ترکی میں ریفرنڈم کے نتائج کی مخالفت اور حمایت میں مظاہرے

ہزاروں ترک شہریوں نے دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں مظاہرے کرکے ریفرنڈم کے نتائج کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ترکی کی اپوزیشن جماعتوں کی اپیل پر ہونے والے اس مظاہرے میں شریک لوگوں نے ریفرنڈم کے نتائج کو منسوخ اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔

استنبول میں ہونے والے ایسے ایک مظاہرے کے شرکا نے برتن اور گھروں کی کھڑکیاں بجا کر ریفرنڈم میں کامیابی سے متعلق صدر رجب طیب اردوغان کے دعوے کے خلاف احتجاج کیا۔

دوسری جانب حکومت کے حامیوں نے بھی مظاہرے کرکے ریفرنڈم کے نتائج پر خوشی کا اظاہرکیا ہے

انقرہ اور استبول میں ریفرنڈم کے نتائج کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے موقع پر حکومت کے حامیوں نے بھی مختلف سڑکوں اور شاہراہوں پر اپنی پارٹی کی کامیابی کا جشن منایا۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ آئینی تبدیلی کے لیے کرائے گئے ریفرنڈ میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے اور غیر سرکاری تنائج کے مطابق، اکیاون آعشاریہ تین فیصد لوگوں نے ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اڑتالیس اعشاریہ سات فی صد لوگوں نے آئینی تبدیلی کی مختالفت کی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ریفرنڈم میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے ووٹوں کے ذریعے قومی جذبے اور جمہوریت کا دفاع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے فیصلے کا سب کو احترام کرنا چاہیے۔

ترکی میں پانچ کروڑ پینسٹھ لاکھ سے زائد افراد ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جن میں سے چھیاسی فی صد لوگوں نے اپنا حق رائے دھی استعمال کیا۔

ریفرنڈم کے تحت ترکی کے آئین کی شق اٹھارہ میں ترمیم کرکے صدر رجب طیب اردوغان کے اختیارات میں اضافہ اور ملک کے سیاسی نظام کو پارلیمانی سے صدارتی نظام میں تبدیل کردیا جائے گا۔