کرتے ہیں ، اسلام ایسے لوگوں سے قدرت اور شدت کے ساتھ برخورد کرنے کا حکم دیتا ہے ۔
”فی سبیل اللہ “ کی تعبیر ، اسلامی جنگوں کے اصلی ہدف کو واضح کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اسلام کی منطق میں جنگ کبھی بھی انتقام جوئی ، یا جاہ طلبی ، یا ملک کو وسعت دینے ، یا غنائم حاصل کرنے اوراپنے فائدوں کو محفوظ کرنے ،یا دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے ،یا دوسرے ممالک کے منابع پر قبضہ کرنے کے لئے نہیں ہے ۔
اسلام ان سب کی مذمت کرتا ہے اور کہتا ہے : اسلحہ ہاتھ میں لینا اور جہاد کرنا فقط خدا کی راہ میں ہو ، الہی قوانین کو وسعت دینے کیلئے ہو ، توحید کو پھیلانے، عدالت، حق سے دفاع،ظلم، فساد، فتنہ اور تباہی کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے ہو۔
اب اگر کوئی آئین یا مذہب اس سبب یا توجیہ کی وجہ سے مذموم صلح کو قبول نہ کرے اور جنگ کا اقدام کرے تواس زمانہ میں اس کی جنگ اہل جنگ کے ساتھ متفاوت ہوگی ،کیونکہ یہاں پر ہدف ، جنگ نہیں ہے ، یہاں پر جنگ اس پر تھونپی گئی ہے اور تحمیل کیا گیا امر باقی نہیں رہتا، اورانسان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس تحمیل کے نیچے سے رہائی حاصل کرے اور خود کو اس کی زحمت سے چھٹکارا دلائے اور یہ کوشش نہ جنگ میں سستی سے حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہی سہل انگاری اور آسانی سے اور نہ فرار سے ․․․! ، جنگ کے وقت اس کو تمام قوت کے ساتھ اوراستوار قدموں سے ادارہ کرے ، لیکن ہر وقت اس لمحہ کا منتظر رہے کہ شاید تجاوز کرنے والا آگاہ ہوجائے ، سمجھ جائے، اور اپنے ظلم و ستم سے ہاتھ اٹھا لے، ہر لمحہ اس بات کا منتظر رہے کہ صلح کی گھنٹی بجنے لگے، لیکن یہ کام دھوکے سے نہ ہو بلکہ تدبیر کے ساتھ ہو ، ایسی صلح نہ ہو جس کی وجہ سے ظلم و ستم کرنے والے ہلاکت سے نجات حاصل کرلیں، بلکہ ایسی صلح ہو جس کے ذریعہ وہ حق کے سامنے تسلیم ہوجائیں ۔
اگر اس طرح ہوجائے تو پھر اسلام جن کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ۔
قرآن کریم فرماتا ہے : اگر وہ تم سے جنگ نہ کریں اور صلح کی پیش نہاد دیں تو خداوند عالم تمہیں ان پر تعرض کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ” فَإِنِ اعْتَزَلُوکُمْ فَلَمْ یُقاتِلُوکُمْ وَ اٴَلْقَوْا إِلَیْکُمُ السَّلَمَ فَما جَعَلَ اللَّہُ لَکُمْ عَلَیْہِمْ سَبیلاً “ (۱۳) ۔
اور اب تمہارا وظیفہ یہ ہے کہ جو ہاتھ صلح کے لئے تمہاری طرف بڑھا ہے اس کو اپنے ہاتھ میں لے لو۔
امیرالمومنین اورمومنین کے لئے نمونہ عمل حضرت علی (علیہ السلام)(نہج البلاغہ کے مطابق) جنگ صفین شروع ہونے سے پہلے اپنے لشکر کو اس سلسلہ میں ایک جامعہ حکم دیتے ہیں جو کہ ہماری بحث کے لئے گواہ ہے ۔
”لا یقاتلوھم حتی یبدؤ کم فانکم بحمد اللہ علی حجة ، و ترککم ایاھم حتی یبدؤکم حجة اخری لکم علیھم، فاذا کانت الھزیمة باذن اللہ فلاتقتلوا مدبرا و لا تصیبوا معوراو لا تجھزوا علی جریح و لا تھیجوا النساء باذی و ان شتمن اعراضکم و سببن امراء کم“ :
جب تک وہ جنگ کا آغاز نہ کریں تم ان سے جنگ نہ کرنا، اگر چہ تمہارے پاس (بحمد اللہ اپنی حقانیت کے لئے ) حجت و دلیل ہے اور انتظار کرنا تاکہ وہ جنگ کاآغاز کریں، اس لئے کہ تمہارے فائدہ میں اور ان کے نقصان میں ایک دوسری دلیل ہے ،اس کے بعد جب خدا کے حکم سے ان کو شکست دیدو تو فرار کرنے والوں کو قتل نہ کرنا، ناتوان اور مجبوروں کو مت مارنا،زخمیوں کو قتل نہ کرنا، عورتوں کو نقصان اوراذیت نہ پہنچانا ،چاہے وہ تمہیں دشنام ہی کیوں نہ دیں، اور تمہارے بزرگوں کو برا بھلاہی کیوں نہ کہیں ۔
یہ ہے اسلام کی منطق ۔
جس خدا کا اسلام تمام لوگوں کو اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی دعوت دیتا ہے اس خدا نے رحمت کو اپنے اوپر واجب کررکھا ہے (کتب علی نفسہ الرحمہ) (۱۴) اور قرآن کریم کے( ایک سورہ کے علاوہ) تمام سوروں میںاپنے آپ کو رحمن و رحیم کی صفت سے پہچنوایا ہے ، اصل اسلام، اسلام کا راستہ اور اسلام کا ہدف رحمت اور صلح ہے ، آرزؤں کے اسلامی معاشرہ کی تعریف میں کہتے ہیں کہ بھیڑ اور بھیڑیا ایک ساتھ زندگی بسر کریں گے ! یعنی اس حد تک لوگوں کے درمیان صلح اور آرام و سکون بڑھ جائے گا لیکن یہی خدا جس کے نام کے ساتھ ”ارحم الراحمین“ کی صفت مخصوص ہے ،یہی خدا ”اشد المعاقبین“ کی صفت سے بھی مخصوص ہے !جو گروہ خدا کو قبول نہیں کرتا ، صلح و آرام کو قبول نہیں کرتے ، ان کے ساتھ شدت عقاب کے اسلحہ کو استعمال کرتا ہے تاکہ ان کی بیداری کا سبب ہوجائے ، یا ان کی نابودی اور محو ہونے کا سبب بن جائے ۔
والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
http://makarem.ir/articles/?lid=4&mid=323434&TypeInfo=1&CatID=25751
Add new comment