لفظ مولی پر فخر رازی کے شبہات

سوال : حدیث غدیر میں لفظ مولی کے معنی پر فخررازی کے اعتراضات کیا ہیں ؟

جواب : فخر رازی نے لکنت زبان کے ساتھ کچھ شبہات کو بیان کیا ہے اوران اعتراضات کو بزرگ دکھانے کی کوشش کی ہے ،انہوں نے ایک گروہ سے ”اولی“ کے معنی نقل کرتے ہویے کہا :
خداوندعالم نے فرمایا ہے : ” مَاٴْواکُمُ النَّارُ ہِیَ مَوْلاکُمْ وَ بِیْسَ الْمَصیر“ ۔ (۱) تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے وہی تم سب کا صاحب اختیار ہے اور تمہارا بدترین انجام ہے ۔
لفظ ”مولی“ کے معنی میں چند نظریات پایے جاتے ہیں :
۱۔ ابن عباس کہتے ہیں : ”مولاکم“ یعنی تمہارے پلٹنے کی جگہ۔ اس معنی کی توجیہ یہ ہے کہ ”مولی“ ولی کی جگہ ہے اوراس کے معنی نزدیک کے ہیں لہذا اس کے معنی اس طرح ہوں گے : آتش ایسا ٹھکانہ ہے جو اس سے نزدیک ہے اور اس تک پہنچنا ہے ۔
۲۔ کلبی نے کہا ہے : یعنی تمہارے لیے اولی اور سزاوار ہے ۔ زجاج،فراء اور ابوعبیدہ کا نظریہ بھی یہی ہے ۔
اور یہ بھی جان لینا چاہیے کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ کلمہ کی تفسیر نہیں ہے بلکہ اس کے معنی ہیں، کیونکہ اگر لفظ مولی اور اولی (سزاور)کے لغت میںایک معنی ہوتے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو دوسرے کی جگہ استعمال کرنا صحیح ہوتا تو ہم ”ھذا اولی من فلان“ ( یہ شخص فلاں شخص سے زیادہ مستحق اور سزاوار ہے) کی جگہ کہتے : ”ھذا مولی من فلان“ ۔ اسی طرح ”ھذمولی فلان“(یہ فلاں کا مولی ہے)کے بجایے کہتے : ”ھذا اولی فلان“ اور چونکہ اس کو ایک دوسرے کی جگہ رکھنا صحیح نہیں ہے لہذا اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے یہ اس آیت کے معنی ہیں ،تفسیر نہیں ہے ۔
اور اسی وجہ سے ہم نے آپ کو اس دقیق نکتہ سے آگاہ کردیا کہ شریف مرتضی(جس وقت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اس قول ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“ کے ذریعہ حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کو ثابت کرتے ہیں تو) کہتے ہیں ”مولی“ کے ایک معنی ”اولی“ ہیں اور اس سلسلہ میں ایمہ لغت کے بقول جو انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے ، مولی کے معنی اولی کے ہیں ، اجب یہ ثابت ہوگیا کہ لفظ ”مولی“ میں ”اولی“ کے معنی کا احتمال پایا جاتا ہے (اور اس لفظ سے یہ معنی مراد لینا صحیح ہے) تو اس لفظ کو اس معنی(حدیث غدیر) پر حمل کرنا واجب ہوگاکیونکہ دوسرے معانی یا اس کا ثبوت واضح ہے (اور توضیح دینے کی ضرورت نہیں ہے) ۔ جس طرح چچا زاد (۲) ، مددگار اور اس کے منتفی ہونے کے معنی واضح ہیں جیسے معتق (غلام کو آزاد کرنے والا) اور معتق (آزاد ہونے والا) اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کلام کو پہلے معنی پر حمل کرنا عبث و لغو ہے اور دوسرے معنی پرحمل کرنا جھوٹ ہے ۔
لیکن ہم نے دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اس جگہ پر ان کا اس لفظ کے معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کی تفسیر کی طرف اشارہ نہیں کرتا ۔ اس وجہ سے ان کے اقوال سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے (۳) ۔
نہایه العقول میں ان کی بات کا خلاصہ یہ ہے :
اگر لفظ مولی ، ”اولی“ (شایستہ اور سزاوار)کے معنی میں ہوتاتو پھر ان دونوں کوایک دوسرے کے ساتھ متصل کرنا صحیح ہوتا جب کہ ایسا نہیں ہے ، اسی وجہ سے مولی ، ”اولی“ کے معنی میں نہیں ہوسکتا  اور اس دعوی کی دلیل یہ ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا : ” ھو مولی من فلان“ ۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے : ”ھو مولی“ و ”ھما مولیان“ ۔ اور کلمہ ”من“ کے بغیر نہیں کہا جاسکتا : ”ھو اولی“و ”ھما اولیان“ ۔
تعجب ہے کہ فخر رازی پر یہ بات مخفی رہ گیی کہ مختلف صیغوں میں لازم او رمتعد کے لحاظ سے مشتقات کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں کیونکہ معانی کا اتحاد یا لفظوں کا مترادف ہونا ، معانی کی ذات اور جوہر میں واقع ہوتا ہے ،ان کے عوارض میں نہیں ہوتا جوعوارض مختلف ترکیب اور لفظوں کی تصریف اور ان کے صیغوں سے وجود میں آتے ہیں ۔ اس وجہ سے لفظ مولی اور اولی کے درمیان فرق(کیونکہ لفظ اولی کے بعد ”باء“ آتا ہے لیکن مولی بغیر ”باء“ کے آتا ہے) اس وجہ سے ہے کہ ”اولی“ کا مادہ صیغہ ”افعل“ کے قالب میں ہے کیونکہ اس صیغہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ ”من“ کے ساتھ آتا ہے ،اس بناء پر ”فلان اولی بفلان“ اور ”فلان مولی فلان“ کے معنی ایک ہی ہیں یعنی فلاں شخص کو فلاں شخص سے دوسروں پر اولویت حاصل ہے ۔
خالد بن عبداللہ ازھری نے کتاب التصریح کے باب تفضیل میں کہا ہے :
لفظ مترادف کو اس کے مترادف میں استعمال کرنا اس وقت صحیح ہے جب کویی مانع موجود نہ ہو ۔
لیکن یہاں پر مانع موجود ہے اور وہ مانع اس کا استعمال ہے ، کیونکہ اسم تفضیل حرف ”من“ کے علاوہ دوسرے حروف سے استعمال نہیں ہوتا اور کبھی کبھی حرف ”من“ اپنے مجرور کے ساتھ قرینہ کی وجہ سے حذف ہوجاتا ہے جیسے یہ آیت : ”والآخره خیر و ابقی“ (۴) یعنی خیر و ابقی من الدنی ۔
پھر وہی اشکال جو رازی نے یہاں بیان کیا ہے وہی اشکال لفظ مولی کے دوسرے معانی میں جن کو اس نے اور دوسروں نے ذکر کیا ہے ، جاری ہوتا ہے ، جیسے حدیث غدیر میں لفظ مولی کے معنی فخر رازی نے ناصر بیان کیے ہیں،کیونکہ کبھی بھی ”ھو ناصر دین اللہ“ (وہ دین خدا کا ناصر و مددگار ہے)کی جگہ ”ھو مولی دین اللہ“ نہیں کہا جاسکتا ، اور حضرت عیسی (علیہ السلام) نے” من انصاری الی اللہ “ (۵) (خدا کی راہ میں کون لوگ میرے یاورومددگار ہیں)کی جگہ یہ نہیں فرمایا : ”من موالی الی اللہ“ ؟اور حواریوں نے بھی ”نحن انصار اللہ“ ( ہم خدا کے مددگار ہیں) کی جگہ ”نحن موالی اللہ“نہیں کہا ۔ تم خود جانتے ہو کہ مترادف الفاظ میں یہ اختلاف جاری ہے جیسا کہ رمانی ، متوفی ۳۸۴ نے (اپنی کتاب کے صفحہ ۴۵ میں) بیان کیا ہے ۔
کیونکہ مثلا ”عندی درھم غیر جید“ صحیح ہے لیکن ”عندی درھم الا جید“ صحیح نہیں ہے (جب کہ لفظ غیر اور لفظ الا ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں) اور جملہ ”انک عالم“ صحیح ہے لیکن ”ان انت عالم “ صحیح نہیں ہے (جب کہ ”کاف خطاب“ لفظ ”انت“ کے ساتھ مترادف ہے) ۔حتی کے برخلاف ، حرف ”الی“ ضمیر سے پہلے آتا ہے ، جب کہ ان دونوں کے معنی ایک ہیں، ۔ یا”ام “ اور ”او“ دونوں تردید کیلیے آتے ہیں لیکن ترکیب میں چار لحاظ سے ان میںاختلاف پایا جاتا ہے ۔
علماء کے نزدیک رازی کے اعتراضات
مذکورہ نکات کی وجہ سے رازی کے یہ اعتراضات باطل ہیں اور عرب و علماء پر یہ اعتراض پوشیدہ نہیں تھے بلکہ یہ علماء ، راز سے پہلے اور رازی کے بعد بیان ہونے والے اعتراضوں سے واقف تھے ۔ تفتازانی نے نے شرح مقاصد (۶) میں اور قوشجی نے شرح تجرید (۷) میں اور ابن حجر نے صواعق (۸) میں حدیث غدیر سے استدلال کو باطل کرنے میں اپنی تمام تر دشمنی ، حسد اور سخت گیری کے باوجود لفظ مولی کو ”اولی“ کے معنی میں قبول کیا ہے ، لیکن اس کے مصداق میں اختلاف کیا ہے کہ آیا اولویت سے مراد تمام امور میں اولویت ہے یا بعض امور میںاولویت ہے؟ اور اس نے دوسرے یعنی بعض امور میں اولویت کو قبول کیا ہے اور اس کے درک کرنے کو عمر او رابوبکر کی طرف نسبت دی ہے جہاں انہوں نے کہا ہے : ”امسیت مولی کل مومن و مومنه“ ۔ شیخ شہاب الدین احمد بن عبدالقادر شافعی نے بھی ذخیره المآل میں اسی روش کو اختیار کیا ہے ۔
رازی کا دوسرا کلام
رازی نے ایک اور بات کہی ہے جس پر بہت زور دیا ہے اوراس کو بہت ہی آب و تاب کے ساتھ بیان کیا ہے ،انہوں نے کتاب نہایه العقول میں گمان کیا ہے کہ کسی بھی لغت اور نحو کے امام نے یہ نہیں کہا ہے : صیغہ مفعل جو کہ مصدر اورزمان ومکان کے لیے وضع ہوا ہے ، افعل کے معنی میں بیان ہوا ہے ۔
ان کی لفظ مولی اور اولی کی گذشتہ بحث میں آپ نے ان کو پہچان لیا ہوگا اور ان کے کلام کی سستی اور سبکی کو بھی حاصل کرلیا ہوگا اور اس بات کی طرف بھی متوجہ ہوگیے ہوں گے کہ اس شبہ کو بیان کرنے والے خود رازی ہیں اور ان سے پہلے کسی اور نے یہ اعتراض نہیں کیا ہے اور انہوں نے بھی کسی دوسرے کی طرف نسبت نہیں دی ہے ۔
کیا وہ علمی شخصیات جو صریح طور پر لفظ مولی کو اولی کے معنی میں بیان کرتی ہیں، وہ لغت کے استعمال سے آگاہ نہیں تھے ؟!
وہ علماء کس طرح واقف نہ ہوں گے جب کہ ان کے درمیان ایسے علماء موجود تھے جو لغت کے مآخذ، ادب کے امام ، ادبیات عرب کے ماہر تھے !
کیا ان کے صریح اور واضح بیان پر قاطع اور یقینی دلیل موجود نہیں ہے کہ کبھی کبھی ”مفعل“ ، ”افعل “ کے معنی میں آتا ہے ؟! پھر کس طرح کلی طور پر اس کا انکار کرتے ہیں ؟! جی ہاں ”لامر ما جدع قصیر انفہ“ ۔ (اہم کام کیلیے جناب قصیر نے اپنی ناک کو کاٹ لیا ہے ) (۹) ۔
کتاب روض المناظر (۱۰) میں ابوولید بن شحنہ حنفی حلبی کا بیان ، رازی کے لیے کافی ہے ، انہوں نے کہا ہے :
ان کی تفسیر ، عرب کی روش اور طریقہ سے باہر ہے ،ان کا کلام اکثر و بیشتر ان لوگوں کے کلام کی طرح ہے جو اپنے آپ کو حکیم تصور کرتے ہیں ۔
اگر رازی کے لیے لفظ مولی کا مصدر، یا خاص زمان او رمکان میں انجام شدہ فعل سے مخصوص ہونا قطعی ہے تو لفظ مولی کا فاعل، مفعول اور فعیل کے معنی میں استعمال ہونے کا بھی انکار کرنا چاہیے ، جب کہ وہ صریح طور پر کہتے ہیں : ناصر، معتق ، معتق اور حلیف کے معنی میں آیا ہے اور عرب کے تمام لغت شناس اس معانی میں ان کے ساتھ موافق ہیں ۔ اور سب کا اس پر اتفاق ہے کہ لفظ مولی ، ولی کے معنی میں آیا ہے اور اکثر وبیشتر نے کہا ہے : لفظ مولی ان معانی میں بھی بیان ہوا ہے : شریک، قریب، محب، عتیق، عقید، مالک اور ملیک (۱۲) ۔
جن علماء اور لغت شناس ماہرین ادب نے ”اولی“ کو مولی کے معنی میں شمار کیا ہے ان کی مراد یہ نہیں ہے کہ مولی ، اولی کے معنی کے لیے وصف ہے تاکہ ان پر اشکال کیا جایے کہ یہ مولی کے معنی سے تفضیل خارج ہوگیی ہے اور اس پر زاید ہے اوردونوں قابل جمع بھی نہیں ہیں، بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ لفظ مولی اس معنی کے لیے اسم ہے اس صورت میں ان پر کویی اعتراض نہیں ہوسکتا ۔
رازی کی مذکورہ باتوں کا جواب
رازی نے مذکورہ تمام باتوں کا ایسا جواب دیا ہے جس سے اس کی برایی، ناپسندی اور اس کے باطنی عیوب سے پردہ ہٹ گیا ہے ، انہوں نے نہایہ العقول میں کہا ہے :
ایمہ لغت نے نقل کیا ہے کہ لفظ مولی ،اولی کے معنی میں ہے یہ ان کے لیے دلیل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس طرح کی باتوں کو نقل کرنا لغوی معنی کو ثابت کرنے کیلیے استدلال کے قابل نہیں ہے اس بناء پر میں کہتا ہوں : ابوعبیدہ نے اگر چہ اپنی تفسیر میں اس آیت ”وما واکم النار ھی مولاکم “ (۱۳)، تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہی تمہارا سرپرست ہے ۔ ، کی تفسیر میں کہا ہے : ”معناہ : ھی اولی بکم“ (آیت کے معنی یہ ہیں : تمہارے لیے آگ اولی اور سزاوار ہے) ۔ اخفش، زجاج اور علی بن عیسی نے بھی اس کو ذکر کیا ہے اور اس کو ثابت کرنے کیلیے لبید کے شعر سے استشہاد کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات میں تساہل اور تسامح سے کام لیا ہے اور تحقیق نہیں کی ہے ، کیونکہ بزرگان لغت جیسے خلیل نے اس معنی کو اس آیت کی تفسیر میں مرسل اور بغیر سند کے بھی ذکر نہیں کیا ہے اور اس کو لغت کی اصلی کتابوں میں ذکر نہیں کیا ہے ۔
اے کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کس نے رازی کو یہ خبر دی ہے کہ انہوں نے بغیر تحقیق اور تساھل کے یہ بات کہی ہے ؟! کیا اس بات کو لغوی تمام معانی میںبیان کرتے ہیں جس کو انہوں نے نقل کیا ہے (کہ انہوں نے تساہل اور بغیر تحقیق کے یہ بات کہی ہے اور عرب کے شعروں سے اس پر استدلال اور احتجاج نہیں کیا جاسکتا) یا اس نے لفظ مولی کے لیے دوسراراستہ اختیار کررکھا ہے ؟! کیا لغوی ان معانی کو جو اس کے نزدیک ثابت ہیں ، عرب کے اشعار اور قرآن کریم کی آیات سے استشہاد نہیں کرسکتا ؟ اور انہوں نے ایسا ہی کیا ہے (اور لفظ مولی کے معنی کو ثابت کرنے کیلیے لبید کے شعر سے استدلال کیا ہے ) ۔ کس طرح وہ ایمہ لغت سے اس معنی کو بیان کرنے پر خلیل وغیرہ کے نقل نہ کرنے کو تسامع کی دلیل قرار دیتا ہے ؟! جب کہ لغت کے شرایط میں یہ نہیں ہے کہ وہ لغت کی تمام کتابوں میں ذکر ہوا ہو ۔
کیا رازی فقط کتاب العین وغیرہ پر اکتفاء کرتا ہے ؟ کس نے لغت کو نقل کرنے میں اتصال سند کی شرط کی ہے ؟
کیا شعر ، یاآیہ کریمہ، یا سنت ثابتہ، یاسنے ہویے استعمال پر اعتماد کرنے کیلیے کسی اور سند کی ضرورت ہے؟
کیا رازی کے پاس ان معانی کو حاصل کرنے کیلیے ان چیزوں سے بھی بہترین کویی چیز ہے؟
ان کوکیا ہوگیا ہے اگر کویی قوم عربی معانی میں سے کسی معنی کو بیان کرتی ہے تو وہ ان کو یہ بات نہیں کہتے ؟!یہاں پر کہنا چاہیے کہ اس سلسلہ میں ان کا ایک خاص ہدف ہے جو دوسری جگہوں پر نہیں ہے ۔
کیا وہ ایک لفظ کے لغوی معنی کو ثابت کرنے کیلیے اس کو لغت کی تمام کتابوں میں ہونا شرط سمجھتے ہیں ۔ اکر کسی آیت کی تفسیر،یا کسی حدیث کے معنی ، یا کسی شعر کے بیت میں وہ معنی ذکر ہویے ہوں تو وہ ان کوقبول نہیں کرتے ؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ لغت کے معانی میں علماء ہر اس شخص پر اعتماد کرتے (۱۴)ہیں جس کی عربی قوی ہو چاہے وہ اس کی بادیہ نشین کنیز ہی کیوں نہ ہواور اکثر علماء اور محققین کے نزدیک ایمان،عدالت اوربلوغ کی شرط نہیں ہے (۱۵) ۔
سیوطی نے ”المزھر“ (۱۶) میں کہا ہے :
اہل لغت کے ایک شخص کا نقل کرنا بھی کافی ہے ۔
گویا جب انہوں نے کتاب العین میں مورد بحث معانی کو نہیں پایا تو اس کی نفی کی دلیل قرار دیا اور اپنی بات کو المحصول (۱۷) میں اس طرح کہا : تمام اہل لغت کتاب العین کے قدو خدشہ میں متفق ہیں ،وہ بھول گیے ہیں یا اپنے کو اس طرح پیش کررہے ہیں کہ سیوطی نے اس بات کو المزھر(۱۸’ میں ان سے نقل کیا ہے (۱۹) ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواله جات 

1 ـ حدید: 15.
2 ـ این سخن رازى، غفلت عجیبى است; رازی کی یہ بات بہت ہی عجیب ہے کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ، جعفر، عقیل اور طالب کے چچا زاد بھایی تھے ،لیکن امیرالمومنین علی (علیہ السلام) ان کے چچا زاد بھایی نہیں ہیں بلکہ ان کے بھایی ہیں ،لہذا اگر لفظ مولی سے یہ معنی مراد لیے جاییں تو اس کا لازمہ جھوٹ ہے۔
3 ـ التفسیر الکبیر 8: 93 (29/227).
4 ـ اعلى: 17.
5 ـ صفّ: 14: (یَااَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ کُونُواْ اَنصَارَ اللَّهِ کَمَا قَالَ عِیسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّینَ مَنْ اَنصَارِى اِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ اَنصَارُ اللّهِ...).
6 ـ شرح المقاصد: 289 (5/273).
7 ـ شرح التجرید (ص 477).
8 ـ الصواعق المحرقه: 24 (ص 44).
9 ـ (این ضرب المثل درباره کسى به کار مى رود که براى دستیابى به هدفى پنهانى، نیرنگ به کار مى برد و زیر چیز آشکارى خود را پنهان مى کند، شبیه آقاى قصیر که بینى خود را برید تا انتقام «جزیمه» را از «زبّاء» بگیرد. ر. ک: تاریخ طبرى 1/443 ـ 448; و جواهر البلاغه/286 ـ 287).
10 ـ روض المناظر (2/199).
11 ـ تفسیر ابو حیّان 4: 149.
12 ـ (بحث درباره این معانى به زودى خواهد آمد).
13 ـ حدید: 15.
14 ـ ر. ک: المزهر 1: 83 و 84 (1/139).
15 ـ ارشاد الساری (10/157); المزهر (1/129 و 138 و 144 و 59).
16 ـ المزهر 1: 77 (ص 129); و نیز نگاه کن: ص 27 و 83 و 87 (ص 59 و 138 و 144).
17 ـ المحصول فی علم الاُصول (1/195).
18 ـ المزهر 2: 47 و 48 (1/79).
19- شفیعی مازندرانی / گزیده اى جامع از الغدیر،ص 102.