سات سو دنوں پر محیط محاصرہ۔۔۔ٹی وی شیعہ رپورٹ

ٹی وی شیعہ[نیٹ ریسرچ ڈیسک]العالم ٹی وی چینل کے نامہ نگار حسین مرتضی نے شام کے شہر حلب کے مضافات میں واقع دو شیعہ بستیوں میں جا کر وہاں کے ناگور حالات سے متعلق رپورٹ تیار کی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق شام کی ان دو شیعہ بستیوں پر محاصرہ کئے ہوئے سات سو دن گزر چکے ہیں اور ان علاقوں میں ساکن ۷۰ ہزار افراد اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کا کھانا مہیا کرنے بھی محتاج ہیں، بیماروں کو دوا اور علاج میسر نہیں ہے۔ خفیہ راستوں سے بہت کم مقدار اور گراں قیمت میں دوائی ان گاوں میں پہنچائی جاتی ہے جو سب بیماروں تک بھی نہیں پہنچ پاتی۔
مسلح افراد نے ان شہروں میں داخل ہونے کے تمام راستوں کو گھیرے رکھا ہے کسی کو نہ شہروں میں داخل ہونے دیا جاتا ہے اور نہ باہر نکلنے دیا جاتا ہے۔ نبل اور الزہرا شہروں کے جوان اگر چاول یا آٹے کی ایک بوری بھی اپنے گھروں تک منتقل کرنا چاہیں تو انہیں گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ ان شہروں میں کھانے کے لیے روٹی بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ ان شہروں کی نانوائیوں کو مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے جس کی وجہ سے عورتیں مجبور ہیں اپنے گھروں میں جو اناج میسر ہوتا ہے اسے گھریلو چکی کے ذریعے پیس کر ایک وقت کی روٹی تیار کریں۔
دھشتگردوں نے نہ صرف ان شہروں کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے بلکہ وقتا فوقتا انہیں اپنے حملوں کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ یہاں کے افراد اگر تاھم زندہ ہیں تو ان کے ہمسایہ شہر ’’عفرین‘‘ کی وجہ سے زندہ ہیں جہاں سے خوراکی مواد خفیہ راستوں سے منتقل کیا جاتا ہے۔
نبل گاوں کی رہنے والی ایک خاتون ام محمد نے اپنی ننھی بیٹی کی وفات کے بارے میں یوں کہا: میری اکلوتی بیٹی صرف دوا نہ ہونے کی وجہ سے دنیا سے چلی گئی۔
اس گاوں کی ایک اور خاتون ام عدنان اپنے بیٹے کے غم میں جلے دل کے ساتھ یہ کہہ رہی تھی کہ ہم اپنے زیتون کے باغ میں زیتون اکھٹا کر رہے تھے کہ ہمارا بیٹا دھشتگردوں نے اغوا کر لیا اور اس کے بعد شہر کے کونا کونا چھان مارا لیکن بیٹا نہیں ملا۔
اس درمیان ایک بوڑھے شخص نے اپنے دلسوز لہجے میں کہا کہ یہ لوگ نبل اور الزہرا سےکیا چاہتے ہیں؟ یہاں کے تمام لوگ ہمشیہ سے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ دوستانہ طریقے سے رہے ہیں اور عربوں اور کردوں کے درمیان یہاں کوئی فرق نہیں ہے۔
ایک طرف ان دو شہروں کی یہ ناگفتہ بہ حالت اور دوسری طرف بین الاقوامی اداروں کی خاموشی۔ انسانی حقوق کا ڈنڈھورا پیٹنے والی تنظیمں ایسے مقامات پر اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لیتی ہیں اور زبان پر سکوت کا روزہ رکھ لیتی ہیں۔

Add new comment