غدیر میں امت امامیہ بن گئی اور امامت کے سایہ تلے ہی امت کے کمالات کا راز مضمر

حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام ہر میدان میں ہیرو ہیں،سبھی ادیان کیلئے اور سبھی اقوام کیلئے اور سبھی ملتوں کیلئے ، جوان ہوں یا بوڑھے ہوں ۔ اپنی زندگی کیلئے آپ علیہ السلام کو اپنا آئیڈیل تسلیم کریں جو ہر میدان میں ہیرو ہیں ۔چاہئے وہ سیاست ہو، چاہئے وہ دیانت

مہاجر عبدالحسین عبدالحسینی:

غدیر میں امت امامیہ بن گئی اور امامت کے سایہ تلے ہی امت کے کمالات کا راز مضمر

حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام ہر میدان میں ہیرو ہیں،  سبھی ادیان کیلئے اور سبھی اقوام کیلئے  اور سبھی ملتوں کیلئے ، جوان ہوں یا بوڑھے ہوں ۔ اپنی زندگی کیلئے آپ علیہ السلام کو اپنا آئیڈیل تسلیم کریں  جو ہر میدان میں ہیرو ہیں  ۔چاہئے وہ سیاست ہو، چاہئے وہ دیانت ہو ، چاہئے وہ تقویٰ ہو، چاہئے وہ علم و فضل ہو غرض زندگی کے ہر شعبے میں رول ماڈل صرف حضرت علی علیہ السلام کو بنانا   اور  حضرت علی علیہ السلام کور ول ماڈل بنانے کا مطلب یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں صرف اسی کو فالوکریں،نقل  کریں جو حضرت علی علیہ السلام کی طرح ہر میدان میں کھرا اترنے والا ہو۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی کے "صبح ہدایت" پروگرام کے عالمی منظر  میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کےبانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام سید عبدالحسین موسوی معروف بہ مہاجر عبدالحسین عبدالحسینی سےآنلاین مکالمے کے دوران "عیدغدیر کے مختلف پہلو" کے حوالے سے لیے گئے انٹرویو کو مندرجہ ذیل قارئين کے نذر کیا جا رہا ہے:

س) قبلہ جیسا کہ ابھی ہم نے  ابھی ہم نے انونس کیا کہ آج عید غدیر کے  موقعہ پر ایک مختلف  پہلو سے بات کریں  گے ۔ اس کی مہجوریت کے اوپر بات کرینگے  اور یہ کہ  جناب زہرا سلام اللہ علیہا کا بہت شدید احتجاج بیعت غدیرکے اوپر سامنے آیا ہے۔ آپ (علیہا السلام )گھر گھر تشریف لے گئی اور لوگوں سے اُس غدیر کے وعدے کو یاد دلانے کی  کوشش کی مگر لوگوں نے اس کو تسلیم نہیں کیا، کسی نے کوئی عذر پیش کیا، کسی نے کوئی اور عذر پیش کیا۔  اور اس سے یہ چیز واضح ہو جاتی ہے  کہ غدیر ایک پورا اورباقاعدہ ایک سسٹم تھا جس کو ٹھکرایا گیا اور اس کو مہجور رکھا گیا۔ تو اس سے ہمیں آج کے دور میں ،یعنی صدیاں گزرگئی ہیں اور عالم اسلام جو اس تناو میں سفر کررہا ہے ۔اور ایسا اثر کیوں پڑا ہے ۔اور کیوں خامیاں رہ گئی ۔کیا خدائی سسٹم کو  اپنانے میں ہم  چوک گئے ہیں  کہ آج ہم  اس  جگہ پہ  کھڑے ہیں ۔ یہ سارا معاملہ و ماجرا کیا ہے؟ 

ج) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِینَ بِوِلاَیَةِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ علی وَ الْأَئِمَّةِ عَلَیْهِمُ السَّلاَمُ. والْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا بِهَذَا الْيَوْمِ، وَ جَعَلَنَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، وَ جَعَلَنَا مِنَ الْمُوفِينَ بِعَهْدِهِ الَّذِي عَهِدَ إِلَيْنَا۔

قـال الله سبحـانه وتعـالى:يا أَيهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ(المائدة/67) صدق الله العلي العظيم۔

اس عید اکبر کی مناسبت سے،جسطرح آپ نے اشارہ  بھی کیا کہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا  نے اس غدیر کے حوالے سے  امت اسلامی نے جووعدہ کیا تھا ، بیعت کی تھی  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے:" آمَنّا و صدّقنا"  کیا تھا اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہانے امت کو وہ وعدہ یاد دلایا کہ اس کا کیا ہوا؟۔ اور یہ وعدہ یاد دلانا اسلئے نہیں تھا کہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا اپنے شوہر کے تخت و تاج کیلئے لوگوں کےدروازے کھٹکھٹا رہی تھی۔ جس طرح آپ نے بھی بہت ہی ظریف اشارہ کیا ۔ اگر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بیٹی نہیں ، حضرت علی علیہ السلام کی ہمسر نہیں۔ مگر کیا آپ نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ایک صحابیہ  اور محدثہ بھی تسلیم نہیں کیا کہ جو غدیر خم میں خو د حاضر تھیں۔ اور یہ سارا ماجرا؛  جو امت نے  وعدہ کیا اور امت نے اس استقامت کا مظاہرہ کیا کہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر بالکل چلیں گے۔ اور اسی حدیث کو اسی وعدے اور واقعہ کو خود انہوں نے  ان کو یاد دلایا کہ آپ اس وعدے کے حوالے سےکیوں مکر گئے ہیں۔

غدیرخم میں امت محمدی شیعیان علی کالقب پاگئی

اس کا اگر تجزیہ کریں وہ یہ کہ 18ذی الحجہ 10 ہجری کوغدیرخم میں امت محمدی شیعیان علی کالقب پاگئی، یعنی پوری امت شیعہ ہوگئی، شیعہ علی یامسلمان ایک ہی کلمہ کی دواصطلاح وجود میں آگئ۔ یہ اہمیت ہے غدیر 18 ذی الحجہ 10 ہجری کی ۔ اورنبی  آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےبعدیہ شیعیان علی دوفرقوں میں تقسیم ہوئی۔ ایک فرقےنےاللہ جل جلالہ اوراللہ جل جلالہ کےرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےحکم کی تقلیدکی اورشیعہ کےنام سےہی مشہوررہےالبتہ جن کی تعدادانتہائی محدودرہی ہے۔اوردوسرےگروہ نےخوداجتہادکیااورپھراہلسنت کےنام سےشہرت پاگئے ۔

ایک فرقےنےاس امامت وولایت کواصول دین سمجھا اور شیعہ باقی رہا اوردوسرےنےامامت وولایت کوفروع دین سمجھا تو سنی کہلایے۔

ایک فرقےنےسیاست اوراسلام کو ایک دوسرے کامکمل سمجھا اور دوسرے نے سیاست اور اسلام کوالگ الگ سمجھا۔ جسےآج کل کی اصطلاح میں کہہ سکتے ہیں کہ امت سیکولر اسلام اورنان سیکولراسلام میں تقسیم ہوگئی جو دونوں فرقوں شیعوں اورسنیوں میں موجود ہے۔

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اسی واقعہ کی جو میں نے آیت تلاوت کی کہ یہ اللہ کا  ایک مخصوص فرمان تھا جس کوغدیر خم میں اجراء کیا گیا نافذ کیا گيا ، اس کے بارے میں وہ بتانا چاہتی تھی کہ اس کے نتائج بعد میں ملیں گے اور آپ خود  اس میں اجتہاد نا کریں بلکہ آپ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی تقلید کریں کیونکہ درواقعہ وہی  خدا کی تقلید کرنا ہے۔

تو اسے اگر دیکھا جائے کہ حقیقت میں آنحضور  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جسے ابھی شیعیان علی کہتے ہیں غدیر خم میں پوری امت شیعہ ہوگئی تھی اور جو امت اسلامی کےسرفہرست شیعہ کہ جس طرح زیدبن ارقم نے غدیر خم کے بارے میں ؛ وہ کہتے ہیں کہ :  حضرت ابوبکر،حضرت عمر، حضرت عثمان، طلحہ اورزبیرمہاجرین میں سے وہ افراد تھے جنہوں نے سب سے پہلےحضرت علی علیہ السلام کےہاتھ پربیعت کی اورمبارکبادپیش کی ۔  بیعت اورمبارکبادی کایہ سلسلہ مغرب تک چلتا رہا ۔ تو یہ حضرات سرفہرست شیعہ ہیں  اور آخرت میں ہی اس کی حتمی قضاوت ہو گی، بظاہر غدیر خم میں پوری امت شیعہ ہو گئی۔

عیدغدیر امت اسلامی کی بڑی عید

یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ صاحب کتاب الغدیر کےمولف کےمطابق علمای اہلسنت کےمعتبرکتابوں میں حدیث غدیر کو ایک سو دس (110) راویوں نے بیان کیا ہے۔ دوسری صدی میں جسکو تابعین کا دورکہاگیاہے ان میں سے اناسی(79) افرادنےاس حدیث کو نقل کیا ہے۔بعدکی صدیوں میں بھی اہلسنت کے تین سو ساٹھ (360) علماء نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے اورعلماءکی ایک بڑی تعداد نے اس حدیث کی سند کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ اس گروہ نے نہ صرف یہ کہ اس حدیث کو بیاں کیا بلکہ اس حدیث کی سند اورافادیت کےبارے میں مستقل طور کتابیں بھی لکھی ہیں۔

غدیر میں علی ابن ابیطالب کی ولایت کا اعلان کرنا اس بات کا اعلان تھا کہ اسلام عدالت کا حامی اورمروج ہے۔ عدالت یعنی ہر چیز کو اپنی جگہ پر رکھنا۔سر اپنی جگہ، آنکھیں اپنی جگہ، پیر اپنی جگہ ، ہاتھ اپنی جگہ غرض ہر چیزکیلئے اپنی جگہ ۔

غدیر میں علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی ولایت کااعلان رشتہ داری کی بنا پر نہیں ہوا۔ اگر اسلام میں رشتہ داری معیارہوتا تو ابولہب رشتے میں نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھےان کا مقام بلند ہونا چاہئےتھا لیکن ارشادہوا :  «تَبَّت ْیَدَ اأَبِی لَهَب ٍوَتَبَّ»المسد/1۔تو یہاں پر معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ داری معیار نہیں۔

غدیر یعنی اسلامی حکمران رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانند کمال صفات کامظہر ہونا چاہئے

غدیر میں علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی ولایت وامامت کا اعلان یعنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آنحضور کا وصی اور جانشین بھی ویسا ہی خدا محور عالم مدیر ومدبر کا امت کا سربراہ ہونا جیسا خود آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے  نہ کہ ملوکیت، نہ کہ بادشاہت نہ آمریت و ڈیکٹیٹرشپ۔ بلکہ جو دین کے اصول وفروع کا محافظ ہو۔

آنحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کو انتصاب من اللہ قرار دیا نہ کہ انتخابی۔  یعنی امامت اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف منصوب ہونا چاہئے نہ کہ جسے لوگ انتخاب کریں ۔  اور یہ اصول صرف امامت کےلئے مخصوص ہے جبکہ باقی سبھی امور شورومشورت سے انتخاب کرنے کیلئے ہیں۔

 امت کے امام کا معصوم اور اہل ذکر ہونا اسلئے لازمی ہے کیونکہ اس کا کام دنیا اور آخرت کو آباد کرانا ہے اور آخرت کو آباد کرنے کیلئے دنیا کو استعمال کرنے کا طریقہ کار سکھانا ہے۔  اور یہ کام غیر معصوم سے ممکن نہیں۔  کیونکہ وہی راستہ دکھا سکتا ہے جو خود راستہ جانتا ہو ۔  جو خود راستے سے بھٹکا ہو وہ کیسے دوسرے کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ امامت کا منصب انتہائي خطرناک منصب ہے جس میں انحراف کی کوئي گنجائش نہیں خدا نے خود اپنے حبیب کے بارے میں فرمایا:«وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَیْنَابَعْضَ الْأَقَاوِیلِ لَأَخَذْنَامِنْه ُبِالْیَمِینِ»الحاقة/45و46۔اگرپیغمبرنےکوئی تھوڑی سی بات بھی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کی ہوتی تو ہم اس کی شہرگ کاٹ دیتے۔ تو جب رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اللہ کا ایسا موقف ہے تو امام کے نسبت کیسا نہیں ہوگا۔اسی لئے امام کے انتخاب میں عوام کے عمل دخل کی گنجائش نہیں۔

امامت کا آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے منصوب کرنا خود آنحضور کے طرف سے بلکہ خود خدا کی طرف سے ہے کیونکہ یہ ایک الہی منشور ہے ۔جیسے کہ امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں سبھی مسلمانوں کا اتفاق رائے ہے تو اگر امامت انتخابی ہے تو امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا انتخاب کیوں نہیں کرتے۔فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے یہی کچھ بتایا کہ آپ کا( اس منشور سے)انحراف بہت ہی خطرناک انحراف ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کئے وعدے کو آپ نہ بھول جائيں۔اس کا نتیجہ دیکھئے گا کہ کیا نکلے گا ۔اورآج جس زمانے میں ہیں ہم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا  کے جہاد کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ کیوں ولایت کے حوالے فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا جسے خاتون جنت کہا گیا ہے اور وہ ہر دروازہ کھٹکٹا رہی ہیں، کہ آپ کیوں غدیر خم میں رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کو کیوں فراموش کر گئے ۔ آپ اسے کیوں بھولیں ہیں۔ اسطرح فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ ولایت کے حوالے سے کوئي کمپرومائز( سمجھوتہ) نہ کریں،ولایت مدیریت کا محور ہے۔ اگر آپ غدیر کو  اپنے معاشرے میں رائج نہیں کریں گے تو کربلا وجود میں آئے گا۔اور حجت خدا کا سر قلم کرکے نیزے پر چڑھایا جائے گا۔اور اسلام کی یہ تصویر بنے گی۔ اور آج ہم دیکھ رہیں ہیں کہ دہشتگردی اسلام کی تصویر بنی ہوئی ہے   اصلی جو رسولخدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دین ہے وہ دکھائي نہیں دے رہا ہے۔

س) اچھا ایک  اور چیز بھی سامنے آتی ہے یہ کہ ایک عجیب منطق ہے امت کی کہ اگر ناماننے پر آئیں تو امیر المومنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام جیسی شخصیت کو نا مانیں۔ اور اگر ماننے پر آجائیں تو ابوبکر البغدادی کو مان لیں۔ مطلب ایک عجیب منطق ہے ۔یہ  آج تک  میری سمجھ میں نہیں آیا۔  میں سوچتا ہوں کہ آپ انکار کرتے ہیں تو ایسی شخصیت کا انکار کردیتے ہیں  اورماننے پر آتے ہیں تو ایسے کو مان لیتے ہیں کہ جس کے کوئی سر پیر نہیں ہے ۔ اس بارے میں کیا کہیں گے آپ؟

ج) ظاہرسی بات ہے اگر آپ ڈاکٹر کے پاس علاج نہیں کرانا چاہتے ہیں تو پھر  جاہل سے علاج کروا رہے ہیں ، تو اگر پھر وہ اس کے علاج سے مرجائے تو پھر  اس پر کسی کو کوئی افسوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس نے اس  مرض کے ماہر معالج سے رجو ع نہیں کیا ۔ جب عالم و ماہر کو چھوڑ کر آپ جاہل کے پاس جاتے ہیں ، آپ ڈاکٹر کو چھوڑ کے ایک نادان کا انتخاب کرتے ہیں تو پھر جو نتیجہ ملتا ہے اس پہ آپ کو افسو س نہیں کرنا چاہئے۔ تو یہی حال ہوا ہے ان لوگوں کا جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا، کیونکہ انہوں نے اصلی " أَهْلَ الذِّكْرِ"کر کو چھوڑا ، عالم کو چھوڑا ،ماہر کو چھوڑا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ یہ جاہل اور قاتل کے پیچھے چل رہے ہیں۔

س) اس کا نتیجہ ہم  فی زمانہ دیکھ رہے ہیں اور اس صدی  میں تو بغور اس کا رزلٹ جو ہے وہ سب کو سامنے نظر آرہا ہے کہ  اگر  ایک معصوم امام کے سسٹم کو اور اس سسٹم کو جو خدا نے  دیا تھا اور سب سے کہاتھا؛ مومنین کو، پورے مسلمین کو ، پوری عالم بشریت کو  کہ اس کي اتباع کرو۔ اس کے پیچھے چلو ، یہ تمہیں گمراہ نہیں ہونے دینگے ، تمہیں ہلاک نہیں ہونے دینگے اور اگر اس کو مہجور رکھا گیا تو نقصان خود تمہارا ہے ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے جو مسلمان امت کے اندر جو پوری ایک افرا تفری پھیلی ہوئی ہے ، یہ تمام معا ملات ہیں اسے کس طرح سے نکلا جائے، کیا ابھی توبہ کر کے واپس آیا جاسکتا ہے ، راستہ کھلا ہے کیا کہیں گے آپ؟

ج) میں نے درواقعہ  یہ جو سیکولر نام کا استعمال کیا کہ یہ جو اکثریت نے دین  اور سیاست کو الگ الگ کیا ہوا ہے  کہنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اسی سیاست اور مذہب کو الگ الگ سمجھنے سے پسماندہ رہ رہیں ہیں ، پٹ رہے ہیں ، مارے جارہے ہیں۔جبکہ ہماری سیاست  ہماری دیانت اور ہماری دیانت ہماری سیاست ہے۔ جب  ہم یہ سمجھیں گے  تو یہی ہمارے مسائل کا حل ہے اور اسی میں امت کا بھلا ہے ۔ جب مان کے چلا جائے کہ پوری امت   شیعہ ہے پوری امت اہلسنت ہے  اور سبھی امامت کے ماننے والے ہیں ، بارہ معصوم اماموں کو  اپنا قائد مانتے ہیں ، صرف اتنا  سا فرق ہے کہ ہم شیعہ جو ہیں وہ امامت کو اصول دین سمجھتے ہیں  اور اہلسنت فروع دین سمجھتے ہیں۔ مگر عملی طور پر ان چودہ سو سال کے دور میں اس فلسفے نے اس کا نتیجہ دکھایا اگر آپ اس کو سیکولر اسلام کے طور پر لیتے ہیں تو آپ کا حاکم کون بنتا ہے ، آپ کا حاکم ایک شرابی بنتا ہے ، بے نمازی بنتا ہے، فاسق بنتا ہے ۔فاجر بنتا ہے ۔ ظالم بنتا ہے۔ جب سیاست اور مذہب ایک سمجھے جائيں تو حاکم عادل ہوگا ، عالم ہوگا۔

امت سیکولر اسلام کو چھوڑ کر امامت کے پرچم تلے جمع ہو جائيں

 پوری امت اسلامی میں دیکھئے سیکولر اسلام نے اسلام کا کیا حشر کر رکھا ہے۔خود کو خادمین حرمین شریفین   کہنے والے کیسے لوگ ہیں  کس کردار کے لوگ ہیں ، جو مسلمانوں کا خو ن بہاتے تھکتے نہیں ہیں ۔ یمن میں دیکھئے کیا کررہے ہیں ، شام میں دیکھئے کیا کررہے ہیں ، عالم اسلام میں دہشتگردی کیسے پھیلا رہے ہیں ۔ اور یہ سب اسلام کے نام پر  کر رہے ہیں۔ یہ نتیجہ ہے سیکولر اسلام کاکہ جب آپ امامت کو چھوڑ رہے ہیں ، اس اسلامی حقیقی  تصویر کو چھوڑ رہیں ہیں۔کیونکہ اسلام جو دین لے کے آیا وہ کہہ رہا ہے کہ : یہ اسلام قانونمندی کا مذہب ہے   یعنی جس کا قانوندان خود خدا ہے۔ جس نے انسان کو انسانوں پرحاکمیت کا جواز  نہیں دیا ہے ، انسان پر صرف اللہ ہی حکومت کرسکتا ہے۔ اور اللہ کی حکومت کی ضمانت فراہم کرنے کیلئے حکمران صرف  معصوم ہونا چاہئے۔ غیر معصوم وہ ضمانت فراہم نہیں کرسکتا ۔اور غیر معصوم حکمران اس حد تک اس منصب پر آسکتا ہے کہ جب وہ  اس  معصوم کے مشعل راہ پر چل کر معصوم امام کی نیابت کی شکل میں الہی قوانین کو نافذ کرنے کی ضمانت فراہم کرنے کی ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

امت اسلامی وہابیوں اور سلفیوں کو چھوڑ کر تمام امت اسلامی جو ابھی کی اصطلاح میں شیعہ ہیں یا سنی سبھی شیعہ سبھی امامی ہیں ۔یہ مبالغہ نہیں  ، سبھی اہلبیت کے چاہنے والے ہیں ، ماننے والے ہیں مگر اس میں صرف اہلسنت دنیا میں ایک  ارادے کی ضرورت ہے جس طرح چچینیا کانفرنس نے ثابت کردکھایا کہ اہلسنت اب  اپنی شبیہ جو وہابیت اور سلفیت نے بگاڑ کر رکھ دی ہے اسے بچانے کا ارادہ کرچکی ہے۔  ضرورت اسی بات کی ہے۔ اگر اہلسنت اس میں مزید حساسیت دکھائے شاید تمام ان خامیوں کا ازالہ ہوجائے ، جو جفا کی گئی غدیر کے ساتھ ، جو جفا کی گئی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ان التماسات کے ساتھ اس کا ازالہ ہوجائے۔ اور یہی ایک راہ حل ہے۔

س) بہت خوبصورت گفتگو کا سلسلہ آپ کے ساتھ جاری  وساری رہا۔ چونکہ ہمارے اس سیگمنٹ میں ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا ۔ ہم چلتے چلتے صرف ایک مسیج نوجوان نسل کیلئے ، ان کا تعلق خواہ کسی بھی فرقے سے ہو  میں چاہوں گا آپ کی طرف سے ایک مسیج ان کو جائے عید غدیر کی طرف سے کہ اس کی کیا برکتیں ہیں کیا عظمت ہے تاکہ اس کی طرف وہ متوجہ ہوں  ، اس کے تاریخی حقائق کو پڑھیں اور اصل جو راستہ ہے اس کوجان سکیں ۔ میں چاہوں گا کہ  غدیر کی مناسبت سے آپ انہیں کیا مسیج اور پیغام دینا چاہیں گے؟

ج) غدیر ہمیں بتاتا ہے کہ ہر کام کیلئے ایکسپرٹ کو کنسلٹ کریں ۔صرف ایسے ایکسپرٹ کو ، جو حقیقت میں ماہر ہو ، آل راؤنڈر ہو  اسی کو وہ کام سونپے ،  چاہے زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو۔کیونکہ علی مرتضیٰ علیہ السلام مکتب رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل مثال ہے ۔حاکم کی صورت میں ، باپ کی صورت میں، اسلام کے سپاہی کے صورت میں ، خدا کا بندہ ہونے کی صورت میں ، عالم کی صورت میں ، تقویٰ کی صورت میں غرض  ہر میدان میں حضرت علی علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بے نظیر ہیں۔چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی تھی اور وہ اس کو نافذ کرتے تھے  اور پیغمبر آخر الزمان تھے۔  تو ہم صرف علی علی اسی لئے کرتے ہیں کیونکہ علی  علیہ السلام،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی تعلیمات  کا نچوڑا ہیں۔ جس  کے بار ے میں خود علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:" هذا لعاب رسول الله(صلى الله عليه وآله)، هذا ما زَقَّني رسول الله(صلى الله عليه وآله) زقّاً زقاً."  مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  ایسے علم سے سیراب کیا جیسے پرندہ اپنے بچے کو غذا دیتے ہیں  یعنی  بنا کسی تغیر و تبدیل کے  مجھ  میں منتقل کیا ہے۔ حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام ہر میدان میں ہیرو ہیں،  سبھی ادیان کیلئے اور سبھی اقوام کیلئے  اور سبھی ملتوں کیلئے ، جوان ہوں یا بوڑھے ہوں ۔ اپنی زندگی کیلئے آپ علیہ السلام کو اپنا آئیڈیل تسلیم کریں  جو ہر میدان میں ہیرو ہیں  ۔چاہئے وہ سیاست ہو، چاہئے وہ دیانت ہو ، چاہئے وہ تقویٰ ہو، چاہئے وہ علم و فضل ہو غرض زندگی کے ہر شعبے میں رول ماڈل صرف حضرت علی علیہ السلام کو بنانا   اور  حضرت علی علیہ السلام کور ول ماڈل بنانے کا مطلب یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں صرف اسی کو فالوکریں،نقل  کریں جو حضرت علی علیہ السلام کی طرح ہر میدان میں کھرا اترنے والا ہو۔

بہت شکریہ نہایت مشکور ہیں ممنون ہیں قبلہ آپ کے ۔ آپ نے اپنا قیمتی وقت ہدایت ٹی وی کو دیا اور مولا امیر المومنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی بارگاہ میں آپ نے اپنی کوشش و سعی کی مولا اس سعی کو قبول و مقبول فرماے۔