شمالی کوریا کو امریکہ کا انتباہ

امریکی نائب صدر نے شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحدوں کا معائنہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ پیونگ یانگ کے مقابلے میں واشنگٹن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر مائیک پینز نے، جنھوں نے ایشیا کے مختلف ملکوں کے اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں جنوبی کوریا کا دورہ کیا ہے، پیر کے روز نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کے عوام کی صورت حال میں استحکام اور ان کے تمام مقاصد کے حصول کے لئے شمالی کوریا کے خلاف تمام آپشن کھلے ہوئے ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ نے تاکید کی ہے کہ وہ کسی خاص فوجی ٹیکٹیک کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔

امریکی نائب صدر کا جنوبی کوریا کا دورہ تین روزہ ہونے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس ملک کے بعد وہ جاپان، انڈونیشیا اور آسٹریلیا کا بھی دورہ کریں گے۔ انھوں نے جنوبی کوریا کا یہ دورہ ایسی حالت میں کیا ہے کہ اس علاقے میں امریکہ کی فوجی نقل و حرکت سے صورت حال سخت کشیدہ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب سے شمالی کوریا نے جزیرہ نمائے کوریا کی کشیدہ صورت حال کے پیش نظر پہلی بار خصوصی آپریشنل فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

شمالی کوریا کی یہ خصوصی فورس اپنے ملک کے رہنما کیم جونگ اون کی ہدایات پرعمل شروع کرے گی۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ اقدام جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے خصوصی فورس تشکیل دیئے جانے کے ردعمل  کے طورپر انجام دیا گیا ہے۔

امریکہ اور جنوبی امریکہ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی خصوصی فورس کو سیل(SEAL) کا نام دیا گیا ہے جس نے پہلی بار ان دونوں ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقوں میں شمولیت اختیار کی ہے جبکہ ان دونوں ممالک کے اس اقدام کو پیونگ یانگ نے شمالی کوریا کے خلاف فوجی حملے کی آمادگی سے تعبیر کیا ہے۔

ادھر جاپان کے وزیر اعظم نے پیر کے روز شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے اشتعال انگیز اقدامات انجام دینے سے باز آجائے۔

شینزو آبے نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا سے میزائل پروگرام کو فروغ دینے سے گریز کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اپنی آئندہ ملاقات میں ان تمام مسائل پر ان سے گفتگو کریں گے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ شمالی کوریا نے علاقے میں امریکی اقدامات کو اشتعال انگیزی سے تعبیر کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکی اقدامات سے جزیرہ نمائے کوریا کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور جب تک اس طرح کی اس کی پالیسی جاری ہے پیونگ یانگ اپنے فوجی پروگراموں پر عمل جاری رکھے گا۔