شام پر امریکی جارحیت، واشنگٹن، ماسکو کشیدگی عروج پر

پنٹاگون نے دعوی کیا ہے کہ شام میں کیمیائی حملے میں روس کے ملوث ہونے کے امکان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

امریکی وزارت جنگ پنٹاگون کے ایک سینیئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر دعوی کیا ہے کہ روس اپنا یہ وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہا ہے کہ وہ شامی حکومت کے پاس موجود کیمیائی ہتھیاروں کو نابود کرادےگا۔

پنٹاگون کےمذکورہ عہدیدار نے دعوی کیا ہے کہ شام پر امریکا کے میزائل حملے میں شامی فضائیہ کے بیس طیارے تباہ ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب روسی وزیراعظم نے شام پر امریکا کے میزائل حملے کے بارے میں واشنگٹن کو سخت خبردار کیاہے۔

روسی وزیراعظم دیمیتری مدودیف نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ شام پر امریکا کے میزائل حملے نے ماسکو اور واشنگٹن کو ایک دوسرے کے مد مقابل لاکھڑا کیا ہے کہاکہ اب امریکا کے صدارتی انتخابات کی مہم کے دورکے ابہامات ختم ہوگئے ہیں اور وائٹ ہاؤس نے داعش کے خلاف مشترکہ جنگ میں حصہ لینے کے بجائے شام کی قانونی حکومت کے خلاف اقدام کیا ہے۔

روسی وزیرا‏عظم نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور حتی امریکی کانگریس کی اجازت کے بغیر بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے شام پر حملہ کیا ہے۔

اس سے پہلے روسی صدر پوتن نے بھی شام پر امریکا کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کے ا قتدار اعلی کی خلاف ورزی قراردیا تھا۔

دریں اثنا یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ یورپی یونین شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے فوجی اقدامات کی مخالف ہے۔

فیڈریکا موگرینی نے یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ملکوں کی نمائندگی میں ایک بیان میں اعلان کیا کہ یورپی یونین شام کے بحران کو فوجی طریقے سے حل کئے جانے کے خلاف ہے۔

یورپی یونین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس چوّن اور دوہزار بارہ کے جنیوا اعلامیے میں شام میں امن و صلح کی ضمانت دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین شام کے اتحاد، اقتدار اعلی اور شامی حکومت کی خود مختاری پر زور دیتی ہے۔

واضح رہے کہ جمعے کی صبح امریکا نے شام کے صوبہ حمص کے علاقے الشعیرات میں شامی فضائیہ کے اڈے اور اس کے اطراف کے رہائشی علاقے پر درجنوں کروز میزائلوں سے حملہ کیا جن میں خاصی تعداد میں عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔جاں بحق ہونےوالے عام شہریوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔

امریکا نے یہ حملہ ادلب میں مشتبہ کیمیائی حملے کو بہانہ بنا کر کیا ہے۔ امریکا کے اس حملے کی عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ دہشت گردگروہوں نےشام اور عراق میں بارہا عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔